بڑی سی راہداری عبور کرتے ہوئے میرال کے قدم اچانک ایک مردانہ آواز پر رک گئے۔ اونچی ہیلز، اور نفیس لباس پہنے ایک ہاتھ میں بیگ اور دوسرے ہاتھ میں موجود موبائل پر وہ مسلسل مصروف تھی۔ ’’میم، ناشتہ لگا دیا ہے۔‘‘
EPAPER
Updated: October 05, 2026, 2:09 PM IST | Ansari Zara Naseem Akhtar | Mumbai
بڑی سی راہداری عبور کرتے ہوئے میرال کے قدم اچانک ایک مردانہ آواز پر رک گئے۔ اونچی ہیلز، اور نفیس لباس پہنے ایک ہاتھ میں بیگ اور دوسرے ہاتھ میں موجود موبائل پر وہ مسلسل مصروف تھی۔ ’’میم، ناشتہ لگا دیا ہے۔‘‘
بڑی سی راہداری عبور کرتے ہوئے میرال کے قدم اچانک ایک مردانہ آواز پر رک گئے۔ اونچی ہیلز، اور نفیس لباس پہنے ایک ہاتھ میں بیگ اور دوسرے ہاتھ میں موجود موبائل پر وہ مسلسل مصروف تھی۔ ’’میم، ناشتہ لگا دیا ہے۔‘‘
میرال نے پلٹ کر دیکھا بھی نہیں، ’’مجھے دیر ہو رہی ہے، مَیں ناشتہ نہیں کروں گی۔‘‘ اتنا کہہ کر میرال نے ڈرائیور کو آواز دی اور تیزی سے اپنی گاڑی میں جا بیٹھی۔ چند ہی لمحوں بعد گاڑی اسے آفس کی جانب لے جا رہی تھی۔
چھ منزلہ خوبصورت عمارت دور سے ہی ہر آنے جانے والے کی توجہ اپنی جانب کھینچ لیتی تھی۔ شیشے کے نفیس ڈیزائن، جدید طرزِ تعمیر اور عمارت کی منفرد ساخت اسے کسی ماہر آرکیٹیکٹ کے شاہکار کا نمونہ بناتی تھی۔ گاڑی سے اتر کر میرال تیز قدموں سے لفٹ کی جانب بڑھی۔
مگر اچانک....
وہ سیڑھیوں کے ایک کونے سے ٹکرا گئی۔ ایک شدید جھٹکے سے اس کی آنکھیں بند ہوگئیں۔ چند لمحوں بعد جب میرال نے آنکھیں کھولیں تو اس کے سامنے کا منظر یکسر بدل چکا تھا۔
وہ آفس میں نہیں تھی۔
وہ ایک بس میں بیٹھی ہوئی تھی۔
میرال نے حیرت سے اردگرد دیکھا۔ وہ اپنی منزل کی جانب بڑھ رہی تھی۔ کچھ ہی دیر بعد ڈرائیور کی آواز سنائی دی کہ اس کی منزل آگئی ہے۔ میرال بس سے اتری، چند قدم آگے بڑھی اور پھر ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ آسمان کی طرف دیکھا۔ اس کی آنکھوں میں ایک عجیب سا یقین تھا۔ پھر اس نے وہی جملہ دہرایا جو وہ اکثر اپنے خواب سے بیدار ہونے کے بعد کہا کرتی تھی:
’’ایک دن ضرور وہ وقت آئے گا جب مَیں اپنے خوابوں کو مکمل کروں گی۔‘‘
میرال ایک خوبصورت اور ذہین لڑکی تھی، مگر قسمت نے اسے ایک ایسے گھر میں پیدا کیا تھا جہاں پہلے ہی تین بیٹیاں موجود تھیں۔ وہ ایک غریب گھرانے سے تعلق رکھتی تھی۔ گھر کا گزارا کسی نہ کسی طرح ہو جاتا تھا، مگر خواہشوں کی تکمیل ایک خواب سے کم نہ تھی۔ شاید یہی محرومی تھی جس نے میرال کے اندر کچھ کر دکھانے کی آگ روشن کر دی تھی۔ اس کی تینوں بڑی بہنوں کی شادی متوسط گھرانوں میں ہو چکی تھی، جہاں زندگی بس کسی نہ کسی طرح گزر رہی تھی۔ میرال اپنے بوڑھے والدین کے ساتھ ایک بوسیدہ سے گھر میں رہتی تھی۔
والدین کی عمر ڈھلنے لگی تو میرال نے گھر کے کاموں کے ساتھ ساتھ ایک کمپنی میں ملازمت بھی شروع کر دی۔ وہ اپنی بہنوں سے زیادہ پڑھی لکھی تھی۔ شاید یہی وجہ تھی کہ اس کے والد نے اسے ملازمت کرنے کی اجازت دی تھی۔ مگر میرال کے لئے یہ ملازمت صرف اپنی ضرورتیں پوری کرنے کا ذریعہ تھی۔ گھر کے اخراجات پورے کرنا اس کی سب سے بڑی ذمہ داری تھی۔
