محمود خلیل کے وکیل مارک وان ڈیر ہاؤٹ، جو تقریباً پانچ دہائیوں پر مشتمل قانونی تجربہ رکھتے ہیں، نے کہا کہ ”یہ کوئی حقیقی ٹرائل نہیں تھا۔ یہ کوئی حقیقی سماعت نہیں تھی۔ انہوں نے اپنے پورے کریئر میں کبھی ایسی ’بوگس کارروائی‘ نہیں دیکھی۔“
EPAPER
Updated: March 04, 2026, 9:07 PM IST | Washington
محمود خلیل کے وکیل مارک وان ڈیر ہاؤٹ، جو تقریباً پانچ دہائیوں پر مشتمل قانونی تجربہ رکھتے ہیں، نے کہا کہ ”یہ کوئی حقیقی ٹرائل نہیں تھا۔ یہ کوئی حقیقی سماعت نہیں تھی۔ انہوں نے اپنے پورے کریئر میں کبھی ایسی ’بوگس کارروائی‘ نہیں دیکھی۔“
فلسطینی حقوق کیلئے سرگرم کارکن محمود خلیل کی نمائندگی کرنے والے وکلاء نے انہیں ملک بدر (ڈی پورٹ) کرنے کی امریکی انتظامیہ کی کوششوں پر کڑی تنقید کرتے ہوئے ان قانونی کارروائیوں کو ”بوگس“ قرار دیا ہے۔ انہوں نے وفاقی اپیلوں کے ذریعے اس فیصلے کو چیلنج کرنے کا عزم ظاہر بھی کیا۔
واضح رہے کہ امریکہ کے قانونی رہائشی اور کولمبیا یونیورسٹی کے گریجویٹ محمود خلیل ۲۰۲۴ء میں کیمپس میں غزہ اور فلسطینیوں کی حمایت میں ہونے والے مظاہروں کے لیڈر کے طور پر سامنے آئے تھے۔ انہیں ۲۰۲۵ء میں امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (آئی سی ای) نے حراست میں لیا تھا اور وہ ۱۰۴ دنوں تک حراست میں رہے۔ ایک وفاقی جج نے ابتدائی طور پر ۳۰ سالہ خلیل کی حراست کو غیر آئینی قرار دیا تھا۔ تاہم، ٹرمپ انتظامیہ نے رواں ماہ کے اوائل میں اس فیصلے کے خلاف کامیاب اپیل کی، جس کے بعد امیگریشن کورٹ میں ملک بدری کے مقدمے کو آگے بڑھانے کی اجازت مل گئی ہے۔
منگل کو ایک ورچوئل بریفنگ کے دوران محمود خلیل کے وکیل مارک وان ڈیر ہاؤٹ نے کہا کہ اس قانونی عمل میں شدید خامیاں ہیں اور یہ مقدمہ کسی بھی طرح سے منصفانہ ٹرائل جیسا نہیں تھا۔ تقریباً پانچ دہائیوں پر مشتمل قانونی تجربہ رکھنے والے تجربہ کار امیگریشن وکیل وان ڈیر ہاؤٹ نے مزید کہا کہ ”یہ کوئی حقیقی ٹرائل نہیں تھا۔ یہ کوئی حقیقی سماعت نہیں تھی۔ انہوں نے اپنے پورے کریئر میں کبھی ایسی ’بوگس کارروائی‘ نہیں دیکھی۔“
وان ڈیر ہاؤٹ نے الزام لگایا کہ امیگریشن جج نے دفاع کی جانب سے دائر کردہ ہر تحریک کو مسترد کر دیا اور خلیل پر فردِ جرم عائد ہونے کے محض تین دن بعد کیس کے میرٹ پر سماعت مقرر کردی۔ انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ جج نے بظاہر گواہی ختم ہونے سے پہلے ہی اپنا فیصلہ تیار کر لیا تھا۔
یہ بھی پڑھئے: اسرائیل نے غزہ میں تمام امداد کی ترسیل روک دی: اقوام متحدہ
دفاعی ٹیم کے مطابق، حکومت کا کیس ان الزامات پر مبنی ہے کہ خلیل اپنے گرین کارڈ کی درخواست میں ’اقوامِ متحدہ کی ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی‘ (انروا) اور کولمبیا کی ایک طلبہ تنظیم کے ساتھ روابط ظاہر کرنے میں ناکام رہے۔ تاہم، وکیل جونی سینودیس نے کہا کہ درحقیقت امیگریشن جج نے کبھی یہ طے ہی نہیں کیا کہ خلیل ان میں سے کسی بھی گروپ کے رکن تھے۔ قانونی ٹیم نے اس کیس کو ’بے بنیاد‘، ’من گھڑت‘ اور ’انتقامی‘ قرار دیتے ہوئے دلیل دی کہ یہ امریکہ میں آزادیِ اظہار اور امیگریشن پالیسی پر کئی سوالات کھڑے کرتا ہے۔
محمود خلیل کے وکلاء نے اب ’بورڈ آف امیگریشن اپیلز‘ میں اپیل دائر کی ہے تاکہ امیگریشن کورٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار دیا جا سکے۔ وفاقی عدالت کا حکم، جس میں فی الحال ان کی ملک بدری پر روک لگا دی گئی ہے، اپیل کے عمل کے جاری رہنے تک نافذ رہے گا۔