Updated: March 11, 2026, 4:00 PM IST
| Dubai
انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کا کہنا ہے کہ ٹی ۲۰؍ ورلڈ کپ میں شرکت کرنے والی بعض ٹیموں کے کھلاڑیوں، کوچز اور سپورٹ اسٹاف کی وطن واپسی میں تاخیر مشرقِ وسطیٰ میں جاری بحران اور اس کے نتیجے میں بین الاقوامی فضائی سفر میں پیدا ہونے والی رکاوٹوں کے باعث ہوئی ہے۔
آئی سی سی آفس۔ تصویر:آئی این این
انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کا کہنا ہے کہ ٹی ۲۰؍ ورلڈ کپ میں شرکت کرنے والی بعض ٹیموں کے کھلاڑیوں، کوچز اور سپورٹ اسٹاف کی وطن واپسی میں تاخیر مشرقِ وسطیٰ میں جاری بحران اور اس کے نتیجے میں بین الاقوامی فضائی سفر میں پیدا ہونے والی رکاوٹوں کے باعث ہوئی ہے۔
آئی سی سی کے جاری کیے گئے بیان کے مطابق خطے میں فضائی حدود کی بندش، میزائل وارننگز، پروازوں کے راستوں میں تبدیلی اور کمرشیل و چارٹر پروازوں کی اچانک منسوخی یا ری شیڈولنگ کے باعث سفری انتظامات غیر معمولی طور پر پیچیدہ ہو گئے ہیں۔ آئی سی سی کا کہنا ہے کہ یہ تمام عوامل اس کے کنٹرول سے باہر ہیں جس کے باعث ٹیموں کی واپسی میں تاخیر ہوئی۔ بیان میں کہا گیا کہ آئی سی سی متاثرہ ٹیموں کی جلد اور محفوظ واپسی کو یقینی بنانے کے لیے ایئر لائنز، چارٹر آپریٹرز، ایئر پورٹ حکام اور مختلف ممالک کے سرکاری اداروں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے۔
یہ بھی پڑھئے:ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل جنگ کا واحد فاتح روس:ای یو
آئی سی سی کے مطابق موجودہ انتظامات کے تحت جنوبی افریقا کا دستہ آج رات وطن واپسی کا سفر شروع کرے گا اور توقع ہے کہ آئندہ ۳۶؍ گھنٹوں کے اندر تمام اراکین روانہ ہو جائیں گے۔ اسی طرح ویسٹ انڈیز کے ۹؍اراکین پہلے ہی کیریبین کے لیے روانہ ہو چکے ہیں جبکہ باقی ۱۶؍ اراکین آئندہ ۲۴؍ گھنٹوں کے دوران ہندوستان سے روانہ ہونے والی پروازوں میں سوار ہوں گے۔ آئی سی سی نے واضح کیا ہے کہ ان فیصلوں کا مقصد صرف کھلاڑیوں اور دیگر افراد کی حفاظت، سفری امکانات اور فلاح و بہبود کو یقینی بنانا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:سنجو سیمسن نے انوکھا عالمی ریکارڈ قائم کیا
بیان میں کہا گیا ہے کہ مختلف میڈیا پلیٹ فارمز پر گردش کرنے والے ایسے تاثرات درست نہیں جن میں کہا جا رہا ہے کہ سفری انتظامات میں کسی قسم کی ترجیح یا امتیاز برتا جا رہا ہے۔ آئی سی سی کا کہنا ہے کہ جنوبی افریقہ اور ویسٹ انڈیز کے لیے کیے گئے سفری انتظامات کا انگلینڈ یا کسی اور ٹیم کے لیے پہلے کیے گئے انتظامات سے کوئی تعلق نہیں کیونکہ ہر ٹیم کے سفر کے حالات اور راستے مختلف تھے۔ آئی سی سی نے کہا کہ اس وقت تک کسی کو روانہ نہیں کیا جائے گا جب تک مکمل طور پر محفوظ سفری انتظامات یقینی نہ بنا لیے جائیں۔