Updated: January 31, 2026, 10:04 PM IST
| Istanbul
عراق کے خطاظ علی زمان نے ترکی کے شہر استنبول میں ۶؍ سال کی محنت کے بعد ۳۰۲؍ دوطرفہ طومار پر مشتمل ضخیم قرآن مجید کا دستی نسخہ مکمل کیا ہے۔ ہر طومار ۴؍ میٹر لمبا اور ۵ء۱؍ میٹر چوڑا ہے۔ یہ عظیم شاہکار مسجد مہر ماہ سلطان میں محفوظ ہے، اور دنیا کے خطاطی کے سب سے بڑے قرآنی نسخوں میں شمار کیا جا رہا ہے۔ تاہم، گنیز ورلڈ ریکارڈ نے اسے رسمی طور پر تسلیم نہیں کیا ہے۔ علی زمان نے اپنے اس پروجیکٹ کیلئے ۲۰۱۷ء میں اپنے خاندان کے ساتھ استنبول منتقل ہونے تک کئی سال وقف کئے ہیں۔
عراق کے ۵۴؍ سالہ خطاط علی زمان نے اپنے فن اور عقیدت کو قرآن مجید کے خطاطی سب سے بڑے ممکنہ نسخے میں ڈھال دیا ہے، جسے پچھلے ۶؍ سال میں مکمل کیا گیا ہے۔ یہ شاہکار ۳۰۲؍ دو طرفہ طومار پر مشتمل ہے، جن میں سے ہر طومار تقریباً ۴؍ میٹر (۱۳؍ فٹ) لمبا اور ۵ء۱؍ میٹر (۵؍ فٹ) چوڑا ہے۔ ہر صفحہ خاص طور پر تیار کردہ مواد — جیسے انڈے، مکئی کا آٹا اور گندھک — سے بنایا گیا ہے جو خطاطی کی روایت کو زندہ کرتا ہے۔ یہ ضخیم نسخہ استنبول، ترکی میں مہر ماہ سلطان مسجد میں محفوظ ہے جہاں علی زمان نے دن رات محنت کرکے نسخہ مکمل کیا ہے۔ انہوں نے اس بڑے منصوبے پر کام کرنے اور اس کیلئے اپنے خاندان کو ۲۰۱۷ء میں استنبول منتقل کرنے کے فیصلے کے بارے میں بتایا کہ وہ چاہتے تھے کہ اس فن کو وہ بہترین طور پر انجام دیں کیونکہ ترکی میں خطاطی کو ان کے آبائی ملک عراق کی نسبت زیادہ اہمیت دی جاتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: یوپی کے چار ہزار مدارس’ اے ٹی ایس‘ کے نشانے پر،جانچ میں تیزی
علی زمان نے بتایا کہ جب بھی وہ قرآن کے اس عظیم نسخے کے بارے میں سوچتے ہیں تو انہیں فخر اور خوشی ہوتی ہے۔ انہوں نےاے پی کو کہا کہ ’’جب بھی میں اس نسخے کے بارے میں سوچتا ہوں، میرا دل خوشی سے بھر جاتا ہے۔ مَیں خدا کا شکر ادا کرتا ہوں کہ اس نے مجھے یہ مکمل مکمل کرنے کی زندگی دی۔ مجھے اپنے کام پر فخر محسوس ہوتا ہے۔‘‘ یاد رہے کہ عربی خطاطی کو عالم اسلام میں ایک معزز فن سمجھا جاتا ہے، جس نے صدیوں سے قرآن کو نہ صرف محفوظ رکھنے میں مدد دی ہے بلکہ مساجد، محلات اور نسخوں کو آرائشی انداز میں سنوارا بھی ہے۔ عثمانی دور میں اس فن نے خوب ترقی کی اور آج استنبول میں اسے باقاعدہ ایک شعبہ بنایا گیا ہے جہاں فنکار روحانیت اور فن دونوں کو یکجا کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: پیرس کے آخری اخبار فروش علی اکبر کو اعلیٰ ترین قومی اعزاز
علی زمان رانیہ، عراق کے صوبہ سلیمانیہ کے علاقے سے تعلق رکھتے ہیں، جہاں انہوں نے بچپن میں خطاطی سیکھی۔ انہوں نے بتایا کہ جب وہ ۱۲؍ سال کے تھے تو پہلی بار انہیں عربی خطاطی کے بارے میں معلوم ہوا اور وہ اس فن میں روحانیت تلاش کرنے لگے۔علی زمان کا قرآن مجید کا یہ نسخہ دنیا کا سب سے بڑا خطاطی کا نمونہ سمجھا جا رہا ہے، البتہ گنیز ورلڈ ریکارڈز نے اسے ابھی شناخت نہیں دی ہے۔ موجودہ ریکارڈ کے مطابق قرآن مجید کا خطاطی کا سب سے بڑا نسخہ سعودی عرب کے ’’دی ہولی قرآن‘‘ میوزیم (مکہ) میں ہے جسے ۲۰۲۵ء میں مکمل کیا گیا تھا۔
علی زمان کہتے ہیں کہ وہ اس کام میں اتنے مصروف ہوتے تھے کہ کئی بار خاندان کو دن بھر میں صرف چند لمحات ہی دے پاتے تھے۔ وہ صبح سے شام تک اپنے کمرے میں قرآن مجید کی خطاطی میں مصروف رہتے تھے۔ اب اس نسخے کو خصوصی طور پر محفوظ مقام، میوزیم یا ثقافتی مرکز میں نمائش کے لیے پیش کرنے کی توقع ہے، تاکہ دنیا بھر کے لوگ اس عظیم فن کو دیکھ سکیں اور اس کی قدر کرسکیں۔