Inquilab Logo Happiest Places to Work

لفظ، ہم معنی لفظ، اِملا، ترکیب اور بدلتے معنی

Updated: October 01, 2023, 4:03 PM IST | Shamim Tariq | Mumbai

ہم ایسے دور میں ہیں جب لفظ کے مزاج اور اس کے مفہوم پر غور کرنا تو دور، لوگ باگ لفظ کی قدر کرتے ہیں نہ متبادل کی بابت سوچتے ہیں۔ ان کالموں میں مضمون نگار نے بتایا ہے کہ اُردو ادب میں کبھی ایک لفظ کو الگ الگ معنی میں اور کبھی ہم معنی سمجھے جانے والے الفاظ کو اُن کے اصل معنی میں استعمال کیا گیا ہے۔

A poet or creator has his own preference and need regarding language or word. Photo: INN
زبان یا لفظ کے بارے میں بھی شاعر یا تخلیق کار کی اپنی ترجیح اور ضرورت ہوتی ہے۔ تصویر:آئی این این

مشرق و مغرب کی زبانوں میں قاری کے وجود کا تسلیم کیا جانا برحق ہے کہ ادب کو پڑھنے اور سننے والا قاری یا سامع خود بھی گفتگو کرنا یا شعر اور شعر میں استعمال کئے گئے لفظ و ترکیب کے مفہوم و معنی کے تعین میں تخلیق کار کا شریک کارہونا چاہتا ہے۔ اور یہ بھی صحیح ہے کہ تنقیدی افکار سے ہی ادب اور فن کی نشوونما ہوتی ہے۔ اس کے باوجود کیا کسی نقاد یا قاری کو یہ حق دیا جانا درست ہے کہ وہ جس لفظ اور ترکیب کا جو جی چاہے معنی و مفہوم متعین کرے مثلاً کیا ’درد دل‘ اور ’درد سر‘ کو محض اس لئے ہم معنی قرار دیا جاسکتا ہے کہ دونوں تراکیب میں ’درد‘ہی لفظ مشترک ہے؟ نہیں ! دونوں کی معنوی بساط ایک دوسرے سے مختلف ہے۔ اقبال نے ’درد دل‘ کو ’ہمدردی کے جذبہ‘ کے معنی میں اور ’درد سر‘ کو ’’آفت و مصیبت ‘ کے معنی میں استعمال کیا ہے:
تمنا درد دل کی ہو تو کر خدمت فقیروں کی ...... (ب د، غزلیات)
خداوندا خدائی درد سر ہے ......(ب ج، رباعیات)
 عام طور سے یہ دونوں تراکیب انہی معنیٰ میں استعمال بھی ہوتی ہیں ۔ کبھی کبھی املا کے فرق سے بھی لفظ کی معنوی بساط پلٹ جاتی ہے، مثلاً ’چارہ‘ اور ’چارا‘ ہم معنی نہیں کہے جاسکتے اگرچہ پڑھنے میں ایک جیسے معلوم ہوتے ہیں ۔چارا سے مراد چوپایوں کی سبز خوراک، گھاس یا وہ چیز ہے جو مچھلی کے شکار کی غرض سے کانٹے میں لگائی جاتی ہے اور چارہ سے مراد علاج، تدبیر وغیرہ ہے۔ شاعر کی اپنی ترجیح بھی ہوتی ہے ارو وہ جس لفظ کو جہاں ، جتنا ’موزوں ‘ اور ’بامعنی‘ سمجھتا ہے استعمال کرتا ہے۔ اس کے استعمال کئے ہوئے لفظ اور اس کے محل ِ استعمال سے پھوٹتے معنی کو سمیٹنے کے بجائے یہ مطالبہ یا سوال درست نہیں کہ اس نے ایک لفظ چھوڑ کر دوسرا لفظ کیوں استعمال کیا؟ گزشتہ دنوں راقم الحروف جلگاؤں میں ’’اُردو کے بے لوث سپاہی‘‘ (مرتب: عبدالکریم سالار) نامی کتاب کے جلسۂ رسم اجراء میں شریک تھا۔ اس کتاب میں خاندیش کے اکتالیس مرحوم فنکاروں پر تعارفی مضامین شامل ہیں ۔ کتاب کے مطالعہ کے دوران سیفؔ بھساولی کا شعر نظر سے گزر چکا تھا جس کے ایک لفظ کو بنیاد بناکر مَیں نے یہی بات کہی۔ شعر ہے: 
