• Sat, 31 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

گوتم اور ساگر اڈانی امریکی سول فراڈ کیس میں ایس ای سی نوٹس قبول کرنے پر رضامند

Updated: January 31, 2026, 10:04 PM IST | Washington

گوتم اڈانی اور بھتیجے ساگر نے امریکی سول فراؤڈ کیس میں ایس ای سی نوٹس قبول کرنے پر رضامندی ظاہر کردی ہے، وہ اس نوٹس کا۹۰؍ دنوں میں جواب دیں گے، ان پر الزام ہے کہ انہوں نے رشوت کے ایک منصوبے کے بارے میں سرمایہ کاروں کو گمراہ کیا۔

Gautam Adani.Photo:INN
گوتم اڈانی۔ تصویر:آئی این این

ایک عدالتی درخواست کے مطابق ارب پتی گوتم اڈانی اور ان کے بھتیجے ساگر اڈانی نے امریکی سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن (ایس ای سی) کا قانونی نوٹس وصول کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ یہ نوٹس ایک سول فراڈ مقدمے میں جاری کیا گیا ہے جس میں الزام ہے کہ انہوں نے رشوت کے ایک منصوبے کے بارے میں سرمایہ کاروں کو گمراہ کیا۔پی ٹی آئی کے ذریعے دیکھی گئی بروکلن کی ایک وفاقی عدالت میں جمع کرائی گئی درخواست میں، ایس ای سی اور گوتم و ساگر اڈانی کے امریکی وکلا نے کہا کہ وکیل ریگولیٹر کے قانونی کاغذات قبول کرنے پر راضی ہو گئے ہیں، جس سے مدعا علیہان کو نوٹس پہنچانے کے طریقہ کار پر عدالتی حکم کی ضرورت ختم ہو گئی ہے۔مشترکہ درخواست (یا معاہدہ) متعلقہ عدالت سے منظوری کے لیے جمع کرائی گئی ہے۔ یہ امریکی قانونی کارروائیوں میں ایک معیاری طریقہ کار کا قدم ہے جو مقدمات کے منظم حل کی اجازت دیتا ہے۔اگر جج اس سے اتفاق کرتے ہیں، تو مشترکہ درخواست ایس ای سی کے معاملے کو آگے بڑھنے دے گی جبکہ اڈانی کو۹۰؍ دنوں کے اندر یا تو مقدمہ خارج کرنے کی درخواست دائر کرنے یا اپنا دفاع جمع کرانے کا وقت دے گی۔ اس کے بعد ایس ای سی مزید ۶۰؍ دنوں کی مدت میں اپنا جوابی موقف جمع کرا سکے گا۔ مدعا علیہان ایسے جوابی موقف کے خلاف۴۵؍ دنوں کے اندر اپنی جوابی درخواستیں جمع کرا سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: ایپسٹین فائلز: محکمہ انصاف نے ۳۰؍ لاکھ صفحات جاری کئے، ٹرمپ، مسک، گیٹس سمیت کئی طاقتور افراد شامل

واضح رہے کہ ایس ای سی نے نومبر۲۰۲۴ء میں ایک مقدمہ دائر کیا تھا جس میں الزام تھا کہ ان دونوں نے اڈانی گرین انرجی لمیٹڈ (اے جی ای ایل) کے بارے میں جھوٹے اور گمراہ کن بیانات دے کر امریکی سیکیورٹیز قوانین کی خلاف ورزی کی۔ایس ای سی کی سول شکایت کے علاوہ، نیویارک، بروکلن کے وفاقی پراسیکیوٹروں نے اڈانی اور دیگر پر یہ الزام عائد کیا ہے کہ انہوں نے ہندوستان میں شمسی توانائی کے معاہدے حاصل کرنے کے لیے۲۶۵؍ ملین ڈالر کے رشوت کے منصوبے کو آگے بڑھانے میں مدد کی۔اڈانی گروپ نے بار بار اپنے خلاف لگائے گئے تمام الزامات کی تردید کی ہے۔تاہم دونوں مقدمے ایک سال سے زیادہ عرصے سے التوا میں ہیں کیونکہ دونوں اڈانی ہندوستان میں ہیں اور ان تک نوٹس نہیں پہنچایا جا سکا۔ گزشتہ ہفتے، ایس ای سی نے ایک امریکی جج سے متبادل طریقوں سے انہیں مقدمے کی اطلاع دینے کی اجازت مانگی، بشمول ای میل کے ذریعے اور اڈانی کی نمائندگی کرنے والی دیگر امریکی قانونی فرموں کے ذریعے۔پورٹس سے لے کر سیمنٹ تک پھیلے ہوئے اڈانی گروپ کی قابل تجدید توانائی کی شاخ اے جی ای ایل نے ایک اسٹاک ایکسچینج فائلنگ میں کہا کہ مدعا علیہان (گوتم اور ساگر اڈانی) کا نوٹس قبول کرنے پر اتفاق کرنا ایک طریقہ کار کا قدم ہے اور وہ ایس ای سی کی شکایت خارج کرانے کی کوشش کریں گے یا جوابی درخواستیں جمع کروائیں گے۔

یہ بھی پڑھئے: مصنوعی ذہانت سے پیدا بے چینی ہندوستانی آئی ٹی ملازموں کی خودکشی کا سبب: رپورٹ

اڈانی نے وال اسٹریٹ کے ایک معروف وکیل، رابرٹ گیوفرا جونیئر، کو اس مقدمے میں اپنا دفاع کرنے کے لیے مامور کیا ہے۔وائٹ-شو لاء فرم سالیوان اینڈ کروم ویل کے شریک چیئر، رابرٹ گیوفرا جونیئر نے ایک وفاقی جج کو بتایا کہ انہوں نے گوتم اور ساگر اڈانی کی جانب سے مقدمہ قبول کرنے کے معاہدے پر اتفاق کیا ہے۔مدعا علیہان اور ایس ای سی کی جانب سے نیویارک کی مشرقی ڈسٹرکٹ کورٹ میں جمع کرائی گئی ایک مشترکہ درخواست میں کہا گیا کہ ایس ای سی نے۱۷؍ فروری۲۰۲۵ء کوہندوستان کے وزارت قانون و انصاف، محکمہ قانونی امور کے پاس ہیگ کنونشن برائے سول یا تجارتی معاملات میں عدالتی و غیر عدالتی دستاویزات کی بیرون ملک ترسیل کے تحت قانونی امداد کی ایک رسمی درخواست جمع کروائی تھی لیکن مدعا علیہان کو نوٹس ابھی تک پہنچایا نہیں جا سکا۔ ۲۶؍جنوری۲۰۲۶ء کو ایس ای سی نے ایک درخواست اور تجویز کردہ حکم نامہ جمع کرایا جس میں مدعا علیہان کے امریکی وکلا اور ان کے بزنس ای میلز کے ذریعے متبادل طریقے سے نوٹس پہنچانے کی اجازت مانگی گئی۔عدالتی درخواست میں کہا گیا، ۲۳؍جنوری۲۰۲۶ء کو، مدعا علیہان کے امریکی وکلا نوٹس پہنچانے پر راضی ہو گئے، جس سے عدالت کے لیے اس درخواست پر حکم دینے کی ضرورت ختم ہو گئی۔

یہ بھی پڑھئے: امریکہ: آئی سی ای کے خلاف مظاہروں میں ہزاروں افراد کی شرکت

دریں اثناءعہدیداروں نے کہا کہ اے جی ای ایل کی کاروباری سرگرمیاں تمام دائرہ اختیار میں معمول کے مطابق جاری ہیں اور فرم اپنے تمام شراکت داروں کے مفاد کو ملحوظ رکھنے کی پابند ہے۔ اس کے وعدے منصوبہ بندی کے مطابق آگے بڑھ رہے ہیں اور مالیاتی پوزیشن مضبوط ہے۔انہوں نے کہا کہ اڈانی گروپ حکمرانی، شفافیت اور ریگولیٹری تعمیل کے اعلیٰ ترین معیارات برقرار رکھتا ہے۔ یہ تمام دائرہ اختیار میں قانون کی پابند تنظیم کے طور پر کام کرتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ایس ای سی کا معاملہ مناسب قانونی چینل کے ذریعے آگے بڑھے گا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK