فلسطینی ریڈ کریسینٹ کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے رفح کراسنگ سے غزہ کے زخمیوں کا انخلاء منسوخ کردیا ہے، ترجمان رائد النمص نے انادولو کو بتایا کہ عالمی ادارہ صحت نے انہیں وجوہات بتائے بغیر اس منسوخی سے آگاہ کیا۔
EPAPER
Updated: February 04, 2026, 11:38 PM IST | Gaza
فلسطینی ریڈ کریسینٹ کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے رفح کراسنگ سے غزہ کے زخمیوں کا انخلاء منسوخ کردیا ہے، ترجمان رائد النمص نے انادولو کو بتایا کہ عالمی ادارہ صحت نے انہیں وجوہات بتائے بغیر اس منسوخی سے آگاہ کیا۔
فلسطینی ریڈ کریسنٹ سوسائٹی نے کہا کہ اسرائیلی اہلکاروں نے غزہ کے تیسرے بیچ کے مریضوں اور زخمیوں کو رفح کراسنگ کے ذریعے غزہ پٹی سے نکالنے کی اجازت منسوخ کر دی، جس سے ان کے روانہ ہونے میں تاخیر ہو گئی، جو بدھ کے لیے طے تھی۔ترجمان رائد النمص نے انادولو کو بتایا کہ عالمی ادارہ صحت نے انہیں وجوہات بتائے بغیر اس منسوخی سے آگاہ کیا۔النمص نے کہا کہ ریڈ کریسنٹ کی ٹیمیں خان یونس کے جنوبی شہر میں واقع ال امل اسپتال سے مریضوں کو نکالنے کے لیے پوری طرح تیار تھیں، لیکن آخری وقت پر منسوخی نے اس عمل کو روک دیا۔
یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ کے ’بورڈ آف پیس‘ کے تحت حماس کو دو ماہ کا الٹی میٹم: اسرائیلی وزیر
انہوں نے مزید کہا کہ سوسائٹی انخلاء کے ازسرنو شروع ہونے کا انتظار کر رہی ہے، امید ہے کہ تیسرے بیچ کے مریضوں اور زخمیوں کو جمعرات کو نکالا جا سکے، کیونکہ غزہ پٹی کے اندر مریضوں کو مشکل انسانی اور صحت کے مسائل کا سامنا ہے۔ واضح رہے کہ غزہ میں سرکاری اندازوں کے مطابق تقریباً۲۲۰۰۰؍ زخمی اور بیمار افراد بیرون ملک علاج کے لیے غزہ پٹی سے نکلنا چاہتے ہیں، جبکہ اسرائیل کی نسل کشی کی جنگ کے باعث غزہ کا صحت کا شعبہ مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے۔ایک محدود انداز میں اور انتہائی سخت پابندیوں کے تحت، اسرائیل نے پیر کو رفح کراسنگ کے فلسطینی حصے کو دوبارہ کھولا، جس پر اس نے مئی ۲۰۲۴ء سے قبضہ کر رکھا ہے۔تاہم مصری اور اسرائیلی میڈیا کے مطابق، روزانہ تقریباً ۵۰؍ فلسطینیوں کے غزہ میں داخل ہونے اور اسی تعداد میں مصر جانے کی توقع ہے، جس میں مریض اور ان کے ساتھی شامل ہیں، لیکن اب تک ایسا نہیں ہوا ہے۔پیر کے دوبارہ کھلنے کے بعد سے،۵۲؍ فلسطینی غزہ پہنچے اور۶۰؍غزہ سرحد پار کر کے چلے گئے۔
یہ بھی پڑھئے: انڈونیشیا کا ٹرمپ کے ’’بورڈ آف پیس‘‘ سے علاحدگی کا عندیہ، فلسطین شرط
واضح رہے کہ نیم سرکاری فلسطینی اعداد و شمار کے مطابق، تقریباً۸۰؍ ہزار فلسطینیوں نے غزہ واپس آنے کے لیے اپنے نام درج کروائے ہیں، جو صاف ظاہر کرتا ہے کہ فلسطینی بے گھر ہونے سے انکار اور واپسی کے حق پر ڈٹے ہوئے ہیں، چاہے پورے علاقے میں بڑے پیمانے پر تباہی ہی کیوں نہ ہو۔اسرائیل نے اصرار کیا ہے کہ صرف غزہ کے فلسطینی ہی غزہ پٹی میں واپس آ سکیں گے اگر انہوں نے جنگ شروع ہونے کے بعد غزہ چھوڑا تھا۔واپس آنے والوں کے بیانات، جن میں بوڑھے اور بچے شامل ہیں، سے پتہ چلتا ہے کہ انہیں کراسنگ پر ہراساں کیا گیا اور سخت اسرائیلی فوجی استفسار کا سامنا کرنا پڑا۔اگرچہ اسرائیل کو یکم اکتوبر۲۰۲۵ء سے نافذ العمل جنگ بندی معاہدے کے پہلے مرحلے میں کراسنگ دوبارہ کھولنی تھی، لیکن وہ اپنے وعدے سے مکر گیا۔
یاد رہےکہ جنگ بندی نے اس اسرائیلی جارحیت کو ختم کیا جو اکتوبر۲۰۲۳ء میں شروع ہوئی اور دو سال تک جاری رہی، جس میں تقریباً۷۲؍ ہزار فلسطینی شہید ہوگئے اور۱۷۱؍ ہزار سے زائد زخمی ہوئے، جبکہ غزہ کے۹۰؍ فیصد بنیادی ڈھانچے کو تباہ کر دیا گیا۔حالانکہ اسرائیل جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے حملے جاری رکھے ہوئے ہے۔