اردو ذریعہ تعلیم ، تدریس ، ادب و ثقافت اور اردو کی ترویج کے سلسلے میں اہم تجاویز اور مشورہ کیا ہوں جن پر عمل کی اہل اردو توقع کرتے ہیں۔
نیا سال عام طور پر نئے سوال ، وعدے، امیدیں اور توقعات لے کر آتاہے، اردو زبان کے تعلق سے بھی یہی سوال نئے سال کے آغاز پر زیادہ شدت سے ابھرتا ہے کہ نئے سال سے اہلِ اردوکیا چاہتے ہیں؟ نئے سال میں اردو کے تئیں ان کی بنیادی توقعات کیا ہیں، اور کیا یہ توقعات زمینی حقائق سے مطابقت رکھتی ہیں؟ نیا سال ہم سے حقیقت پسندانہ جائزہ اور عملی سمت کے تعین کا تقاضا کرتا ہے۔مہاراشٹر جیسے بڑے اور لسانی طور پر متنوع صوبے میں اردو کی صورتِ حال اس بحث کو اور زیادہ اہم بنا دیتی ہے۔مہاراشٹر میں اردو نہ صرف اہمیت کی حامل زبان ہے بلکہ آج بھی لاکھوںافراد کی روزمرہ بول چال، تہذیبی شناخت اور تعلیمی ضرورت سے جڑی ہوئی ہے۔ مردم شماری کے اعداد و شمار اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ اردو بولنے والوں کی تعداد کے اعتبار سے مہاراشٹر ملک کی دوسری یا تیسری سب سے بڑی ریاست ہے ۔ ممبئی، تھانے، بھیونڈی، مالیگاؤں، اورنگ آباد،اکولہ، امرائوتی، پونے، خطہ کوکن ، ناگپور، ناندیڑ اور شولاپور جیسے شہروں میں اردو ایک زندہ زبان کے طور پر موجود ہے۔
(۱)اردو سے وابستہ سب سے بڑا مسئلہ تعلیم سے متعلق ہےاور خاص طور پر اردو میڈیم اسکولوں کی صورتحال اس تشویش کو واضح کرتی ہے۔ مہاراشٹر میں اردو میڈیم اسکولوں کی ایک بڑی تعداد ضرور ہے مگر گزشتہ ایک دہائی میں ان اسکولوں میں داخلوں میں مسلسل کمی دیکھی گئی ہے۔ اس کمی کی بنیادی وجہ یہ نہیں کہ اردو بولنے والے کم ہو گئے ہیں، بلکہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ والدین اردو میڈیم کی تعلیم کو مستقبل سے جوڑ کر نہیں دیکھ پا رہے ہیں۔ اس رجحان کو محض والدین کی غلط سوچ کہہ کر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ حقیقت یہ ہے کہ والدین اپنی اولاد کے مستقبل کو سامنے رکھ کر فیصلہ کرتے ہیں اور اگر اردو میڈیم تعلیم انہیں روزگار، مسابقت اور سماجی ترقی سے جڑی ہوئی نظر نہیں آتی تو وہ متبادل اختیار کرتے ہیں۔ یہ تاثر کسی حد تک خود اردو تعلیمی اداروں کی کمزوریوں کا نتیجہ بھی ہے۔ اہل اردو کی نئے سال میں ایک بنیادی توقع یہ ہے کہ اردو اسکولوں کو صرف زبان کی بنیاد پر قائم ادارہ نہ سمجھا جائےبلکہ انہیں معیاری تعلیمی مراکز میں تبدیل کیا جائے جہاں سے نکلنے والا طالب علم عملی زندگی میں پیچھے نہ رہے۔
(۲)اس تعلیمی منظرنامے میں اردو اساتذہ کا مسئلہ بھی نہایت سنجیدہ ہے۔ سرکاری سطح پر اردو اساتذہ کی بڑی تعداد میں اسامیاں خالی ہیں، تقرری کا عمل اکثر برسوں تک زیر التوا رہتا ہے۔ عارضی اور کنٹریکٹ بنیادوں پر کام کرنے والے اساتذہ پیشہ ورانہ عدم تحفظ کا شکار ہیں، جس کا اثر تدریسی معیار پر بھی پڑتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اردو کے اساتذہ کیلئے جدید تربیتی پروگرام، ریفریشر کورسیز اور نئی تعلیمی تکنیکوں سے واقفیت کے مواقع نہایت محدود ہیں۔ اہل اردو کی یہ توقع بالکل جائز ہے کہ نئے سال میں اردو اساتذہ کی تقرری، تربیت اور پیشہ ورانہ وقار کو تعلیمی پالیسی کا لازمی حصہ بنایا جائے۔ نئے سال میں اہل اردو کی یہ توقع ہے کہ اردو اساتذہ کی بروقت اور مستقل تقرریاں ہوں،انہیں جدید تدریسی مہارتوں سے آراستہ کیا جائےاور معاشرتی و پیشہ ورانہ سطح پر ان کے وقار کو بحال کیا جائے۔
(۳)تعلیم کے بعد اردو کا دوسرا اہم میدان ادبی اور ثقافتی سرگرمیوں سے متعلق ہے۔ مہاراشٹر میں اردو کی متعدد ادبی تنظیمیں، انجمنیں اور ادارے سرگرم ہیں لیکن ان کی اکثریت کی سرگرمیاں مشاعروں، سالانہ تقریبات اور رسمی سیمیناروں تک محدود ہوگئی ہیں۔ اگرچہ یہ سرگرمیاں اردو کے مجموعی ادبی مزاج کو زندہ رکھتی ہیں اور اردو کے تعلق سے مکالموں کا ذریعہ بھی بنتی ہیں، مگر ان کا براہِ راست فائدہ نئی نسل یا تعلیمی نظام تک کم ہی پہنچ پاتا ہے۔ اہلِ اردو یہ محسوس کرتے ہیں کہ ادبی تنظیموں کو اسکولوں، کالجوں اور نوجوانوں کے ساتھ عملی رشتہ قائم کرنا ہوگا، ورنہ اردو صرف تقریبات کی زبان بن کر رہ جائے گی۔ اہل اردو کی یہ توقع ہے کہ ادبی تنظیمیں اسکولوں اور کالجوں سے براہِ راست جڑیں،نئی نسل کیلئے ریڈنگ مٹیریل، ورکشاپ اور تحریری تربیت کا اہتمام کریں اور اردو کو صرف شاعری تک محدود رکھنے کے بجائے علم، تحقیق اور ہنر سے جوڑیں۔
(۴)سرکاری سطح پر اردو کے حوالے سے پالیسی اور عمل کے درمیان فرق بھی ایک مستقل مسئلہ ہے۔ مہاراشٹر حکومت نے اردو کے لئے اردو اکادمی اور دوسری زبان کے طور پر اردو کی تدریس جیسے اقدامات ضرور کئے ہیں، مگر ان پر عمل درآمد کی رفتار سست اور اثر محدودہے۔ فنڈس کی کمی سے زیادہ بڑا مسئلہ ترجیحات کا ہے۔ اردو کو اکثر علامتی سطح پر تسلیم کیا جاتا ہے مگر عملی انتظامی فیصلوں میں اس کی شمولیت نہ کے برابر ہے۔ اہل اردو کی نئے سال میں یہ واضح توقع ہے کہ اردو سے متعلق فیصلے نمائشی نہ ہوں بلکہ ان کا براہِ راست فائدہ تعلیمی اداروں، اساتذہ اور طلبہ تک پہنچے۔ اردو کی ترویج کے سلسلے میں اہل اردو یہ توقع کررہے ہیں کہ نئے سال میں کچھ سنجیدہ قدم اٹھانے ہوں گے، سب سے پہلے زبان کو روزگار اور مہارت سے جوڑنا ہوگا۔ اردو میڈیم اسکولوں میں ووکیشنل کورسیز، کمپیوٹر تعلیم، اکاؤنٹنگ، ڈیجیٹل مہارتیں اور جدید علوم کو لازمی طور پر شامل کرنا ہو گا۔ اس کے ساتھ ساتھ اردو کے تعلیمی اور ادبی سرمائے کو ڈیجیٹل پلیٹ فارمس پر منتقل کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے، تاکہ نئی نسل کیلئے اردو محض ماضی کی زبان نہ رہے ۔ اس کیلئے اردو کے ساتھ ساتھ تکنیکی تعلیم میں ماہر افراد کو سامنے آکر اردو کا سرمایہ ڈیجیٹل زبان میں منتقل کرنا ہوگا۔
ہر نیا سال اہل اردو کے لئے ایک پرانا سوال لے کر آتا ہے کیا اس سال بھی اردو صرف تقریروں، مشاعروں اور فائلوں تک محدود رہے گی، یا واقعی اسے جینے کا حق ملے گا؟ اردو کوئی نوحہ نہیں، نہ کسی خاص طبقے کی جاگیر ہے۔ یہ ہندوستان کی اُن شاندار زبانوں میں سے ایک ہے جسے کروڑوں لوگ بولتے، لکھتے اور سمجھتے ہیں۔ اس کے باوجود حقیقت یہ ہے کہ اردو آج بھی سرکاری بے حسی اور سیاسی مصلحتوں کی بھینٹ چڑھ رہی ہے۔ نیا سال آیا ہے، مگر اردو کے مسائل جوںکے توں ہیں بلکہ بعض جگہ مزید سنگین ہو چکے ہیں۔
سب سے بڑا سوال اردو ذریعۂ تعلیم کا ہے۔ جن ریاستوں میں اردو بولنے والوں کی تعداد لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں میں ہے، وہاں اردو میڈیم اسکول یا تو بند کئے جا رہے ہیں یا جان بوجھ کر ناکام بنائے جا رہے ہیں۔ اساتذہ کی اسامیاں برسوں سے خالی ہیں، اسکولوں کی عمارتیں خستہ حال ہیں اور نصاب جدید تقاضوں سے کوسوں دور۔نیشنل ایجوکیشن پالیسی مادری زبان کی بات تو کرتی ہے مگر اردو کے معاملے میں خاموشی اختیار کر لیتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا اردو مادری زبان نہیں ہے؟ کیا اردو بولنے والے ہندوستان کے شہری نہیں ہیں؟ یا مسئلہ صرف یہ ہے کہ اردو، ووٹ بینک کے فوری فائدے میں فٹ نہیں بیٹھتی؟اہل اردو نئے سال میں خیرات نہیں، اپنا آئینی حق مانگ رہے ہیں۔
یہ تلخ حقیقت ہے کہ اردو پڑھنے والا نوجوان آج سب سے زیادہ غیر یقینی مستقبل کا شکار ہے۔ نہ سرکاری نوکریوں میں اردو کی مناسب نمائندگی ہے، نہ جدید اسکل کورسیز میں اس کا کوئی واضح مقام ہے۔جب عدالتوں، میڈیا، سفارت کاری، ترجمہ اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز میں اردو کی ضرورت موجود ہے تو پھر اردو ترجمہ نگاروں کی مستقل بھرتیاں کیوں نہیں ہوتیں؟ اردو جرنلزم کے لئے پروفیشنل تربیت کیوں نہیں دی جاتی؟ اردو کو مقابلہ جاتی امتحانات میں عملی حیثیت کیوں نہیں ملتی؟نیا سال اہلِ اردو کیلئے اس امید کا سال ہونا چا ہئے کہ اردو علم کے ساتھ ساتھ معاش کی زبان بھی بنے۔
اردو کے نام پر قائم اکیڈمیاں اکثر صرف فائلوں میں سرگرم دکھائی دیتی ہیں۔ بجٹ برائے نام، عہدے خالی اور سرگرمیاں چند مخصوص حلقوں تک محدود۔ سیمینار ہوتے ہیں، تصویریں شائع ہوتی ہیںمگر زمینی سطح پر اردو کی حالت جوں کی توں رہتی ہے۔سوال یہ ہے کہ اردو اکیڈمیاں محض نمائشی شو کیس کیوں بنادی گئی ہیں؟ ان کے احتساب کا کوئی نظام کیوں نہیں ہے؟ اردو کے لئےمختص فنڈ آخر جاتا کہاں ہے؟ اہل اردو نئے سال میں کمیشن نہیں کام چاہتے ہیں۔
اترپردیش، بہار، جھارکھنڈ، دہلی اور تلنگانہ میں اردو کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ حاصل ہے جبکہ مہاراشٹر میں یہ نہایت تیزی سے پھلنے پھولنے والی زبان ہےمگر عملی صورت حال یہ ہے کہ اردو میں درخواست دینے پر افسران منہ بناتے ہیں، اردو جاننے والے ملازمین ناپید ہوتے جا رہے ہیں، عدالتوں اور دفاتر میں اردو فائلیں قصۂ پارینہ بن چکی ہیں۔اگر سرکاری زبان کا درجہ صرف گزٹ نوٹیفکیشن تک محدود ہے تو صاف کہا جائے۔ اردو کو کاغذی وقار نہیں عملی نفاذ چا ہئے۔ یہ سچ ہے کہ اگر اردو آج مکمل طور پر زندہ ہے تو اس میں ڈیجیٹل دنیا کا بڑا ہاتھ ہے۔ سوشل میڈیا، بلاگز، یوٹیوب اور آن لائن صحافت نے اردو کو نیا دائرہ دیا ہے۔ مگر یہاں بھی ریاستی سطح پر کوئی سنجیدہ سرمایہ کاری نظر نہیں آتی۔نئے سال میں مطالبہ ہے کہ اردو کیلئے ڈیجیٹل لائبریریاں بنیں، آن لائن کورسیز اور تعلیمی مواد تیار ہو، اردو ٹیکنالوجی کو قومی پالیسی کا حصہ بنایا جائے۔
ہمیں یہ ماننا ہوگا کہ اردو کے زوال کی تمام ذمہ داری صرف حکومتوں پر ڈال دیناآسان راستہ ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ گھروں میں اردو بولنا ترک ہو چکا ہے، اسکول کے انتخاب میں اردو میڈیم آخری آپشن بن چکا ہے اور اردو کو صرف ماضی کی یادگار سمجھ لیا گیا ہے۔نیا سال اہلِ اردو سے بھی سوال کرتا ہے کہ کیا ہم نے خود اردو کے ساتھ انصاف کیا؟ کیا ہم نے اسے نئی نسل کے لیے قابلِ فخر زبان بنایا؟ یا ہم بھی صرف دھواں دھار تقاریر اور قراردادوں پر اکتفا کر رہے ہیں؟ نئے سال میں اہل اردو کسی معجزے کے منتظر نہیں ہیں۔ وہ صرف یہ چاہتے ہیں کہ اردو کے تئیں وعدے عمل میں بدلیں اور اردو کو اس کا حق ملے ۔
آج کے دور میں کسی بھی زبان کی بقا اس کے ڈیجیٹل نقشِ قدم پر منحصر ہے۔ اہل اردو کی سب سے بڑی توقع یہ ہے کہ اردو کو ٹیکنالوجی کی زبان بنایا جائے۔توقع ہے کہ گوگل، مائیکروسافٹ اور میٹا جیسے پلیٹ فارمز پر اردو کے ترجمے کا معیار بہتر ہوگا۔ اردو والے چاہتے ہیں کہ پیچیدہ اصطلاحات کا ترجمہ بامحاورہ اور درست ہو۔ نوری نستعلیق کے بعد اب ویب پر ایسے لائٹ ویٹ نستعلیق فونٹس کی ضرورت ہے جو موبائل ایپس اور ویب سائٹس پر تیزی سے لوڈ ہو سکیں تاکہ اردو صارفین کو اپنی روایتی خطاطی میں مواد دستیاب ہو۔قدیم قلمی نسخوں اور نایاب کتابوں کو اسکین کر کے عالمی سطح پر ایک بڑی اردو کلاؤڈ لائبریری کی تشکیل کی توقع بھی ہے۔
یہ ایک کڑوا سچ ہے کہ جو زبان روزگار نہیں دیتی، نئی نسل اس سے کنارہ کشی اختیار کر لیتی ہے۔نئے سال میں اہل اردو کی توقعات معاشی استحکام سے بھی جڑی ہیں ۔عالمی کمپنیوں جیسے مائیکرو سافٹ، گوگل ، امیزون اور ایپل کے مواد کو اردو میں ڈھالنے کیلئے پیشہ ورانہ مواقع پیدا کئے جائیں۔اردو کونٹینٹ رائٹنگ کو فروغ ملے۔نئے سال میں یہ تجاویز سنجیدگی سے زیر غور آنی چاہئیں کہ اردو ترجمہ اور تشریح کو سرکاری کیڈر کا درجہ دیا جائے۔اردو کو سیاحت اور ثقافت سے جوڑا جائے،اردو ڈیجیٹل کنٹینٹ کرئیٹرس کے لئے فنڈ اور گرانٹس فراہم ہوں۔ سوشل میڈیا اور بلاگنگ کے ذریعے اردو میں معیاری مواد تخلیق کرنے والوں کیلئے آمدنی کے بہتر ذرائع فراہم ہوں۔ عدالتی فیصلوں، بینکنگ فارمس اور سرکاری ویب سائٹس کو اردو میں بھی منتقل کیا جائے تاکہ عام آدمی کو اپنی زبان میں سہولت ملے۔اردو کی قومی ڈیجیٹل لائبریری قائم کی جائے، سرکاری ویب سائٹس پر اردو ورژن لازمی ہو، اردو اے آئی، اسپیچ ٹو ٹیکسٹ اور تعلیمی ایپس میں سرمایہ کاری ہو۔
صرف مشاعرے اور ادبی نشستیں زبان کو زندہ نہیں رکھ سکتیں۔ اہل اردو کی توقع ہے کہ سائنس، ریاضی اور طب جیسے مضامین کی اصطلاحات کو آسان اردو میں منتقل کیا جائے تاکہ طلبہ اپنی مادری زبان میں پیچیدہ تصورات سمجھ سکیں۔ جامعات میں اردو میں ہونے والی پی ایچ ڈی کا معیار بہتر بنایا جائے اور سرقہ نویسی کے بجائے حقیقی تحقیقی و علمی کام کو فروغ دیا جائے۔اردو دنیا کا مایہ ناز ادب اب بھی عالمی سطح پر اس طرح سے متعارف نہیں ہوسکا جیسے روسی، فرانسیسی یا لاطینی امریکی ادب ہوا ہے۔
نئے سال میں یہ توقع ہے کہ اردو کے بڑے ناولوں اور افسانوں کو انگریزی، ہسپانوی ، فرینچ اور چینی زبانوں میں ترجمہ کر کے بین الاقوامی اعزازات (جیسے بکر پرائز یا نوبل پرائز) کے لئے پیش کیا جائے ۔ روایت پسندی کو برقرار رکھتے ہوئے اردو میںسائنس فکشن ، ماحولیاتی ادب اور جدید انسانی نفسیات پر مبنی تخلیقات پیش کی جائیں۔
اردو کے مخصوص رسم الخط (نستعلیق) کو بعض حلقوں میں رومن اردو سے خطرہ محسوس کیا جا رہا ہے لیکن اہل اردو توقع کرتے ہیں کہ ادبی تنظیمیں ’’اردو لکھو، اردو پڑھو جیسی مہم چلائیں تاکہ نوجوان نسل کی ، ایس ایم ایس اور ای میل میں اردو رسم الخط کے استعمال کی حوصلہ افزائی ہو۔ توقع یہ ہے کہ اردو صرف گھروں اور محفلوں کی زبان نہ رہے بلکہ یہ لیپ ٹاپ کے اسکرینوں، عدالتی کمروں، سائنسی تجربہ گاہوں اور عالمی مارکیٹ کی زبان بن کر ابھرے۔
اردو کے لحاظ سے مہاراشٹر کی بات کی جائے تو مہاراشٹر کو عام طور پر ترقی، صنعت اور جدیدیت کی علامت سمجھا جاتا ہے مگر یہی ریاست اردو کے معاملے میں ایک عجیب تضاد کا شکار ہے۔ ایک طرف اردو اس ریاست کی شہری تہذیب، صحافت، تجارت اور ثقافت کا لازمی حصہ ہے، دوسری طرف سرکاری سطح پر اردو مسلسل نظرانداز کی جا رہی ہے۔ نیا سال مہاراشٹر کےاہلِ اردو کے لیے ایک بار پھر یہ سوال لے کر آیا ہے کہ کیا اس ریاست میں اردو کو محض برداشت کیا جائے گا یا اسے وہ حق بھی دیا جائے گا جس کی وہ مستحق ہے؟مہاراشٹر اردو اکیڈمی برسوں سے قائم ہے، مگر اس کا کردار سوالوں کے گھیرے میں ہے۔ بجٹ محدود، اختیارات ناکافی، اسٹاف نہ کے برابر اور سرگرمیاں چند تقریبات تک محدود۔ نہ طویل مدتی منصوبہ بندی ہے، نہ ضلعی سطح پر موثر موجودگی۔ مہاراشٹر میں اردو کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ حاصل نہیں ہے مگر عملی زندگی میں اردو کی موجودگی ناقابلِ انکار ہے۔ اس کے باوجود سرکاری فارمس اردو میں دستیاب نہیں، بلدیاتی اور پولیس دفاتر میں اردو جاننے والے اہلکار کم ہوتے جا رہے ہیں،عدالتوں میں اردو کا استعمال تقریباً ختم ہو چکا ہے، ایسے میںاہلِ اردو یہ سوال کرنے میں حق بجانب ہیں کہ جب عوام اردو بولتے ہیں تو ریاست اردو کیوں نہیں بولتی؟
اردو کے مستقبل کا دار و مدار ابتدائی تعلیم پر ہے، مگر سب سے زیادہ غفلت بھی اسی سطح پر برتی جا رہی ہے۔ پرائمری اردو اسکول یا تو بند ہو رہے ہیں یا سہولتوں کے فقدان کے سبب والدین خود بچوں کو وہاں داخل کرانے سے کترانے لگے ہیں۔نیا سال اس مطالبے کے ساتھ آنا چا ہئے کہ اردو پرائمری اسکولوں کو جدید سہولتوں سے لیس کیا جائے، اردو اور انگریزی کا دو لسانی ماڈل نافذ کیا جائے، والدین کو یہ اعتماد دیا جائے کہ اردو پڑھنے والا بچہ مقابلے میں پیچھے نہیں رہے گا۔ اردو میڈیا، خصوصاً پرنٹ صحافت، آج شدید بحران کا شکار ہے۔ اشتہارات کی غیرمنصفانہ تقسیم، کاغذ کی قیمتوں میں اضافہ اور ڈیجیٹل منتقلی میں حکومتی عدم تعاون نے اردو اخبارات کی کمر توڑ دی ہے۔ یہاں یہ ہو سکتا ہے کہ اردو میڈیا کے ساتھ اشتہارات میں امتیاز بند ہو، ڈیجیٹل اردو میڈیا کے لیے الگ پالیسی بنے ، اردو صحافیوں کو جدید میڈیا ٹولس کی تربیت دی جائے۔اگر اردو ڈیجیٹل دنیا میں مضبوطی سے قدم نہیں جما سکی تو اس کا دائرہ محدود ہوتا جائے گا۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ عوامی سطح پر اردو ڈیجیٹل مواد بڑھ رہا ہے مگر ریاستی سطح پر مکمل خاموشی ہے۔ نئے سال میں یہ اقدامات کئے جاسکتے ہیں۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اردو کے زوال میں سماجی بے حسی کا بھی حصہ ہے۔ ہم نے خود اردو کو گھروں سے نکال دیا ہے، اسے روزگار کے قابل نہیں سمجھا اور نئی نسل کے سامنے اس کا کمزور تصور پیش کیا۔نیا سال اہلِ اردو سے یہ تقاضا کرتا ہے کہ گھروں میں اردو بولی جائے،بچوں کو اردو کتابیں پڑھائی جائیں ، اردو کو احساسِ کمتری سے نکالا جائے۔ اہل اردو کسی خصوصی رعایت کے خواہاں نہیں، وہ صرف یہ چاہتے ہیں کہ آئین پر عمل ہو، زبان کے ساتھ انصاف ہو، وعدے تقریروں سے نکل کر زمین پر اتریں۔اگر اس سال بھی اردو کو نظرانداز کیا گیا تو قصور صرف حکومتوں کا نہیں ہوگا، بلکہ ان سب کا ہوگا جنہوں نے خاموشی کو مصلحت سمجھ لیا ہے۔
اردو زبان و ادب سے وابستہ اہم شخصیات کے تاثرات پیش کررہے ہیں۔ ان شخصیات نے ہماری دعوت پر لبیک کہتے ہوئے ہمیں اپنے خیالات اور تاثرات روانہ کئے جنہیں یہاں اختصار کے ساتھ پیش کیا جارہا ہے۔ان شخصیات میں کچھ صحافی ہیں، ادیب ہیں، شاعر ہیں ،معلم ہیں، محققین ہیں،غرض یہ اردو زبان و ادب کی وہ شخصیات ہیں جو اردو دنیا میں قدر کی نگاہ سے دیکھی جاتی ہیں ۔ ان کی آراء کو اہمیت دی جاتی ہے اور اس پر عمل کی کوشش بھی کی جاتی ہے۔
چونکہ ہر نیا سال اہل اردو کے لئے ایک پرانا سوال لے کر آتا ہے کیا اس سال بھی اردو صرف تقریروں، مشاعروں اور فائلوں تک محدود رہے گی، یا واقعی اسے جینے کا حق ملے گا؟ اردو کوئی نوحہ نہیں، نہ کسی خاص طبقے کی جاگیر ہے۔ یہ ہندوستان کی اُن شاندار زبانوں میں سے ایک ہے جسے کروڑوں لوگ بولتے، لکھتے اور سمجھتے ہیں۔ اس کے باوجود حقیقت یہ ہے کہ اردو آج بھی سرکاری بے حسی اور سیاسی مصلحتوں کی بھینٹ چڑھ رہی ہے۔ نیا سال آیا ہے، مگر اردو کے مسائل جوںکے توں ہیں بلکہ بعض جگہ مزید سنگین ہو چکے ہیں۔ ان مسائل کے حل اور اردو کو اس کا حق دلانے کے لئے بڑے پیمانے پر کوششوں کی ضرورت ہے۔ ان شخصیات نے انہی سوالوں کی روشنی میں اپنی توقعات ہمیں پیش کی ہیں جو ہم قارئین تک پہنچارہے ہیں۔ اگلے ہفتے بھی یہ سلسلہ جاری رہے گا۔
’’نئے سال میں اردو کی توقعات اہل اردو سے کیا ہیں؟‘‘

یہ ناچیز محسوس کر رہا ہے کہ اہل اردو خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں اور ادھر اردو کی سانسیں اکھڑ رہی ہیں۔شیریں زبان دن بدن کمزور ہوتی جا رہی ہے اور ہم اس کی بدحالی کا صرف ویڈیو شوٹ کر رہے ہیں اورمختلف پلیٹ فارمس پر فوٹو اور ویڈیو اپلوڈ کر رہے ہیں اور اپنی نظر میں بڑا جہادکر رہے ہیں۔ اس لئے اردو کی توقعات میری نظر میں اہل اردو سے درج ذیل ہیں۔
۱) اسکولی سطح پر اُردو کے فروغ کا کام کاغذ پر زیادہ اور عملاً کم ہو رہا ہے۔ عمل سے زندگی بنتی ہےجنت بھی جہنم بھی۔
۲) خطوط نویسی کا رواج دم توڑ چکا ہے۔ جیسے اُردو کا ایک عضو مردہ ہو چکا ہے۔ مردہ پہ کوئی منتر کرو تو جانوں۔
۳) مضمون نویسی، خوشخطی، بیت بازی کے بامقصد مقابلے، باقاعدگی سے منعقد کروائے جائیں۔
۴) لائبریری کی الماریوں میں قید اُردو کتابوں کو عمر خالد اور شرجیل امام نہ کر دیا جائے بلکہ کتابوں کو ہر حال میں ضمانت دی جائے یعنی انہیں باہر نکالا جائے اور مطالعہ کیا جائے۔
۵) بہت ہو چکا، اب روایتی طریقہ بدلا جائے اور فی البدیہہ مضمون و کہانی نویسی کے مقابلوں کا انعقاد کیا جائے۔
۶) محلہ لائبریریوں کے ساتھ ساتھ کتابوں کی دکانیں بھی شروع کی جائیں۔ بھلے ہی گاہک کم آئیں لیکن یہ شروع رہیں۔
۷) اسکولوں میں تو پھر بھی غنیمت ہے۔ کالجوں کی سطح پر شعبہ اردو تو قائم ہیں مگر ان میں اُردو ہی نہیں ہے۔ یہ کیسی فریم ہے جس میں تصویر ہی نہیں۔ کالجوں کے شعبہ اردو فعال ہوں تو کچھ بات بنے۔
۸) جب تک بچہ نہیں روتا، ماں بھی دودھ نہیں پلاتی۔ بالکل اسی طرح جب تک مسلسل اور مدلل مطالبات نہیں کئے جاتے حکومت بھی سر پر ہاتھ نہیں رکھتی۔ اہل اردو کو چا ہئے کہ وہ اپنی وقعت بڑھائیں۔ ذاتی مفادات سے اوپر اٹھیں۔ اکادمی کی ممبر شپ کے لئے ہوڑ نہ لگائیں۔یاد رکھیے بنیاد مضبوط ہوگی تو اونچی سے اونچی عمارت بھی قائم رہے گی۔ قدرت کا اصول ہے۔ بچے کو بچپن ہی سے والدین سے محبت ہوتی ہے۔ بالکل اسی طرح بچپن ہی سے اردو کی گھٹی بچوں کو پلائی جائے۔ پھر دیکھیے کتنے شاندار نتائج دیکھنے کو ملتے ہیں۔ یہ توقعات و تاثرات اردو زبان کے ہیں اور اہل اردو کے بھی۔ وہ اہل اردو جو آج بھی اپنی زبان کی بقا، ترویج و اشاعت کے لئے سرگرم ہیں، صلہ کی پروا کئے بغیر مگر ایسے دیوانے ہیں کتنے؟ جو ہیں ہمیں ان کا ساتھ بھی دینا چاہئے اور ان کی حوصلہ افزائی بھی کرنی چاہئے۔
مشتاق کریمی سینئر صحافی ، افسانہ نگار و ادیب ہیں
’’خدمت گار ہیں نا !‘‘

اے میری پیاری زبان اردو! تجھے معلوم ہے نا ، تیری فکر میں گھلنے والوں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے۔ تیرے خدمت گار ہر گلی کوچے میں ادبی تنظیمیں ، انجمنیں اور ادارے قائم کر رہے ہیں۔ تیرے خلاف ہو رہی سازشوں کو منظرِ عام پر لانے کے لئے اخبارا ت و رسائل میں طویل مضامین شائع ہو رہے ہیں۔ تجھے تو فکر ہونا ہی نہیں چاہئے!جب اردو ، اردو ، اردو کا پہاڑا پڑھنے والے ہر وقت یاد دلاتے رہتے ہیں کہ اے میری پیاری زبان تو خطرے میں ہے۔ اب بھلے ہی تو مانے یا نہ مانے مگر ہم تو یہی جانتے اور مانتے ہیں کہ تو اور تیرا وجود خطرے میں ہے۔تُو جانتی ہے نا کہ یہ جو تیرا رسم الخط ہے ! وہ بھی خطرے میں ہے۔اب تو اِس بات سے قطعی خوش نہ ہوجانا کہ ریختہ کے پروگراموں میں اردو کے نام پر یکجا ہونے والوں کی تعداد میں ہر برس اضافہ ہو رہا ہے۔ کہیں تو اس خوش فہمی کا شکار تو نہیں کہ اردو کے چاہنے والے پوری دنیا میں محفلیں سجا رہے ہیں۔اے میری پیاری زبان اردو! ہاں! ایک بات تو ضرور ایسی ہے جس پر تُوضرور خوش ہو سکتی ہے کہ تیرے خدمتگاروں کی تعداد دن بہ دن بڑھتی جا رہی ہے۔ تو فکر نہ کر کہ قاری کم اور خدمتگار بڑھتے جا رہے ہیں۔تُو تو وہ ہے جس کے پاس کچھ نہ ہو وہ بھی تیرے نام کی مالا جپتے جپتے خود’ پوجنیہ‘ ہو جاتے ہیں۔تُو تو وہ پارس پتھر ہے جوتجھے چھو لے تو سونا بن کر چمکنے لگ جاتا ہے۔ اے میری پارس پتھر! پھر تُو ہی سوچ کہ تیری فکر میں جان ہلکان کرنے والے تجھے مرنے کیسے دیں گے؟تُو تو بس اتنا کر کہ کتابوں میں آرام کر، کبھی کبھی سمیناروں میں جلوہ افروز ہو اور جب بھی دل گھبرائے تو مشاعروں کی محفلیں سجا۔ بس تُو زیادہ فکر نہ کر! تُو تو چین کی بنسی بجا۔تیرے خدمت گار ہیں نا! وہ سب سنبھال لیں گے۔ تجھے تعلیم کے میدانوں میں محنت کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ کمپیوٹر تعلیم، اکاؤنٹنگ، ڈیجیٹل مہارتیں اور جدید علوم کہیں اردو زبان میں رائج ہو گئے تو پھر اردو کے نام نہاد خدمت گاروں کا کیا ہوگا؟ ان کی تو دکانیں ہی بند ہو جائیں گی۔ اب تُو ایسا تو نہیں چاہتی نا! تیری وجہ سے کتنے ہی گھروں کے چراغ جل رہے ہیں تُو انہیں بجھانا تو نہیں چاہتی۔ تو بس طے رہا کہ تو اسکولوں، کالجوں ، کمپیوٹر، تکنیکی تعلیم اور جدید علوم سے دور رہ کر خدمت گاروں کو تیری خدمت کا پورا موقع دے گی۔ تیرے خدمت گار تجھے سیمیناروں اور مشاعروں میں زندہ رکھیں گے، اخبارات میں تیری حالت کا رونا روئیں گے ۔ تو فکر نہ کر خدمت گار ہیں نا!
شاہ تاج خان الیکٹرانک میڈیا کی صحافی اور بچوں کی معروف ادیبہ ہیں
’’ اردو اسکولوں کو بچانے کیلئے عوامی تحریک کی ضرورت ہے ‘‘

نیا سال اپنے ساتھ بہت ساری امیدیں لے کر آیا ہے جبکہ ہر گزرتا سال اپنے پیچھے کچھ اچھے ، کچھ برے نقوش چھوڑ جاتا ہے لیکن ہمیں بری باتوں کو بھلاکر اچھی اور مثبت باتوں سے سیکھ لیتے ہوئے نئے سال میں داخل ہونا چاہئے۔ نئے سال میں ہمیں اپنی زبان اور تعلیمی اداروں سے بہتر توقعات رکھنی چا ہئے اور انہیں پورا کرنے کے لئے ہر اس شخص کو کوشش کرنی چا ہئے جو زبان و ادب اور تعلیم سے دلچسپی رکھتا ہو۔ہماری سب سے پہلی توقع یہ ہے کہ اردو ذریعۂ تعلیم کا فروغ بڑے پیمانے پر ہونا چاہئے ۔ اس کے لئے صرف باتیں کرنے سے کچھ نہیں ہو گا بلکہ اردو اسکولوں کے لئے ہمیں عوامی تحریک کی ضرورت ہے۔ ریاستی سطح پر ہم دیکھ رہے ہیں کہ طلبہ کی تعداد میں کمی کی وجہ سے اردو اسکولیں بند ہو رہی ہیں، انہیں بچانے کے لئے عوامی سطح پر تحریک بہت ضروری ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ اردو کے جو اسکول بہترین تعلیم دیتے ہیں ان میں داخلے کم نہیں ہوتے بلکہ ہر گزرتے سال کے ساتھ بڑھتے جاتے ہیں۔ اس کی متعدد مثالیں ہیں ۔ ہمیں ان مثالی اسکولوں سے سیکھتے ہوئے اپنے اسکولوں میں بھی وہ سرگرمیاں اور طریقے رائج کرنے چاہئیں۔ ہماری سب سے بڑی اور پہلی حکمت عملی یہی ہونی چاہئے کہ نئےتعلیمی سال میںاردو اسکولوں میں طلبہ کی تعداد بڑھانےکیلئے عوامی ،سیاسی ، تعلیمی اور ادبی سطح پر جو کچھ ہو سکتا ہے وہ کریں۔ ہر والد یا والدہ سے براہ راست رابطہ کرکے ان کے بچوں کو اردو میڈیم میںداخل کروانے کیلئے منایا جائے۔ اب وہ دن لد گئے جب والدین خود بخود اردو اسکولوں کی جانب راغب ہوتے تھے کیوں کہ اب انہیں کئی متبادل دستیاب ہیں۔ ایسے میں اردو میڈیم کو بھی کمر کس لینی ہوگی ۔ اردو میڈیم اسکولوں پر اتنا زور اس لئے ہے کہ اردو میڈیم کے یہ بچے ہماری نئی نسل میں تبدیل ہوں گے اور یہ اردو کے فروغ کا ذریعہ بنیں گے۔ جہاں تک ادبی سطح پر کوششوں کی بات ہے تو طلبہ کی دلچسپی ادب سے پیدا کرنے کیلئے نوجوانوں کی ادبی تنظیمیں کام آسکتی ہیں۔ وہ نئی صلاحیتوں کے لئے کہانی نویسی ورکشاپ ،شاعری ورکشاپ ، انشائیہ نگاری اور ظرافت نگاری کے ورکشاپ منعقد کرسکتی ہیں۔ یہ کام ایک دن کا نہیں ہے ۔ ہم اس وقت ایک طویل سرنگ میںداخل ہوچکے ہیں، اس لئے اب ہمیں پورے پورے سال کوششیں کرنی ہوں گی تب جاکر ہمیں ’’ سرنگ کے آخر میں روشنی نظر آئے گی ۔‘‘
قریشی عامر اصغر معلم ، مدیر ’’تکمیل ‘‘اور نوجوانوں کی ادبی تنظیم ’ہم نشیں ‘ کے صدر ہیں
’’ہمیں تعلیم ، روزگار ، ٹیکنالوجی اور سرکاری محاذ پر بیک وقت کام کرنا ہو گا ‘‘

اس سال اردو کے فروغ کیلئے ہماری توقع ہے کہ سرکاری اسکولوں میں اردو اساتذہ کی تقرری کیلئے منظم آواز اٹھائی جائے۔ اردو میڈیم اسکولوں کے ساتھ ساتھ انگریزی اور مراٹھی میڈیم میں اردو بطور مضمون شامل کروانے کیلئے تحریک چلائی جائے۔ اردو کو صرف ادب تک محدود نہ رکھ کر صحافت، ترجمہ، میڈیا اور ٹیکنالوجی سے جوڑنے کی بھی اس سال توقع ہے۔ بلدیات، تحصیل، عدالتوں، سرکاری دفاتر، بس اسٹاپ اور ریلوے اسٹیشنوں پر اردو کی تختیاں لگوانے کی تحریک کی بھی توقع ہے۔ ساتھ ہی سرکاری دفاتر میں اردو میں عرضیاں پیش کرنا، ہر چھ ماہ میں اسکول کالج میں طلبہ کو اردو میں خط لکھوانے کی مشق اور سرگرمی کروائی جائے۔ اس خط کا ایڈریس بھی اردو میںہو تاکہ محکمہ ڈاک میں اردو کا رواج بڑھے۔ ساتھ ہی ادباء سے بھی توقع ہے کہ وہ ایک دوسرے کو اردو میں خطوط لکھ کر زبان کو فروغ دے سکتے ہیں۔
مختلف زبانوں کے بولنے والوں کے ساتھ ہم آہنگی اور مکالمہ ، نثری نشست برپا کرنا جس میں ایک دوسرے کے ساتھ تبادلہ خیال کرنے سے دوریاں بھی ختم ہوںگی، یہ بھی ضروری ہے۔ اس کے علاوہ گرافک ڈیزائن، سوشل میڈیا، اے آئی ٹولز میں اردو کا استعمال، ادباء اور طلباء کو فیس بک، وہاٹس ایپ اور دیگر پیغامات میں اردو کے استعمال کی جانب راغب کیا جانا ضروری ہے۔ اگر۲۰۲۶ء میں مہاراشٹر سمیت ہندوستان بھر میں اردو کو زندہ، مضبوط اور باوقار دیکھنا ہے تو ہمیں تعلیم + روزگار + ٹیکنالوجی + سرکاری محاذ پر بیک وقت کام کرنا ہوگا۔اردو اکیڈمی اور اردو کے دیگر اداروں کو شفاف بنانا بھی ضروری ہے تاکہ اصل فنکاروں کی قدر ہو اورنئے لوگوں کو زیادہ سے زیادہ مواقع ملیں۔ اردو اخبارات، اردو کتابیں خرید کر پڑھنے کی عادت ڈالنی ہو گی۔ جو نشستیں ماہانہ کارکردگی پیش کر رہی ہیں ان کو بھی اردو اکیڈمی کی طرف سے گرانٹ دی جانی چاہئے۔
احمد نعیم نوجوان افسانہ نگار و تجزیہ نگار ہیں
اردو کو پڑھا نہیں ، جِیا جانا چاہئے

نیا سال محض تقویم کا الٹ جانا نہیں ہوتا بلکہ یہ اجتماعی محاسبے، فکری تجدید اور تہذیبی خود آگاہی کا لمحہ بھی ہوتا ہے۔ اس برس بھی کیا ہم حسبِ معمول چند رسمی جملوں، چند ادبی تقریبات اور چند یادگار تصویروں کے بعد پھر اسی بے حسی کی چادر اوڑھ کر سو جائینگے جس نے اُردو کو حاشیے پر لا کھڑا کیا ہے؟ آج یہی اردو ایک خاموش سوال بن کر ہمارے سامنے کھڑی ہے۔ ایسا سوال جس کا جواب خالی خو‘لی جذباتی دعوؤں سے نہیں بلکہ ٹھوس عملی اقدام سے دیا جا نا چاہئے۔
نئے سال میں اردو ادب کے متعلق سب سے بڑی امید یہ ہے کہ وہ دوبارہ زندہ احساس بن کر ابھرے، ایسا احساس جو قاری کے دل میں اترے، جو زمانے کی تلخیوں کو شیرینی دے، جو خاموش سچائیوں کو لفظ عطا کرے۔ آج اردو ادب کا سب سے بڑا المیہ یہ نہیں کہ اسے پڑھا نہیں جا رہا، بلکہ یہ بھی ہے کہ اسے جیا نہیں جا رہا ہے۔ ہم نے ادب کو محفلوں تک محدود کر دیا ہے، جبکہ اس کی اصل جگہ گلیوں، درس گاہوں، گھروں اور دلوں میں ہے۔ نئے سال میں امید یہ ہے کہ اردو ادب اپنی اس کھوئی ہوئی زندگی کو پھر سے پہچانے۔ نئی نسل کے حوالے سے شکوہ عام ہے کہ وہ اردو سے دور ہو رہی ہے، مگر اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ ہم نے اردو کو نئی نسل کے قریب لانے کی سنجیدہ کوشش کم کی ہے یا بالکل نہیں کی ہے۔ ڈیجیٹل دور کے تقاضوں کو سمجھنا اور اردو کو جدید ذرائع سے ہم آہنگ کرنا اب کوئی انتخاب نہیں بلکہ ناگزیر ضرورت بن چکا ہے۔اس نسل کو اکثر موردِ الزام ٹھہرایا جاتا ہے، مگر سچ یہ ہے کہ ہم نے اسے اردو سے جوڑنے کی سنجیدہ کوشش ہی کب کی؟ نوجوان اگر ڈیجیٹل دنیا میں ہیں تو قصور ان کا نہیں، قصور ہمارا ہے کہ ہم اردو کو اس دنیا میں لے جانے سے گھبراتے رہے۔ نیا سال ہم سے یہ تقاضا کرتا ہے کہ ہم اردو کو کتابوں کی الماریوں سے نکال کر اسکرینوں پر لائیں، نئے لہجے، نئے موضوعات اور نئے حوصلے کے ساتھ۔حل صرف نعروں میں نہیں، عمل میں ہے۔ ہمیں فیصلہ کرنا ہوگا کہ اردو کو رسمی محبت سے نکال کر عملی ترجیح بنایا جائے۔ اسکولوں میں اردو کو بوجھ نہ سمجھا جائے بلکہ اس پر فخر کرنے کا رجحان پیدا کیا جائے۔ادبی ادارے تقریبات کے ذریعے تخلیق کار پیدا کریں۔ تنقید خوشامد نہیں، رہنمائی ہواور ادب خواص کا نہیں عوام کا اثاثہ بنے۔
حقیقت یہ ہے کہ اردو اس وقت کئی محاذوں پر مشکلات سے دوچار ہے۔ تعلیمی نظام میں اس کی جگہ سکڑتی جا رہی ہے، کتابوں سے محبت کرنے والے قارئین کی تعداد گھٹ رہی ہے، معیاری اشاعتیں کم ہو رہی ہیں اور ادبی سرگرمیاں اکثر رسمی تقاریب تک محدود ہو گئی ہیں۔ اس صورتِ حال میں نئے سال سے وابستہ سب سے بڑی امید یہی ہونی چاہئے کہ اردو کو محض ماضی کی عظمت کے حوالے سے نہیں بلکہ حال کی ضرورت کے طور پر دیکھا جائے۔ کتابوں کی خرید و فروخت کی مہم چلائی جائے۔ اردو ادب سے یہ توقع بھی وابستہ ہے کہ وہ عصری مسائل سے آنکھ نہ چرائے۔ آج کا انسان فکری، سماجی اور اخلاقی بحرانوں سے گزر رہا ہے۔ اردو کو ایک بار پھر زندگی کے بیچوں بیچ آنا ہوگا، وہاں جہاں سوال ہیں، اضطراب ہے اور سچ کی تلاش ہے۔یہ سال اہل اردو سے قربانی مانگتا ہے۔ وقت کی قربانی، انا کی قربانی اور گروہ بندی کی قربانی۔ اگر ہم نے یہ قربانیاں دے دیں تو اردو پھر سے وہی زبان بن سکتی ہے جو صرف کہی نہیں جاتی تھی، محسوس کی جاتی تھی۔ (گفتگو: مبشر اکبر)
(صدر شعبہ اردو ، ایس پی ڈی ایم کالج شیرپور)
اردو زبان و ادب سے وابستہ اہم شخصیات کے تاثرات پیش کررہے ہیں۔ ان شخصیات نے ہماری دعوت پر لبیک کہتے ہوئے ہمیں اپنے خیالات اور تاثرات روانہ کئے جنہیں یہاں اختصار کے ساتھ پیش کیا جارہا ہے۔ان شخصیات میں کچھ صحافی ہیں، ادیب ہیں، شاعر ہیں ،معلم ہیں، محققین ہیں،غرض یہ اردو زبان و ادب کی وہ شخصیات ہیں جو اردو دنیا میں قدر کی نگاہ سے دیکھی جاتی ہیں۔ ان کی آراء کو اہمیت دی جاتی ہے اور اس پر عمل کی کوشش بھی کی جاتی ہے۔
چونکہ ہر نیا سال اہل اردو کے لئے ایک پرانا سوال لے کر آتا ہے کیا اس سال بھی اردو صرف تقریروں، مشاعروں اور فائلوں تک محدود رہے گی، یا واقعی اسے جینے کا حق ملے گا؟ اردو کوئی نوحہ نہیں، نہ کسی خاص طبقے کی جاگیر ہے۔ یہ ہندوستان کی اُن شاندار زبانوں میں سے ایک ہے جسے کروڑوں لوگ بولتے، لکھتے اور سمجھتے ہیں۔ اس کے باوجود حقیقت یہ ہے کہ اردو آج بھی سرکاری بے حسی اور سیاسی مصلحتوں کی بھینٹ چڑھ رہی ہے۔ نیا سال آیا ہے، مگر اردو کے مسائل جوںکے توں ہیں بلکہ بعض جگہ مزید سنگین ہو چکے ہیں۔ ان مسائل کے حل اور اردو کو اس کا حق دلانے کے لئے بڑے پیمانے پر کوششوں کی ضرورت ہے۔ ان شخصیات نے انہی سوالوں کی روشنی میں اپنی توقعات ہمیں پیش کی ہیں جو ہم قارئین تک پہنچارہے ہیں۔
کیا اُردو سےصرف اظہار محبت کردینے سے ہماری ذمہ داری ختم ہو جاتی ہے؟

شاید ہی کوئی شخص ہوگا جو اردو سن کر، اردو پڑھ کر اردو کیلئے اپنی محبت کا اظہار نہ کرے۔ جو اردو داں نہیں ہیں وہ بھی اپنی پسندیدگی ظاہر کرتے ہیں مگر کیا اظہار محبت سے اور احساس خوشی سے ہماری ذمہ داری ختم ہوجاتی ہے؟ ہمیں اس بات پر غور کرنا چاہئےکہ ہم اردو کی ترویج و ترقی کے لئے کیا کر رہے ہیں ۔ اگر لوگ سمجھتے ہیں کہ مشاعرہ یا قوالی کے پروگرم سے اُردو کو ترقی مل رہی ہے تو یہ سراسر خود فریبی ہے۔ اس میں ترقی انہی لوگوں کو مل رہی ہے جو اس پروگرام میں بلائے جارہے ہیں۔ کالجوں، یونیورسٹیوں کے پاس بڑی رقم ہوتی ہے جو اردو زبان کی ترقی کے لیے سیمینار يا ورکشاپ کے انعقاد کی شکل میں استعمال کی جا سکتی ہے مگر افسوس کہ آج بھی ہمارے سیمینار سو سال پرانی طرز پر ہورہے ہیں۔ ان میں جدت کہیں بھی نہیں ہے۔
سب سے اہم کام یہ ہوگا کہ پرائمری اسکول ہی سے بچوں میں اردو کی طرف توجہ اور دلچسپی پیدا کی جائے۔ اردو کو ذریعہ معاش سے جوڑا جائے تاکہ بچوں کو اس زبان میں اپنا مستقبل نمایاں نظر آئے ۔ سائنس اور ٹیکنالوجی کی بیسٹ سیلر کتابوں کا اردو زبان میں ترجمہ کیا جائے۔لوگوں میں اردو کتابوں کو خرید کر پڑھنے کا رجحان پیدا کیا جائے۔ اردو اخباروں کا سرکولیشن زیادہ سے زیادہ بڑھانے کیلئے لوگوں میں اخبار بینی کی عادت دوبارہ ڈالی جائے۔ جس شہر یا علاقہ میں اردو بولنے اور پڑھنے والوں کی تعداد اچھی خاصی ہے ، وہاںعوامی سطح پر اردو کے اخبارات و رسائل جاری کئے جائیں۔ اردو میڈیم اسکولوں کی لائبریری میں پورے ملک سے نکلنے والے اردو اخبارات اور رسائل دستیاب ہونے چاہئیں اور بچوں کو لائبریری میں جاکر ان اخبارات اور رسائل کو پڑھنے کی ترغیب دینا چائیے تب کہیں جا کر ہم اردو کو نئی نسل کے قریب لاسکیں گے ۔ ہماری توقع ہے کہ نئے سال میں نئی نسل کو اردو سے قریب لانے کے اقدامات جنگی پیمانے پر ہوں۔
ڈاکٹر ثمیر کبیرمعروف شاعر اور ناگپور یونیورسٹی میں پروفیسر ہیں
اردو سیکھنے کیلئے بھی معیاری ایپس بنائے جائیں

اردو زبان کی شیرینی اور شائستگی کا ہر کوئی اعتراف کرتا ہے۔ اگر کوئی زبان اپنے گھر، خاندان اور نئی نسل سے کٹ جائے تو اس کی بقا ممکن نہیں۔ سوشل میڈیا کے ذریعے جو ناشائستہ اور فحش زبان ہماری نسل تک پہنچ رہی ہےوہ بڑا توجہ طلب مسئلہ ہے۔ اہل اردو کی توقعات ہیں کہ جس طرح اچھی انگریزی بولنے اور سیکھنے کے لئے مختلف ایپس موجود ہیں اسی طرح اچھی اردو بولنے اور روزمرہ کی بات چیت میں بہتر طور پر استعمال کرنے اور نئی نسل کو اردو سکھانے کیلئے بھی ایپس تیار کئے جائیں۔دوسری بات اردو کے معتبر، تجربہ کار اور کہنہ مشق ادباء و شعراء نے اپنی پوری زندگی اردو کی بقا ، اس کی ترویج اور خدمت میں گزاری ہے۔ ان کی محنت نے ہی اردو زبان کو وقار اور ادبی شان عطا کی ہے لیکن افسوسناک بات یہ ہے کہ آج بعض سینئر ادیب و نقاد نئی نسل کے تخلیق کاروں کو طنز اور مذمت کا نشانہ بناتے ہیں۔ نوجوان ابھرتے ہوئے شعراء، افسانہ نگار اور تخلیق کاروں کو حوصلہ دینے کے بجائے ان پر تنقیدیں اور ان کی تحقیر کرتے نظر آتے ہیں۔ ہمارا یہ کہنا ہے کہ سینئر شعراء، ادباء اور افسانہ نگار نئی نسل کو دشمن نہیں، وارث سمجھیں۔ ان کی تحقیر نہیں اصلاح کریں۔ ان کی تخلیقات کو سراہتے ہوئے مزید بہتر بنانے کی ترغیب دیں۔ اس سے زبان و ادب کے سلسلے میںبہت فرق پڑے گا۔
صبا شاداب رائل گرلز اردو ہائی اسکول کی سینئر معلمہ ہیں
نئے تخلیق کاروں کیلئے اس سال مواقع میں اضافہ کی توقع ہے

آج کے ادبی منظر نامے پر غور کریں تو یہ بات کھل کر سامنے آتی ہے کہ متعدد معیاری ادبی رسالوں کی اشاعت اب نہیں ہورہی ہے۔علاوہ ازیں مختلف روز ناموں میں درجنوں تخلیقات شائع ہوا کرتی تھیں جن میں نئے لکھنے والوں کو بھرپور مواقع حاصل ہوا کرتے تھے لیکن اب ان اخبارات نے اپنے صفحات محدود کر دیے ہیں لہٰذا ن نئےلکھنے والوں کو چھپنے کے مواقع کم ہو گئے ہیں۔ اسی لئے نئے سال سے ہم توقع کرتے ہیں کہ نئے لکھنے والوں کو زیادہ سے زیادہ مواقع ملیں گے تاکہ وہ اپنے جوہر دکھاسکیں۔ اس کے علاوہ توقع یہ بھی ہے کہ نئے لکھنے والوں کی ادبی تربیت کے لئے زیادہ سے زیادہ ادبی پروگرام منعقد کئے جائیں جن میں سینئر ادباء و شعرا بطور خاص شریک ہوں اور اپنے تجربات شیئر کریں۔ اس سے نئی نسل اور پرانی نسل کے درمیان جو فاصلہ ہے وہ کم ہونے کی امید ہے۔ نیا سال ہمیشہ نئی امیدیں لے کر آتا ہے اوراس نئے سال سے ہمیں یہ امید ہے کہ اردو کی ترویج و اشاعت کے لئے اگر سینئر ادباء و شعراء اہم ہیں تو نوجوان ادباء و شعراء کا جوش و جذبہ بھی اہمیت کا حامل ہے۔ ہمیں یہ توقع ہے اس نئے سال میں نئے اور سینئر دونوں ادباء و شعراء مل کر کسی ایسے پلیٹ فارم پر آئیں گے جہاں سے اردو زبان و ادب کی ترویج ، ترقی اوراس کی شیرینی و شادابی میں اضافہ ہو۔
فرہاد احمد نوجوان شاعر و ادیب ہیں
اس سال مشن موڈ میں ترغیب مطالعہ اور ترجمہ کی مہم شروع ہونے کی توقع ہے

جب ہم نئےسال میں اہل اردو کی توقعات پر غور کرتے ہیں تو کئی پہلو زیر غور آتے ہیں ان میں سے کچھ کی نشاندہی آپ نے کردی ہےجیسے اردو میڈیم اسکولوں کی صورتحال، اردو اساتذہ کا مسئلہ، ادبی اور ثقافتی سرگرمیوں کےمعیار میں گراوٹ ، مشاعرہ ،سیمینار اور سالانہ تقریبات اور سرکاری سطح پر اردو کے حوالے سے پالیسی اور عمل میں فرق۔ ان کے علاوہ میری توقعات کچھ اس طرح ہیں کہ مہاراشٹر میں جن اضلاع میں اردو زبان بولنے اور پڑھنے والوں کی خاصی آبادی ہے اور اردو اسکول ہیں ان اضلاع میں اردو گھروں کی تعمیر ہو، اسی طرح اردو اسکولوں میں لائبریریاں ہوں جو جدید تکنیک سے آراستہ ہوں، یہاں اردو اخبارات اور رسائل جاری کئے جائیں۔
ویسے تو داغ کی یہ بات ’’کہ آتی ہے اردو زباں آتے آتے‘‘ دنیا کی بہت سی زبانوں پر صادق آتی ہے کیونکہ کوئی بھی زبان درست لکھنا اور بولنا اتنا آسان نہیں ہے۔ اس کے لئے مطالعہ ناگزیر ہے۔ مطالعہ کو فروغ دینے کے لئے خصوصی مہم چلائی جائے۔ کچھ تنظیمیں یہ کام کررہی ہیں لیکن اسےبڑے پیمانے پر کرنے کی ضرورت ہے۔نئے سال سے یہ بھی توقع ہے کہ اس سال ایک مشن کے طور پر دیگر زبانوں جیسے مراٹھی ، انگریزی ، ہندی ،بنگالی اور پنجابی کا بہترین ادبی سرمایہ اردو میں منتقل کیا جائے۔ یہ ایک مشن کےطور پر کیا جاسکتا ہے۔ ماضی میں ہمارے متعدد سینئر ادباء نے یہ کام انجام دیا ہے لیکن وہ ذاتی سطح پر ہوا ۔ ہماری توقع ہے کہ اسے مشن موڈ پر کیا جائے۔ ایک توقع یہ بھی ہے کہ مہاراشٹر سے شائع ہونے والے اخبارات اپنے ضمیمے مقامی سطح پر بھی جاری کریں جیسے ناگپور، امراؤتی اور اکولہ اضلاع میں اپنے نمائندے بڑھائیں اور مقامی خبروں اور سرگرمیوں کےلئےاپنے صفحات مختص کریں۔ اس سے بھی اردو کے تئیں بہتر ماحول پیدا ہو گا۔
سید اسد تابش معروف افسانہ نگار اور تجزیہ نگار ہیں