اردو ذریعہ تعلیم ، تدریس ، ادب و ثقافت اور اردو کی ترویج کے سلسلے میں اہم تجاویز اور مشورہ کیا ہوں جن پر عمل کی اہل اردو توقع کرتے ہیں۔
نیا سال عام طور پر نئے سوال ، وعدے، امیدیں اور توقعات لے کر آتاہے، اردو زبان کے تعلق سے بھی یہی سوال نئے سال کے آغاز پر زیادہ شدت سے ابھرتا ہے کہ نئے سال سے اہلِ اردوکیا چاہتے ہیں؟ نئے سال میں اردو کے تئیں ان کی بنیادی توقعات کیا ہیں، اور کیا یہ توقعات زمینی حقائق سے مطابقت رکھتی ہیں؟ نیا سال ہم سے حقیقت پسندانہ جائزہ اور عملی سمت کے تعین کا تقاضا کرتا ہے۔مہاراشٹر جیسے بڑے اور لسانی طور پر متنوع صوبے میں اردو کی صورتِ حال اس بحث کو اور زیادہ اہم بنا دیتی ہے۔مہاراشٹر میں اردو نہ صرف اہمیت کی حامل زبان ہے بلکہ آج بھی لاکھوںافراد کی روزمرہ بول چال، تہذیبی شناخت اور تعلیمی ضرورت سے جڑی ہوئی ہے۔ مردم شماری کے اعداد و شمار اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ اردو بولنے والوں کی تعداد کے اعتبار سے مہاراشٹر ملک کی دوسری یا تیسری سب سے بڑی ریاست ہے ۔ ممبئی، تھانے، بھیونڈی، مالیگاؤں، اورنگ آباد،اکولہ، امرائوتی، پونے، خطہ کوکن ، ناگپور، ناندیڑ اور شولاپور جیسے شہروں میں اردو ایک زندہ زبان کے طور پر موجود ہے۔
(۱)اردو سے وابستہ سب سے بڑا مسئلہ تعلیم سے متعلق ہےاور خاص طور پر اردو میڈیم اسکولوں کی صورتحال اس تشویش کو واضح کرتی ہے۔ مہاراشٹر میں اردو میڈیم اسکولوں کی ایک بڑی تعداد ضرور ہے مگر گزشتہ ایک دہائی میں ان اسکولوں میں داخلوں میں مسلسل کمی دیکھی گئی ہے۔ اس کمی کی بنیادی وجہ یہ نہیں کہ اردو بولنے والے کم ہو گئے ہیں، بلکہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ والدین اردو میڈیم کی تعلیم کو مستقبل سے جوڑ کر نہیں دیکھ پا رہے ہیں۔ اس رجحان کو محض والدین کی غلط سوچ کہہ کر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ حقیقت یہ ہے کہ والدین اپنی اولاد کے مستقبل کو سامنے رکھ کر فیصلہ کرتے ہیں اور اگر اردو میڈیم تعلیم انہیں روزگار، مسابقت اور سماجی ترقی سے جڑی ہوئی نظر نہیں آتی تو وہ متبادل اختیار کرتے ہیں۔ یہ تاثر کسی حد تک خود اردو تعلیمی اداروں کی کمزوریوں کا نتیجہ بھی ہے۔ اہل اردو کی نئے سال میں ایک بنیادی توقع یہ ہے کہ اردو اسکولوں کو صرف زبان کی بنیاد پر قائم ادارہ نہ سمجھا جائےبلکہ انہیں معیاری تعلیمی مراکز میں تبدیل کیا جائے جہاں سے نکلنے والا طالب علم عملی زندگی میں پیچھے نہ رہے۔
(۲)اس تعلیمی منظرنامے میں اردو اساتذہ کا مسئلہ بھی نہایت سنجیدہ ہے۔ سرکاری سطح پر اردو اساتذہ کی بڑی تعداد میں اسامیاں خالی ہیں، تقرری کا عمل اکثر برسوں تک زیر التوا رہتا ہے۔ عارضی اور کنٹریکٹ بنیادوں پر کام کرنے والے اساتذہ پیشہ ورانہ عدم تحفظ کا شکار ہیں، جس کا اثر تدریسی معیار پر بھی پڑتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اردو کے اساتذہ کیلئے جدید تربیتی پروگرام، ریفریشر کورسیز اور نئی تعلیمی تکنیکوں سے واقفیت کے مواقع نہایت محدود ہیں۔ اہل اردو کی یہ توقع بالکل جائز ہے کہ نئے سال میں اردو اساتذہ کی تقرری، تربیت اور پیشہ ورانہ وقار کو تعلیمی پالیسی کا لازمی حصہ بنایا جائے۔ نئے سال میں اہل اردو کی یہ توقع ہے کہ اردو اساتذہ کی بروقت اور مستقل تقرریاں ہوں،انہیں جدید تدریسی مہارتوں سے آراستہ کیا جائےاور معاشرتی و پیشہ ورانہ سطح پر ان کے وقار کو بحال کیا جائے۔
(۳)تعلیم کے بعد اردو کا دوسرا اہم میدان ادبی اور ثقافتی سرگرمیوں سے متعلق ہے۔ مہاراشٹر میں اردو کی متعدد ادبی تنظیمیں، انجمنیں اور ادارے سرگرم ہیں لیکن ان کی اکثریت کی سرگرمیاں مشاعروں، سالانہ تقریبات اور رسمی سیمیناروں تک محدود ہوگئی ہیں۔ اگرچہ یہ سرگرمیاں اردو کے مجموعی ادبی مزاج کو زندہ رکھتی ہیں اور اردو کے تعلق سے مکالموں کا ذریعہ بھی بنتی ہیں، مگر ان کا براہِ راست فائدہ نئی نسل یا تعلیمی نظام تک کم ہی پہنچ پاتا ہے۔ اہلِ اردو یہ محسوس کرتے ہیں کہ ادبی تنظیموں کو اسکولوں، کالجوں اور نوجوانوں کے ساتھ عملی رشتہ قائم کرنا ہوگا، ورنہ اردو صرف تقریبات کی زبان بن کر رہ جائے گی۔ اہل اردو کی یہ توقع ہے کہ ادبی تنظیمیں اسکولوں اور کالجوں سے براہِ راست جڑیں،نئی نسل کیلئے ریڈنگ مٹیریل، ورکشاپ اور تحریری تربیت کا اہتمام کریں اور اردو کو صرف شاعری تک محدود رکھنے کے بجائے علم، تحقیق اور ہنر سے جوڑیں۔
(۴)سرکاری سطح پر اردو کے حوالے سے پالیسی اور عمل کے درمیان فرق بھی ایک مستقل مسئلہ ہے۔ مہاراشٹر حکومت نے اردو کے لئے اردو اکادمی اور دوسری زبان کے طور پر اردو کی تدریس جیسے اقدامات ضرور کئے ہیں، مگر ان پر عمل درآمد کی رفتار سست اور اثر محدودہے۔ فنڈس کی کمی سے زیادہ بڑا مسئلہ ترجیحات کا ہے۔ اردو کو اکثر علامتی سطح پر تسلیم کیا جاتا ہے مگر عملی انتظامی فیصلوں میں اس کی شمولیت نہ کے برابر ہے۔ اہل اردو کی نئے سال میں یہ واضح توقع ہے کہ اردو سے متعلق فیصلے نمائشی نہ ہوں بلکہ ان کا براہِ راست فائدہ تعلیمی اداروں، اساتذہ اور طلبہ تک پہنچے۔ اردو کی ترویج کے سلسلے میں اہل اردو یہ توقع کررہے ہیں کہ نئے سال میں کچھ سنجیدہ قدم اٹھانے ہوں گے، سب سے پہلے زبان کو روزگار اور مہارت سے جوڑنا ہوگا۔ اردو میڈیم اسکولوں میں ووکیشنل کورسیز، کمپیوٹر تعلیم، اکاؤنٹنگ، ڈیجیٹل مہارتیں اور جدید علوم کو لازمی طور پر شامل کرنا ہو گا۔ اس کے ساتھ ساتھ اردو کے تعلیمی اور ادبی سرمائے کو ڈیجیٹل پلیٹ فارمس پر منتقل کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے، تاکہ نئی نسل کیلئے اردو محض ماضی کی زبان نہ رہے ۔ اس کیلئے اردو کے ساتھ ساتھ تکنیکی تعلیم میں ماہر افراد کو سامنے آکر اردو کا سرمایہ ڈیجیٹل زبان میں منتقل کرنا ہوگا۔
ہر نیا سال اہل اردو کے لئے ایک پرانا سوال لے کر آتا ہے کیا اس سال بھی اردو صرف تقریروں، مشاعروں اور فائلوں تک محدود رہے گی، یا واقعی اسے جینے کا حق ملے گا؟ اردو کوئی نوحہ نہیں، نہ کسی خاص طبقے کی جاگیر ہے۔ یہ ہندوستان کی اُن شاندار زبانوں میں سے ایک ہے جسے کروڑوں لوگ بولتے، لکھتے اور سمجھتے ہیں۔ اس کے باوجود حقیقت یہ ہے کہ اردو آج بھی سرکاری بے حسی اور سیاسی مصلحتوں کی بھینٹ چڑھ رہی ہے۔ نیا سال آیا ہے، مگر اردو کے مسائل جوںکے توں ہیں بلکہ بعض جگہ مزید سنگین ہو چکے ہیں۔
سب سے بڑا سوال اردو ذریعۂ تعلیم کا ہے۔ جن ریاستوں میں اردو بولنے والوں کی تعداد لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں میں ہے، وہاں اردو میڈیم اسکول یا تو بند کئے جا رہے ہیں یا جان بوجھ کر ناکام بنائے جا رہے ہیں۔ اساتذہ کی اسامیاں برسوں سے خالی ہیں، اسکولوں کی عمارتیں خستہ حال ہیں اور نصاب جدید تقاضوں سے کوسوں دور۔نیشنل ایجوکیشن پالیسی مادری زبان کی بات تو کرتی ہے مگر اردو کے معاملے میں خاموشی اختیار کر لیتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا اردو مادری زبان نہیں ہے؟ کیا اردو بولنے والے ہندوستان کے شہری نہیں ہیں؟ یا مسئلہ صرف یہ ہے کہ اردو، ووٹ بینک کے فوری فائدے میں فٹ نہیں بیٹھتی؟اہل اردو نئے سال میں خیرات نہیں، اپنا آئینی حق مانگ رہے ہیں۔
یہ تلخ حقیقت ہے کہ اردو پڑھنے والا نوجوان آج سب سے زیادہ غیر یقینی مستقبل کا شکار ہے۔ نہ سرکاری نوکریوں میں اردو کی مناسب نمائندگی ہے، نہ جدید اسکل کورسیز میں اس کا کوئی واضح مقام ہے۔جب عدالتوں، میڈیا، سفارت کاری، ترجمہ اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز میں اردو کی ضرورت موجود ہے تو پھر اردو ترجمہ نگاروں کی مستقل بھرتیاں کیوں نہیں ہوتیں؟ اردو جرنلزم کے لئے پروفیشنل تربیت کیوں نہیں دی جاتی؟ اردو کو مقابلہ جاتی امتحانات میں عملی حیثیت کیوں نہیں ملتی؟نیا سال اہلِ اردو کیلئے اس امید کا سال ہونا چا ہئے کہ اردو علم کے ساتھ ساتھ معاش کی زبان بھی بنے۔
اردو کے نام پر قائم اکیڈمیاں اکثر صرف فائلوں میں سرگرم دکھائی دیتی ہیں۔ بجٹ برائے نام، عہدے خالی اور سرگرمیاں چند مخصوص حلقوں تک محدود۔ سیمینار ہوتے ہیں، تصویریں شائع ہوتی ہیںمگر زمینی سطح پر اردو کی حالت جوں کی توں رہتی ہے۔سوال یہ ہے کہ اردو اکیڈمیاں محض نمائشی شو کیس کیوں بنادی گئی ہیں؟ ان کے احتساب کا کوئی نظام کیوں نہیں ہے؟ اردو کے لئےمختص فنڈ آخر جاتا کہاں ہے؟ اہل اردو نئے سال میں کمیشن نہیں کام چاہتے ہیں۔
اترپردیش، بہار، جھارکھنڈ، دہلی اور تلنگانہ میں اردو کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ حاصل ہے جبکہ مہاراشٹر میں یہ نہایت تیزی سے پھلنے پھولنے والی زبان ہےمگر عملی صورت حال یہ ہے کہ اردو میں درخواست دینے پر افسران منہ بناتے ہیں، اردو جاننے والے ملازمین ناپید ہوتے جا رہے ہیں، عدالتوں اور دفاتر میں اردو فائلیں قصۂ پارینہ بن چکی ہیں۔اگر سرکاری زبان کا درجہ صرف گزٹ نوٹیفکیشن تک محدود ہے تو صاف کہا جائے۔ اردو کو کاغذی وقار نہیں عملی نفاذ چا ہئے۔ یہ سچ ہے کہ اگر اردو آج مکمل طور پر زندہ ہے تو اس میں ڈیجیٹل دنیا کا بڑا ہاتھ ہے۔ سوشل میڈیا، بلاگز، یوٹیوب اور آن لائن صحافت نے اردو کو نیا دائرہ دیا ہے۔ مگر یہاں بھی ریاستی سطح پر کوئی سنجیدہ سرمایہ کاری نظر نہیں آتی۔نئے سال میں مطالبہ ہے کہ اردو کیلئے ڈیجیٹل لائبریریاں بنیں، آن لائن کورسیز اور تعلیمی مواد تیار ہو، اردو ٹیکنالوجی کو قومی پالیسی کا حصہ بنایا جائے۔
ہمیں یہ ماننا ہوگا کہ اردو کے زوال کی تمام ذمہ داری صرف حکومتوں پر ڈال دیناآسان راستہ ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ گھروں میں اردو بولنا ترک ہو چکا ہے، اسکول کے انتخاب میں اردو میڈیم آخری آپشن بن چکا ہے اور اردو کو صرف ماضی کی یادگار سمجھ لیا گیا ہے۔نیا سال اہلِ اردو سے بھی سوال کرتا ہے کہ کیا ہم نے خود اردو کے ساتھ انصاف کیا؟ کیا ہم نے اسے نئی نسل کے لیے قابلِ فخر زبان بنایا؟ یا ہم بھی صرف دھواں دھار تقاریر اور قراردادوں پر اکتفا کر رہے ہیں؟ نئے سال میں اہل اردو کسی معجزے کے منتظر نہیں ہیں۔ وہ صرف یہ چاہتے ہیں کہ اردو کے تئیں وعدے عمل میں بدلیں اور اردو کو اس کا حق ملے ۔
آج کے دور میں کسی بھی زبان کی بقا اس کے ڈیجیٹل نقشِ قدم پر منحصر ہے۔ اہل اردو کی سب سے بڑی توقع یہ ہے کہ اردو کو ٹیکنالوجی کی زبان بنایا جائے۔توقع ہے کہ گوگل، مائیکروسافٹ اور میٹا جیسے پلیٹ فارمز پر اردو کے ترجمے کا معیار بہتر ہوگا۔ اردو والے چاہتے ہیں کہ پیچیدہ اصطلاحات کا ترجمہ بامحاورہ اور درست ہو۔ نوری نستعلیق کے بعد اب ویب پر ایسے لائٹ ویٹ نستعلیق فونٹس کی ضرورت ہے جو موبائل ایپس اور ویب سائٹس پر تیزی سے لوڈ ہو سکیں تاکہ اردو صارفین کو اپنی روایتی خطاطی میں مواد دستیاب ہو۔قدیم قلمی نسخوں اور نایاب کتابوں کو اسکین کر کے عالمی سطح پر ایک بڑی اردو کلاؤڈ لائبریری کی تشکیل کی توقع بھی ہے۔
یہ ایک کڑوا سچ ہے کہ جو زبان روزگار نہیں دیتی، نئی نسل اس سے کنارہ کشی اختیار کر لیتی ہے۔نئے سال میں اہل اردو کی توقعات معاشی استحکام سے بھی جڑی ہیں ۔عالمی کمپنیوں جیسے مائیکرو سافٹ، گوگل ، امیزون اور ایپل کے مواد کو اردو میں ڈھالنے کیلئے پیشہ ورانہ مواقع پیدا کئے جائیں۔اردو کونٹینٹ رائٹنگ کو فروغ ملے۔نئے سال میں یہ تجاویز سنجیدگی سے زیر غور آنی چاہئیں کہ اردو ترجمہ اور تشریح کو سرکاری کیڈر کا درجہ دیا جائے۔اردو کو سیاحت اور ثقافت سے جوڑا جائے،اردو ڈیجیٹل کنٹینٹ کرئیٹرس کے لئے فنڈ اور گرانٹس فراہم ہوں۔ سوشل میڈیا اور بلاگنگ کے ذریعے اردو میں معیاری مواد تخلیق کرنے والوں کیلئے آمدنی کے بہتر ذرائع فراہم ہوں۔ عدالتی فیصلوں، بینکنگ فارمس اور سرکاری ویب سائٹس کو اردو میں بھی منتقل کیا جائے تاکہ عام آدمی کو اپنی زبان میں سہولت ملے۔اردو کی قومی ڈیجیٹل لائبریری قائم کی جائے، سرکاری ویب سائٹس پر اردو ورژن لازمی ہو، اردو اے آئی، اسپیچ ٹو ٹیکسٹ اور تعلیمی ایپس میں سرمایہ کاری ہو۔
صرف مشاعرے اور ادبی نشستیں زبان کو زندہ نہیں رکھ سکتیں۔ اہل اردو کی توقع ہے کہ سائنس، ریاضی اور طب جیسے مضامین کی اصطلاحات کو آسان اردو میں منتقل کیا جائے تاکہ طلبہ اپنی مادری زبان میں پیچیدہ تصورات سمجھ سکیں۔ جامعات میں اردو میں ہونے والی پی ایچ ڈی کا معیار بہتر بنایا جائے اور سرقہ نویسی کے بجائے حقیقی تحقیقی و علمی کام کو فروغ دیا جائے۔اردو دنیا کا مایہ ناز ادب اب بھی عالمی سطح پر اس طرح سے متعارف نہیں ہوسکا جیسے روسی، فرانسیسی یا لاطینی امریکی ادب ہوا ہے۔
نئے سال میں یہ توقع ہے کہ اردو کے بڑے ناولوں اور افسانوں کو انگریزی، ہسپانوی ، فرینچ اور چینی زبانوں میں ترجمہ کر کے بین الاقوامی اعزازات (جیسے بکر پرائز یا نوبل پرائز) کے لئے پیش کیا جائے ۔ روایت پسندی کو برقرار رکھتے ہوئے اردو میںسائنس فکشن ، ماحولیاتی ادب اور جدید انسانی نفسیات پر مبنی تخلیقات پیش کی جائیں۔
اردو کے مخصوص رسم الخط (نستعلیق) کو بعض حلقوں میں رومن اردو سے خطرہ محسوس کیا جا رہا ہے لیکن اہل اردو توقع کرتے ہیں کہ ادبی تنظیمیں ’’اردو لکھو، اردو پڑھو جیسی مہم چلائیں تاکہ نوجوان نسل کی ، ایس ایم ایس اور ای میل میں اردو رسم الخط کے استعمال کی حوصلہ افزائی ہو۔ توقع یہ ہے کہ اردو صرف گھروں اور محفلوں کی زبان نہ رہے بلکہ یہ لیپ ٹاپ کے اسکرینوں، عدالتی کمروں، سائنسی تجربہ گاہوں اور عالمی مارکیٹ کی زبان بن کر ابھرے۔
اردو کے لحاظ سے مہاراشٹر کی بات کی جائے تو مہاراشٹر کو عام طور پر ترقی، صنعت اور جدیدیت کی علامت سمجھا جاتا ہے مگر یہی ریاست اردو کے معاملے میں ایک عجیب تضاد کا شکار ہے۔ ایک طرف اردو اس ریاست کی شہری تہذیب، صحافت، تجارت اور ثقافت کا لازمی حصہ ہے، دوسری طرف سرکاری سطح پر اردو مسلسل نظرانداز کی جا رہی ہے۔ نیا سال مہاراشٹر کےاہلِ اردو کے لیے ایک بار پھر یہ سوال لے کر آیا ہے کہ کیا اس ریاست میں اردو کو محض برداشت کیا جائے گا یا اسے وہ حق بھی دیا جائے گا جس کی وہ مستحق ہے؟