ٹرین اپنے مخصوص آہنی وقار کے ساتھ پٹری پر چل رہی تھی، کھڑکی کے باہر پھیلا ہوا ہندوستان کسی اداس نظم کی طرح ساتھ ساتھ چل رہا تھا۔ مَیں سامنے والی سیٹ پر بیٹھی ہوئی اس خاموش مسافر کو دیکھ رہی تھی جو ایک خواجہ سرا تھی سادہ لباس، سنجیدہ آنکھیں، اور ہاتھ میں ایک کتاب۔
ٹرین اپنے مخصوص آہنی وقار کے ساتھ پٹری پر چل رہی تھی، کھڑکی کے باہر پھیلا ہوا ہندوستان کسی اداس نظم کی طرح ساتھ ساتھ چل رہا تھا۔ مَیں سامنے والی سیٹ پر بیٹھی ہوئی اس خاموش مسافر کو دیکھ رہی تھی جو ایک خواجہ سرا تھی سادہ لباس، سنجیدہ آنکھیں، اور ہاتھ میں ایک کتاب۔ یوں لگتا تھا جیسے وہ اس شور سے بھرے ڈبے میں بھی اپنی الگ دنیا بسا کر بیٹھی ہو۔
یہ بھی پڑھئے: افسانہ: آسمان سب کیلئے ایک سا کیوں نہیں ہوتا؟
یہ منظر میرے لئے نیا تھا۔ ہمارے معاشرے نے خواجہ سرا کو ہمیشہ تالیاں بجاتے، آوازیں لگاتے یا نفرت بھری نظروں کا سامنا کرتے دیکھا ہے مگر کتاب پڑھتے کم ہی دیکھا ہے۔ مَیں نے ہمت کرکے بات چھیڑی ’’کیا پڑھ رہی ہیں؟‘‘
اس نے نظر اٹھائی، آنکھوں میں ایک محتاط شائستگی تھی ’’قانون اور ادب۔‘‘ اس نے دھیرے سے کہا ’’دونوں وہی چیز سکھاتے ہیں جو ہمیں کبھی ملی نہیں....‘‘
میری دلچسپی بڑھ گئی اور شاید مجھے اس کمیونٹی کے ساتھ ہمیشہ سے ہمدردی تھی۔
’’آپ کا نام؟‘‘
اس نے لمحہ بھر توقف کیا جیسے نام بتانا بھی ایک قانونی عمل ہو ’’ردا...‘‘
مَیں نے ہمت کرکے پوچھا ’’آپ کہاں تک پڑھی ہیں؟‘‘
’’آپ کو لگتا ہے جس معاشرے میں ہم رہتے ہیں وہاں ایک خواجہ سرا اسکول یا کالجز میں داخلہ لے سکتا ہے۔ جس معاشرے میں بطور خواجہ سرا سانس لینا بھی مشکل ترین کام ہو وہاں تعلیم حاصل کرنا نہایت ہی مشکل عمل ہے۔ مجھے لگتا ہے مجھے کتابوں سے محبت کرنے کے لئے کسی اسکول یا کالج میں جانا ضروری نہیں ہے اور شاید ہمارے معاشرے میں ایسے تعلیمی ادارے نہیں ہیں جو ہمیں باقی بچوں کے ساتھ داخلہ دے سکیں۔ ہمارے ملک نے اب ہم خواجہ سراؤں کے لئے قانون تو بنا دیئے ہیں، ہمیں تیسری جنس مان لیا گیا ہے، شناختی کاغذات دینے کا وعدہ ہے، تعلیم اور روزگار میں تحفظ کی بات کہی گئی ہے مگر قانون کاغذ پر جیتا ہے اصل زندگی میں نہیں۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: افسانہ: کششِ ثقل
مَیں خاموش ہوگئی، اس نے خود ہی بات آگے بڑھائی۔
’’قانون ہمیں حق دیتا ہے مگر ماں باپ ہمیں قبول نہیں کرتے۔‘‘ اس جملےمیں ایسی کاٹ تھی کہ میرے دل میں ایک ٹیس اٹھی۔
’’آپ کے والدین....؟‘‘ مَیں نے آہستہ سے پوچھا۔
’’جب میں نے خود کو پہچاننا شروع کیا تب سب سے پہلے گھر سے ذلت ملی، ماں کی آنکھوں میں ممتا کے بجائے خوف تھا، باپ کے لہجے میں غیرت کے نام پر بے دردی، خاندان والوں نے کہا ’تم ہمارے خاندان کی بدنامی ہو۔‘ انہوں نے مجھے گھر سے نکال دیا۔ اس دن سمجھ آئی کہ قانون آپ کو شہری بناتا ہے لیکن ماں باپ انسان بناتے ہیں اور جب وہی دروازہ بند کر دیں تو قانون بھی بے آواز ہو جاتا ہے۔‘‘
میری آنکھیں نم ہوگئیں۔
یہ بھی پڑھئے: افسانہ: احساس نامہ
’’پھر آپ نے کیا کیا؟‘‘
’’جینا سیکھا، ایک گرو کے سائے میں اجنبیوں کے بیچ، مانگنا بھی پڑا، ذلت بھی سہی مگر کتابیں میرا سہارا بنیں۔‘‘
’’کیا آپ کو لگتا ہے کہ حالات بدلیں گے؟‘‘ مَیں نے پوچھا۔
’’جب قانون اور ماں باپ، خاندان ایک ساتھ چلیں گے تب شاید تبدیلی ممکن ہے۔‘‘
میرا اسٹیشن آگیا، مَیں اٹھی تو ایسا لگا جیسے ایک پورا افسانہ میرے دل میں اتر آیا ہو۔
مَیں پلیٹ فارم پر اتر آئی، مگر اس سفر نے مجھے یہ سکھا دیا کہ ٹرینیں صرف شہروں کو نہیں جوڑتیں وہ ان کہانیوں کو بھی سامنے لے آتی ہیں جو قانون کی فائلوں اور معاشرے کی چکا چوند میں کہیں مفقود ہو جاتی ہیں۔ یہ سفر صرف اسٹیشنوں کے بیچ نہیں تھا، بلکہ سوچ کے اندھیرے سے روشنی کی طرف تھا۔