Inquilab Logo Happiest Places to Work

ٹیکنالوجی کو اَدب کے فروغ کا ذریعہ بنائیے

Updated: January 04, 2026, 12:56 PM IST | Jameel Jalibi | Mumbai

آج کا سب سے اہم اور بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ ادب کی ماہیت، نوعیت، ضرورت، اہمیت اور زندگی سے اس کے تعلق پر ازسرنو غور کیا جائے۔

It is technology that allows us to sit in our own country and discuss thoughts and philosophies from around the world. We discuss new works and new experiments in poetry and literature. Photo: INN
یہ ٹیکنالوجی ہی ہے جس کی بدولت ہم اپنے ملک میں بیٹھ کر دنیا بھر کے فکر و فلسفہ کی بات کرتے ہیں۔ نئی تصانیف اور شعر و ادب میں کئے جانے والے نئے تجربات پر بحث کرتے ہیں ۔ تصویر: آئی این این

ہر آدمی کی طرح ہر زمانے کا بھی ایک شیطان ہوتا ہے۔ لوگ اپنے زمانے کی ساری برائیاں اس کے سر منڈھ دیتے ہیں اور اپنے ضمیر کو یہ سوچ کر مطمئن کرلیتے ہیں کہ اگر یہ شیطان موجودنہ ہوتا تو ان کی زندگی جنت ہوتی۔ ہمارے زمانے کا شیطان ’’ٹیکنالوجی‘‘ ہے۔ اگر ہماری اخلاقی اقدار زوال پزیر ہیں، اگر ہماری معاشرتی و تہذیبی روایات ٹوٹ رہی ہیں، اگر ہمارے طرز عمل اور رویے بدل رہے ہیں تو ہم ان سب چیزوں کی ذمہ داری ٹیکنالوجی کے سر تھوپ دیتے ہیں۔ یہی صورت ِ حال ادب کے ساتھ ہے۔ آپ کسی ادیب سے بات کیجئے تو وہ ادب کے زوال اور انحطاط کا ذمہ دار ٹیکنالوجی کو ٹھہرائے گا۔ کیا یہ ’’شیطان‘‘ واقعی اس توڑپھوڑ اور زوال و انحطاط کا ذمہ دار ہے؟ سوال یہ ہے کہ خود ادب کا ٹیکنالوجی سے کیا تعلق ہے؟ ٹیکنالوجی کی ترقی سے ادب کیوں ختم ہورہا ہے؟ انسان کو ادب کی زیادہ ضرورت ہے یا ٹیکنالوجی کی؟ معاشرہ ادب کے بغیر بھی ترقی کرسکتا ہے بلکہ کررہا ہے اور تسخیر ِ کائنات میں مصروف ہے۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ اب معاشرے کو سرے سے ادب کی ضرورت ہی باقی نہیں رہی ہے۔ اسی لئے آج کا سب سے اہم اور بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ ادب کی ماہیت، نوعیت، ضرورت، اہمیت اور زندگی سے اس کے تعلق پر ازسرنو غور کیا جائے۔ بندر کی بلا طویلے کے سر، ہم اپنے فرضی شیطان کو کب تک مطعون کرکے حقیقت سے آنکھیں چراتے رہیں گے۔ 
ذرا غور کیجئے تو ٹیکنالوجی کا ادب سے براہِ راست کوئی تصادم نہیں ہے کیونکہ دونوں کی ماہیت، تقاضے اور محرکات مختلف ہیں۔ ادب کا تعلق انسانی ذہن سے ہے جبکہ ٹیکنالوجی انسانی اعضاء کی توسیع ہے مثلاً ٹیلیفون اور ریڈیو ہمارے کانوں کی توسیع ہیں، دوربین، خوردبین اور ٹیلی ویژن ہماری آنکھوں کی توسیع ہیں، ریل گاڑی یا جہاز وغیرہ ہمارے پیروں کی توسیع ہیں۔ ٹیکنالوجی کی حیثیت و حقیقت اس سے زیادہ کچھ نہیں ہے کہ اس نے انسانی اعضاء کی محدود قوتوں کو بڑھا کر اس کی کارکردگی میں غیرمعمولی اضافہ کردیا ہے۔ اس کے برعکس ادب کا انسانی جذبات، محسوسات، تخیل اور احساسِ جمال سے تعلق ہے اور جسمانی ضروریات کے بجائے اُس کے اندر کی، باطن کی، اس کی روح کی ضروریات کو پورا کرنا ہے۔ اس صورت میں ادب اور ٹیکنالوجی کا تصادم ایک افسانے سے زیادہ کوئی حقیقت نہیں رکھتا۔ 
اس بات میں کوئی شک نہیں کہ ادب زوال پزیر ہے، کسمپرسی کا شکار ہے، چاہیں تو کہہ لیجئے کہ مررہا ہے، صرف ہمارے ہاں نہیں بلکہ ساری دنیا میں۔ لیکن اس کی موت کی ذمہ دار ٹیکنالوجی تو نہیں ہے۔ وہ تو ادب کو نہیں مار رہی ہے بلکہ سچ پوچھئے تو ادب کو فروغ دینے میں ہاتھ بٹا رہی ہے۔ یہ ٹیکنالوجی ہے جس کی وجہ سے دنیا میں ہر سال کروڑوں کتابیں اور رسائل شائع ہوتے ہیں اور ایک ملک سے دوسرے ملک میں ایسے پہنچتے ہیں کہ جیسے ہمارے اپنے شہر میں چھپ کر شائع ہوئے ہوں۔ دنیا کے دوردراز گوشوں کی خبریں پل بھر میں ساری دنیا میں پہنچ جاتی ہیں۔ ہم اپنے ملک میں بیٹھ کر دنیا بھر کے فکر و فلسفہ کی بات کرتے ہیں۔ نئی تصانیف اور شعر و ادب میں کئے جانے والے نئے تجربات پر بحث کرتے ہیں ۔ دنیا میں ادب کی اشاعت اتنی زیادہ پہلے کبھی نہیں ہوئی تھی جتنی ہمارے زمانے میں ہورہی ہے۔ ادب کے پڑھنے والے بھی ہمارے زمانے سے زیادہ کسی زمانے میں نہیں ہوئے لیکن ان سب باتوں کے باوجود اگر ادب زوال پزیر ہے اور انحطاط کا شکار ہے تو ہمیں اس کے حقیقی اسباب دریافت کرنے چاہئیں۔ بظاہر تو یہی معلوم ہوتا ہے کہ ’’ٹیکنالوجی‘‘ ’’ادب‘‘ سے کچھ نہیں کہتی۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ ’’سوڈومفکروں ‘‘ نے ٹیکنالوجی اور ادب و فکر کے حدود آپس میں ملا کر گزشتہ سو سال کے اندر ہماری فکر ہی میں فساد پیدا کردیا ہو۔ سائنس، جیسا کہ ہم سب کو معلوم ہے، مادے اور مادے کے خواص کا علم ہے، نہ وہ اس سے زیادہ کا دعویٰ کرتا ہے اور نہ اس سے آگے جاتا ہے لیکن سوڈو مفکروں نے اپنے مخصوص مقاصد کو سامنے رکھ کر جو فکر پیش کی اس نے ایسی گڑبڑ پیدا کی اور ایسے نتائج اخذ کئے جو سائنسداں کے نتائج ہرگز نہیں تھے۔ اس لئے بغیر سوچے سمجھے سارا الزام ٹیکنالوجی کے سر تھوپ دینا کسی طرح بھی صحتمند رویہ نہیں ہے۔ ادیب، مفکر، دانشور کی حیثیت سے اس وقت ہمارا فرض ہے کہ ہم اس مسئلہ پر غور کریں، اس کا تجزیہ کریں اور دیکھیں کہ ہمارے دور میں حقیقی فساد کہاں ہے اور یہ کن وجوہ کی بناء پر پیدا ہوا ہے۔ اسی راستے سے ہم اصل حقیقت تک پہنچ سکتے ہیں۔ ٹیکنالوجی کو کوسنے کاٹنے سے ہمیں کچھ حاصل نہیں ہوسکتا۔ اس رویہ سے نہ کبھی مسئلہ حل ہوا ہے اور نہ ہوسکتا ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK