• Sun, 01 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

سیمابؔ اکبرآبادی نے شاعری کو محض فن سمجھ کر اختیار نہیں کیا

Updated: February 01, 2026, 12:33 PM IST | Zarina Sani | Mumbai

۳۱؍ جنوری کو سیماب اکبرآبادی کی ۷۵؍ ویں برسی تھی، اسی مناسبت سے یہ مضمون بطور ِ خاص شائع کیا جارہا ہے جو مختصر ہونے کے باوجود جامع ہے اور سیماب کی شاعری کا بھرپور احاطہ کرتا ہے۔

Seemab Akbarabadi. Photo: INN
سیماب اکبر آبادی۔ تصویر: آئی این این

وقت گزرتا ہے ، نقش ابھرتے ہیں اور پھر مٹ جاتے ہیں مگر بعض نقوش ایسے بھی ہوتے ہیں جو زمانے کی دسترس سے بالاتر ہوکر لوحِ وقت پر پتھر کی لکیر بن جاتے ہیں۔ جوں جوں وقت گزرتا ہے یہ نقوش زیادہ عمیق اور واضح ہوتے جاتے ہیں۔ ایسے ہی نقوش میں ایک نقش علامہ سیمابؔ اکبر آبادی کی ذات ِ گرامی ہے جنہوں نے اپنی زندگی کو عروس سخن کے گیسوؤں کی آراستگی کیلئے وقف کردیا تھا اور جنہیں اس بات کا عرفان ہوچکا تھا کہ ان کی تخلیق خدمت ِ ادب کے لئے ہوئی ہے۔ 
علامہ سیمابؔ نے زمانے کے دستور کے مطابق سخن کی ابتداء غزلوں ہی سے کی۔ اُن کی غزلوں میں وہ تمام خصوصیات ملتی ہیں جو کامیاب غزل گوئی کی ضامن ہیں۔ صالح اقدار، شاعرانہ صداقت، سادگی و اصلیت، متانت و سنجیدگی، دلکشی و رعنائی، انسانیت کی جھلک، مسائلِ حیات کی توضیح اور عارفانہ خیالات ان کی غزلوں کی نمایاں خصوصیات ہیں۔ 
اُن کے زمانے میں غزل کی شکست و ریخت کے لئے ایک محاذ تیار ہوچکا تھا اور اکثریت نظم کی طرف راغب ہورہی تھی۔ سیمابؔ نے شاعری کو محض فن سمجھ کر اختیار نہیں کیا بلکہ شعور کی بالیدگی اور فہم و ادراک کی پختگی نے ان پر منکشف کردیا تھا کہ شاعری سے ایسا کام لینا چاہئے جو قوم کے تابناک مستقبل کا ضامن بن سکے۔ اس لئے انہوں نے نظمیہ پیرایہ اختیار کیا۔ وہ خود کہتے ہیں کہ نظم غزل گوئی سے زیادہ ضروری اور بہترین صنف کلام ہے اور حقیقت یہ ہے کہ غزل اپنی فطری ساخت کی وجہ سے اُس انقلاب اور رجزیہ لہجے کی متحمل نہیں ہوسکتی تھی جس کی ہمیں ضرورت تھی۔ 
سیمابؔ نے ابتداء میں اپنے زمانے کے اہم واقعات، سیاسی رجحانات اور سماجی مسائل کو اپنی نظموں میں پیش کیا ہے۔ ان کی نظمیہ شاعری میں جلوہ ہائے صد رنگ نظر آتے ہیں۔ انہوں نے تاریخی، مذہبی، ادبی، قومی، سیاسی، اصلاحی اور عزائیہ نظمیں لکھیں۔ سیمابؔ کی شاعری کا ابتدائی دور اقبالؔ کے دور سوم سے مشابہت رکھتا۔ اسی دَور میں انہوں نے ایسی نظمیں لکھیں جو خیالاتِ اسلامی اور کیفیات ِ ملّی، عشق خداوندی اور عقیدت ِ محمدیؐ کے جذبات سے لبریز ہیں۔ ’نیستاں ‘ کی تمام نظمیں اسی قبیل کی ہیں۔ سیمابؔ نے اُسی دور میں علامہ شبلی کی طرح تاریخی واقعات پر مشتمل چھوٹی چھوٹی مؤثر نظمیں لکھیں جن سے اُن کا مقصد ہمارے اسلاف کی عظمت و جلالت اور اُن کے اعمال و عقائد کا اظہار کرکے ہمیں اصلاح کی طرف مائل کرنا تھا۔ اُن کا تاریخی شعور بڑا بالغ اورپختہ تھا۔ وہ عالمی تاریخ سے بھی واقف تھے۔ ’بساطِ سیاست‘ اور ’انقلابِ روس‘ اسی قبیل کی نظمیں ہیں۔ انہوں نے تاریخی عمارات پر جس قدر جوشیلی، محاکاتی اور مؤثر نظمیں لکھی ہیں ، ایسی نظمیں اردو کی نظمیہ شاعری میں کم ہی نظر آتی ہیں۔ اُن کی رباعیات کا مجموعیہ ’عالم آشوب‘ تاریخی حیثیت رکھتا ہے۔ اس مجموعہ میں انہوں نے اواخر مئی ۱۹۴۰ء سے اواخر دسمبر ۱۹۴۳ء تک کے حالات بالترتیب درج کئے ہیں۔ سیمابؔ کی تاریخی نظموں میں ہم کہیں تاریخی شخصیات کو نمایاں دیکھتے ہیں تو کہیں تاریخی حالات پر تبصرہ ملتا ہے ، کہیں تاریخی مقامات کی عظمت کا نقشہ سامنے آتا ہے تو کہیں عالمی سیاست کا شعور جھلکتا ہے۔ لیکن یہاں بھی وہ اپنا خاص مقصد یعنی اصلاحِ معاشرت و سماج نہیں بھولتے۔ یہی اس شاعری کا سب سے خاص پہلو ہے۔ 
اُردو شاعری میں اصلاح کا آوازہ سرسید، حالی و شبلی کے زمانے میں اٹھایا گیا اور سیمابؔ نے اس روایت کو آگے بڑھایا۔ لیکن یہ یاد رکھنا چاہئے کہ انہوں نے جہاں معاشرت، سماج، سیاست اور مذہب کی اصلاح کے لئے نظمیں لکھیں وہیں ادب کی لسانی اور ادبی گمرہی کو ختم کرنے کیلئے اپنے شاگردوں کی نظموں اور معاصرین کی شاعری پر محاکمہ بھی کیا۔ اُن کی اصلاحی نظموں میں یہ جدت ہے کہ جہاں انہوں نے سلف لوگوں کے حالات بتا کر قوم کو درسِ عبرت دیا ہے وہیں انسانی نفسیات اور مناظر ِ قدرت کو پس منظر بنا کر اتفاق و اتحاد کا درس بھی دیا ہے۔ اُن کی اصلاحی نظموں میں سے چند کی نشاندہی ضروری معلوم ہوتی ہے۔ وہ ہیں : عشرتیانِ موسم سرما سے، تاروں کا گیت، رقص گل، مقبروں کے غلط کتبے اور روحوں کے اعمال نامے۔ ان میں سے مؤخرالذکر نظم خاص ندرت و جدت کی حامل ہے۔ 
سیمابؔ نے وطن کی عظمت کے گیت گائے اور اُس کی زبوں حالی پر آنسو بہائے۔ ان کے تخیل کی بازگشت وطن ہی سے مواد حاصل کرتی ہے۔ وطن کو غلام دیکھ کر اُن کا دل کڑھتا تھا۔ وہ ہر دل میں آزادی کی شمع روشن کرنے کے خواہاں تھے۔ نظم ’ہندوستان‘ میں اُن کی وطنی عقیدت انتہا کو پہنچی ہوئی ہے۔ سرزمین ہند کو انہوں نے ’پرستش گاہِ فطرت اور سجدہ گاہِ آفتاب‘ سے موسوم کیا ہے۔ انہیں عشق کی پروردگاری اور حسن کی پیغمبری کے جلوے ریاضِ ہند ہی میں نظر آتے ہیں۔ یہی سرزمین مختلف مذاہب کا سنگم ہے۔ اس نظم کے آخر میں انہوں نے غیرتمندانہ لہجہ اختیار کیا ہے اور اُن کی آواز:
کاش مستقبل ترا ماضی کو پھر آواز دے
میں ضم ہوجاتی ہے اور ہمارے دل پر ایک گہرا اور لافانی نقش چھوڑ جاتی ہے۔ ہمیں سیمابؔ کی سیاسی نظموں میں ایک گھن گرج سنائی دیتی ہے جو جوشؔ کی آواز سے مشابہ تو ہے مگر یہ آواز جوش سے بہت پہلے کی ہے۔ سیمابؔ کی نظموں کا وطنی تصور بھی شاعر مشرق علامہ اقبالؔ کی طرح وسیع ہے مگر اسلئے نہیں کہ:
مسلم ہیں ہم، وطن ہے سارا جہاں ہمارا
بلکہ اس لئے کہ:
میں انساں ہوں یہ انسانی کرہ ہے آج تک میرا
گویا سیمابؔ کے یہاں افضلیت اور اولیت انسانیت کو حاصل ہے۔ اِس کے باوجود جب وہ جغرافیائی حدود میں آتے ہیں تو فوقیت اور برتری ہندوستان ہی کو دیتے ہیں۔ 
سیمابؔ کا سیاسی شعور بڑا نکھرا ہوا تھا۔ اُن کی اٹھان کا زمانہ وہ تھا جب ملک سیاسی بحران سے گزر رہا تھا۔ حصولِ آزادی کے نعرے قید و بند کی سختیاں ، ملک کو بہتر بنانے کا احساس، مختلف سیاسی تحریکوں کا ارتقاء، قوم کو سنوارنے کی تمنا، مزدوروں کی حالت ِ زار پر تاسف اور اُن کی اصلاح اور اپنے حقوق کے مطالبے وقت کے اہم تقاضے تھے۔ سیمابؔ اپنے ماحول سے کلی طور پر آگاہ تھے اور سماج کے ایک ذمہ دار فرد کی حیثیت سے اپنی ذمہ داری سے بھی بخوبی واقف تھے۔ انہوں نے اپنی شاعری میں سیاسی رجحانات کو عمدگی سے سمویا ہے۔ اُن کی نظموں میں دعوت ِ انقلاب، نوحہ ٔ وطن، اے اسیرانِ وطن، ہندوستان کا پیغام خسروِ برطانیہ کے نام، مجلس اقوام، طوفان کی گرج ، جاگ اے ہندوستان اور اختلاف وغیرہ بڑی اہم ہیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK