خوشی کے جن لمحات کا عامر کو انتظار تھا وہ آگئے تھے لیکن وہ خوشیاں منا نہیں پایا تھا۔ اس کے ہاتھ میں ایک رسالہ تھا اور وہ کئی بار اسے کھول کر پڑھ چکا تھا۔
خوشی کے جن لمحات کا عامر کو انتظار تھا وہ آگئے تھے لیکن وہ خوشیاں منا نہیں پایا تھا۔ اس کے ہاتھ میں ایک رسالہ تھا اور وہ کئی بار اسے کھول کر پڑھ چکا تھا۔ اسےجو امیدیں تھیں، اب ان کی لاشیں صف در صف اسی کے سامنے پڑی ہوئی تھیں۔ اس سے پہلے وہ کبھی یوں مایوس نہ ہوا تھا۔ وہ ٹکٹکی باندھے نہ جانے کب سے کیا سوچ رہا تھا؟ اس کے پیروں کی گرمی اچانک منجمد ہو گئی تھی اور تھکن کے بھاری پتھر نے اس کے قدموں کو یوں جکڑ لیا تھا جیسے وہ پتھر کا مجسمہ ہو۔
وہ سوچ رہا تھا کہ کرشن چندر کی کہانی ’شہزادہ‘ میں موتی، اگر سدھا کی زندگی میں اس کا باس بن کر نہ آتا تو سدھا کی خوشیاں چکناچور نہ ہوتیں، اس کی تصوراتی زندگی تہس نہس نہ ہوتی۔ ٹھیک اسی طرح میں جب تک کہانیوں کا صرف قاری تھا، سدھا کی طرح تصوراتی دنیا میں جی رہا تھا، اور جب سے میں کہانیاں لکھنے لگا ہوں ’تصوراتی زندگی‘ ایک نہ معلوم حقیقت سے ٹکرا کر پاش پاش ہو گئی ہے۔عامر پہلے ایسا نہیں سوچتا تھا لیکن اُس واقعہ کے بعد وہ اس طرح سوچنے لگا تھا ۔
تقریباً پانچ چھ مہینے پہلے کا ذکر ہے۔ عامر لمبے لمبے ڈگ بھرتا ہوا اپنے استاد شمس الضحیٰ کی جانب بڑھ رہا تھا۔ استاد اپنے گھر کے پیچھے بنے گارڈن میں کرسی لگائے بیٹھے تھے۔ ان کے سامنے ایک ٹیبل تھا۔ اس ٹیبل پر کچھ کتابیں و رسالے رکھے ہوئے تھے، اور وہ ان کی ورق گردانی کر رہے تھے۔عامر کی رفتار اور اس کے چہرے سے جھلک رہی خوشی دیکھ کر وہ سمجھ گئے کہ ضرور کوئی اچھی خبر ہے۔ انھوں نے دیکھا کہ عامر کے ہاتھ میں ایک رسالہ ہے۔
”استاد جی دیکھیے ہندوستان کے سب سے معیاری ادبی رسالے میں میری کہانی شائع ہوئی ہے۔“عامر نے ایک ہی سانس میں کہا۔ اس کا چہرہ خوشی سے تمتما رہا تھا ۔یہ دیکھ کر استاد بہت خوش ہوئے۔ عامر کو مبارکباد دی اور مستقبل کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔عامر نے وہ رسالہ اپنے شہر کے ادبی حلقے کے ہر ایک شاعر و ادیب کو دکھایا لیکن کسی نے بھی وہ کہانی نہیں پڑھی۔ سبھی نے بس رسالہ الٹ پلٹ کر واپس عامر کے ہاتھوں میں تھما دیا۔
ایک دن استاد نے عامر سے پوچھا:”کیا بات ہے تم بڑے گم صُم نظر آ رہے ہو۔ تمہیں تو خوش ہونا چا ہئے کہ تمہاری کہانی ملک کےموقر ادبی جریدے میں شائع ہوئی ہے، اور اِن شاءاللہ اب یہ سلسلہ چل پڑیگا کہ تمہاری تخلیقات معیاری رسائل کی زینت بنتی رہیں گی۔‘‘
’’استاد جی اپنے شہر کے ادبی حلقے میں سوائے آپ کے کسی اور نے وہ کہانی نہیں پڑھی۔ اگر کوئی پڑھتا تو اپنے تاثرات ضرور دیتا۔ اپریل کے مہینے میں میرا افسانہ شائع ہوا تھا۔ اس بات کو چار مہینے ہو گئے ۔ میں تب سے اب تک رسالے میں شائع خطوط برابر چیک کر رہا ہوں۔ کسی نے بھی میرے افسانے کے تعلق سے کچھ نہیں لکھا۔ جبکہ میں تو پسندیدہ تخلیق پر تاثراتی خط برابر لکھتا ہوں۔ کیا خریداروں میں سے کسی نے بھی میرا افسانہ نہیں پڑھا؟ مجھے یہ کیسے پتہ چلے گا کہ میرا افسانہ قارئین کو پسند آیا یا نہیں؟ بس اسی بات کو لے کر میں ذرا پریشان ہوں۔‘‘
’’عامر زمانہ بدل گیا ہے۔ طریقے بدل گئے ہیں۔ یہ ڈجیٹل دور ہے۔ تم نوجوان ہو،سوشل میڈیا سےمنسلک ہو، کیا اب یہ بات بھی مجھے سمجھانی پڑے گی۔‘‘ پھر استاد نے عامر کو نہایت ہی رازدارانہ انداز میں دھیرے سے کچھ کہا۔
اس کے بعد عامر فوراً گھر گیا۔ بک شیلف سے رسالہ نکالا۔ اپنے افسانے کی فوٹوز لیں اور اسے فیس بک، وہاٹس اپ اور دیگر سوشل میڈیا سائٹس پر شیئر کر دیں۔ بس پھر کیا تھا’’مبارک ہو‘‘،’’بہت خوب‘‘، ’’ماشااللہ‘‘’’نہایت عمدہ‘‘، ’’بہت اچھے‘‘، نائس اور’’ ویل ڈن‘‘ جیسے کمنٹس اور لائیک کی بھرمار ہو گئی۔ عامر کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ رہا۔ دو دنوں تک کمنٹس اور لائیک آتے رہے۔ تیسرے دن عامر نے زیادہ تر کمنٹس پر ردعمل دیتے ہوئےسوال پوچھا:’’کیا آپ نے کہانی پڑھی؟‘‘ کہیں سے بھی کوئی جواب نہ آیا۔