اسے کمپنی میں ملازمت اس کی قابلیت اور رینک کی بنیاد پر ملی تھی۔ اور وہ دن.... وہ دن میرال آج تک نہیں بھولی تھی۔ وہ دن جب کمپنی کی جانب سے اسے ملازمت کی پیشکش ہوئی تھی اور انٹرویو کیلئے بلایا گیا تھا۔ وہی دن، جس نے میرال کی زندگی کو ایک نیا رخ دیا تھا۔ وہی دن، جب اس کی ملاقات ایک ایسی عورت سے ہوئی تھی.... جس نے میرال کو صرف ملازمت نہیں دی تھی، بلکہ اسے اپنے خواب دیکھنا اور ان خوابوں کو پورا کرنے کا حوصلہ بھی سکھایا تھا۔
تئیس نومبر کی سرد صبح تھی۔ آسمان پر پھیلی ہلکی ہلکی روشنی جیسے رات کی ٹھنڈ کو کم کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔ سردی اپنی جگہ موجود تھی، مگر میرال نے گرم بستر چھوڑ کر فجر کی نماز ادا کی۔ نماز کے بعد اس نے ناشتہ کیا، والدین سے دعائیں لیں اور جاب انٹرویو کیلئے گھر سے روانہ ہو گئی۔
بس میں بیٹھتے ہی میرال نے کھڑکی سے باہر دیکھا۔ اس کیلئے یہ صرف ایک سفر نہیں تھا، بلکہ اس کی منزل کی جانب اٹھایا جانے والا پہلا قدم تھا۔ اس کے دل میں ایک عزم تھا۔ وہ زندگی میں جب تک اپنے خوابوں کو پورا نہیں کر لے گی، تب تک رکنے والی نہیں تھی۔
کچھ دیر بعد بس اسے اس عمارت کے قریب اتار چکی تھی جہاں اسے انٹرویو کیلئے بلایا گیا تھا۔ چھ منزلہ خوبصورت عمارت کو دیکھ کر میرال چند لمحوں کیلئے وہیں رک گئی۔ اس نے حیرت سے عمارت کا جائزہ لیا۔ زندگی میں پہلی بار اسے کوئی عمارت اتنی خوبصورت محسوس ہوئی تھی۔ شیشے کی دیواریں، جدید طرزِ تعمیر اور ہر چیز میں جھلکتی نفاست اسے اپنی طرف کھینچ رہی تھی۔
میرال نے ایک گہری سانس لی اور عمارت کے اندر داخل ہو گئی۔ انٹرویو کیلئے اسے کچھ دیر انتظار کرنا پڑا، کیونکہ انٹرویو لینے والے باس ابھی آفس نہیں پہنچے تھے۔ میرال خاموشی سے اپنی باری کا انتظار کر رہی تھی کہ اچانک آفس کے مرکزی دروازے کی جانب لوگوں کی آمدورفت بڑھ گئی۔ چند ہی لمحوں بعد کئی افراد دروازہ کھولتے ہوئے اندر داخل ہوئے۔ اور پھر ان تمام مردوں کے درمیان ایک عورت نمودار ہوئی۔ وہ اپنے مغرور مگر پُراعتماد انداز میں چلتی ہوئی اندر آئی۔ آنکھوں پر گلاسیز، خوبصورت لباس اور پاؤں میں اونچی سفید ہیلز۔
وہ جس انداز سے چل رہی تھی، جیسے کسی سلطنت کی ملکہ ہو.... وہ لفٹ کی جانب بڑھی۔ اور جب تک لفٹ کا دروازہ بند نہیں ہوا، وہاں موجود تقریباً ہر شخص کی نظریں اسی پر جمی رہیں۔
یہ بھی پڑھئے: ہم اللہ سے اپنے لئے آسانی مانگتے ہیں مگر دوسروں کیلئے آسانی پیدا کیوں نہیں کرتے؟
مگر میرال....
میرال تو جیسے پلکیں جھپکنا ہی بھول گئی تھی۔
سادہ لباس، سر پر دوپٹہ اور ایک متوسط گھرانے سے تعلق رکھنے والی میرال نے زندگی میں پہلی بار کسی عورت کو اس انداز میں دیکھا تھا۔ اس کیلئے وہ عورت کسی ملکہ سے کم نہ تھی۔
میرال نے ہمیشہ عورت کو مرد کے سائے میں زندگی گزارتے دیکھا تھا۔
(جاری)