اس قدر کہ اسے اپنا وجود صرف اور صرف ماں کی شکل میں دکھائی دیتا۔ سردی کی چھٹیاں بتانے وہ گاؤں چلی آئی کہ بچے تھوڑا کھلی فضا کا لطف لے لیں گے اور دادی پھوپھی کا پیار بھی مل جائےگا۔ یہاں بھی وہ دن بھر اپنے کاموں میں مگن رہتی۔ منفی خیالات کو پنپنے کا موقع ہی نہیں دیتی۔
’’ا...پّو.... اپّو .. اپّو....‘‘ اپنے ڈیڑھ سالہ بیٹے کو ابّو کا گردان کرتے سنا تو اُس نے یکایک اپنے ہاتھوں کو کاموں سے روک لیا۔ اور دوڑ کر بیٹے کو گود میں اٹھا لیا اِسے پچکارنے لگی۔
اُس نے خود کو اتنا مصروف کر لیا تھا کہ اسے نہ تو ماضی کا ملال تھا اور نہ ہی حال پر افسوس۔ بس اسے فکر تھی تو مستقبل کی۔ وہ بھی خود کی نہیں بلکہ اپنے ننھوں کے لئے۔ روزمرہ کے کاموں سے فراغت پا کر جب وہ تھکا ہوا جسم بستر پر رکھتی تو بچے اس سے دنیا بھر کی باتیں کرتے۔ وہ ان کے معصوم سوالوں کا جواب دیتے دیتے نیند کی آغوش میں چلی جاتی۔ شاید بچوں کے سونے سے پہلے وہ خود سو جاتی تھی۔ وہ جب بھی باہر جاتی تو بچوں کے لئے کچھ نہ کچھ ضرور لاتی۔ چاہے اُن کی فرمائش ہو یا ضرورت۔
یہ بھی پڑھئے: افسانچہ: ماں کی دعا
اُس کی ماں کو اعتراض ہوتا.... وہ کہتیں ’’بیٹی! بچے ہیں، وہ تو ضد کریں گے۔ تم انہیں صبر کی تلقین کیوں نہیں کرتی؟ وہ ان کے حق میں بہتر ہوگا۔‘‘ وہ ماں کو کوئی جواب نہیں دیتی۔ بس دھیرے سے سر ہلا کر خاموش رہتی۔
اُس نے عزم کیا تھا کہ وہ اپنے بچوں کو کبھی محرومی کا احساس نہیں ہونے دے گی۔ وہ ان کے لئے وہ سب کرے گی جو ایک باپ کرتا ہے۔ کسی بھی چیز کی کمی نہی ہونے دے گی۔ وہ ہر پل اسی فکر میں لگی رہتی۔ اس قدر کہ اسے اپنا وجود صرف اور صرف ماں کی شکل میں دکھائی دیتا۔ سردی کی چھٹیاں بتانے وہ گاؤں چلی آئی کہ بچے تھوڑا کھلی فضا کا لطف لے لیں گے اور دادی پھوپھی کا پیار بھی مل جائےگا۔ یہاں بھی وہ دن بھر اپنے کاموں میں مگن رہتی۔ منفی خیالات کو پنپنے کا موقع ہی نہیں دیتی۔ اچھے اچھے پکوان بناتی۔ کبھی بچوں کیلئے، کبھی گھر والوں کیلئے۔ کبھی کبھار موقع پا کر بچوں کے سنگ جھولے جھول لیتی اور کھیل بھی لیتی۔
یہ بھی پڑھئے: افسانہ: شناخت کا سفر
روزانہ کی طرح آج بھی وہ کچن میں مصروف تھی۔ بچوں کی دوڑ بھاگ دیکھ رہی تھی۔ اچانک ننھے کی آواز جب اُس کے کانوں میں پڑی تو بے اختیار باہر آئی۔ کیا دیکھتی ہے کہ ننھا اپنے چچا زاد بھائی کے پیچھے لڑکھڑاتے قدموں سے آگے جا رہے چچا کی طرف دوڑ رہا ہے۔ اور بھائی کی صدا سے صدا ملا کر ’ابّو‘ بولنے کی کوشش کر رہا ہے۔ یوں تو ننھا روزانہ نئی نئی بولیاں سیکھتا اور توتلی زبان سے بول کر مشق کرتا رہتا تھا۔ مگر آج کے اس ایک لفظ نے اس کے وجود کو اندر تک جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ ایک پل میں اس کا سارا بھرم شیشے کی مانند چکناچور ہوکر رہ گیا۔ و... وہ... کیا سوچتی تھی؟ بچوں کو سب کچھ دے گی.... نن.... نہیں.... یہ ممکن نہیں۔ وہ انہیں مضبوط کندھا کہاں سے دے گی جس پر نازک وجود بےخوف بیٹھ کر فلک کی سیر کر آئے۔ جو دوپہر کی تپتی ریتیلی زمین پر چلتے ہوئے اسے اپنے ٹھنڈے بازوؤں کے حصار میں لئے بآسانی راستہ عبور کر جائے۔ بچوں کی اس محرومی کا خیال آنا تھا کہ وہ جو ایک پہاڑ کی مانند کھڑی رہنے والی ماں جسے کوئی آندھی طوفان بھی نہیں ہلا سکتا تھا، آج پت جھڑ کے موسم میں جھڑنے والے سوکھے پتوں کی طرح فضا میں ٹوٹ کر بکھرنے لگی۔ اُس کا جسم کانپ رہا تھا۔ آج اس نے پلکوں پر آتے اشک کو روکنے کی کوشش نہیں کی۔ آنسوؤں کو پلک سے اترنے کی اجازت دے دی۔ کچھ پل میں موٹی موٹی بوندیں رخسار سے اُتر کر ننھے کے چہرے پر ٹپک پڑیں۔ اس نے ننھے کی طرف دیکھا، جو دنیا و مافیہا سے بےخبر سو رہا تھا۔ بوند کی لمس پا کر نیند میں مسکرا اُٹھا۔