• Tue, 29 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

افسانہ: خشک آنسو

Updated: September 29, 2026, 3:22 PM IST | Sabiha Akram | Bhiwandi

’’ہادی میں اس طرح کے ماحول میں نہیں رہ سکتی۔ مجھے ایسے شور شرابے کی کوئی عادت نہیں ہے۔‘‘ وہ نرمی سے اُسے کہنے لگی۔ ’’کیا مطلب ہے کیا کہنا چاہتی ہو یہ کہ تم بڑی تہذیب یافتہ فیملی سے آئی ہو اور ہم، ہم لڑاکو جھگڑالو سب ہیں، میری ماں، میرے رشتےدار، میری بہنیں، سب خراب ہیں؟ تم کہنا کیا چاہتی ہو۔‘‘

Picture: INN
تصویر: آئی این این

’’ہادی میں اس طرح کے ماحول میں نہیں رہ سکتی۔ مجھے ایسے شور شرابے کی کوئی عادت نہیں ہے۔‘‘ وہ نرمی سے اُسے کہنے لگی۔ ’’کیا مطلب ہے کیا کہنا چاہتی ہو یہ کہ تم بڑی تہذیب یافتہ فیملی سے آئی ہو اور ہم، ہم لڑاکو جھگڑالو سب ہیں، میری ماں، میرے رشتےدار، میری بہنیں، سب خراب ہیں؟ تم کہنا کیا چاہتی ہو۔‘‘ ’’میرا وہ مطلب نہیں تھا‘‘، اُس کی زبان لڑکھڑانے لگی۔ ’’ارے کون سی فیملی میں جھگڑے نہیں ہوتے۔ جہاں چار لوگ ہوتے ہیں ظاہر سی بات ہے، ان بن اور اختلافات وہیں ہوتے ہیں.... Come on! Grow up please.‘‘ ’’مَیں...‘‘ اُس کی آواز حلق میں ہی اٹک گئی کیونکہ وہ دروازہ دھڑ سے مارتا ہوا اپنے کام پر جا چکا تھا۔ ابھی وہ خود کی ذہنی جنگ سے نکل بھی نہ پائی تھی کہ ہادی کی امی اُسے کچن سے آوازیں لگانے لگی۔ ’’تعبیر، ذرا اِدھر تو آنا میری مدد تو کرو بہت کام ہے۔‘‘ خود کی چار بیٹیاں گھر میں موجود ہونے کے باوجود وہ اُنہیں دکھائی نہیں دیتیں۔ نہ چاہتے ہوئے بھی وہ رسوئی گھر کی طرف چل دی۔

یہ بھی پڑھئے:افسانہ: تربیت

تعبیر اور ہادی کی ارینج میرج تھی۔ دونوں خاندانوں کی مرضی سے اُن کا رِشتہ ہوا تھا۔ ہادی نے چارٹر اکاؤنٹینٹ کی اسٹڈی کمپلیٹ کی تھی وہیں دوسری جانب تعبیر نے انگلش لٹریچر میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی تھی اس کے علاوہ وہ بے انتہا خوبصورتی کی علامت تھی۔ اسی وجہ سے لندن سے اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے باجود ہادی کی ماں نے اونچے گھرانے کی لڑکی لانے کی بہ نسبت تعبیر جیسی خوبصورت اور گھریلو کام کاج میں ماہر، لڑکی کو ترجیح دی۔ ہادی کی ۴؍ بہنوں میں دو شادی شدہ ہونے کے باوجود مائکے میں ہی رہ رہی تھیں۔ بڑی بیٹی صاعقہ کے شوہر گلف میں برسر روزگار تھے۔ اس وجہ سے وہ یہیں رہتی۔ دوسری بیٹی صائمہ کا سسرال پاس میں ہی تھا، اس لئے وہ بھی سارا دن یہی رہتی۔ باقی دو شگفتہ اور شائستہ ابھی اسکول اور کالج میں تھیں۔ تعبیر کا ایک دیور اور ہادی کا چھوٹا بھائی یونیورسٹی میں تھا۔