میں اپنے طور پہ ہوں سیفؔ اعتدال پسند
مرا مذاق مرے ہم سخن سمجھتے ہیں 
 ’مذاق‘ اور ’مزاج‘ ہم وزن الفاظ ہیں مگر مزاج سے طبیعت، خاصیت، حقیقت، ناز نخرہ وغیرہ مراد ہے جو سرشت یا خمیر میں شامل ہوتے ہیں جبکہ ’مذاق‘ آپس کی چہل، سلیقہ اور مزہ کیلئے استعمال ہوتا ہے۔ یہ تمام خاصیت سرشت کے علاوہ تربیت اور اہل علم کی صحبت سے حاصل ہوتی ہے۔ سیفؔ مرحوم نے ’مذاق‘ کا لفظ جس جگہ اور جس معنی میں استعمال کیا ہے وہی مستحسن ہے۔ ان کا شعر پڑھ کر کوئی صاحب، مذاق کی جگہ مزاج کے استعمال کی توقع یا مطالبہ کریں تو کرنل محمد کا ایک مزاحیہ مضمون یاد آئے گا: 
  ایک صاحب نے نوجوان لڑکوں کو کرکٹ کھیلتا دیکھ کر لیکچر دینا شروع کردیا کہ یوں کھیلو، یوں بیٹنگ اوربولنگ کرو، میں اپنی نوعمری میں یوں کرتا تھا اور یوں کرتا تھا۔ جواب میں ایک نوجوان نے ان کے ہاتھ میں بیٹ دے دیا کہ ’ذرا کھیل کر دکھائیے۔‘ موصوف نے بیٹ پکڑا اور پہلی ہی گیند پر منہ کے بل گرے، وکٹ بھی ادھر ادھر ہوگیا۔ بالآخر ان کا وہ حال ہوا کہ نوجوان لڑکوں نے انہیں ’چھکا صاحب‘ کہنا شروع کردیا۔ 
 زبان یا لفظ کے بارے میں بھی شاعر یا تخلیق کار کی اپنی ترجیح اور ضرورت ہوتی ہے۔ وہ پان کی گلوری کے معنی میں ’بیڑا (بی ڑا) بھی استعمال کرتا ہے اور جہازوں کے دستہ کے معنی میں بیڑا (بے ڑا) بھی، گردش کرنے و الے کے معنی میں ’جَولاں ‘ بھی استعمال کرتا ہے اور مجرم کے پیر کی بیڑی یا زنجیر کے معنی میں ’جو‘لاں ‘ بھی۔ اپنی ناواقفیت کی بناء پر شاعر یا مضمون نگار سے یہ توقع نہیں کی جاسکتی کہ وہ اس لفظ کے بجائے دوسرا لفظ استعمال کرتا تو بہتر تھا۔ ہم معنی سمجھے جانے والے لفظ بھی پوری طر ہم معنی نہیں ہوتے مثلاً ’خمار‘ اور’ سرور‘ دونوں لفظ نشہ کے معنی میں استعمال ہوتے ہیں مگر دونوں میں فرق یہ ہے کہ ’خمار‘ اترتے نشے کو کہتے ہیں اور ’سرور‘ چڑھتے نشے کو۔
 مضمون و موضوع کے اعتبار سے بھی لفظوں کے مفہوم میں تبدیلی آتی ہے مثلاً ’ادب‘ حفظ مراتب کا لحاظ کرنے یا تعظیم کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے اور نظم و نثر میں ادبی تخلیقات کیلئے بھی مگر تصوف میں یہی لفظ ’عبودیت کی نگہداشت‘ کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ اس لئے قاری یا سامع کی اہمیت تسلیم کرتے ہوئے بھی یہ دیکھنا ضروری ہے کہ شاعر یا تخلیق کار نے جو لفظ جس مفہوم یا پس منظر میں استعمال کیا ہے ، قاری یا رائے زنی کرنے والے کے ذہن کی رسائی وہاں تک ہے بھی یا نہیں ؟

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK