امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ امریکہ پانچ ماہ کے لیے۱۵؍ فیصد ٹیرف برقرار رکھ سکتا ہے، ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ ان کی انتظامیہ اس دوران مختلف ممالک کے لیے مختلف ٹیرف سامنے لائے گی۔
EPAPER
Updated: March 04, 2026, 10:08 PM IST | Washington
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ امریکہ پانچ ماہ کے لیے۱۵؍ فیصد ٹیرف برقرار رکھ سکتا ہے، ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ ان کی انتظامیہ اس دوران مختلف ممالک کے لیے مختلف ٹیرف سامنے لائے گی۔
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے منگل کو کہا کہ واشنگٹن عالمی ٹیرف کو پانچ ماہ تک۱۵؍ فیصد پر برقرار رکھ سکتا ہے۔ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ ان کی انتظامیہ اس دوران مختلف ممالک کے لیے مختلف ٹیرف سامنے لائے گی۔واضح رہے کہ اپریل۲۰۲۵ء میں، ٹرمپ نے ہندوستان سمیت درجنوں ممالک پر ٹیرف عائد کر دیے تھے، ان کا دعویٰ تھا کہ ان ممالک نے امریکی سامان پر زیادہ ٹیرف عائد کر رکھے ہیں۔ تاہم، ہندوستان سمیت کئی ممالک کے ساتھ دو طرفہ تجارتی معاہدوں پر اتفاق کے بعد بالآخر ان محصولات میں کمی کر دی گئی۔تاہم، امریکی سپریم کورٹ نے۲۰؍ فروری کو ٹرمپ کی طرف سے عائد کردہ عالمی ٹیرف کو کالعدم قرار دیتے ہوئے فیصلے میں کہا کہ انہوں نے اپنے اختیارسے تجاوز کیا ہے۔ ججوں نے کہا کہ’’۱۹۷۷ء کا انٹرنیشنل ایمرجنسی اکنامک پاور ایکٹ، جسے ٹرمپ نے استعمال کیا تھا، صدر کو ٹیرف عائد کرنے کا اختیار نہیں دیتا۔‘‘ دریں اثناءسپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد، ٹرمپ نے۱۹۷۴؍ کے ٹریڈ ایکٹ کے تحت اپنے اختیار کا حوالہ دیتے ہوئے امریکہ میں درآمد ہونے والے سامان پر عارضی طور پر۱۰؍ فیصد ٹیرف عائد کر دیا۔ یہ نیا ٹیرف زیادہ سے زیادہ۱۵۰؍ دنوں کے لیے ہے، جب تک کہ امریکی کانگریس توسیع کی منظوری نہ دے۔
یہ بھی پڑھئے: واشنکٹن: وہائٹ ہائو س کے قریب جیفری ایپسٹین واک آف شیم کے اسٹیکرچسپاں
مزید برآں، ٹرمپ نے۲۱؍ فروری کو کہا کہ وہ ٹیرف کو فوری اثر سے۱۰؍ فیصد سے بڑھا کر مکمل طور پر اجازت یافتہ اور قانونی سطح۱۵؍ فیصد تک بڑھا رہے ہیں۔ تاہم، یہ واضح نہیں ہے کہ یہ بڑھی ہوئی ٹیرف کی شرح کب نافذ ہوگی۔اس سے ہندوستان سمیت متعدد ممالک کے ساتھ امریکہ کے تجارتی معاہدوں کی حیثیت غیر یقینی ہو گئی تھی۔منگل کو ٹرمپ نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ اگرچہ سپریم کورٹ نے ان کے ٹیرف کو مسترد کر دیا ہے، لیکن اس نے محصولات عائد کرنے کے متبادل طریقے بھی بتائے ہیں۔ عدالت نے کہا کہ آپ یہ کئی دوسرے طریقوں سے کر سکتے ہیں، اور ہم کر رہے ہیں۔بعد ازاںامریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ ان ٹیرف نے ملک کو بہت امیر بنا دیا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’ہمیں ان ممالک سے ٹیرف وصول کرنا ہے جو اپنی کرنسی کے ساتھ کھیلتے ہیں - وہ اپنی کرنسی کو یو-یو کی طرح اوپر نیچے کرتے رہتے ہیں۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ جوابی حملوں پر حیران، جھلاہٹ کا شکار
ٹرمپ نے مزید کہا کہ ممالک امریکہ کے ساتھ اپنے موجودہ تجارتی انتظامات کو برقرار رکھنے کے لیے بے چین ہیں۔واضح رہے کہ دہلی اور واشنگٹن نے۲؍ فروری کو عبوری معاہدے کے فریم ورک پر اتفاق کیا تھا۔اس معاہدے کے تحت، ہندوستانی سامان پر امریکی ٹیرف کو۵۰؍ فیصد کی مشترکہ شرح سے کم کرکے۱۸؍ فیصد کر دیا جاتا۔۵۰؍ فیصد کی اس سابقہ شرح میں اگست میں ہندوستان کی روسی تیل کی خریداری پر عائد۲۵؍ فیصد جرمانہ ٹیکس بھی شامل تھا۔تجارتی معاہدے کی بات چیت پر غیر یقینی کی صورتحال کے درمیان، ٹرمپ نے پہلے کہا تھا کہ کچھ نہیں بدلے گا اور ہندوستان پر محصولات جاری رہیں گے۔تاہم، امریکی سپریم کورٹ کے عالمی ٹیرف کو کالعدم کرنے کے بعد نئی دہلی اور واشنگٹن کے درمیان حتمی معاہدے پر مذاکرات ملتوی کر دیے گئے ہیں۔۲۴؍ فروری کو مرکزی وزیر تجارت پیوش گوئل نے کہا کہ امریکہ کی طرف سے اعلان کردہ ٹیرف میں تبدیلیوں پر جیسے ہی مزید وضاحت ہوگی امریکہ کے ساتھ مذاکرات دوبارہ شروع ہوں گے۔