• Sun, 18 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

منٹو کیلئے بمبئی کی حیثیت محض ایک شہر کی نہیں تھی، یہ ایک ذہنی تجربہ بھی تھا

Updated: January 18, 2026, 12:09 PM IST | Mohammad Aslam Parvez | Mumbai

آج، ۱۸؍ جنوری کو اردو کے مشہور ادیب سعادت حسن منٹو کی ۷۱؍ ویں برسی کی مناسبت سے یہ مضمون پڑھئے جس میں منٹو کی بمبئی سے وابستگی اور ان کی تحریروں میں بسنے والے بمبئی کا جائزہ لیا گیا ہے۔

Bombay not only brought Saadat Hasan Manto fame and prosperity, but also gave him a meaning to life. Photo: INN
بمبئی نے سعادت حسن منٹو کو صرف شہرت اور عافیت ہی نہیں بخشی بلکہ انہیں جینے کا مطلب بھی عطا کیا۔ تصویر: آئی این این

انسانوں کی طرح شہروں کا بھی کردار ہوتا ہے، اپنی شخصیت، اپنا ایک خاص رنگ، ردھم، سائیکی، رکھ رکھائو اور اپنا ایک چہرہ بھی... کہتے ہیں جو چیز ایک شہر کو دوسرے شہر سے الگ کرتی ہے وہ صرف کولتار کی سڑکیں، کانکریٹ کی عمارتیں، فلائی اوورس، دفتر، ملیں، کارخانے، تنگ و تاریک گلی کوچے، لوکل ٹرینیں اور موسم نہیں بلکہ اُس شہر کے مکینوں کے اطوار، اُن کے جینے کے اقداروآداب اور اُن کے خوف و خواب ہوتے ہیں۔ ممبئی یوں تو انگریزوں کی آمد سے پہلے بھی اہمیت کا حامل تھا لیکن یہ انگریز ہی تھے جنہوں نے اپنے دورِاقتدار میں سات (۷) نامعلوم اور بے نام جزیروں کو Reclaim کیا اور اس کی زمین پر پتھر، سمینٹ اور لوہے کی دبیز تہہ جما کر اِسے ہندوستان کا تجارتی اور صنعتی مرکز بنانے کا فیصلہ کیا تھا۔ تاہم ایسا بھی نہیں ہے کہ ممبئی شہر کا بلیو پرنٹ ایسٹ انڈیا کمپنی برطانیہ سے اپنے ساتھ لے کرآئی تھی۔ اس شہر کے کردار کی اصل تشکیل اُن لوگوں کے ہاتھوں عمل میں آئی جو تلاش روزگار کیلئے دوسرے علاقوں سے آئے اور اپنے خوابوں کو حقیقت کی زمیں دینے کی خاطر اپنے خون کاگارا اور ہڈیوں کا چورا کیا اور مقامی لوگوں کے ساتھ مل کر ممبئی کو ممبئی بنایا۔ آج بھی ملک بھرکی دیہاتی آبادی خصوصاً نوجوان طبقہ کام کی تلاش اور معاشی آسودگی کی خاطر ہندوستان کا دروازہ کہے جانے والے اس شہر کی جانب کھنچا چلا آرہا ہے۔ فلم انڈسٹری کے حوالے سے بھی یہ شہرثقافتی میڈیم کا ایک بڑا نعم البدل بن کر اُبھرا ہے اور گزشتہ ایک صدی سے بدلتے لینڈاسکیپ کے باوجود بالی ووڈ ہندوستانی سنیما کی نمائندگی کرتا آرہا ہے۔ غرض یہ کہ تجارتی راجدھانی اور فلم نگری کے باعث یہ شہر آج بھی سب کیلئے ایک طاقتور مقناطیس کی حیثیت رکھتا ہے۔ 
 سوال یہ ہے کہ جس شہر کی آبادی کا ایک بڑا حصّہ زمین سے اُکھڑے ہوئے لوگوں پر مشتمل ہو، جس شہر کی مٹّی میں تجارت گھلی ہو اور جس کی شریانوں میں لہو کی جگہ صنعتی تیل گردش کر رہا ہو، جہاں آسودگی و مفلسی کی آویزش جینے کا پیٹرن بن چلی ہو، اُس شہر کی کیا کوئی روح بھی ہو سکتی ہے ؟ یا پانی پر تیرتا یہ فقط کانکریٹ اور جھگیوں کا ایک جنگل ہے جہاں جیتے جاگتے انسان ہیومن روبوٹ میں منقلب ہو چکے ہیں ؟ جاننے والے جانتے ہیں کہ اپنی تمام تر میکانکیت، بھیڑبھاڑ، شور شرابے، مصروفیات، آلودگیوں، ٹوٹ پھوٹ اور تیز رفتاری کے باوجود اس شہر کے سینے میں ایک دل بھی ہے جو یہاں بسیرا کرنے والے فنکاروں کی سانسوں کی لے اور تال پردھڑکتا ہے ... جی ہاں ! ہزاروں بلکہ لاکھوں مصوروں، اداکاروں، موسیقاروں، فلم کاروں، شاعروں اور ادیبوں نے اس شہر کی باہوں میں سکون پایاکہ اگران فنکاروں کوممبئی سےنکال دیا جائے تو یہ شہر سچ مچ ایک بے جان اور بے روح صحرا کا روپ دھارن کر لے گا۔ 
ممبئی کی تاریخ گواہ ہے کہ جانے کتنے فن کاروں نے اپنی تخلیقی زندگی کے بہترین لمحات اس شہر کی سڑکوں پر سے گزرتے ہوئے بسر کئے، اس شہر کی دھڑکنوں کو سنا اور اُسے اپنے فن میں محفوظ کر لیا۔ یہ شہر فکشن لکھنے والوں کا بھی اہم تخلیقی محور اور محرک بنا۔ سوکینتو مہتا اور گریکوری ڈیوڈ رابرٹ سے لے کر ارون سادھو تک کتنے ناول نگاروں نے ممبئی کی تیز رفتار، ہنگامہ خیز، مختلف جرائم میں لت پت زندگی کو اپنے ا دب کا موضوع بنایا۔ 
گزشتہ دہائی میں شانتا گوکھلے اور جیری پنٹونے انگریزی میں ’’مایا نگری: بمبئی- ممبئی، کہانیوں میں ایک شہر ‘‘ کے عنوان سے تمل، مراٹھی، ہندی اور انگریزی کے ساتھ اردو کی ایسی کہانیوں کویکجا کیا جو بمبئی کو مرکز میں رکھ کر لکھی گئی ہیں۔ اِن اکیس کہانیوں میں کسی نے بمبئی کو موضوع کے طور پر برتا اور کسی نے ٹیکسٹ کے طور پراپنایا۔ کسی نے اس کے جرائم کی دنیا کےلفظی پورٹریٹ اپنے افسانوں میں بیان کئے تو کسی نے اس شہر کی جان لیوا تنہائی کو پیش کیا اور شہریوں کے دلوں کی تہہ میں جھانکنے کی کوشش کی۔ کسی کے یہاں یہ شہر اتنا ٹھوس اور الگ دکھائی دیتا ہے کہ افسانے کے صفحہ سے اُٹھا کر آپ اُسے کارنس پر سجا سکتے ہیں اور کسی کے اسلوب میں بمبئی خون کی طرح رواں دواں ہے۔ کسی کی تحریر میں یہ شہر سینٹر اسٹیج پر کھڑے ہو کر چیختا، چلاتا اور چنگھاڑتا ہے تو کہیں پس منظر میں اُبھرنے والے سائیکلوراما کی بھومیکا ادا کرتا ہے... غرض کہ اس شہر کے کردار، چہرے اور سائیکی کو محض ایک لفظ، جملے کہانی یا ناول میں نہیں پکڑا جاسکتا۔ شاید اسی لئے انگریزی میں شائع ہونے والی مذکورہ انتھالوجی میں بمبئی اورممبئی کے اکیس انسانی چہروں کو پیش کیا گیا ہے۔ اس میں اردو کی نمائندگی کرشن چندر، عصمت چغتائی اور سعادت حسن منٹو کے افسانوں نے کی ہے۔ 
جہاں تک منٹو کا تعلق ہے بمبئی سے اُس کا رشتہ Hands in Gloves کاہے، ایک ایسا تعلق کہ دونوں ایک دوسرے کو مخاطب کئے بنا بھی ہم کلام ہوسکتے ہیں۔ اپنی مختصر زندگی کا ایک چوتھائی سے زیادہ عرصہ منٹو نے بمبئی میں بِتایا تھا، مگر یہ زمانی عرصہ محض کلینڈر پر محیط بارہ سال نہیں تھے کہ یہ سال زندگی کے آخری دنوں تک اُس کی یاداشتوں میں محفوظ رہے۔ ظاہر ہےاس کی وجہ یہ تھی کہ بمبئی میں اُس نے اپنی زندگی کے نسبتاً خوشگوار دن بتائے تھے۔ ایک اچھی فراغت، صحافتی ملازمت کے ساتھ فلمی مصروفیات، معاش کی طرف سے اطمینان، بے فکرے دوستوں کی صحبت... یہ سب وہ چیزیں تھیں جو بمبئی نے منٹو کو عطا کی تھیں۔ اسی بمبئی میں اس نے منشی گیری سے لے کر مرزا غالب جیسی کئی فلموں کےلئے کہانی، مکالمے اور منظرنامے لکھے اور ’’ آٹھ دن‘‘نامی فلم میں اس نے ایک پاگل فلائٹ لیفٹیننٹ کرپارام کا رول بھی ادا کیا تھا۔ 
یہ بمبئی ہی تھی جس نے اُسے شہرت اور عافیت ہی نہیں بخشی جینے کا مطلب بھی عطا کیا۔ اِس شہر میں اُس کی شادی ہوئی اور یہیں پہلی بار وہ باپ بنا۔ اسی شہر میں اُس نے ہزاروں کمائے اور خرچ کیے اور یہی وہ شہر تھا جہاں اُس کے پاس بال کٹوانے تک کیلئے بھی پیسے نہیں تھے۔ کہتے ہیں فلموں کا شوق منٹو کو بچپن سے ہی تھا اورکالج کے ہر طالب علم کی طرح وہ بھی بمبئی کی فلم نگری میں قدم رکھنے کا خواب دیکھا کرتا تھا۔ فلمی دنیا کی چکا چوند سے متاثر ہو کر پہلے بھی وہ بمبئی کا ایک چکر لگا چکا تھا۔ احمد ندیم قاسمی کو لکھے ایک خط میں فلمی دُنیا میں اپنے داخلے کو اس نے معجزہ قرار دیا اورسب جانتے ہیں کہ یہ معجزہ اُس وقت وقوع پذیر ہوا جب اُس کے دوست اور مربی نذیر لدھیانوی نے اپنے ادبی اور فلمی ہفت روزہ ’’مصور‘‘ کی ادارت کی ذمہ داری سنبھالنے کے لئے اُسےبمبئی آنے کی دعوت دی۔ امرتسر سے وہ بمبئی پہنچا اور اس طرح پیر خان اسٹریٹ میں واقع ’’مصور‘‘ کا چھوٹا سا دفتر فلم انڈسٹری میں اُس کے داخلے کا لانچنگ پیڈ ثابت ہوا۔ اس کے بعد سروج مووی ٹون، ہندوستان سنے ٹون، امپریل کمپنی، فلمستان اور بامبے ٹاکیز جیسی فلم کمپنیوں اور اسٹوڈیوزکے دروازے اُس پر کھلتے چلے گئے۔ 
منٹو کے لئے بمبئی کی حیثیت محض ایک شہر کی نہیں تھی، یہ ایک ذہنی تجربہ بھی تھا کہ اسی شہر نے زندگی کے خوشنما پہلوئوں کے ساتھ مکروہ، گھناؤنے اور بدنما گوشوں سے آنکھیں چار کرنے کا حوصلہ اور سلیقہ بھی اُسے فراہم کیا۔ یہی وہ شہر تھا جہاں اُس نے شیام، اشوک کمار، کلونت کور، نسیم بانو، رفیق غزنوی، پران اور بابو رائو پٹیل سے دوستی کی تھی اور اسی شہر کے چلتے پھرتے، جیتے جاگتے حقیقی کرداروں کو رام کھلاون، ممد بھائی، فوبھا بائی، مسز ڈی کاسٹا، مسز ڈی سلوا، سہائے، موذیل، سوگندی، بابو گوپی ناتھ جیسے فرضی نام دے کر اُنہیں وقت کی محدود اور مخصوص فریم سے نکالا اور آفاقی لمحوں میں اسیر کر لیا۔ کہنے کی ضرورت نہیں کہ یہ افسانوی اور حقیقی کردار منٹو نے ونڈو شاپنگ سے حاصل نہیں کئے تھے۔ اُن کی سطح پر آکر اُنہیں ملنے، پرکھنے، سمجھنے، برتنے اور اُن میں گھل کر جینے کے بعد وہ اُسے نصیب ہوئے تھے۔ شاید یہی وجہ تھی کہ منٹو کے ہاتھوں وجود پانے والے کردار اوراُن کے گرد بسائی گئی دُنیا صرف کاغذ کی سطح تک محدود نہیں رہتی۔ احمد شجاع پاشاتو کہتے ہیں کہ بمبئی کو یہ فخر حاصل ہے کہ اُس نے سعادت حسن منٹو کی صلاحیتوں کو جِلا بخشی۔ اہم بات اس میں یہ ہے کہ اس شہر نے اُسے دوسروں کی نظر میں ہی نہیں خود اپنی نظر میں بھی محترم بنا دیا تھا۔ 
(مضمون کا دوسرا حصہ آئندہ ہفتے)

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK