کالم لکھے جانے تک ایران میں جنگ جیسے حالات تو ہیں مگر امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر حملہ کیا ہے نہ ایران نے امریکہ یا اسرائیل پر، مگر کسی بھی ناگہانی کا مقابلہ کرنے کی تیاریاں دونوں ہی جانب ہیں۔
EPAPER
Updated: January 15, 2026, 10:57 PM IST | Shamim Tariq | Mumbai
کالم لکھے جانے تک ایران میں جنگ جیسے حالات تو ہیں مگر امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر حملہ کیا ہے نہ ایران نے امریکہ یا اسرائیل پر، مگر کسی بھی ناگہانی کا مقابلہ کرنے کی تیاریاں دونوں ہی جانب ہیں۔
امریکہ، اسرائیل یا ان کے حلیف ملکوں نے ابھی ایران پر حملہ نہیں کیا ہے مگر ایران کے قریب امریکی اڈوں خاص طور پر عراق و شام میں امریکی فوجی اڈوں پر فوجی نقل و حرکت شروع ہوچکی ہے اور جواب میں یا احتیاط کے طور پر تہران ہوائی اڈہ بند کر دیا گیا ہے، ایران میں نصب تمام دفاعی آلات یا نظام حرکت میں آگئے ہیں اور ایران کے تقریباً ۷۵۰؍ میزائیل اسرائیل یا تل ابیب پر حملے کیلئے بالکل تیار ہیں۔ آیت اللہ خامنہ ای نے مشرق وسطیٰ سے تمام امریکیوں کو بھگانے کی درخواست کی ہے مگر خود حملہ نہیں کیا ہے حالانکہ ان کے ایک بڑے افسر نے اعلان کیا ہے کہ اس مرتبہ امریکہ اور اسرائیل کو حملہ کرنے کی مہلت نہیں دی جائے گی یعنی اس سے پہلے کہ ایران پر حملہ ہو، ایران حملہ کر چکا ہوگا۔ حالات بالکل جنگ جیسے ہیں مگر امریکہ نے وینزویلا کے صدر اور ان کی اہلیہ کو ان کی خوابگاہ میں گھس کر گرفتار کیا تو اس گرفتاری کی روس، چین، ایران اور کئی دوسرے ملکوں نے مذمت کی ہے مگر امریکہ نے ونیزویلا میں جو کیا اس کی صفائی یہ کہہ کر دے رہا ہے کہ: (۱)ونیزویلا کے صدر نکولس مادورو آمر اور منشیات کے اسمگلر ہیں (۲)امریکہ ایسی ۳۵؍ کشتیوں پر حملہ کر چکا ہے جن پر منشیات رکھے ہوئے تھے اور (۳)گزشتہ ہفتہ ہی ایک ڈرون حملہ کرکے سی آئی اے نے ونیزویلا کی اسمگلنگ کی کوشش کو ناکام بنایا تھا۔
دوسری طرف ونیزویلا کا الزام ہے کہ امریکہ اس کے تیل کے ذخائر پر قابض ہونے کیلئے یہ سب کر رہا ہے۔ ونیزویلا میں تیل کا بہت بڑا ذخیرہ ہے۔ مصدقہ اطلاع کے مطابق یہاں ۳۰۳؍ ارب بیرل تیل ہے۔ چین کے ونیزویلا سے قریبی رشتے ہیں اسلئے وہ بھی ونیزویلا کیساتھ ہے۔ روس ایران کی اسلئے مدد کر رہا ہے کہ ایران نے یوکرین پر حملہ کرنے کیلئے اس کو ڈرون مہیا کئے تھے۔ مگر کیا حملے یا جنگ کی صورت میں روس اور چین ایران کے شانہ بشانہ لڑیں گے۔ شاید نہیں۔ اسی طرح عرب ممالک بھی ایران سے ہمدردی کا اظہار تو کرینگے مگر اس کے ساتھ شاید میدان جنگ میں نہ اتر سکیں۔ وجہ مصلحت بھی ہے اور عالمی قوانین کی پاسداری بھی۔ اسی وجہ سے لبنان کے حزب اللہ، یمن کے حوثی اور غزہ کے حماس کے لوگ بھی چپ ہیں۔ ان کو ایران دشمن یا ٹرمپ کا دوست سمجھ لیا جانا جائز نہیں ہے۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق امریکہ کی ڈیلٹا فورس جس نے ونیزویلا کے صدر کو گرفتار کیا تھا ایران کے قریب پہنچ چکی ہے مگر یہ سمجھ لینا شاید خلاف حقیقت ہو کہ وہ آیت اللہ خامنہ ای کو گرفتار کر لے گی کیونکہ آیت اللہ کے ساتھ صرف ایرانیوں یا شیعہ گروہوں کا نہیں ساری دُنیا کے مسلمانوں اور انصاف پسندوں کا جذباتی تعلق ہے۔ انہوں نے غزہ اسرائیل جنگ میں جس طرح اسرائیل اور امریکہ کیخلاف مورچہ سنبھالا تھا اس کو قدر کی نگاہ سے دیکھا گیا ہے۔ یہ بھی فراموش نہیں کیا جاسکتا کہ ایران میں جہاں سے حکومت مخالف مظاہروں کی خبریں آرہی ہیں آیت اللہ خامنہ ای کے حق میں بھی مظاہرے ہورہے ہیں۔ آیت اللہ نے جمعہ کے خطبے میں بھی تیکھے تیور دکھائے ہیں اور امریکہ میں بیٹھے ہوئے رضا شاہ پہلوی کے بیٹے جنہوں نے ایران میں شورش پھیلانے کیلئے بہت دولت صرف کی ہے، ٹرمپ سے ملنے میں ناکام رہے ہیں کیونکہ ٹرمپ نے ان سے ملنے سے انکار کر دیا ہے۔ ظاہر ہے یہ ٹرمپ کی مصلحت ہے ورنہ یہ ممکن نہیں ہے کہ ایران میں بھڑکتی ہوئی بغاوت کی آگ میں رضا شاہ کے بیٹے کی شمولیت و شرکت سے وہ واقف نہ ہوں۔ سابق شاہ ایران کے بڑے بیٹے رضا پہلوی نے ہی ایران میں مظاہروں کا صور پھونکا تھا، اب یہی مظاہرین رضا پہلوی کو واپس ایران بلانے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ یہ بھی خبر ہے کہ سعودی عرب متحدہ عرب امارات کے امیر کا تختہ پلٹنے کی سازش رچ رہا ہے۔
یہ بھی خبر یا افواہ ہے کہ ایران کے صدر پیزی شکیان نے استعفیٰ دیدیا ہے۔ ممکن ہے یہ ہوائی دشمنوں نے اڑائی ہو مگر یہ سچ ہے کہ ایران کے مظاہروں کے دوران ان کا ایک آدھ سے زیادہ بیان نظر سے نہیں گزرا۔ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ ٹرمپ نے صاف لفظوں میں کہہ دیا ہے کہ مجھے بین الاقوامی قوانین نہیں چاہئیں۔ کولمبیا اور برازیل کے صدور نے ونیزویلا کی صورتحال پر تبادلۂ خیال کیا ہے اور امریکی نائب صدر نے یہ کہہ کر اپنے عوام کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش کی ہے کہ ونیزویلا میں امریکہ نے جو کیا اس سے امریکی عوام کو فائدہ ہوگا۔ یہاں یہ پوچھا جاسکتا ہے کہ کیا چین ویتنام پر قبضہ کر لے، روس یوکرین پر قبضہ کر لے یا اسرائیل غزہ پر قبضہ کر لے اور پھر جواز یہ دے کر ان قبضوں سے ان کے عوام کو فائدہ پہنچے گا تو کیا یہ جائز ہوگا؟ دریں اثناء یہ خبریں بھی آئیں کہ ایران میں مسجدوں اور مزاروں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اگر ایسا ہوا ہے (اگر اسلئے کہ ایران سے آنے والی خبروں کی تصدیق یا تردید کے کم ذرائع رہ گئے ہیں) یعنی اگر مسجدیں اور مزارات منہدم کئے جا رہے ہیں تو یہ مظاہرین میں گھسے ہوئے امریکی اور اسرائیلی ایجنٹوں کا کام ہے۔ ہاں اس سے پہلے علماء اور ائمہ مساجد کے حوالے سے جو خبریں آئی تھیں جن میں ان کو یہ کہہ کر نشانہ بنایا گیا تھا کہ وہ اپنا کام نہیں کر رہے ہیں تو ان پر یقین کرنا مشکل نہیں۔ مسلمانوں کا بڑا مسئلہ علماء کا ایک دوسرے سے حسد کرنا اور اہل نہ ہوتے ہوئے بھی ہر کام کرنے کی خواہش کرنا ہے۔
اسی دوران خامنہ ای کی تصویر کو سگریٹ سے جلانے اور سابق شاہ ایران کے بڑے بیٹے رضا پہلوی کی اس خواہش یا اعلان کی خوب تشہیر ہورہی ہے کہ وہ ایران آرہے ہیں۔ یہ رضا پہلوی کے علاوہ ٹرمپ اور نیتن یاہو کی خواہش تو ہوسکتی ہے مگر ایران کے عوام کی نہیں۔ رضا پہلوی ایرانیوں کی اکثریت کیلئے ناپسندیدہ ہیں۔ ادھر ایران نے اپنی تقریباً دس لاکھ فوجوں کو سرحدوں کی طرف بڑھنے کا حکم دیدیا ہے اور اسرائیل خوف زدہ ہے کہ کہیں ایرانی فوجیں اس کی طرف رخ نہ کریں۔
مختصر یہ کہ یہ کالم لکھے جانے تک ایران میں جنگ جیسے حالات تو ہیں مگر امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر حملہ کیا ہے نہ ایران نے امریکہ یا اسرائیل پر، مگر کسی بھی ناگہانی کا مقابلہ کرنے کی تیاریاں دونوں ہی جانب ہیں۔ البتہ چین و روس کے ایران کے ساتھ ہونے، اقوام متحدہ اور اقوام عالم کے ٹرمپ حکومت کی مذمت کرنے سے امریکہ سراسیمہ اور آیت اللہ خامنہ ای کے خطبۂ جمعہ میں گرجنے کے سبب ایران اور ایرانی عوام حوصلہ مند ہیں۔ قیاس یہی کہتا ہے کہ آنے والے دنوں میں ایرانی حکومت کے خلاف مظاہرے کم یا ختم ہوں گے۔ روس و چین کی ایران دوستی رنگ دکھائے گی اور ٹرمپ وہ نہیں کرسکیں گے جو انہوں نے ونیزویلا میں کیا ہے۔n