گھر میں آتے ہی تعبیر نے غور کیا تو پتہ چلا اُس کے سسرال والے اکیسویں صدی میں ہونے کے باوجود کافی پرانے خیالات کے مالک تھے۔ گھر میں چار بیٹیاں ہونے کے باوجود سارے کاموں کی ذمہ داری تعبیر کی ہوا کرتی۔ اُن لوگو ں کا خیال تھا کہ جب گھر میں بہو ہو تو سارے کام اُسے خود کرنے چاہئے، چاہے اس پر کام کا کتنا ہی بوجھ ہو۔ شادی کے بعد وہ پڑھنا چاہتی تھی مگر ہادی کے گھر میں شادی کے بعد پڑھنا مانو کوئی گناہ تھا، ہادی نے اسے صاف صاف منع کردیا تھا۔ کبھی کبھی ہادی بھی اُسے دقیانوسی خیالات کا مالک لگتا۔

شام کو وہ اُداس سی اپنے کمرے میں بیڈ سے سر لگائے آنکھیں موندے لیٹی تھی اُسے پتہ ہی نہ چلا ہادی کب آفس سے لوٹا اور فریش ہونے کے بعد اُس کے بالکل پاس بیٹھ گیا، اُس کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لئے اس سے پوچھ رہا تھا۔ ’’کہاں گم ہو؟‘‘ تعبیر نے اُس کا ہاتھ جھٹک دیا۔ صبح ہونے والی بحث سے وہ ابھی بھی ناراض تھی۔ کافی دیر ہادی کے منانے کے بعد جب وہ مانی تو اُس کی چھوٹی بہن آکے کہہ گئی ’’بھائی آپ کو امی بلا رہی۔‘‘ وہ کچھ دیر اُس کے ساتھ بتانا چاہتی تھی۔ ابھی دن ہی کتنے ہوئے تھے اُن کی شادی کو۔ مشکل سے ایک سے دو مہینہ۔ ہادی صبح کا گیا شام کو لوٹتا۔ جب وہ کام سے تھک کر نڈھال ہوچکی ہوتی اور جب کمرے میں پہنچتی وہ سو چکا ہوتا۔ دونوں کو ساتھ میں ٹائم اسپنڈ کرنے کا موقع ہی نہ ملتا۔ اُسے ’’تھوڑی دیر میں آتا ہوں‘‘ کہہ کر وہ چلا گیا۔ ہادی کا انتظار کرتے کرتے تعبیر بنا کھائے ہی سوگئی۔

دھیرے دھیرے یہ سب معمول بنتا چلا گیا۔ ہسبنڈ وائف کا رِشتہ بس نام کا رِشتہ اور چکّی کے دو پاٹوں کے درمیان پس کے رہ گیا۔ اپنی جاب کے سلسلے میں ہادی زیادہ وقت باہر ہی ہوتا اور تعبیر گھر کی ذمہ داریوں میں اُلجھی ہوتی۔ رات کو دونوں ساتھ تو ہوتے مگر اُن کے دلوں کے درمیان خاموشی تھی۔ ہادی اکثر اس سے شکایت کرتا وہ اُسے وقت نہ دیتی تو، تعبیر کے پاس بھی جواز تھا۔ گھر میں کام کاج کو لےکر ہونے والے جھگڑے، جن کی وجہ سے وہ اکثر ڈسٹرب ہوتی۔ ہادی ان باتوں کو اکثر نظر انداز کرتا اور اسے بس اگنور کرنے کو کہتا۔ مگر وہ اسے کیسے بتاتی کہ وہ چاہ کر بھی ساری چیزوں کو نظر انداز نہیں کر پاتی تھی اور ذہنی طور اور بے سکون ہوتی۔ وہ ہادی سے باتیں تو کرتی مگر اُن باتوں میں جیسے احساس ختم سا ہوگیا تھا۔ وہ ایک دوسرے کو سنتے ضرور تھے لیکن سمجھ نہیں پا رہے تھے۔ ہادی کی ماں اور بہنوں نے اُن کے درمیان فاصلے پیدا کرنے کیلئے کوئی کسر نہ چھوڑی تھی۔ جھوٹی شکایت اور جھوٹے الزامات لگا کر اور گھر کی باتوں کو تین کا تیرہ بتا کر ہادی کے دل میں تعبیر کیلئے اُن لوگوں نے بے پناہ نفرت بھر دی۔ وہ اس سے اپنے دل کی باتیں کہنا بھی چاہتی تو اٹھ کر چلا جاتا۔ اُس کی باتوں پر اور اس پر اُسے کوئی اعتبار نہیں رہا تھا۔ اُسکے گھر والوں کی سچائی وہ اُسے بتانے کی کوشش کرتی پر اُس کی آنکھوں پر تو جھوٹ کی پٹی بندھی ہوئی تھی۔

یہ بھی پڑھئے:افسانہ: کسک

ایک دِن وہ اپنے کمرے میں بند زار و قطار رو رہی تھی، اُسے روتا دیکھ ہادی کا دل بے چین، بے قرار ہوگیا، اُس نے آگے بڑھ کر اُسے خود سے لگا لیا۔ اُس کے سینے سے لگ کر اُس کے دل کا غبار جب ہلکا ہوا تو وہ کہنے لگی، ’’جس سکون کی تلاش تم مجھ میں کرتے ہو اور جس کے تم حقدار ہو مَیں اس تناؤ بھرے ماحول میں وہ خوشی وہ سکون تمہیں نہیں دے سکتی، مَیں تمہاری بیوی ہونے کا فرض نہیں نبھا پا رہی ہوں کیونکہ میں خود بہت ڈسٹرب ہوں۔ میں تمہارے ساتھ مکمل طور پر رہنا چاہتی ہوں، کیا ایسا ممکن نہیں ہم اپنا ایک گھر بنائیں جہاں صرف ہم دونوں ہوں۔ سکون ہو، میں خود کو خوش محسوس کرسکوں۔‘‘ ’’یہ ناممکن ہے، اپنی فیملی اپنے پیرینٹس کو چھوڑ کر مَیں اپنا ایک گھر بساؤں۔ لوگ کیا کہیں گے، کیا سوچیں گے اور پھر جھگڑے کس گھر میں نہیں ہوتے اس کا یہ مطلب تو نہیں کہ اپنوں کو چھوڑ دیا جائے۔ کچھ برداشت کر لینا چاہئے، اس سے انسان چھوٹا نہیں ہوجائیگا۔ سب کے بارے میں سوچا جاتا ہے۔‘‘ ’’اور تم، تمہارا دل کیا کہتا ہے تم کیا چاہتے ہو کیا تم خوش ہو اس طرح کی زِندگی سے جہاں دو انسان دو پل ساتھ سکون کا نہ بتا سکیں۔ ایک دوسرے کو وقت نہ دے سکیں کبھی کبھی تو یوں محسوس ہوتا ہے میری شادی تم سے نہیں تمہارے گھر والوں اور گھر کے کاموں کیلئے ہوئی تھی۔‘‘ دونوں کی بحث نے طول پکڑی تو ہادی نے کمرے سے نکل جانا ہی بہتر سمجھا۔

دن گزرتے گئے اور تعبیر اندر ہی اندر ٹوٹ کر بکھرتی رہی۔ اُس کے الگ رہنے کی خواہش کو ہادی نے صاف منع کر دیا تھا۔ وہ اب مزید اس گھٹن بھرے ماحول میں نہیں رہنا چاہتی تھی۔ وہ ناراض ہو کر مائکے چلی گئی۔ کچھ دنوں تک دونوں میں کوئی رابطہ نہ رہا۔ ہادی کی ماں جب کام کاج سے بیمار ہوئی تو گھر والوں کے اصرار پر وہ اسے لینے چلا گیا۔ تعبیر جو کہ اس بات سے خوش تھی کہ ہادی اُس کے بغیر اُداس تھا اور محبت کے ناطے وہ اُسے منا کر لے آیا مگر سسرال پہنچ کر اصل وجہ پتہ چلنے پر اُس کی ساری خوشی زائل ہوگئی۔ دھیرے دھیرے یہ سب معمول بنتا گیا گھر کے جھگڑوں سے پریشان ہو کر وہ مائکے جاتی کسی نہ کسی بہانے ہادی اُسے لے آتا۔ گھر میں مہمان کی آمد ہو یا اُس کی بہنوں کے یہاں نومولود کی پیدائش۔ تعبیر کو کاموں کے لئے لازم و ملزوم سمجھ لیا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھئے:افسانہ: مسکراہٹ کے پیچھے چھپا خطرناک شکاری

اب کی بار بھی کچھ ایسا ہی ہوا تھا اور دونوں کے وہم و گماں میں بھی نہ تھا کہ یہ اُن کی آخری ملاقات ہے۔ وہ اُسے سمجھا بجھا کر گھر دوبارہ لےآیا تھا۔ تعبیر نے اس سے پوچھا، ’’کیا تم نے کبھی بھی مجھ سے میری طرح محبّت کی؟ جیسے میں نے تمہیں چاہا کیا تم نے چاہا؟‘‘ ’’کس طرح کا احمقانہ سوال ہے یہ؟‘‘ ہادی نے جواباً کہا۔ ’’حقیت تو یہ ہے کہ تم نے کبھی اپنے اور اپنے گھر والوں کے علاوہ کسی کا سوچا ہی نہیں۔ سچ تو یہ ہے تمہیں میرے جذبات احساسات سے کوئی فرق نہیں پڑتا، اگر ایسا کچھ ہوتا تو تم اپنے اور میرے بارے میں کچھ سوچتے۔ کچھ کرتے۔ جو میں چاہتی تھی۔‘‘ وہ بہت زیادہ غمزدہ لہجے میں کہہ رہی تھی۔ ’’ایسا کچھ بھی نہیں ہے تم غلط....‘‘ اس سے پہلے کہ ہادی اپنی بات پوری کر پاتا اسٹیئرنگ پر اُس نے اپنا قابو کھو دیا اور بیلنس بگڑنے کی وجہ سے گاڑی بری طرح ایک کھمبے سے جا ٹکرائی اور پلٹ گئی، دونوں کافی زخمی ہوئے تھے، ہوش آنے پر ہادی نے کسی طرح خود کو باہر نکالا اور جلدی سے تعبیر کی جانب بھاگا۔ گاڑی سے پیٹرول رسنے لگا تھا اگلے ہی لمحے کچھ بھی ہوسکتا تھا وہ تعبیر کو باہر کیا اور کھینچنے لگا۔ اُس کی آدھی آنکھیں کھلی ہوئی تھی، سر سے بےتحاشا خون بہہ رہا تھا۔

’’تعبیر ہمت رکھو باہر آنے کی کوشش کرو۔‘‘ وہ ہانپتا ہوا کہنے لگا مگر.... قسمت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ تعبیر نے اُس کا ہاتھ چھوڑ دیا۔ شاید وہ جینا ہی نہیں چاہتی تھی، اگلے ہی لمحے ایک زور کا دھماکہ ہوا، اُس نے ہوا میں اٹھتے شعلوں کو دیکھا جس کے بعد ہادی کو ہوش نہ رہا۔ اس بھیانک حادثے کے بعد اُس نے تعبیر کو کھو دیا اور ساتھ ہی جینے کا احساس بھی، وہ زندہ تو تھا مگر اس میں زِندگی باقی نہ تھی۔ اُسے کھونے کے بعد اس کے ساتھ کی گئی زیادتیوں کا احساس اُسے ہونے لگا تھا۔ کئی دفعہ اُس نے اپنی بہنوں اور ماں کو اپنے جرم کو قبول کرتے ہوئے سنا تھا۔ لیکن آج تو اس پر مانو قیامت ہی ٹوٹی تھی جب کوریڈور سے گزرتے ہوئے اُس کے قدم سا کت ہی رہ گئے وہ سب آپس میں باتیں کر رہی تھیں.... چھوٹی بہن کہہ رہی تھی ’’مر گئی بیچاری۔ ہم نے اُس کے ساتھ کتنا غلط کیا نا کہ چوری اور طرح طرح کا جھوٹ بول کر ہادی کو کبھی بھی اُس کے قریب جانے نہ دیا۔ پھر بھی ہادی بھائی دیوداس بنے بیٹھے ہیں جیسے نہ جانے کتنی محبت کرتے تھے۔‘‘ پھر زوردار قہقہوں کی آواز گونجنے لگی۔ یہ سب سن کر اُس کی ریڑھ کی ہڈی میں خون جم سا گیا تھا۔ وہ خود کو گھسیٹتا ہوا کمرے تک لئے آیا۔ اب اُس کی سمجھ میں آرہا تھا تعبیر اُسے اپنی بے گناہی کے بارے میں کہتی لیکن وہ اُس کا اعتبار ہی کہاں کرتا تھا۔ تعبیر کا وہ خون بھرا چہرہ آخری وقت کا اُسے یاد آ رہا تھا۔ رو رو کر اُس کی آنکھیں خشک ہو چکی تھیں، وہ خالی نظروں سے چھت کو تک رہا تھا۔ اُن آنکھوں میں آنسو نہیں تھے، مگر ایک بے گناہ کے ساتھ گناہ کا احساس ندامت بالکل صاف جھلک رہا تھا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK