Inquilab Logo Happiest Places to Work

گرمیوں میں گاؤں کی شادی

Updated: May 20, 2024, 12:57 PM IST | Shakeel Ejaz | Mumbai

شہر جانے والوں میں شادی کے مہمانوں کے سبب رش بہت بڑھ گیا تھا۔ ایک گھنٹہ انتظار کے بعد بس آتی دِکھائی دی جو اپنے پیچھے گرد و غبار کا ایک پہاڑ لے کر آرہی تھی۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ وہ اِدھر ہی آ رہی ہے، بہت سے لڑکے اُلٹا بس کی طرف بہت تیزی سے دوڑ کر کھڑکیوں سے لٹکنے لگے۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

بہت پرانی بات ہے، تقریباً نصف صدی قبل کی جب چھوٹے دیہاتوں تک پہنچنے کیلئے اسٹیٹ ٹرانسپورٹ کی بسیں تو ہوتی تھیں لیکن سڑکوں کی حالت بہت ہی خراب تھی۔ گاؤں اور دیہاتوں میں بھی راستوں پر مِٹّی اور دھول، دھوئیں کی طرح اُڑتی رہتی تھی۔ شہر سے آنے والی بس گائوں میں آکر رکتی تو دھول کے مارے چہرے پہچاننا مشکل ہو جاتا۔ اُس زمانے میں شادیاں گرمیوں کے موسم میں ہوتیں یعنی جب دھول مِٹّی کو اُڑتے پھرنے میں سہولت ہوتی ہے، جیسے کسی سیاسی پارٹی سے منسلک ہونے کے بعد غنڈہ گردی میں سہولت ہوتی ہے۔ ہم بہت پرانی بات یہ سنا رہے تھے کہ ایک شادی میں شرکت کے لئے گرمیوں کے موسم میں ایک چھوٹے سے گاؤں جانا پڑا۔ عقد کے بعد کھانا کھانے بیٹھے تو ہر چیز اُڑ رہی تھی یعنی ہم جس شطرنجی پر بیٹھ کر کھا رہے تھے وہ، دستر خوان، منڈپ کے پردے، کپڑے، رومال اور کسی ضرورت سے ہاتھ میں رکھی نوٹیں بھی۔ کھانا بنانے والوں نے بڑی مشقت سے بنایا تھا لیکن اُڑتی دھول نے اس کا ذائقہ کچھ تبدیل کردیا تھا۔ 
بہر حال میزبانوں سے اجازت لے کر ہم اپنے شہربلکہ گھر واپسی کے لئے گاؤں کے بس اڈے پر آئے۔ شہر جانے والوں میں شادی کے مہمانوں کے سبب رش بہت بڑھ گیا تھا۔ ایک گھنٹہ انتظار کے بعد بس آتی دِکھائی دی جو اپنے پیچھے گرد و غبار کا ایک پہاڑ لے کر آرہی تھی۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ وہ اِدھر ہی آ رہی ہے، بہت سے لڑکے اُلٹا بس کی طرف بہت تیزی سے دوڑ کر کھڑکیوں سے لٹکنے لگے۔ مئی کے مہینے کی گرمی اور اس پر گر م انجن کے پاس بیٹھا ہوا ڈرائیور پہلے ہی غصہ میں تھا۔ ہوٹل کے سامنے طے شدہ مقام پر بس کھڑی کرنے کے بجائے اس نے بس کی اسپیڈ بڑھادی۔ دھول کے اس کھیت میں بس سے ایک دائرہ بنایا اور ہوٹل کے سامنے ایک جھٹکے سے کھڑی کردی۔ پھر کیا تھا دھول کی سونامی آگئی۔ اُس سونامی میں لوگ بہہ کر غائب ہو جاتے ہیں، اِس میں کھڑے کھڑے غائب ہو گئے۔ تھوڑی دیر کیلئے تو بس بھی غائب ہو گئی تھی۔ دو تین دَوڑتے ہوئے لوگ بس سے ٹکرا کر ہی سمجھ پائے کہ بس آگئی ہے اور یہاں کھڑی ہے۔ کھڑکیوں سے لٹکنے والے، گر کر ادھر اُدھر پڑے ہوئے تھے یا کپڑے جھٹک رہے تھے۔ ہر طرف کھانسنے اور چھینکنے کی آوازوں کے سبب کسی کے بھی حلق اور ناک سے مکمل اور قابلِ فہم جملہ نکل نہیں پا رہا تھا جبکہ ایک بھی ایسا نہ تھا جو کچھ بولنے کی کوشش نہ کر رہا ہو۔غصہ ور بوڑھے جن کو بات بات پر ڈانٹ ڈپٹ کرنے کی عادت ہوتی ہے وہ ڈرائیور کو گالیاں دینے کی پوری کوشش کر رہے تھے لیکن چھینک اور کھانسی ان کو سدھرنے نہیں دے رہی تھی۔ ان کو دھول، کھانسی اور چھینکوں سے زیادہ اپنی اس بے بسی پر غصہ تھا کہ گالی بھی نہیں دے پا رہا ہوں۔ ڈرائیور البتہ، بس کی کھڑکیاں بند کرکے عوام کی پریشانیاں دیکھ رہا تھا جو اسی کی لائی ہوئی تھیں۔ 
دھول کسی کی بھی اُڑائی ہوئی ہو، کسی بھی مقصد سے اُڑائی گئی ہو، اس کو آخرکار بیٹھنا ہی ہے۔ یہ دھول بھی جب بیٹھنے لگی اور مناظر واضح ہونے لگے تو سب سے بڑا مسئلہ اپنوں کو پہچاننے کا تھا۔ ہر شخص کے چہرے اور کپڑوں کے علاوہ پلکوں پر بھی ایسی دھول جمی تھی جیسے اناج پیسنے کی چکّی پر کھڑے آپریٹر کی پلکوں پر آٹا دکھائی دیتا ہے۔ جن کے جتنے ہاتھ خالی تھے وہ چہرے کے سامنے ایسے چَلا رہے تھے جیسے ہاسٹل کے کمرے میں وارڈن کے اچانک داخل ہونے پر سگریٹ پی رہے لڑکے دھوئیں کو غائب کرتے ہیں۔ تھوڑی دیر پہلے بس کو اپنی طرف آتا دیکھ کر ہوٹل کے سامنے سے بھاگتے ہوئے جس آدمی کا پَیر، کپ ساسر دھونے کی جگہ پر پھسلا تھا وہ برف پر اسکیٹنگ کی طرح تیزی سے ایک الماری سے ٹکرایا۔ الماری تو اس پر گری ہی لیکن اس میں سجا کر رکھا ہوا کانچ کا سامان ٹوٹ پھوٹ گیا۔ ہوٹل کا مالک الماری کے نیچے دبے ہوئے اس آدمی سے خیریت پوچھنے کے بجائے اس سے ہرجانہ طلب کر رہا تھا۔ اس نے کہا بھلے آدمی پہلے مجھے الماری کے نیچے سے نکلنے میں مدد تو کرو۔ مَیں اور میرا ہاتھ، دونوں دبے ہوئے ہیں۔ اس حالت سے فارغ ہو کر دیکھتا ہوں جیب میں کتنی رقم ہے۔ گھر جا کر بیوی کو بھی دیکھتا ہوں جس کے اصرار پر اس شادی میں آکر پھنسا ہوں۔ 
دوسری ہوٹلیں والے بھی ڈرائیور کے نام سے چلا رہے تھے کہ اتنا لمبا چکّر دینے کی کیا ضرورت تھی جس برتن میں دودھ رکھا تھا وہ اب چائے نظر آرہا ہے۔ روے کے سفید لڈّو، گوند کے لڈّو لگ رہے ہیں۔ پان کی دکان پر چونے اور کتّھے کی پیالیوں میں فرق سمجھنا مشکل ہے۔ چہروں پر دھول پڑنے سے پہچاننا مشکل ہو رہا ہے کہ بس آنے سے پہلے گلگلے، پکوڑے کس نے کھائے تھے۔ کھا پی کر فارغ ہونے والے ہوٹل میں موجود ہیں یا چلے گئے۔ 
مختلف ہوٹلوں میں اس طرح کی گرم گفتگو کا شور تھا، ’’اے کدھر جاتا ہے؟ بیس روپے نکالو‘‘، ’’کاہے کے؟‘‘’’چائے ناشتے کے اور کاہے کے ہوں گے؟‘‘، ’’لیکن مَیں تو صرف پانی پی کر باہر نکل رہا ہوں۔ ‘‘’’پانی کے بچّے، سیدھی طرح نکال نہیں تو تھوبڑا توڑ دوں گا۔ ‘‘ ’’مذاق بند کر۔ زبان سنبھال کر بات کر، یہ میرا ہوٹل ہے۔ ‘‘ ’’ابے، چہروں پر دھول جم گئی اس کا یہ مطلب نہیں کہ مَیں گاہکوں کے چہرے بھی نہیں پہچانتا۔ اے ظہیر، اے شیرو ادھر آئو، پکڑو اس کو۔ بالٹی بھر پانی لائو، اس کے منہ پر زور سے مارو۔ ‘‘
منہ دُھلانے کے بعد شیرو، بالٹی، چپل اور نوکری چھوڑ کر بھاگ جاتا ہے کیونکہ دھول کے نیچےسے جو چہرہ برآمد ہوا وہ صد فیصد ہوٹل مالک کا تھا۔ اب مالک کے حکم پر اس منیجر کے بچّے کا منہ دھلایا جاتا ہے جس نے منہ دُھلانے کا حکم دیا تھا۔ اس پر بالٹی بھر پانی پھینکنے کے بعد پتہ چلتا ہے کہ اس افراتفری میں منیجر تو فرار ہو گیا یہ پولیس تھانہ کے انچارج ہیں جن کی ناک اور ٹھوڑی سے اس وقت پانی، بارش میں کویلو کی چھت جیسا ٹپک رہا ہے۔ وہ ٹھوڑی سے ٹپکتے پانی کو انگوٹھے اور اس کے پڑوس کی انگلی سے، بہتے زکام کی طرح جھٹکے سے پھینکتے ہوئے سیٹی بجا بجا کر کہہ رہا ہے کہ اب مَیں تجھ پر قانون کا بلڈوزر چلا دوں گا۔ چہرے پر دھول کے نقاب کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ایک عادی جیب کترے نے ڈھٹائی سے کہا کہ انسپکٹر صاحب، ہوٹل والے بھی تو کچھ خدمت کرکے پیسے لیتے ہیں تم نے تو تھانے کو ہوٹل کا کائونٹر بنا رکھا ہے۔ انسپکٹر، آواز کی طرف لپکا لیکن لگتا ہے کسی بے قصور پر ہی ہاتھ ڈالے گا اور اس کام میں آج تو دھول کے سبب بڑی سہولت ہے۔ اُدھر لوگ کھڑکی سے اندر جھانک کر پہچان والوں سے درخواست کر رہے ہیں کہ ہماری بھی جگہ رکھ دو اور اس کے لئے رومال، تھیلی یا چھوٹے بچّوں کو اندرپہنچارہے ہیں۔ 
ایک نیم کے درخت کے نیچے جہاں بہت سے برقعے جمع ہیں، لوگ ڈرتے ڈرتے آ رہے ہیں اور آواز دے رہے ہیں :’’بلقیس، بیٹے تم کہاں ہو؟‘‘، ’’تمہارے سامنے تو کھڑی ہوں ابّا۔ ‘‘’’ لیکن تم نے لال برقعہ پہنا ہوا تھا؟‘‘’’ہاں وہ دھول سے کتھیا ہوگیاہے۔ ‘‘’’اور تمہاری امّی کہاں ہیں ؟‘‘’’ابھی ابھی ایک آدمی آپ کی طرح آیا تھا۔ اس نے اشارے سے بلایا اور وہ اس کے ساتھ چلی گئیں۔ اس کو کچھ بولنے کا موقع بھی نہ دیا۔ ’’یہ عورت زندگی بھر مجھے پہچان نہیں سکی۔ چلو ڈھونڈتے ہیں حالانکہ ان حالات میں اپنوں اور بیگانوں میں فرق کرنا بھی مشکل ہے۔ ’’اور ابّا، یہ میری سہیلی ناہید کیا کہہ رہی ہے۔ ‘‘’’کیا بات ہے بیٹے؟‘‘’’آپ کو عرشی کے پپّا کہیں نظر آئے؟ کہہ گئے تھے کہ بس میں جگہ رکھ کر آتا ہوں۔ ‘‘ ’’نوشاد کی بات کر رہی ہو؟ وہ تو برقعے والی لڑکی کے ساتھ کھڑکی کے پاس بیٹھا ہے اور اپنے ہاتھ سے چھلکے اتار اتار کر سنترے کِھلا رہا ہے۔ میرے خیال سے تو وہی ہے۔ چلوابھی دیکھتا ہوں اس نالائق کو۔ 

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK