عظیم آباد میں ۱۴؍اکتوبر کو ہونے والی اختر اورینوی یادگاری تقریب کا تذکرہ جس میں ان کی کہانیوں کے حوالے سے گفتگو کی گئی ہے۔
EPAPER
Updated: October 25, 2026, 4:36 PM IST | Professor Sarwar Al Huda | Mumbai
عظیم آباد میں ۱۴؍اکتوبر کو ہونے والی اختر اورینوی یادگاری تقریب کا تذکرہ جس میں ان کی کہانیوں کے حوالے سے گفتگو کی گئی ہے۔
۱۴؍اکتوبر کا دن کچھ اس طرح گزرا کہ جیسے وہ ٹھہر گیا ہو۔ وقت کے ٹھہر جانے کا احساس اختر اورینوی کی شخصیت اور کہانی کے بارے میں کچھ کہنے اور سننے کے بعد ہوا۔ کہانی پہلے بھی پڑھی جا چکی تھی لیکن اب کی بار تو کہانی کچھ اس طرح پڑھی اور سنی گئی کہ جیسے کہانی کو ایک نیا تناظر مل گیا ہو۔ اختر اورینوی کی کہانی’’ کلیاں اور کانٹے‘‘ اپنے عزیزوں کے ساتھ پڑھتے ہوئے کئی دروازے کھلتے ہوئے محسوس ہوئے۔ کہانی ہاسپٹل کی زندگی سے متعلق ہے مگر کہانی ہاسپٹل سے نکل کر باہر کی دنیا کو بھی سمیٹ لاتی ہے۔ اس کہانی کا ذکر کرتے ہوئے بلراج مین را کے چہرے کا ر نگ بدل جاتا تھا۔ یہ اردو کی پہلی کہانی ہے جس میں بیماری استعارہ بن جاتی ہے۔ ایک قاری کے طور پر یہ بات بھی میں نے کہی کہ کہانی جہاں ختم ہوتی ہے دراصل وہاں سے شروع ہوتی ہے۔ درمیان میں اتنے مناظر اور قصے ہیں کہ کہانی ناول کی وسعت کو آواز دیتی ہے۔ اتنے وقفے اور خاموشیاں کسی ایک کہانی میں بہت مشکل سے راہ پاتے ہیں۔ وہ بھی ایک ایسی کہا نی جو بظاہر سادہ اسلوب میں لکھی گئی ہو۔ مگر سادگی بھی کیا چیز ہے جو پیچیدگی کو آئینہ دکھاتی ہے۔ ہاسپٹل کا ماحول عام زندگی کے تجربے میں شامل ہے۔ لیکن اختر اورینوی نے جس پریشان روح تک رسائی حاصل کی ہے اس میں ذاتی تجربے کا بھی ایک حصہ ہے:
’’ہم اکیلے پلنگ پر پڑے سوچتے رہتے تھے، زندگی کی سوچ، موت کی سوچ، سل کی سوچ، دق کی سوچ، آرزوؤں کی لاش، ماضی کا ماتم، مستقبل کا روپ اور سب سے بڑھ کر روح کی وہ مہیب کپکپی جو مادہ کے سہارے سے علاحدگی کے بعض تصور سے ہی طاری ہو جاتی ہے۔ جسم محبوس، ٹھوس، تپاں، متحرک، خود نگر، خوبصورت اور حقیقی جسم کا اچانک سرد اور بے حس ہو جانا احساس و ادراک جھٹپٹانے لگتے ہیں۔ فرد کے وجود کا لامعلوم، تاریک بے پایاں لامکاں، بے زماں وسعتوں میں تحلیل ہو کے فنا ہو جانا، سوچنے والے دماغ، دھڑکتے ہوئے دل، تیرتے ہوئے خون کا تعطل اور لاعلمی کا ناقابل تصور پھیلاؤ، یہ کائنات کا سب سے المناک سانحہ ہے۔ ہم صحت گاہ کی خاموشیوں میں پھسلتے ہوئے لمحات کو سرکتی گھٹتی ڈوبتی ہوئی زندگی کے انجام کو سوچ کر لرز اٹھتے تھے۔ ہم خیالات کے بوجھ کو فضا میں پھینک کر اپنی قمیضوں کے بٹن یا پلنگ کی پٹی کو پکڑ لیتے تھے تاکہ معلوم اور شناسا چیزوں کی ہستی کی ٹیگ مل جائے۔ ‘‘
یہ بھی پڑھئے: ’’آل اِنڈیا ریڈیو کی اُردو نشریات کا انتظار رہتا تھا ‘‘
یہ کہانی ہے یا زندگی کا وہ شعور جو کبھی کبھی کسی کو حاصل ہوتا ہے۔ حصولیابی کے باوجود یہ شعور کہانی نہیں بن پاتا۔ زندگی کی بدصورتی کا ذکر جن لایعنی لمحات کو سامنے لاتا ہے وہ بھی ہماری نگاہ میں ہے۔ حقیقت کی تجرید اور شے کا تصور میں تبدیل ہو جانا یہ سارا کھیل کہانی کے اندر جاری رہتا ہے۔ مگر کہانی ہزار تخیلاتی اور تجریدی ہو جائے اسے کسی موڑ پر ٹھوس اشیاء کے ساتھ اپنے وجود کا اعلان کرنا پڑتا ہے۔ یہ بیانیہ اس جدیدیت کے افسانے سے مختلف ہے جس میں بقول وارث علوی، انسان سائے کی طرح تھا اور محسوس ہوتا تھا کہ جیسے زندگی صرف بدصورتی کا نام ہے۔ اختر اورینوی کا یہ اقتباس دروں بینی لئے ہوئے ہے۔ یہ اقتباس فکر و احساس کے ساتھ پھیلتا جاتا ہے اور سمٹتا جاتا ہے۔ زندگی دھڑکنوں سے لپٹی ہوئی ہے اور زخموں سے بھی۔ نگاہ ہر طرف کو جاتی ہے اور لوٹ آتی ہے۔ ذات اور کائنات کا خلا کتنا خوف زدہ کرتا ہے۔ یقینی طور پر کچھ کہنا مشکل ہے۔ راوی یا بیان کنندہ اپنی قمیض کے بٹن یا پلنگ کی پٹی کو پکڑ لیتا ہے تاکہ اسے کسی شناسا چیز کے وجود کا احساس ہو جائے۔ میرا خیال ہے کہ ہاسپٹل کی ڈوبتی اور ابھرتی زندگی کی سانسوں کے ساتھ قمیض کے بٹن اور پلنگ کی پٹی کا خیال اس بات کی علامت ہے کہ کہانی زندگی اور اس کی ٹھوس زمین سے پھوٹتی ہے۔ یہی وہ تخلیقی ذہانت ہے جس سے اس زمانے میں بھی زیادہ تر لکھنے والے محروم تھے اور مجھے یہ کہنے میں کوئی باک نہیں کہ محرومی کا یہ سفر ابھی ختم نہیں ہوا ہے۔
کلیاں اور کانٹے کے نام سے وہ لوگ گھبراتے ہیں جنہیں زندگی کا اندھیرا بیماریوں سے ملا ہے۔ زندگی کا اندھیرا اور اجالا ایک ساتھ رہ سکتا ہے اور رہتا ہے۔ کلیاں اور کانٹے کو پڑھتے ہوئے نئے افسانے کا خیال آتا ہے جس میں زندگی کا چہرہ مسخ ہو چکا ہے۔ کلیاں اور کانٹے کی کوئی اگر سیاست ہو سکتی ہے تو اسے زندگی سے اور فن سے ایماندارانہ رشتے کا نام دیا جا سکتا ہے۔
یہ کہہ دینا کافی نہیں کہ ان کے یہاں تخلیقی وفور ہے اور قادر الکلامی ہے۔ یہ رواجی باتیں اختر اورینوی کے لئے نہیں کہی جا سکتیں۔ قادر الکلامی اور فطری اظہار ضروری نہیں کہ وہ بصیرت پیدا کرے جو کسی بڑی کہانی یا بڑے ادب کے لئے ضروری ہے۔ بصیرت کا لفظ بھی دھوکہ دیتا ہے لیکن اتنا ضرور ہے کہ کوئی فن پارہ اگر کچھ مختلف دیکھنے سوچنے اور محسوس کرنے کے لئے آمادہ کرتا ہے تو یہ بصیرت ہی کا حاصل ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ’شیوانی‘ کا افسانوی اَدب نصف صدی بعد بھی پرانا نہیں ہوا
اختر اورینوی کی ایک تحریر رسالہ ’’آج کل‘‘ میں شائع ہوئی تھی غبارِ کارواں کے نام سے۔ کئی اہم باتیں انہوں نے اپنے تعلق سے لکھی ہیں۔ یہ بھی لکھا ہے کہ اپنا محاسبہ کرنا دراصل دوسروں کا محاسبہ کرنا ہے۔ اس کی وجہ اور کچھ نہیں کہ محاسبہ کرنے والا اپنی داخلی الجھنوں کو کہیں اور تلاش کرتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی لکھا ہے کہ کیٹس کو ٹی بی کی بیماری تھی جب مجھے اپنی اس بیماری کا علم ہوا تو کیٹس سے گویا ایک رشتہ قائم ہو گیا۔
میرا خیال ہے کہ اختر اورینوی کی ذہنی تنہائی کو بہت کم دیکھنے کی کوشش کی گئی۔ یہ تنہائی وہاں بھی ہے جہاں بعض نقادوں نے ان کے اجتماعی سروکار کو دیکھا ہے۔ اجتماعی سروکار کا مطلب یہی سمجھا گیا کہ فنکار اپنی ذات کو فراموش کر چکا ہے اور اب اسے زمانے کی طرف دیکھنا ہے۔ اختر اورینوی کی کہانیوں سے اس حقیقت کو سمجھا جا سکتا ہے کہ زندگی اور فن میں ذہنی تنہائی کا کوئی بدل نہیں ہے۔ یہ سائے کی طرح لگی ہوئی ہے، کہیں وہ بیماری کے ساتھ ہے تو کہیں کسی اور افسردگی کے ساتھ اور کہیں اس اندھیرے کے ساتھ جو دکھائی نہیں دیتا۔ یہ اندھیرا علاقہ اپنے اندر تنہائی اداسی اور بیگانگی کی بہت سی کیفیات کو چھپائے ہوئے ہے۔ یہ اندھیرا علاقہ اجتماعی سروکار سے بے تعلق بھی نہیں ہے۔ ایک شخصی اظہار بھی لسانی اظہار کو انفرادیت بخشتا ہے۔ اسی لیے اختر کے یہاں لسانی اظہار محض لسانی اظہار نہیں بلکہ ذہن اور احساس کی ساخت کا بھی پتہ دیتا ہے۔ یہ ایک ایسا اظہار ہے جو ایک معنی میں فنکار کو بھٹکنے سے بچاتا ہے اور یہ بھٹکنا بھی گویا وسعت کی ایک خاص سمت کو اپنی جانب متوجہ کرنا ہے۔
لسانی اظہار شخصی اظہار بن جائے تو پھر مصنف کو بے دخل کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ یہاں مصنف اس معنی میں ہرگز حائل نہیں کہ مصنف کی شخصیت فن کو محدود کر دیتی ہے۔ یہ بات بھی اب فیشن سی بن گئی ہے لہٰذا کہنا یہ چاہئے کہ اختر کی کہانی مصنف کی ذات کو بے دخل بھی کرتی ہے اور وہ اسے آواز بھی دیتی ہے۔