فرشتے ماہ رمضان المبارک میں راشد کو اللہ تعالیٰ کا خصوصی انعام دینے کی وجہ جاننا چاہتے تھے۔ فرشتے اسی تجسس میں آسمان سے زمین کو گھور رہے تھے۔
EPAPER
Updated: March 09, 2026, 1:39 PM IST | Ruanq Jamal | Mumbai
فرشتے ماہ رمضان المبارک میں راشد کو اللہ تعالیٰ کا خصوصی انعام دینے کی وجہ جاننا چاہتے تھے۔ فرشتے اسی تجسس میں آسمان سے زمین کو گھور رہے تھے۔
فرشتے ماہ رمضان المبارک میں راشد کو اللہ تعالیٰ کا خصوصی انعام دینے کی وجہ جاننا چاہتے تھے۔ فرشتے اسی تجسس میں آسمان سے زمین کو گھور رہے تھے۔
راشد غریب ماں باپ کا اکلوتا بیٹا تھا۔ وہ نہایت ایماندار، سچا، اچھا عبادت گزار اور نیک بندہ تھا۔ وہ ہمیشہ اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے کی جستجو میں رہتا تھا۔ اللہ تعالیٰ کو راشد کی ایمانداری، عبادت گزاری اور سعادتمندی بہت پسند تھی۔ والدین کی بے انتہا غربت کے باوجود وہ صابر تھا۔ پڑھائی میں اول تھا۔ رمضان کا تیسرا عشرہ دوزخ سے نجات کا شروع ہو چکا تھا۔ محلے اور اسکول کے اس کے سارے دوست عید کی خریداری کر چکے تھے لیکن راشد کے ابو بمشکل افطاری اور سحری کا انتظام کر پارہے تھے۔
راشد پہلے روزے سے ہی مغرب کی نماز میں مسجد جاکر اللہ تعالیٰ سے گڑگڑا کر غربت سے نجات کی دعا کرتے ہوئے رونے لگتا تھا۔ اللہ تعالیٰ کو راشد کی آہ و زاری بہت اچھی لگتی تھی۔ راشد کو آہ و زاری کرتا دیکھ کر اللہ تعالیٰ بہت خوش ہوتا اور فرشتے حیران ہوتے رہتے تھے کہ اللہ تعالیٰ کیوں اس معصوم کا اتنا سخت امتحان لے رہا ہے۔
آج بھی راشد معمول کے مطابق افطار سے پہلے مسجد پہنچ کر دعا کرتے ہوئے آنسو بہا رہا تھا۔ اچانک ایک فرشتہ صفت شخص راشد کے بغل میں وارد ہوئے اور راشد کی ہر دعا پر آمین آمین کہنے لگے۔ مؤذن نے مغرب کی اذان شروع کی تو راشد نے جیب سے بسکٹ نکال کر کھایا اور روزہ افطار کر کے پانی پی کر نماز میں شامل ہوگیا۔ نماز سے فارغ ہوکر وہ گھر لوٹ رہا تھا کہ ایک شخص پیچھے سے اس کے قریب آکر اس کے ساتھ چلنے لگا۔ گھر کے دروازے پر پہنچ کر وہ آدمی راشد سے بولا۔ ابو کو بلا کر لاؤ۔ راشد نے گھر میں جاکر ابو کو بتایا کہ کوئی اجنبی شخص آپ سے ملنے کیلئے دروازہ پر آپ کا منتظر ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ’’جنگ پر کئی شاہکار افسانے تخلیق ہوئے‘‘
راشد کے ابو باہر نکلے تو اس اجنبی نے ایک تھیلا راشد کے ابو کو سپرد کرتے ہوئے کہا کہ یہ راشد کی امانت ہے۔ اللہ نے بھیجی ہے۔ بچہ ہے اس لئے اسے نہیں دی۔ یہ کہ کر وہ آدمی غائب ہوگیا۔ راشد کے ابو حیران و ششدر رہ گئے۔ گھر میں داخل ہوئے۔ عجلت سے تھیلے کو الٹ کر دیکھا تو ان کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں ۔ تھیلے میں نوٹوں کے بنڈل اور سونے کی مہریں تھی۔ انکی کچھ سمجھ میں نہیں آرہا تھا۔
فرشتوں کو حیران اور متجسس دیکھ کر اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ یہ راشد کے صبر کا ثمر ہے۔ اب غربت کبھی اس کے قریب نہیں آئے گی۔ جانتے ہو آج میں نے راشد کی دعا کیوں قبول کرلی ـ؟ تمام فرشتے ایک زبان ہو کر بولے’’ آپ ہم سے بہتر جانتے ہیں رب العالمین....‘‘ اللہ نے فرشتوں کے تجسس کو رفع کرتے ہوئے فرمایا .....’’ میرے محبوب محمدؐ کے راشد کی دعا پر آمین کہنے پر....‘‘