مہاراشٹر اردو اکیڈمی برسوں سے قائم ہے، مگر اس کا کردار سوالوں کے گھیرے میں ہے۔ بجٹ محدود، اختیارات ناکافی، اسٹاف نہ کے برابر اور سرگرمیاں چند تقریبات تک محدود۔ نہ طویل مدتی منصوبہ بندی ہے، نہ ضلعی سطح پر موثر موجودگی۔ مہاراشٹر میں اردو کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ حاصل نہیں ہے مگر عملی زندگی میں اردو کی موجودگی ناقابلِ انکار ہے۔ اس کے باوجود سرکاری فارمس اردو میں دستیاب نہیں، بلدیاتی اور پولیس دفاتر میں اردو جاننے والے اہلکار کم ہوتے جا رہے ہیں،عدالتوں میں اردو کا استعمال تقریباً ختم ہو چکا ہے، ایسے میںاہلِ اردو یہ سوال کرنے میں حق بجانب ہیں کہ جب عوام اردو بولتے ہیں تو ریاست اردو کیوں نہیں بولتی؟
اردو کے مستقبل کا دار و مدار ابتدائی تعلیم پر ہے، مگر سب سے زیادہ غفلت بھی اسی سطح پر برتی جا رہی ہے۔ پرائمری اردو اسکول یا تو بند ہو رہے ہیں یا سہولتوں کے فقدان کے سبب والدین خود بچوں کو وہاں داخل کرانے سے کترانے لگے ہیں۔نیا سال اس مطالبے کے ساتھ آنا چا ہئے کہ اردو پرائمری اسکولوں کو جدید سہولتوں سے لیس کیا جائے، اردو اور انگریزی کا دو لسانی ماڈل نافذ کیا جائے، والدین کو یہ اعتماد دیا جائے کہ اردو پڑھنے والا بچہ مقابلے میں پیچھے نہیں رہے گا۔ اردو میڈیا، خصوصاً پرنٹ صحافت، آج شدید بحران کا شکار ہے۔ اشتہارات کی غیرمنصفانہ تقسیم، کاغذ کی قیمتوں میں اضافہ اور ڈیجیٹل منتقلی میں حکومتی عدم تعاون نے اردو اخبارات کی کمر توڑ دی ہے۔ یہاں یہ ہو سکتا ہے کہ اردو میڈیا کے ساتھ اشتہارات میں امتیاز بند ہو، ڈیجیٹل اردو میڈیا کے لیے الگ پالیسی بنے ، اردو صحافیوں کو جدید میڈیا ٹولس کی تربیت دی جائے۔اگر اردو ڈیجیٹل دنیا میں مضبوطی سے قدم نہیں جما سکی تو اس کا دائرہ محدود ہوتا جائے گا۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ عوامی سطح پر اردو ڈیجیٹل مواد بڑھ رہا ہے مگر ریاستی سطح پر مکمل خاموشی ہے۔ نئے سال میں یہ اقدامات کئے جاسکتے ہیں۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اردو کے زوال میں سماجی بے حسی کا بھی حصہ ہے۔ ہم نے خود اردو کو گھروں سے نکال دیا ہے، اسے روزگار کے قابل نہیں سمجھا اور نئی نسل کے سامنے اس کا کمزور تصور پیش کیا۔نیا سال اہلِ اردو سے یہ تقاضا کرتا ہے کہ گھروں میں اردو بولی جائے،بچوں کو اردو کتابیں پڑھائی جائیں ، اردو کو احساسِ کمتری سے نکالا جائے۔ اہل اردو کسی خصوصی رعایت کے خواہاں نہیں، وہ صرف یہ چاہتے ہیں کہ آئین پر عمل ہو، زبان کے ساتھ انصاف ہو، وعدے تقریروں سے نکل کر زمین پر اتریں۔اگر اس سال بھی اردو کو نظرانداز کیا گیا تو قصور صرف حکومتوں کا نہیں ہوگا، بلکہ ان سب کا ہوگا جنہوں نے خاموشی کو مصلحت سمجھ لیا ہے۔