آج، ۱۸؍ جنوری کو اردو کے مشہور ادیب سعادت حسن منٹو کی ۷۱؍ ویں برسی کی مناسبت سے یہ مضمون پڑھئے جس میں منٹو کی بمبئی سے وابستگی اور ان کی تحریروں میں بسنے والے بمبئی کا جائزہ لیا گیا ہے۔
EPAPER
Updated: February 08, 2026, 11:53 AM IST | Mohammad Aslam Parvez | Mumbai
آج، ۱۸؍ جنوری کو اردو کے مشہور ادیب سعادت حسن منٹو کی ۷۱؍ ویں برسی کی مناسبت سے یہ مضمون پڑھئے جس میں منٹو کی بمبئی سے وابستگی اور ان کی تحریروں میں بسنے والے بمبئی کا جائزہ لیا گیا ہے۔
انسانوں کی طرح شہروں کا بھی کردار ہوتا ہے، اپنی شخصیت، اپنا ایک خاص رنگ، ردھم، سائیکی، رکھ رکھائو اور اپنا ایک چہرہ بھی... کہتے ہیں جو چیز ایک شہر کو دوسرے شہر سے الگ کرتی ہے وہ صرف کولتار کی سڑکیں، کانکریٹ کی عمارتیں، فلائی اوورس، دفتر، ملیں، کارخانے، تنگ و تاریک گلی کوچے، لوکل ٹرینیں اور موسم نہیں بلکہ اُس شہر کے مکینوں کے اطوار، اُن کے جینے کے اقداروآداب اور اُن کے خوف و خواب ہوتے ہیں۔ ممبئی یوں تو انگریزوں کی آمد سے پہلے بھی اہمیت کا حامل تھا لیکن یہ انگریز ہی تھے جنہوں نے اپنے دورِاقتدار میں سات (۷) نامعلوم اور بے نام جزیروں کو Reclaim کیا اور اس کی زمین پر پتھر، سمینٹ اور لوہے کی دبیز تہہ جما کر اِسے ہندوستان کا تجارتی اور صنعتی مرکز بنانے کا فیصلہ کیا تھا۔ تاہم ایسا بھی نہیں ہے کہ ممبئی شہر کا بلیو پرنٹ ایسٹ انڈیا کمپنی برطانیہ سے اپنے ساتھ لے کرآئی تھی۔ اس شہر کے کردار کی اصل تشکیل اُن لوگوں کے ہاتھوں عمل میں آئی جو تلاش روزگار کیلئے دوسرے علاقوں سے آئے اور اپنے خوابوں کو حقیقت کی زمیں دینے کی خاطر اپنے خون کاگارا اور ہڈیوں کا چورا کیا اور مقامی لوگوں کے ساتھ مل کر ممبئی کو ممبئی بنایا۔ آج بھی ملک بھرکی دیہاتی آبادی خصوصاً نوجوان طبقہ کام کی تلاش اور معاشی آسودگی کی خاطر ہندوستان کا دروازہ کہے جانے والے اس شہر کی جانب کھنچا چلا آرہا ہے۔ فلم انڈسٹری کے حوالے سے بھی یہ شہرثقافتی میڈیم کا ایک بڑا نعم البدل بن کر اُبھرا ہے اور گزشتہ ایک صدی سے بدلتے لینڈاسکیپ کے باوجود بالی ووڈ ہندوستانی سنیما کی نمائندگی کرتا آرہا ہے۔ غرض یہ کہ تجارتی راجدھانی اور فلم نگری کے باعث یہ شہر آج بھی سب کیلئے ایک طاقتور مقناطیس کی حیثیت رکھتا ہے۔
سوال یہ ہے کہ جس شہر کی آبادی کا ایک بڑا حصّہ زمین سے اُکھڑے ہوئے لوگوں پر مشتمل ہو، جس شہر کی مٹّی میں تجارت گھلی ہو اور جس کی شریانوں میں لہو کی جگہ صنعتی تیل گردش کر رہا ہو، جہاں آسودگی و مفلسی کی آویزش جینے کا پیٹرن بن چلی ہو، اُس شہر کی کیا کوئی روح بھی ہو سکتی ہے ؟ یا پانی پر تیرتا یہ فقط کانکریٹ اور جھگیوں کا ایک جنگل ہے جہاں جیتے جاگتے انسان ہیومن روبوٹ میں منقلب ہو چکے ہیں ؟ جاننے والے جانتے ہیں کہ اپنی تمام تر میکانکیت، بھیڑبھاڑ، شور شرابے، مصروفیات، آلودگیوں، ٹوٹ پھوٹ اور تیز رفتاری کے باوجود اس شہر کے سینے میں ایک دل بھی ہے جو یہاں بسیرا کرنے والے فنکاروں کی سانسوں کی لے اور تال پردھڑکتا ہے ... جی ہاں ! ہزاروں بلکہ لاکھوں مصوروں، اداکاروں، موسیقاروں، فلم کاروں، شاعروں اور ادیبوں نے اس شہر کی باہوں میں سکون پایاکہ اگران فنکاروں کوممبئی سےنکال دیا جائے تو یہ شہر سچ مچ ایک بے جان اور بے روح صحرا کا روپ دھارن کر لے گا۔
ممبئی کی تاریخ گواہ ہے کہ جانے کتنے فن کاروں نے اپنی تخلیقی زندگی کے بہترین لمحات اس شہر کی سڑکوں پر سے گزرتے ہوئے بسر کئے، اس شہر کی دھڑکنوں کو سنا اور اُسے اپنے فن میں محفوظ کر لیا۔ یہ شہر فکشن لکھنے والوں کا بھی اہم تخلیقی محور اور محرک بنا۔ سوکینتو مہتا اور گریکوری ڈیوڈ رابرٹ سے لے کر ارون سادھو تک کتنے ناول نگاروں نے ممبئی کی تیز رفتار، ہنگامہ خیز، مختلف جرائم میں لت پت زندگی کو اپنے ا دب کا موضوع بنایا۔
گزشتہ دہائی میں شانتا گوکھلے اور جیری پنٹونے انگریزی میں ’’مایا نگری: بمبئی- ممبئی، کہانیوں میں ایک شہر ‘‘ کے عنوان سے تمل، مراٹھی، ہندی اور انگریزی کے ساتھ اردو کی ایسی کہانیوں کویکجا کیا جو بمبئی کو مرکز میں رکھ کر لکھی گئی ہیں۔ اِن اکیس کہانیوں میں کسی نے بمبئی کو موضوع کے طور پر برتا اور کسی نے ٹیکسٹ کے طور پراپنایا۔ کسی نے اس کے جرائم کی دنیا کےلفظی پورٹریٹ اپنے افسانوں میں بیان کئے تو کسی نے اس شہر کی جان لیوا تنہائی کو پیش کیا اور شہریوں کے دلوں کی تہہ میں جھانکنے کی کوشش کی۔ کسی کے یہاں یہ شہر اتنا ٹھوس اور الگ دکھائی دیتا ہے کہ افسانے کے صفحہ سے اُٹھا کر آپ اُسے کارنس پر سجا سکتے ہیں اور کسی کے اسلوب میں بمبئی خون کی طرح رواں دواں ہے۔ کسی کی تحریر میں یہ شہر سینٹر اسٹیج پر کھڑے ہو کر چیختا، چلاتا اور چنگھاڑتا ہے تو کہیں پس منظر میں اُبھرنے والے سائیکلوراما کی بھومیکا ادا کرتا ہے... غرض کہ اس شہر کے کردار، چہرے اور سائیکی کو محض ایک لفظ، جملے کہانی یا ناول میں نہیں پکڑا جاسکتا۔ شاید اسی لئے انگریزی میں شائع ہونے والی مذکورہ انتھالوجی میں بمبئی اورممبئی کے اکیس انسانی چہروں کو پیش کیا گیا ہے۔ اس میں اردو کی نمائندگی کرشن چندر، عصمت چغتائی اور سعادت حسن منٹو کے افسانوں نے کی ہے۔
جہاں تک منٹو کا تعلق ہے بمبئی سے اُس کا رشتہ Hands in Gloves کاہے، ایک ایسا تعلق کہ دونوں ایک دوسرے کو مخاطب کئے بنا بھی ہم کلام ہوسکتے ہیں۔ اپنی مختصر زندگی کا ایک چوتھائی سے زیادہ عرصہ منٹو نے بمبئی میں بِتایا تھا، مگر یہ زمانی عرصہ محض کلینڈر پر محیط بارہ سال نہیں تھے کہ یہ سال زندگی کے آخری دنوں تک اُس کی یاداشتوں میں محفوظ رہے۔ ظاہر ہےاس کی وجہ یہ تھی کہ بمبئی میں اُس نے اپنی زندگی کے نسبتاً خوشگوار دن بتائے تھے۔ ایک اچھی فراغت، صحافتی ملازمت کے ساتھ فلمی مصروفیات، معاش کی طرف سے اطمینان، بے فکرے دوستوں کی صحبت... یہ سب وہ چیزیں تھیں جو بمبئی نے منٹو کو عطا کی تھیں۔ اسی بمبئی میں اس نے منشی گیری سے لے کر مرزا غالب جیسی کئی فلموں کےلئے کہانی، مکالمے اور منظرنامے لکھے اور ’’ آٹھ دن‘‘نامی فلم میں اس نے ایک پاگل فلائٹ لیفٹیننٹ کرپارام کا رول بھی ادا کیا تھا۔
یہ بمبئی ہی تھی جس نے اُسے شہرت اور عافیت ہی نہیں بخشی جینے کا مطلب بھی عطا کیا۔ اِس شہر میں اُس کی شادی ہوئی اور یہیں پہلی بار وہ باپ بنا۔ اسی شہر میں اُس نے ہزاروں کمائے اور خرچ کیے اور یہی وہ شہر تھا جہاں اُس کے پاس بال کٹوانے تک کیلئے بھی پیسے نہیں تھے۔ کہتے ہیں فلموں کا شوق منٹو کو بچپن سے ہی تھا اورکالج کے ہر طالب علم کی طرح وہ بھی بمبئی کی فلم نگری میں قدم رکھنے کا خواب دیکھا کرتا تھا۔ فلمی دنیا کی چکا چوند سے متاثر ہو کر پہلے بھی وہ بمبئی کا ایک چکر لگا چکا تھا۔ احمد ندیم قاسمی کو لکھے ایک خط میں فلمی دُنیا میں اپنے داخلے کو اس نے معجزہ قرار دیا اورسب جانتے ہیں کہ یہ معجزہ اُس وقت وقوع پذیر ہوا جب اُس کے دوست اور مربی نذیر لدھیانوی نے اپنے ادبی اور فلمی ہفت روزہ ’’مصور‘‘ کی ادارت کی ذمہ داری سنبھالنے کے لئے اُسےبمبئی آنے کی دعوت دی۔ امرتسر سے وہ بمبئی پہنچا اور اس طرح پیر خان اسٹریٹ میں واقع ’’مصور‘‘ کا چھوٹا سا دفتر فلم انڈسٹری میں اُس کے داخلے کا لانچنگ پیڈ ثابت ہوا۔ اس کے بعد سروج مووی ٹون، ہندوستان سنے ٹون، امپریل کمپنی، فلمستان اور بامبے ٹاکیز جیسی فلم کمپنیوں اور اسٹوڈیوزکے دروازے اُس پر کھلتے چلے گئے۔
منٹو کے لئے بمبئی کی حیثیت محض ایک شہر کی نہیں تھی، یہ ایک ذہنی تجربہ بھی تھا کہ اسی شہر نے زندگی کے خوشنما پہلوئوں کے ساتھ مکروہ، گھناؤنے اور بدنما گوشوں سے آنکھیں چار کرنے کا حوصلہ اور سلیقہ بھی اُسے فراہم کیا۔ یہی وہ شہر تھا جہاں اُس نے شیام، اشوک کمار، کلونت کور، نسیم بانو، رفیق غزنوی، پران اور بابو رائو پٹیل سے دوستی کی تھی اور اسی شہر کے چلتے پھرتے، جیتے جاگتے حقیقی کرداروں کو رام کھلاون، ممد بھائی، فوبھا بائی، مسز ڈی کاسٹا، مسز ڈی سلوا، سہائے، موذیل، سوگندی، بابو گوپی ناتھ جیسے فرضی نام دے کر اُنہیں وقت کی محدود اور مخصوص فریم سے نکالا اور آفاقی لمحوں میں اسیر کر لیا۔ کہنے کی ضرورت نہیں کہ یہ افسانوی اور حقیقی کردار منٹو نے ونڈو شاپنگ سے حاصل نہیں کئے تھے۔ اُن کی سطح پر آکر اُنہیں ملنے، پرکھنے، سمجھنے، برتنے اور اُن میں گھل کر جینے کے بعد وہ اُسے نصیب ہوئے تھے۔ شاید یہی وجہ تھی کہ منٹو کے ہاتھوں وجود پانے والے کردار اوراُن کے گرد بسائی گئی دُنیا صرف کاغذ کی سطح تک محدود نہیں رہتی۔ احمد شجاع پاشاتو کہتے ہیں کہ بمبئی کو یہ فخر حاصل ہے کہ اُس نے سعادت حسن منٹو کی صلاحیتوں کو جِلا بخشی۔ اہم بات اس میں یہ ہے کہ اس شہر نے اُسے دوسروں کی نظر میں ہی نہیں خود اپنی نظر میں بھی محترم بنا دیا تھا۔
بمبئی کے آسمان پرجب فرقہ پرستی کے بادل چھانے لگے اور اپنے دوست اشوک کمار کی’’ بامبے ٹاکیز‘‘ کی زمین خوداُس پر تنگ ہوگئی اور اُسے’’آگل ‘‘راستہ سجھائی نہیں دیا تو وہ چپ چاپ ’’ باجو کی گلی‘‘ سے پاکستان چلا گیا۔ ’’ باجو کی گلی‘‘ میں چھوڑی ہوئی اُسی بمبئی کوسوکیتو مہتا، ارون سادھو اور نہ جانے کتنوں نے منٹو سےوراثت میں پایا تھا۔ سوکیتو مہتا لکھتا ہے: ’’جب مجھے بمبئی سے اچانک نیو یارک جانا پڑا تو ایسا لگا جیسے میرے جسم کا کوئی انگ کاٹ کر الگ کیا جارہا ہےاور کئی برسوں تک میں بمبئی کو بھول نہیں پایا۔ ‘‘ آخر ایک دن سوکیتو مہتا بمبئی لوٹ آیا اور ’’Maximum City‘‘ جیساناول لکھا، یہ مہلت اور موقع تقدیر نے منٹو کو نہیں دیا۔ اپنے دل پر پتھر رکھ کربمبئی سے لاہور کا سفر تواُس نے طے کر لیا تھا لیکن تا زندگی بمبئی کو محبوبانہ اور مجنونانہ انداز میں یاد کرتا رہا... یاد کرتا رہااوربار بار عصمت کوخط لکھتارہا: ’’کوشش کر کے مجھے ہندوستان بلا لو...۔ اور اگر مکرجی سے کہہ کر بمبئی بلا لو تو بہت اچھا ہے۔ ‘‘ منٹو کے پیروں کے نصیب میں مگربمبئی لوٹنانہیں لکھا تھا۔ اگلے سات آٹھ سا ل مملکت خداداد میں بیٹھا وہ اپنے پسندیدہ شہر کےلئے کڑھتا، کلستااور تڑپتارہا اور بڑی حسرتوں سے اُسے یاد کرتا رہا۔ اپنے ایک مضمون ’’ جیب کفن ‘‘میں وہ یوں رقم طراز ہے :
’’آج میرا دل بہت افسردہ ہے... چار ساڑھے چار برس پہلے جب میں نے اپنے دوسرے وطن بمبئی کو خیر باد کہی تھی تو میرا دل اسی طرح مغموم تھا، مجھے وہ جگہ چھوڑنے کا صدمہ تھا جہاں میں نے اپنی زندگی کے بڑے پُر مشقت دن گزارے تھے اسی خطہ زمین نے مجھ ایسے آوارہ اور خاندان کے دھتکارے ہوئے انسان کو اپنے دامن میں جگہ دی تھی، اس نے مجھ سے کہا تھا تم یہاں دو پیسے روزانہ پر بھی خوش رہ سکتے ہو اور دس ہزار روپے روزانہ پر بھی ... یہاں بارہ برس رہنے کے بعد جو کچھ میں نے سیکھا یہ اسی کا باعث ہے کہ میں یہاں پاکستان میں موجود ہوں۔ یہاں سے کہیں اور چلا گیا تو وہاں بھی موجود رہوں گا... میں چلتا پھرتا بمبئی ہوں جہاں بھی قیام کروں گا وہیں میرا اپنا جہاں آباد ہوجائے گا۔ ‘‘
محولہ بالاعبارت کےآخری جملے پر غور کریں تو اس میں ایک خود اطمینانی جھلکتی ہے مگر منٹو نے جو مضامین اورقلمی مرقعے تحریر کیے ہیں، وہ اس خود اطمینانی کو جھٹلاتے ہیں ... محسوس ہوتا ہےگویا وہ ایک ادھورے پن کے ہراس میں مبتلا ہو۔ اصل میں یہ شہر اُس کیلئے ایک ایسا کمبل بن گیا تھا، جس سے وہ پیچھا نہیں چھڑا پا رہا تھا۔ لاہور اورلاہور کی زندگی منٹوکے افسانوں کا موضوع نہیں بن پا رہی تھی اوراُس کا حساس اور فنکارانہ ذہن اس دوران بمبئی کی گلیوں میں ہی گھومتا رہا۔ لاہور سےاُسےیہی شکایت رہی کہ اس شہر کے بازار اور ہوٹل رات کے دس بجےبند ہو جاتے ہیں۔ وہ کہتا تھا: ’’ بھلا جس شہر کے بازار اور ہوٹل رات کے دس بجےبند ہو جاتے ہوں وہاں افسانہ کہاں سے آئےگا؟‘‘ یہی وجہ تھی کہ لاہور میں لکھے گئے اُسکے متعدد افسانوں، خاکوں اور مضامین کا موادبھی بمبئی شہر فراہم کر رہا تھا۔ گویا لاہور میں رہتے ہوئے منٹو کیلئے بمبئی کا حسن پہلے سے زیادہ بامعنی، تابناک اور درخشاں ہو گیا تھا۔
بٹوارے کے وقت منٹو بمبئی میں تھااور فرقہ وارانہ منافرت کا جو ماحول اُس وقت وہاں پسرا ہوا تھا اُسے حد سے زیادہ بیداراُس کی اخلاقی حس برداشت نہیں کر پا رہی تھی۔ برسوں پہلے امرتسر کی تنگ گلیوں اور اُس کے غلیظ بازاروں سے بھاگ کر جب وہ بمبئی پہنچا تھا تو اُس کا خیال تھا کہ اس خوبصورت اور وسیع شہر کی فضا فرقہ وارانہ جھگڑوں سے پاک ہو گی، لیکن اُس کا یہ ا ندازہ خوش فہمی ثابت ہوا اور یہاں بھی ہندو اور مسلم، مندر اور مسجد، گائے اور سور کے قضیے نے اُس کے فن کارانہ ذہن پر گہرا اثر ڈالا۔ ۱۹۴۶ءمیں جب جنوں خیز منافرت کی تپش سے بمبئی کی پُرسکون فضا تپنے لگی تو’’مصور‘‘ کے ہفت روزہ کالم ’’منٹو کا صفحہ ‘‘میں اُس نے ایک اپیل شائع کی تھی جس کا روئے سُخن براہ راست اہل ِ بمبئی تھے۔ یہ الگ بات ہے کہ ’’ ایک اشک آلود اپیل ‘‘ کے عنوان سے منٹو کی فریاد شائع ہوتے ہی ستم گر معاشرہ کے ’’غیرتمند مسلمان‘‘ اُسے مارنے کیلئے چلے آئے تھے۔ یاد رہے کہ’’مصور‘‘ ایک فلمی ہفت روزہ تھا اور اس کے مشمولات کا بڑا حصّہ فلم سے متعلق ہوا کرتا تھا لیکن اس میں ’’منٹو کا صفحہ ‘‘ بھی بڑے شوق سے پڑھا جاتاتھا۔ مظفر علی سیّد اپنے ایک مضمون میں اس کالم کی مقبولیت کے حوالے سے کہتے ہیں :
’’بمبئی سے اُن کا(منٹو کا) مرتبہ ہفت روزہ ’’مصور‘‘ کئی لوگوں کے پاس آتا تھا۔ یہ رسالہ یوں تو بہ ظاہر فلمی تھا اور اس لحاظ سے خاصا چٹپٹا بھی، مگر خاص خاص موقعوں پر اس کے سیاسی سماجی ایڈیشن بھی چھپتے اور ہاتھوں ہاتھ لئے جاتے۔ ہر ہفتے ’منٹو کا صفحہ‘ اس اعلان کے ساتھ شامل ہوتا کہ اس صفحہ پر منٹو جو چاہے گا لکھے گا۔ یہ کالم اتنی بارپڑھ پڑھ کر سنایا جاتا کہ ہر ایک کو حفظ ہو جاتااور اس کے معنی خیز اشارے کنایے بھی شفاف ہو جاتے۔ ‘‘ اس اقتباس کے بعد یہ وضاحت ضروری نہیں کہ صرف افسانے لکھ کر ہی منٹو نے اپنے آپ کو آزمائشوں میں نہیں ڈالا۔ مصور، امروزاور دیگر اخبارات میں سیاسی، سماجی اور ادبی موضوعات پر بھی اس کی تحریریں اخلاقی حوصلہ مندی اور جرأت و جسارت کی نقیب رہیں۔
بحیثیت ادیب اپنے آس پاس کی دنیا اور مسائل سے منٹو کارشتہ گہرا بھی تھااور گمبھیر بھی۔ گجراتی زبان کے ادیب اور صحافی آکار پٹیل تومنٹو کوبمبئی شہرکا بڑا مؤرخ قرار دیتے ہیں ، بہرام کانٹریکٹر سے بڑا اور کھرا... شاید اس لئے کہ منٹو نے بمبئی شہر کی تاریخ نہیں ، تاریخ کے بطن میں چھپی سچائیاں طشت از بام کی تھیں۔ ’’ایک اشک آلود اپیل‘‘ کے علاوہ ’’تحدید اسلحہ‘‘، ’’ہندوستان کو لیڈروں سے بچائو‘‘، ’’مجھے شکایت ہے‘‘، ’ ’شریف عورتیں اور فلمی دُنیا‘‘، ’’عصمت فروشی‘‘، ’’ترقی پسند قبرستان‘‘ میں اُس کی حقیقت شناس نظریں اپنے عہد کی ہر حقیقت کو اُس کی اصلیت میں دیکھ ر ہی تھیں ۔ ۴۷ء کے ماقبل اور مابعد زمانے کے تناظر میں اِن مضامین کو پڑھنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ منٹوکا منضبط ونکتہ طراز ذہن اور تیز و طرار قلم بڑی بےتکلفی اور سہولت سے اُن موضوعات اور مسائل کو ایڈریس کرنے کی سعی کر رہاہے ، جن کی کوکھ میں دو ملک جنم لے رہے تھے۔ اپنے مضمون’’یوم استقلال‘‘ میں اُس نے بمبئی کے اُن اجتماعی رویوں کی نشاندہی کی جو بعد میں برصغیر کی قسمت میں رونما ہونے والے تھے۔ منٹو، بمبئی کے مسلم اکثریتی علاقوں میں ترنگے کے ساتھ مسلم لیگ کے لہراتے جھنڈوں کو نہ صرف Witness کر رہاتھا بلکہ اُن لہراتے جھنڈوں تلے وقوع پذیر ہونے والے واقعات کو پہلو بہ پہلو رکھ کر اُن کی طرف اپنا رویہ متعین کرنے کے لئے اُنہیں از سر نو خلق بھی کر رہا تھا۔ وہ لکھتا ہے:
’’صبح جب بھنڈی بازار گیا تو ایک عجیب منظر دیکھا۔ سارا بازار سبز جھنڈوں سے اٹا پڑا تھا۔ ایک ریستوران کے باہرقائد اعظم کی پینٹنگ جو کسی اناڑی نے بنائی تھی شوخ رنگوں میں لٹک رہی تھی اور دو برقی پنکھوں کا رُخ اُس کی طرف تھا۔ ‘‘
یہاں صورت ِحال کی لایعنیت اور نامعقولیت گدگدی ضرور پیدا کرتی ہے لیکن اس بہ ظاہر بے ضرر ، معصوم اور احمقانہ رویے کے پیچھے منٹو اُس Monsterکی آہٹ سُن رہا تھا ، جس سے معاشرے کو آنے والے وقتوں میں روبرو ہونا ہے۔ یہ بھی ایک دلچسپ اتفاق ہے کہ بٹوارے کے بعد منٹو جب بمبئی سے ہجرت کر کےلاہور پہنچا تو شوخ رنگوں میں بنائی قائد اعظم کی وہی پینٹنگ اُسےایک حلوائی کی دوکان کی دیوارکے ساتھ آویزاں نظر آئی اور اس بار بھی بجلی کے پنکھے کارُخ قائد اعظم کی رنگین تصویر کی طرف ہی تھا۔ گویا اسطورہ سازی کا جو پُر فریب تماشا بٹوارے سے پہلے اور بعد میں شروع ہوا تھا منٹو ایک چھوٹے سے واقعہ کی مدد سے اُسے گرفت میں لینے کا جتن کررہا تھا۔ بٹوارےکے دوران وقوع پذیر ہونے والے ایسے مختلف واقعات اورصورتحال کو منٹو نے ’’سیاہ حاشیے‘‘ کے افسانچوں میں بھی بہ خوبی بیان کیا ہے۔ یوں تو یہ مختصر سی کتاب مکتبہ جدید لاہور نے اکتوبر۱۹۴۸ءمیں شائع کی تھی لیکن داخلی شواہد سے پتہ چلتا ہے کہ متعدد افسانچوں میں بیان ہونے والے بے تکے اور بے ڈھنگے واقعات کے پیچھے تجربات اور مشاہدات کا وہی گھوسٹ امیج اپنی تمام ترمضحکہ خیز ہولناکی اور ہولناک مضحکہ خیزی کے ساتھ موجود ہے، جن سے منٹو بمبئی میں روبرو ہو چکا تھا۔ اہم بات اس میں یہ ہے کہ ان مجرد واقعات اور صورتحال کو بیان کرتے وقت منٹو نظارہ سے زیادہ ذوقِ نظارہ سے سروکار رکھتا ہے۔
جب تک منٹو بمبئی میں رہا ، اُس کا تخلیقی ذہن اس شہر کی رنگارنگ دُنیا میں جیتا بستا رہا۔ جب کبھی شہر میں فساد جیسے واقعات رونما ہوتے تو وہ یہ کہتا کہ بمبئی میں فسادات عموماً دیر تک جاری نہیں رہتے۔ اُس کا خیال تھا کہ غصے اور تشدد کی لہر برسات کی چاندنی کی طرح بمبئی میں اپنی صورت دکھاتی ہے اور پھر روزانہ کے مسائل و معاملات حالات کو معمول پر لے آتے ہیں۔ ’’موذیل‘‘ کا ایک کردار نرنجن(جو کرپال کورکا بھائی ہے) کا بھی ایقان تھا کہ بمبئی میں اگرفساد برپا ہو بھی جائے تو اُس کا اثر جلد ہی زائل ہو جاتاہے۔ بمبئی کے پاس گویا کوئی چھو منتر ہویا وہ کہانیوں کا کوئی قلعہ ہو جس پر کوئی آفت نہیں آ سکتی۔ جب ترلوچن فسادات کی تیزی و تندی کے متعلق اُسےآگاہ کرتا ہے تو اپنی گھنی مونچھوں میں مسکراتے ہوئے نرنجن کہتا ہے:
’’یار تم خواہ مخواہ فکر کرتے ہو۔ میں نے یہاں ایسے کئی فساد دیکھے ہیں ۔ یہ امرتسر یا لاہور نہیں بمبئی ہے بمبئی۔ تمہیں یہاں آئے ہوئے صرف چار برس ہوئے ہیں اور میں یہاں بار ہ برس سے رہ رہا ہوں ۔ بارہ برس سے۔ ‘‘
نرنجن کی طرح بارہ برس سے بمبئی میں رہنے والے منٹو کا خیال بھی غلط ثابت ہواکہ معاشرہ منافرتوں کی جن بنیادوں پراُس وقت استوار ہو رہا تھا وہ مضحکہ خیز بھی تھیں اور المناک بھی۔ ۔ ۔ بمبئی میں رہتے ہوئے یہ حقیقت اب منٹوپر منکشف ہو چلی تھی کہ فرقہ وارانہ منافرت رینگتے رینگتے بمبئی کے فلم اسٹوڈیوتک پہنچ چکی ہے۔ بمبئی ٹاکیز میں منٹو کی طرح کئی مسلمان اہم اور کلیدی عہدوں پر قابض تھے۔ چنانچہ اشوک کمار اور ساوک واچا (جو بمبئی ٹاکیز کے مالکان تھے)کو کئی گمنام خطوط موصول ہونے لگے ، جن میں مسلمان ملازمین کو کلیدی عہدوں سے ہٹانے کا مطالبہ کیا جانے لگا اور نہ ہٹانے پر اسٹوڈیو کو آگ لگانے کی دھمکیاں دی جانے لگیں ، جن کا مالکانِ بمبئی ٹاکیز پر کوئی اثر نہ ہوا۔ منٹو نے جب اس سلسلے میں اشوک کمار سے بات کی تو اُن خطوط اور دھمکیوں کو ڈسٹ بن کے حوالے کرتے ہوئے اُنہوں نے اُس وقت منٹو سے کہا تھا : ’’منٹو یہ سب دیوانگی ہے ، آہستہ آہستہ دور ہوجائے گی۔ ‘‘ افسوس !صد افسوس !!دیوانگی دور تو نہیں ہوئی کہ بٹوارے کا سانپ اپنے پیچھے منافرت اور منافقت کی جو لمبی اور گہری لکیر چھوڑ گیا تھا، اُس کی زد میں منٹو نے اپنے جگری دوست فلم اسٹار شیام کو پایا۔ شیام پر لکھے خاکے ’’مرلی کی دُھن‘‘ میں منٹو کہتا ہے:
’’جب تقسیم پر ہندو مسلمانوں میں خوں ریز جنگ جاری تھی اور طرفین کے ہزاروں آدمی روزانہ مرتے تھے، شیام اور میں راولپنڈی سے بھاگے ہوئے ایک سکھ خاندان کے پاس بیٹھے ہوئے تھے۔ اُس کے افراد اپنے تازہ زخموں کی روداد سنا رہے تھے ، جو بہت دردناک تھی۔ اس کو میں بہ خوبی سمجھتا تھا۔ جب ہم وہاں سے رخصت ہوئے تو میں نے شیام سے کہا: ’’میں مسلمان ہوں ، کیا تمہارا جی نہیں چاہتا کہ مجھے قتل کر دو۔ ‘‘
شیام نے بڑی سنجیدگی سے جواب دیا۔ ’’اِس وقت نہیں ... لیکن اُس وقت جب میں مسلمانوں کے ڈھائے ہوئے مظالم کی داستان سُن رہا تھا... تمہیں قتل کرسکتا تھا۔ ‘‘
کیا ہم کہہ سکتے ہیں منٹو کو شیام کے اسی جملے نے بمبئی چھوڑنے پر مجبور کیا تھا؟ شیام کے سفاک جواب نے منٹو کےپورے اخلاقی وجود کو ایک ایسے سناٹے میں چھوڑ دیا تھا ، جس کا منطقہ گہرائی سے اندر تک پھیلا ہواتھا : ’ ’اِس وقت نہیں ... لیکن اُس وقت جب میں مسلمانوں کے ڈھائے ہوئے مظالم کی داستان سُن رہا تھا... تمہیں قتل کرسکتا تھا‘‘ یعنی کہ ایک دوست دوسرے دوست کا قتل کر سکتا ہے۔ یہ خیال ہی منٹو کے حواس کو بھک سے اُڑا دینے کیلئے کافی تھا۔ سوگندھی کو جس طرح سیٹھ کی فقط ایک ’’اونہہ‘‘ نے جلتے توے کی بوند بنا دیا تھا منٹو کو بھی اُس کے سب سے عزیز دوست کے فقرے نے خوفناک قسم کے اندرونی عتاب میں مبتلا کر دیا تھا۔ ’ اِس اور اُس وقت‘ کے تناظر میں منٹونہ صرف شیام کے اندرونی کھینچائو اور تضاد کا سراغ پانا چاہتا تھا بلکہ اس حیلہ سےفسادات کے نفسیاتی پس منظر کو سمجھنے کا بھی وہ متمنی تھا۔ ’’سہائے‘‘ اور ’’موذیل‘‘ جیسے افسانے اور کردار اسی خواہش اورکاوش کی تکمیل کا دوسرا نام ہے۔
منٹو کی مختصر زندگی کا ایک طویل عرصہ بمبئی کے فلمی دنیا میں گزرا ، لہٰذااپنے تحریر کردہ خاکوں اور افسانوں میں اس شہر کواُس نے بڑی شدّت اور حدّت سے یاد کیا ہے۔ ’’گنجے فرشتے‘‘ اور ’’لائوڈ اسپیکر‘‘ کے خاکوں میں فلمی دنیا کے شب و روز کھل کر سامنے آئے ہیں۔ منٹو کے یہ قلمی مرقعے اپنی قوت نمو اُسی دھارے سے پاتے ہیں جو بمبئی میں گزارے ہوئے دنوں کی تہہ میں بہہ رہے تھے۔ اشوک کمار، نسیم بانو، شیام، نرگس، ستارہ دیوی، رفیق غزنوی جیسی فلمی ہستیوں کے خاکے حقیقت میں اُن چہروں اور چیزوں کو یاد کرنے کا ہی ایک قرینہ ہے جو بمبئی سے وابستہ تھی۔ ان خاکوں میں خاکہ کا موضوع بننے والی شخصیت کی افہام و تفہیم کے ساتھ منٹو فلمی دنیا کے جگمگاتے ایوانوں کی اندرونی سیاست کو بھی بے نقاب کرتاہے۔ چمکتے چمچماتے باہری خول کے بھیتر بھی ایک دنیا ہے جس میں وزنی جیبوں والے ان پڑھ سیٹھ، تخیل سے عاری ڈائریکٹر، اُن کے اسٹنٹ، فلم کے پردے پر عشق و محبت کی تلخی اور مٹھاس کو پیش کرنےوالے ایکٹر ، ایکڑیس، ایکسٹرا کاکام کرنے والے، مردوں کے کالروں اور عورتوں کے بلائوز کی جھالروں کے پیچھے چھپی خوابوں اورخواہشوں کی بے انت لہریں ، موسیقار ، سازندے، کورس میں گانے والے لڑکے لڑکیاں ، مسخرے، ادیب، منشی، مکالمہ نویس، شاعروں اور سائونڈ ریکارڈسٹ، دیگر ٹیکنیشین، اپنی تمام عریانیوں کے ساتھ ان خاکوں میں متحرک نظر آتے ہیں۔ اس کے علاوہ فلمی دنیا کے پس منظر میں لکھے گئے منٹو کے افسانوں میں میرانام رادھا ہے، جانکی، لیتیکا رانی، خالی بوتلیں خالی ڈبے، میرٹھ کی قینچی، ممی، مس مالا جیسے افسانے کافی اہم ہیں۔ ان افسانوں کے پلاٹ، واقعات، کردار اور پس منظرفلمی دنیا سے ماخوذ ہے لہٰذا یہ کہنا غلط نہیں کہ اس اعتبار سے ان افسانوں کا بھی بمبئی سے ایک اندرونی تعلق قائم ہو جاتا ہے۔
غور کرنے کا مقام یہاں یہ بھی ہے کہ گنجان آبادی والے اس بھرے پرے شہر نے، جس کی جڑیں زمین میں نہیں منی پلانٹ کی طرح پانی میں تیرتی رہی ہیں ، منٹو سے غضب کی کہانیاں لکھوائیں۔ کہہ سکتے ہیں اسی بے زمینی نے اس شہر کے مرکنٹائل کردارکو رچا ہےکہ یہی کردار روز اول سے اس کی پہچان ہے جو اسے دوسرے مہانگروں سے الگ کرتا ہے۔
دوسرے معاصر افسانہ نگاروں کی طرح منٹو کو بھی ہم اُس کے عصر سے کاٹ کر نہیں دیکھ سکتے، لیکن ظاہر ہےاُس کا آرٹ زندگی کی فقط فوٹوگرافی نہیں۔ اُس کا ہمہ گیر مشاہدہ جس ماحول پر نظر ڈالتا ہے اُس کے باریک سے باریک پہلو اور جزئیات اور تفصیلات کو نظر میں اپنے افسانے کا پس منظر بنا دیتا ہے۔ اپولوبندر پر چھٹپٹاتا سمندر، بمبئی کی کھولی، کھولیوں میں مرے ہوئے مچھروں کی بو، چالیاں اور چالیوں کے غسل خانے میں صبح سویرے جمع ہونے والی مراٹھی، گجراتی، کرسچن اور یہودی عورتیں، کانگریس ہائوس کے قریب تعمیر کی گئی موتریاں، قلابے کی کوٹھیاں، کوٹھیوں میں چلنے میں بروتھلز، لوہے کی پیچ دار سیڑھیاں، مہالکشمی کے دھوبی گھاٹ، عرب گلی کے ہوٹل، پاٹی والے مزدور، اینگلوانڈین لڑکیاں، ٹرامیں، تانگے، کوڑے کرکٹ کا ڈھیر، مقررہ وقت پر مشین کی سی بے روح باقاعدگی سے اپنے لگے بندھے کام کرنے والے لوگ، ٹھیٹ چرسیوں کے انداز میں سٹہ مارنے والی بے حجاب بدمزاج عورتیں، پورے بمبئی شہر کو صابن پانی سے دھلوا دینے کی طاقت رکھنے والے غلاظت پسند سیٹھ، روزانہ مارفیا کا انجکشن لینے والے مرداور عورتیں، چھ چھ کہہ کر پیچھے سے پکارنے والے لوگ، فلم اسٹوڈیو، ڈائرئکٹر، ساونڈ ریکارڈسٹ، اور اسٹوری رائٹر سے بیک وقت عشق لڑانے والی ادھیڑ عمر خوجہ ایکٹریس، اشوک کمار پر بری طرح عاشق پائیدھونی کی چھوکریاں اور اس سے ملاقات کروانے کا جھانسا دے کر اپنا الو سیدھا کرنے والے من چلے لونڈے، ناگپاڑہ پرپان کی دوکان پر فلمی ہیر و ہیروئینوں کے اسکینڈلوں پر بمبئیا اردو میں تبصرے کرتے لفنگے، ٹیکسی اسٹینڈ، چمپی والوں سے اپنی کھوپڑی کی مرمت کروانے والے لوگ، ورلی کی ٹھنڈی بینچ، جوہو کی گیلی ریت ... غرض کہ بمبئی کے مانوس و غیر مانوس نقوش حرکی اور روشن انداز میں منٹو کے مختلف افسانوں میں محفوظ ہیں اور متن کے نامیاتی ڈھانچے کا حصہ ہیں۔
منٹو سے پہلے اور بعد میں بھی مختلف لکھنے والوں نے بمبئی کواپنی تحریروں میں پروسنے کی کوشش کی ہے۔ عزیزاحمد، کرشن چندر، خواجہ احمد عباس، بیدی، عصمت چغتائی، قرۃالعین حیدر اور دوسرے کئی لکھنے والوں نے بھی بمبئی اور اُس کے مختلف علاقوں اور کرداروں کو اپنا تخلیقی مسکن بنایا تھا لیکن بعد کے فکشن لکھنے والوں سے یہ بمبئی کس قدر مختلف نظر آتی ہےاور جو فرق ہے وہ فقط معیار و مزاج کا نہیں ۔ بمبئی شہر اور اُس کا کون سا حصّہ کیسا ہے ؟یہ اس پر منحصر ہے کہ آپ کہاں سے آئے ہیں ؟ اس شہر میں کیا دیکھنا چاہتے ہیں ؟ اور کس زاویےسے دیکھ رہے ہیں ؟ بعد کے لکھنے والے چونکہ یہ اس شہر کے native spiceہیں ، لہٰذا شہر کووہ کسی ٹورسٹ کی نگاہ سے نہیں دیکھ رہے تھے۔ بقول انور خان اس شہر سے اسی طرح واقف تھے جیسے اپنے ہاتھ کی انگلیوں سے...سلام بن رزاق (انجام کار)، انور خان، (شام رنگ، بول بچن)، انور قمر (ہاتھیوں کی قطار، چوراہے پر ٹنگا آدمی)، مشتاق مومن (موز)، ساجد رشید (آنسو گیس کا غبار، ایک چھوٹا سا جہنم)، علی امام نقوی (ڈونگر واڑی کے گدھ) جیسے افسانوں کے مطالعہ سے اندازہ ہوتا ہے کہ شہر ان افسانہ نگاروں کی نسوں میں اور یہ شہر کی نسوں میں بہہ رہے ہیں ۔ سچ تو یہ ہے کہ بمبئی کو جیے بنا یہ افسانے لکھے ہی نہیں جاسکتے تھے۔ اگر میں یہ کہوں تو غلط نہ ہوگا کہ بمبئی کے موضوع یا پس منظر میں لکھے گئے اُن کے یہ افسانے بجائے خود اُن کا آدھار کارڈہیں۔ خاطرنشان رہے کہ منٹو بھی دوسرے ادیبوں کی طرح تلاش روزگار کےلئے ہی بمبئی آیا تھا اور منٹو کے پاس بھی بمبئی کو دیکھنے کےلیے ایک سیاح کی ہی آنکھ تھی مگر پھر بھی منٹو کی نظر اور نظریے میں ایک واضح فرق یہ تھا کہ دوسرے لکھنے والوں کی طرح بمبئی اُس کے لیےکوئی مہمان خانہ یا شرنارتھی کیمپ نہیں تھا۔ منٹو اور بمبئی ایک دوسرے میں اس طرح رچ بس گئے کہ دونوں میں ایک دوسرے کا شائبہ دیکھا جا سکتا ہے۔ بمبئی منٹو کی مختصر زندگی کااہم ترین اور غالب ترین تجربہ تھا۔ بمبئی نے محض ایک آوارہ اور خاندان سے دھتکارے ہوئےانسان کو ہی اپنے دامن میں جگہ نہیں دی بلکہ اُس کی تخلیقی و فنی صلاحیتوں کو ایک نیا نقطہ ارتکاز بھی عطا کیا۔ کہنے کو منٹو کی موت ۱۸؍ جنوری ۱۹۵۵ء کو ہوئی لیکن جیسا کہ منٹو کے ایک دوست اورپنجابی شاعر احمد راہی نے کہا تھا جس لمحے منٹو نے بمبئی چھوڑی اُسی پل سے اُس کی موت شروع ہو گئی تھی۔