جلگاؤں کے اسکول کے ہیڈ ماسٹر نور الدین شیخ نے ۱۶؍ بچوں کے تعلیمی اخراجات اٹھانے کا فیصلہ کیا۔ اسسٹنٹ پولیس انسپکٹر نیلیش راجپوت نے بھی وقت ِ ضرورت تعاون دینے کا وعدہ کیا۔
کاسودہ کا حاجی نظر علی منیر علی سید اردو ہائی اسکول۔ (انسیٹ) ہیڈ ماسٹر نور الدین شیخ ۔ تصویر:آئی این این
ضلع کے ایرنڈول تعلقہ کے قصبہ کاسودہ میں واقع حاجی این ایم اردو ہائی اسکول کے ہیڈ ماسٹر نورالدین غفار شیخ نے تعلیم سے محروم طلبہ کیلئے پہل کرکے سماج کے سامنے ایک مثال قائم کی ہے۔ خراب مالی حالت کی وجہ سے بچہ مزدوری کی طرف مائل طلبہ کو تعلیم کی طرف لانے کیلئے انہوں نے پہل کرتے ہوئے۱۶؍طلبہکو گود لے کر ان کی تعلیم کی مکمل ذمہ داری لی ہے۔ اس کار خیر میں کا سودہ پولیس اسٹیشن کے عارضی انچارج اسسٹنٹ پولیس انسپکٹر نیلیش راجپوت نے بھی تعاون کیا ہے۔
دریں اثنا قصبہ کا سودہ میں ادارہ انجمن ترقی تعلیم کے زیر انصرام چلنے والے حاجی نظر علی منیر علی سید اردو ہائی اسکول میںپانچویں سے۹؍ویں جماعت تک پڑھنے والے کچھ طلبہ کی حاضری کم ہونے کی اطلاع پر پرنسپل شیخ اور اساتذہ نے ان طلبہ کے گھر جا کر والدین سے بات چیت کی۔اس دورے کے دوران بعض والدین کا کہنا تھا کہ انہوں نے اپنے بچوں کو مالی مشکلات کے باعث کام پر بھیجا ہے ۔اس سنگین معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے ہیڈ ماسٹر شیخ نے کاسودہ پولیس اسٹیشن کے عارضی انچارج اسسٹنٹ پولیس انسپکٹر نیلیش راجپوت سے رابطہ کیا اور ان طلبہ کی تعلیم کیلئے مدد مانگی۔ اپنی سماجی ذمہ داری سے آگاہ راجپوت نے والدین کو سمجھایا کہ تعلیم ہی بچوں کے روشن مستقبل کا اصل ذریعہ ہے اور بچہ مزدوری کی وجہ سے ان کی زندگی تاریک ہو سکتی ہے۔ ان کی کاؤنسلنگ کی وجہ سے بہت سے والدین نے اپنے بچوں کو اسکول واپس بھیجنے کیلئے مثبت جواب دیا۔ان کوششوں کے بعد اسکول کے۲۲؍ میں سے۱۶؍ طلبہ کو ہیڈ ماسٹر نورالدین شیخ نے گود لے لیا ہے اور ان کی تعلیم کے تمام اخراجات جیسے اسکول بیگ، یونیفارم، جوتے، نوٹ بک اور کتابیں کا خرچ انہوں نے برداشت کرنے کا فیصلہ کیا۔
دوسری جانب اے پی آئی نیلیش راجپوت نے بھی یہ وعدہ کیا کہ جب بھی ضروری ہوگا، ان۱۶؍ بچوں کو مدد کی کوشش کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ چاہے کاسودہ میں ہوں یا نہیں۔تب بھی وہ ان بچوں کیلئے معاون رہیں گے۔
اس سلسلے میں ہیڈ ماسٹر نور الدین شیخ نے بتایا کہ ’’تعلیمی میدان میں مختلف مسائل آتے رہتے ہیں جن کا حال نکالنے کیلئے سوچنا پڑتا ہے۔ایسے ہی یہ خیال ذہن میں آیا کہ پولیس سے عوام خوف کھاتے ہیں اور ان کی بات کو سنجیدگی سے لیتے ہیں تو کیوں نہ ہم بچہ مزدوری کے خلاف پولیس کی مدد سے کام شروع کریں ۔جب ہم نے انسپکٹر صاحب سے ملاقات کی اور ان کو یہ بتایا تو انہیں یہ خیال بہت پسند آیا اور انہوں نے کہاکہ میں ہر ممکن تعاون کروں گا جو والدین کی ذہن سازی اور ضرورت پر معاشی تعاون بھی ہو گا ۔‘‘