Updated: January 31, 2026, 10:05 PM IST
| Tel Aviv
اسرائیل کے وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو نے کہا ہے کہ ملک کو مضبوط، آزاد اور خود انحصار اسلحہ سازی کی صنعت قائم کرنی چاہیے۔ انہوں نے امریکی فوجی امداد پر انحصار ختم کرنے اور مستقبل میں ہندوستان جیسے شراکت داروں کے ساتھ مشترکہ دفاعی پیداوار پر زور دیا ہے۔ بیانات سے دوطرفہ تعلقات اور عالمی دفاعی حکمت عملی میں ممکنہ تبدیلی کے اشارات ملتے ہیں۔
نیتن یاہو۔ تصویر: آئی این این
اسرائیل کے وزیر اعظم بنجامین نیتن یاہو نے حالیہ بیانات میں زور دیا ہے کہ اسرائیل کو اپنی دفاعی صلاحیتوں کو مزید مضبوط، آزاد اور خود انحصار بنانا ہوگا۔ ان کا کہنا ہے کہ موجودہ فوجی امداد کے نظام — خاص طور پر امریکی عسکری امداد — پر مکمل انحصار ملک کی دفاعی خودمختاری کے لیے مناسب نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے وقت میں جب عالمی صورتحال مسلسل بدل رہی ہے، اسرائیل کو اپنے عسکری صنعتی شعبے کو مضبوط بنیادوں پر استوار کرنا چاہیے۔نیتن یاہو نے بیان دیا کہ اسرائیل کو ایک مضبوط اور خود مختار ہتھیار سازی صنعت بنانے کی ضرورت ہے تاکہ وہ اپنی سیکوریٹی اور دفاعی ضروریات کے لیے امریک سے مکمل انحصار ختم کر سکے۔ ان کے مطابق، یہ تبدیلی اسرائیل کی قومی سلامتی کے لیے اہم ہے اور اسے عالمی دفاعی بدلاؤ کی روشنی میں ضروری اقدام قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ہزاروں امریکی فوجی مشرق وسطیٰ میں تعینات، خلیج ہرمز میں ایران کی فوجی مشقیں شروع، واشنگٹن چراغ پا
انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل دیگر بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ مشترکہ دفاعی پیداوار اور ترقیاتی منصوبوں پر بھی کام کرے گا، جس میں ہندوستان جیسے ممالک شامل ہیں۔ اس نقطے پر نیتن یاہو نے واضح کیا کہ مستقبل کی مشترکہ پیداواری شراکت داری دونوں ممالک کی عسکری صنعتوں کو فائدہ پہنچا سکتی ہے اور دفاعی جدید ٹیکنالوجی کے تبادلے کو فروغ دے سکتی ہے۔نیتن یاہو کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسرائیل اپنی دفاعی پالیسی کو ایک زیادہ خود انحصار اور عالمی شراکت داروں کے ساتھ مشترکہ ترقی کی سمت میں لے جانا چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کی حکمت عملی اسرائیل کو غیر مستحکم عالمی صورت حال میں بہتر اسٹریٹجک پوزیشن فراہم کرے گی، اور دفاعی خودمختاری کے اصولوں کو بھی تقویت دے گی۔ اسرائیلی حکومت امریکی فوجی امداد پر بڑی حد تک انحصار کرتی رہی ہے، جو برسوں سے واشنگٹن سے ملنے والی سب سے بڑی فوجی امداد میں شامل رہی ہے۔ تاہم نیتن یاہو کے حالیہ بیانات سے اس پالیسی میں ممکنہ تبدیلی کا اشارہ ملتا ہے، جس میں امداد کے توازن کو عسکری خود مختاری اور عالمی سطح پر دفاعی تعاون کی طرف موڑنے کی بات کی جا رہی ہے۔
نیتن یاہو کا یہ موقف بین الاقوامی دفاعی حلقوں میں خاصی توجہ کا مرکز بن چکا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: فلسطینی بچی ہند رجب کی دوسری برسی: خاندان آج بھی انصاف کا منتظر
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ قدم نہ صرف اسرائیل کی عسکری حکمت عملی میں تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے بلکہ دنیا بھر میں دفاعی صنعتوں کے نئے اتحاد اور مشترکہ کوششوں کے امکانات بھی بڑھا سکتا ہے۔ خاص طور پر ہندوستان کے ساتھ دفاعی تعاون میں بہتری کے امکانات پر غور کیا جا رہا ہے، جہاں دونوں ممالک پہلے ہی نئی ٹیکنالوجی، اسلحہ سسٹمز اور مشترکہ تحقیق پر کام کر رہے ہیں۔ یہ اعلان ایسے موقع پر آیا ہے جب دنیا بھر میں دفاعی اور سیکوریٹی ادارے اپنی پالیسیوں کا جائزہ لے رہے ہیں اور امریکی فوجی امداد اور شراکت داری کے متبادل راستوں کو تلاش کر رہے ہیں۔ اسرائیل کی اس نئی حکمت عملی سے عالمی دفاعی منظر نامے میں اہم تبدیلی کے امکانات روشن ہو رہے ہیں۔ مزید برآں، بھارت جیسے شراکت داروں کے ساتھ مل کر مشترکہ دفاعی صنعتوں کا فروغ دونوں ملکوں کی عسکری خود انحصاری کو تقویت دے سکتا ہے اور مستقبل کی سیکوریٹی چیلنجز کے لیے مضبوط بنیاد فراہم کر سکتا ہے۔