Inquilab Logo Happiest Places to Work

افسانہ : خاموش چراغ

Updated: July 31, 2025, 3:56 PM IST | Dr. Asma Bint Rahmatullah | Mumbai

’’یہ لڑکی بہت بولتی ہے، اسے ذرا شرم و حیا سیکھنی چاہئے۔‘‘ نانی اماں کی آواز زہرہ کے کانوں میں گونجی تو وہ رک گئی۔ آٹھ سال کی زہرہ جو صحن میں گڑیا کی شادی رچا رہی تھی، خاموش ہوگئی۔

Picture: INN
تصویر: آئی این این

’’یہ لڑکی بہت بولتی ہے، اسے ذرا شرم و حیا سیکھنی چاہئے۔‘‘ نانی اماں کی آواز زہرہ کے کانوں میں گونجی تو وہ رک گئی۔ آٹھ سال کی زہرہ جو صحن میں گڑیا کی شادی رچا رہی تھی، خاموش ہوگئی۔ تب سے وہ سیکھ گئی کہ خاموشی، عورت کا زیور ہے۔ اور وہ زیور اُسے بہت جلد پہننا پڑا۔
 سال گزرے۔ خاموشی نے اس کی ذات کا حصہ بن کر دل کی دھڑکنوں سے سانس لینا سیکھ لیا۔ آواز اب صرف تحریر میں نکلتی تھی.... وہی ڈائری جو اُس نے امی کے انتقال کے بعد لکھی، وہی ڈائری جس میں وہ اپنے سوال دفن کرتی، شکایتیں بند کرتی، خواب سنبھالتی۔
 پھر شادی ہوئی۔
 ’’فہیم ایک اچھا انسان ہے، تمہیں بہت خوش رکھے گا!‘‘ ابا نے کہا تھا۔ مگر ابا یہ نہ جان سکے کہ خوشی صرف پیسوں، مکان، اور سونے کی چوڑیوں سے نہیں آتی، بلکہ ایک عورت کو سننے والے کان، سمجھنے والا دل، اور مان دینے والا شوہر بھی چاہئے ہوتا ہے۔
 فہیم نے کبھی نہیں مارا، کبھی اونچی آواز میں نہیں بولا۔ مگر.... کبھی اُس کی بات بھی نہیں سنی۔
 وہ اس کے ’اچھے رویے‘ کے قید خانے میں قید ایک خاموش قیدی تھی۔
 روزمرہ زندگی نظم میں بدل گئی.... صبح اٹھنا، بچوں کا ناشتہ، اسکول کی تیاری، فہیم کے کپڑے، ساس کے نخرے، شام کی چائے، رات کا کھانا.... اور درمیان میں کہیں خود زہرہ کا وجود.... بالکل خاموش، دھندلا، مدھم سا۔
 ایک دن، جب بیٹی ماہم نے کہا، ’’امی، ہماری انگلش میڈم بہت پیاری ہیں۔ وہ کہتی ہیں، ہر عورت کو کچھ نہ کچھ بننا چاہئے، آپ نے کیا بننے کا سوچا تھا؟‘‘
 زہرہ کچھ دیر خاموش رہی، پھر مسکرا دی، ’’مَیں.... چراغ بننا چاہتی تھی۔‘‘
 ’’چراغ؟‘‘
 ’’جو روشنی دے، دوسروں کو جلا دے، لیکن خود.... پگھل جائے۔‘‘
 ماہم کو یہ بات عجیب لگی۔ وہ تو روشن ہونا چاہتی تھی، جلنا نہیں۔
 اُس رات زہرہ نے ایک خواب دیکھا۔ وہ ایک سنسان میدان میں کھڑی ہے، ہاتھ میں جلتا ہوا چراغ ہے، لیکن سامنے درجنوں عورتیں اندھیرے میں لپٹی بیٹھی ہیں.... خاموش، ڈری ہوئی، سہمی ہوئی۔ زہرہ نے چراغ آگے بڑھایا، لیکن ہوا کا جھونکا آیا اور چراغ بجھ گیا۔ اندھیرا پھر چھا گیا۔
 وہ جاگ گئی۔
 پہلی بار، اس کے دل میں سوال ابھرا:
 ’’مَیں کب تک صرف دوسروں کے لئے جلتی رہوں گی؟‘‘
 اگلے دن اس نے برسوں بعد اپنی ڈائری کھولی۔ پہلا صفحہ زرد ہو چکا تھا۔
 ’’مَیں زہرہ ہوں۔ مَیں بول سکتی ہوں۔ مَیں سن سکتی ہوں۔ اور ہاں، مَیں جل سکتی ہوں.... مگر اب بجھوں گی نہیں!‘‘
 اُسی شام اس نے فہیم سے کہا، ’’مَیں محلے کے اسکول میں پڑھانا چاہتی ہوں۔ بچوں کی ٹیچر بننا چاہتی ہوں۔‘‘ فہیم نے چونک کر دیکھا، جیسے کسی اجنبی کی آواز ہو۔ ’’کیوں؟ کیا کمی ہے تمہیں؟ گھر ہے، بچے ہیں، عزت ہے۔ کیا چاہئے؟‘‘
 زہرہ نے پہلی بار اُس کی بات کاٹ کر کہا:
 ’’مجھے خود سے ملنا ہے۔‘‘
 فہیم نے بات ٹال دی، ساس نے طنز کیا، محلے نے افواہیں اڑائیں، مگر زہرہ ڈری نہیں۔
 اب ہر صبح وہ اسکول جاتی ہے۔ وہاں اُس کی آنکھوں میں خواب ہوتے ہیں، لفظوں میں حوصلہ، اور ہاتھوں میں کتابیں۔
 ایک دن اسکول کے پرنسپل نے کہا، ’’زہرہ بی بی، آپ نے ان لڑکیوں میں روشنی بھر دی ہے۔‘‘
 وہ ہنس دی،
 ’’مَیں اب چراغ نہیں، سورج ہوں۔ جلا نہیں کرتی، چمکتی ہوں۔‘‘
 اختتامیہ، زہرہ وہ عورت ہے جو ہمارے آس پاس، ہر گھر میں، ہر چولہے، ہر ڈری ہوئی آنکھ، ہر خاموش رات میں موجود ہے۔ یہ افسانہ اُس کی آواز ہے.... جو شاید آپ نے کبھی سنی نہ ہو، مگر وہ ہمیشہ کہتی رہی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK