• Wed, 07 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

نئے سال میں اہلِ اُردو کی توقعات کیا ہیں؟

Updated: January 05, 2026, 4:20 PM IST | Mubasshir Akbar | Mumbai

اردو ذریعہ تعلیم ، تدریس ، ادب و ثقافت اور اردو کی ترویج کے سلسلے میں اہم تجاویز اور مشورہ کیا ہوں جن پر عمل کی اہل اردو توقع کرتے ہیں۔

Picture: INN
تصویر: آئی این این
نیا سال عام طور پر نئے سوال ، وعدے، امیدیں اور توقعات لے کر آتاہے،  اردو زبان کے تعلق سے بھی یہی سوال نئے سال کے آغاز پر زیادہ شدت سے ابھرتا ہے کہ نئے سال سے اہلِ اردوکیا چاہتے ہیں؟ نئے سال میں اردو کے تئیں ان کی  بنیادی توقعات کیا ہیں، اور کیا یہ توقعات زمینی حقائق سے مطابقت رکھتی ہیں؟  نیا سال ہم سے حقیقت پسندانہ جائزہ اور عملی سمت کے تعین کا تقاضا کرتا ہے۔مہاراشٹر جیسے بڑے اور لسانی طور پر متنوع صوبے میں اردو کی صورتِ حال اس بحث کو اور زیادہ اہم بنا دیتی ہے۔مہاراشٹر میں اردو نہ صرف  اہمیت کی حامل زبان ہے بلکہ آج بھی  لاکھوںافراد کی روزمرہ بول چال، تہذیبی شناخت اور تعلیمی ضرورت سے جڑی ہوئی ہے۔ مردم شماری کے اعداد و شمار اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ اردو بولنے والوں کی تعداد کے اعتبار سے مہاراشٹر ملک کی  دوسری یا تیسری سب سے بڑی ریاست ہے ۔ ممبئی، تھانے، بھیونڈی، مالیگاؤں، اورنگ آباد،اکولہ، امرائوتی، پونے، خطہ کوکن ، ناگپور، ناندیڑ اور شولاپور  جیسے شہروں میں اردو ایک زندہ زبان کے طور پر موجود ہے۔

(۱)اردو سے وابستہ سب سے بڑا مسئلہ تعلیم سے متعلق ہےاور خاص طور پر اردو میڈیم اسکولوں کی صورتحال اس تشویش کو واضح کرتی ہے۔ مہاراشٹر میں اردو میڈیم اسکولوں کی ایک بڑی تعداد ضرور ہے مگر گزشتہ ایک دہائی میں ان اسکولوں میں داخلوں میں مسلسل کمی دیکھی گئی ہے۔ اس کمی کی بنیادی وجہ یہ نہیں کہ اردو بولنے والے کم ہو گئے ہیں، بلکہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ والدین اردو میڈیم کی تعلیم کو مستقبل  سے جوڑ کر نہیں دیکھ پا رہے ہیں۔ اس رجحان کو محض والدین کی غلط سوچ کہہ کر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ حقیقت یہ ہے کہ والدین اپنی اولاد کے مستقبل کو سامنے رکھ کر فیصلہ کرتے ہیں اور اگر اردو میڈیم تعلیم انہیں روزگار، مسابقت اور سماجی ترقی سے جڑی ہوئی نظر نہیں آتی تو وہ متبادل اختیار کرتے ہیں۔  یہ تاثر کسی حد تک خود اردو تعلیمی اداروں کی کمزوریوں کا نتیجہ بھی ہے۔ اہل  اردو کی نئے سال میں ایک بنیادی توقع یہ ہے کہ اردو اسکولوں کو صرف زبان کی بنیاد پر قائم ادارہ نہ سمجھا جائےبلکہ انہیں معیاری تعلیمی مراکز میں تبدیل کیا جائے جہاں سے نکلنے والا طالب علم عملی زندگی میں پیچھے نہ رہے۔


(۲)اس تعلیمی منظرنامے میں اردو اساتذہ کا مسئلہ بھی نہایت سنجیدہ ہے۔ سرکاری سطح پر اردو اساتذہ کی بڑی تعداد میں اسامیاں خالی ہیں، تقرری کا عمل اکثر برسوں تک زیر التوا رہتا ہے۔ عارضی اور کنٹریکٹ بنیادوں پر کام کرنے والے اساتذہ پیشہ ورانہ عدم تحفظ کا شکار ہیں، جس کا اثر تدریسی معیار پر بھی پڑتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اردو کے اساتذہ کیلئے جدید تربیتی پروگرام، ریفریشر کورسیز اور نئی تعلیمی تکنیکوں سے واقفیت کے مواقع نہایت محدود ہیں۔ اہل اردو کی یہ توقع بالکل جائز ہے کہ نئے سال میں اردو اساتذہ کی تقرری، تربیت اور پیشہ ورانہ وقار کو تعلیمی پالیسی کا لازمی حصہ بنایا جائے۔ نئے سال میں اہل اردو کی یہ توقع ہے کہ اردو اساتذہ کی بروقت اور مستقل تقرریاں ہوں،انہیں جدید تدریسی مہارتوں سے آراستہ کیا جائےاور معاشرتی و پیشہ ورانہ سطح پر ان کے وقار کو بحال کیا جائے۔


(۳)تعلیم کے بعد اردو کا دوسرا اہم میدان ادبی اور ثقافتی سرگرمیوں سے متعلق ہے۔ مہاراشٹر میں اردو کی متعدد ادبی تنظیمیں، انجمنیں اور ادارے سرگرم ہیں لیکن ان کی اکثریت کی سرگرمیاں مشاعروں، سالانہ تقریبات اور رسمی سیمیناروں تک محدود ہوگئی ہیں۔ اگرچہ یہ سرگرمیاں اردو کے مجموعی ادبی مزاج کو زندہ رکھتی ہیں اور اردو کے تعلق سے مکالموں کا ذریعہ بھی بنتی ہیں، مگر ان کا براہِ راست فائدہ نئی نسل یا تعلیمی نظام تک کم ہی پہنچ پاتا ہے۔ اہلِ اردو یہ محسوس کرتے ہیں کہ ادبی تنظیموں کو اسکولوں، کالجوں اور نوجوانوں کے ساتھ عملی رشتہ قائم کرنا ہوگا، ورنہ اردو صرف تقریبات کی زبان بن کر رہ جائے گی۔ اہل اردو کی یہ توقع ہے کہ ادبی تنظیمیں اسکولوں اور کالجوں سے براہِ راست جڑیں،نئی نسل کیلئے ریڈنگ مٹیریل، ورکشاپ اور تحریری تربیت کا اہتمام کریں اور اردو کو صرف شاعری تک محدود رکھنے کے بجائے علم، تحقیق اور ہنر سے جوڑیں۔


(۴)سرکاری سطح پر اردو کے حوالے سے پالیسی اور عمل کے درمیان فرق بھی ایک مستقل مسئلہ ہے۔ مہاراشٹر حکومت نے اردو کے لئے اردو اکادمی اور دوسری زبان کے طور پر اردو کی تدریس جیسے اقدامات ضرور کئے ہیں، مگر ان پر عمل درآمد کی رفتار سست اور اثر محدودہے۔ فنڈس کی کمی سے زیادہ بڑا مسئلہ ترجیحات کا ہے۔ اردو کو اکثر علامتی سطح پر تسلیم کیا جاتا ہے مگر عملی انتظامی فیصلوں میں اس کی شمولیت نہ کے برابر ہے۔ اہل اردو کی نئے سال میں یہ واضح توقع ہے کہ اردو سے متعلق فیصلے نمائشی نہ ہوں بلکہ ان کا براہِ راست فائدہ تعلیمی اداروں، اساتذہ اور طلبہ تک پہنچے۔ اردو کی ترویج کے سلسلے میں اہل اردو یہ توقع کررہے ہیں کہ نئے سال میں کچھ سنجیدہ قدم اٹھانے ہوں گے، سب سے پہلے زبان کو روزگار اور مہارت سے جوڑنا ہوگا۔ اردو میڈیم اسکولوں میں ووکیشنل کورسیز، کمپیوٹر تعلیم، اکاؤنٹنگ،  ڈیجیٹل مہارتیں اور جدید علوم کو لازمی طور پر شامل کرنا ہو گا۔ اس کے ساتھ ساتھ اردو کے تعلیمی اور ادبی سرمائے کو ڈیجیٹل پلیٹ فارمس پر منتقل کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے، تاکہ نئی نسل کیلئے اردو محض ماضی کی زبان نہ رہے  ۔ اس کیلئے اردو کے ساتھ ساتھ تکنیکی تعلیم میں  ماہر افراد کو سامنے آکر اردو کا سرمایہ ڈیجیٹل زبان میں منتقل کرنا ہو گا۔  

یہ تو ہوئی ہماری توقعات  جن میں کچھ اور باتوں کا  اـضافہ ہو سکتا ہے ۔ آپ اس بارے میں کیا سوچتے ہیں، نئے سال میں اردو کے تئیں آپ کی کیا توقعات ہیں ؟ ہمیں بھیجئے ۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK