چلتے چلتے

Updated: January 11, 2021, 12:52 PM IST | Dr.Mohammad Asadullah | Nagpur

روزانہ صبح جب میں بائک پر سوا ر ہو کر اپنے آ فس کے لیے نکلتا ہوں توخالی خالی سڑ کوں پرنہ لوگوں کی بھیڑ ہو تی ہے نہ سواریوں کا کہرام ۔ سڑک کے کنارے کہیں کہیں ملازمین اور طلبہ وطالبات بس کے انتظار میں کھڑے ہیں ،کہیں کچھ لوگ ہاتھ میں بیگ تھامے ہو ئے آ ٹو رکشا کی راہ تک رہے ہیں ۔

Picture.Picture :INN
علامتی تصویر ۔ تصویر:آئی این این

 روزانہ صبح جب میں بائک پر سوا ر ہو کر اپنے آ فس کے لیے نکلتا ہوں توخالی خالی سڑ کوں پرنہ لوگوں کی بھیڑ ہو تی ہے نہ سواریوںکا کہرام ۔ سڑک کے کنارے کہیں کہیں ملازمین اور طلبہ وطالبات بس کے انتظار میں کھڑے ہیں ،کہیں کچھ لوگ ہاتھ میں بیگ تھامے ہو ئے آ ٹو رکشا کی راہ تک رہے ہیں ۔بعض لوگ ہو ا خوری اور چہل قدمی کی غرض سے اچھلتے کودتے سڑکیں ناپ رہے ہیں ۔کسی کے ساتھ اس کا پیارا کتا ہے ۔کو ئی سائیکل پر سوار ہے اورکسی سائیکل سوار پر دوسروں سے آ گے نکلنے کا بھوت سوار ہے ۔کوئی کانوں میں ہیڈ فون لگائے صبح صبح گیت و سنگیت کے مزے لے رہا ہے ۔ کسی نے فٹ پاتھ پر ہی آ سن جما کر یو گا کر نا شروع کر دیا ہے ۔جس علاقہ کے راستوںسے میں گزرتا ہوں ہوں، عام طور پرصبح سویرے ا ن پر آ ٹو رکشا دستیاب نہیں ہوتے۔راستوں سے گزرتے ہوئے میں محسوس کر تا ہوں ۔ہر راستہ زندگی کی طرح ہے۔ جینے کے نہ جانے کتنے راز اس میں چھپے ہیں ۔ راہگیروں کی حرکات و سکنات ان کے کر دار کا آ ئینہ ہیں  ۔ یہاں اکثر لوگ جب چلتے ہیں تو راستہ صرف ان کا راستہ ہوتا ہے ، راہرئوں کا وجود ان کے لئے راستے کے کنارے لگے میل کا پتھرہے جس کا مصرف محض یہ ہے کہ معلوم کیا جائے کہ وقت کتنا رہ گیا ہے کام کتنا ہوگیا ۔
 یہاں طرح طرح کے لوگ ملتے ہیں۔دوسروں کے لئے رکاوٹیں دور کر کے راستہ ہموار کر نے والے ،رکاوٹیں کھڑی کر کے اپنی راہ نکالنے والے،اپنے ہمسفروں کو پیچھے چھوڑ جانے والے خواہ اس کے لئے کوئی ٹیڑھا موڑ ہی کیوں نہ اختیار کر نا پڑے ۔کوئی کسی ایسی سوار ی جواقعتاً اس لائق نہیں ہوتی کہ وقت کے ساتھ چل سکے ،اسے بھی کو ئی از راہِ کرم آ گے بڑھنے کا موقع عنایت کر دیتا ہے ،لیکن عام مشاہدہ ہے کہ وہ آ گے بڑھنے والا، اس مہربانی کر نے والے کو کبھی آ گے نہیں بڑھنے دیتا ۔عام زندگی میں بھی یہی ہو تا ہے ۔اس سے میں نے یہ سیکھا کہ نااہلوں پر  بلا وجہ مہر بانی کر کے انھیں زبردستی آ گے نہیں بڑھانا چاہئے ۔
 کوئی شخص واقعی جلدی میں ہو تا ہے اسے میں ہمیشہ راستہ دیتا ہوں مگر بعض لوگوں کی یہ عادت ہو تی ہے کہ وہ پیچھے چھوڑ کر آ پ کو نیچا دکھانا چاہتے ہیں ۔جولوگ ٹریفک کے قوانین جان بوجھ کر توڑتے ہیں کہ کو ن دیکھ رہا ہے  میں سمجھ لیتا ہوں کہ یہ آ دمی اپنی زندگی میں بھی یہی کچھ کرتا ہے اور اس معاملے میں میرے اندازے کبھی غلط ثابت نہیں ہو ئے ۔جولوگ اپنے معاملات ِ زندگی میں دیانت دار ہو تے ہیں ،راستوں پر بھی وہ ویسے ہی نظر آ تے ہیں ۔
 راستو ں پر اکثر لفٹ مانگنے والوں سے واسطہ پڑتا ہے۔ میری ہی طرح ، ہمارے شہر میں کڑبی چوک سے گزرنے والے اکثر لوگوں کا یہ تجربہ ہے کہ یک شخص قابلِ رحم حلیہ میںلفٹ مانگتا ہے ،بائک پر سوار شخص رحم دلی کا مظاہرہ کر تے ہوئے اسے اپنی گاڑی پر سوار کر لیتا ہے، تھوڑی دیر بعد وہ اپنی مجبوریوں اور دکھ درد کی ایسی داستان آ پ کو سناتا ہے کہ جب وہ اگلے اسٹاپ پر اترتا ہے تو آ پ کی جیب سے سو دو سو روپےبھی اتار لیتا ہے ۔ایک صاحب نے یہ غضب کر رکھا ہے کہ روزانہ آفس جانے کے لئے نہ بس میں سوار ہو تے ہیں نہ آ ٹو لیتے ہیں کسی بھی بائک سوار کو ہاتھ دکھا یا اور آفس پہنچ گئے ۔اس کے علاوہ بھی لفٹ مانگنے والوں کے ساتھ میرے عجیب و غریب تجربات ہیں۔ ایک دن جب میں اپنی بائک پر سوار آفس کی طرف بڑھ رہا تھا۔ لبِ سڑک کھڑی ایک خاتون نے مجھے ہاتھ کے اشارے سے روکا اور ریلوے اسٹیشن تک جانے کے لئے لفٹ مانگی۔ اس کے لباس سے ظاہر تھا کہ وہ عیسائی ہے ۔ اس نے مجھے بتایا کہ وہ ایک مشنری اسکول میںٹیچر ہے ۔ ریلوے اسٹیشن کے پاس اس کے ساتھی اس کا انتظار کر رہے تھے۔  اس علاقے میں صبح کے وقت آ ٹو مشکل ہی سے ملتے ہیں۔اگر دیر ہو جائے تو اس کی ٹرین چھوٹ جاتی ۔ریلوے اسٹیشن کے قریب وہ محترمہ بائک سے اتریں تو کہا:’ گاڈ بلیس یو‘اس کے لہجے میں شکرگزاری کا احساس کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا ۔یہ محض اتفاق تھا کہ اس کے چند دنوں بعد ہی اسی راستے پر ایک ادھیڑ عمر شخص راستے کے کنارے کھڑا نظر آ یا تھکا ہوا،پریشان حال ،بیمار سا اس نے مجھے ہاتھ کے اشارے سے نہیں روکا لیکن مجھے ایسا لگا اس کا پورا وجود ہاتھ بنا  ہوا ہے ۔اس کی آ نکھیں کہہ رہی تھیں :’ ہو سکے تو میرے مدد کیجئے ۔‘میں نے گاڑی کی رفتار کم کی او ر اس کے قریب پہنچا تو اس کی ہمت بندھی ،’ بھائی صاحب !مجھے ڈاگا ہاسپیٹل تک چھوڑدیں گے ؟
 ’ ہاں ضرور ، بیٹھو !‘ وہ بائیک پر بیٹھتے ہی بولنے لگا ۔’ بھائی صاحب صبح صبح آ ٹو کی بڑی پریشانی ہے ۔میری بیٹی ہاسپیٹل میں بھرتی ہے ۔میں یہاں دیر سے کھڑا ہوں نہ بس آ تی ہے نہ آ ٹو ملتا ہے ۔‘ کو ئی بات نہیں ۔ میں بھی ادھر ہی جا رہا ہوں ۔ میں نے کہا۔’اس کی منزل آ گئی تو اس نے اترتے ہو ئے کہا: ’ بھگوان آ پ کا بھلا کرے ،دھنیہ واد ۔‘
 یہ دونوں واقعات ذہن میں ابھی تازہ ہی تھے کہ ایک دن پھر اسی صورتِ حال سے دوچار ہو نا پڑا ۔اس دن مجھے گھر سے نکلنے میں دیر ہو گئی تھی اور میں جلدی میں تھا اس لئے راستے میںمجھے روک کر کسی کا لفٹ مانگنا ناگوار گزرا ،تاہم میں نے اپنے آ پ کو سمجھایا کہ بیچارے لوگ نہ جانے کس پریشانی میں مبتلا رہتے ہیں اور خدا نے مجھے یہ سواری عطا کی ہے ۔یہ بھی تو ممکن تھا کہ اس لفٹ مانگنے والے کی جگہ میں ہوتا۔ ان دونوں حالتوں میں مجھے کسی ایک کے چننے کی اجازت دی جاتی تو میں اسی حالت کو پسند کر تاجہاں ابھی ہوں تا کہ بہتر حالت میں رہ کر کسی کی مدد کروں اور اس سے کے نتیجے میںملنے والی ناقابلِ بیان خوشی حاصل کروں ۔میں نے گاڑی روکی اور اس نوجوان کو لفٹ دی ۔’ بھی ذرادس نمبر پُلیا تک چھوڑ دینا‘ اس کے بعد وہ خاموش ہو گیا ۔چلتے چلتے میں نے اس سے پوچھا:’کیا کر تے ہو ؟‘’ادھر ایک دودھ ڈیری پر کام کرتا ہوں ،صبح جلدی جانا ہوتا ہے ۔‘’کیا نام ہے تمہارا ؟‘’جاوید ‘دودھ ڈیری کے قریب اس نے کہا : یہاں روک دیجئے۔
 میں نے گاڑی روک کر انتظار کیا کہ اب وہ شکریہ ادا کرے گا اور میں ہمیشہ کی طرح ’او کے ‘،کہہ کر آ گے بڑھ جائوں گا۔میں نے پلٹ کر دیکھا ۔وہ نوجوان تو نہ جانے کب غائب ہو چکا تھا۔مجھے محسوس ہوا جیسے میں نے بجلی کے زندہ تاروں کو چھو لیا ہو۔ اس دن مجھ پر عجیب سی کیفیت طاری رہی ۔تما م وقت میں رہ رہ کر اپنے آ پ پر جھنجھلارہا  اور سوچتا رہا  میرے ساتھ ایسا کیوں ہو رہا ہے مگر اندر سے کو ئی جواب نہ ملا۔ 
 میرا سفر ہی ایک ایسے راستے پر ہے جہاں صبح سویرے مجھے ہر دن کوئی شخص ضرور ملتا ہے ۔کبھی جلدی ہو تو میں نظر بچا کر نکل بھی جا تا ہوں ۔ گزشتہ ہفتہ ایک طالب علم کو میں نے لفٹ دی ،حسبِ معمول میں نے اس کا نام اور منزل کے بارے میں پوچھ تاچھ کی تو اس نے بتایا کہ اس کانام مزمّل ہے ۔ اس کی اسکول فیس ادا کر نے کا وہ آ خری دن تھا ۔ والد کا انتقال ہو چکا ہے ،اس کی ماں بھانڈے واڑی میں مزدوری کر کے گھر چلاتی ہے ۔جہاں وہ کام کر تی ہے وہ لوگ پیسے دینے کا نام ہی نہیں لیتے مزمل کئی بار وہ وہاں جا چکا تھا  ۔’آج آخری بار جا رہاہوں ۔آ ج تو لیکر ہی رہوں گا۔‘  اس کے لہجے میں عجیب سا عزم تھا۔   ’ اور اگر آ ج بھی نہیں دیا تو؟‘میں نے پوچھا ۔ ’آج تو فیس جمع کر نے کی آ خری تاریخ ہے ۔ ‘اس کی آ واز ایسی تھی جیسے کسی بلندی سے کوئی چیز نیچے چھوڑ دی جائے ۔ پھر میں نے اس کی اسکول کانام اور فیس وغیرہ کی تفصیلات معلوم کیں ۔ایک چوک پر مجھے روک کر وہ اتر گیا ۔میں نے اس سے کہا :’سنو!‘پھر اس کی طرف ہاتھ بڑھایا ،’اسے رکھ لو!‘ اس نے میری مٹھی میں دبا ہوانوٹ دیکھ لیا ۔ ’نہیں صاحب ! میری ماں نے مجھے کسی کے آ گے ہاتھ پھیلانے سے منع کیا ہے ۔‘ اور مزید کچھ کہے سنے بغیر وہ تیزی سے بھیڑ میں غائب ہو گیا ۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK