سعودی عرب نے ایرانی فوجی سہولیت، معاون سہولت، اور تین دیگر ایرانی سفارت خانے کے عملے کو `ناپسندیدہ شخص قرار دے کر۲۴؍ گھنٹے میں ملک چھوڑنے کا حکم دے دیا، بیان میں ملک پر ایرانی حملوں کا حوالہ دیا گیا ہے۔
EPAPER
Updated: March 22, 2026, 10:25 PM IST | Riyadh
سعودی عرب نے ایرانی فوجی سہولیت، معاون سہولت، اور تین دیگر ایرانی سفارت خانے کے عملے کو `ناپسندیدہ شخص قرار دے کر۲۴؍ گھنٹے میں ملک چھوڑنے کا حکم دے دیا، بیان میں ملک پر ایرانی حملوں کا حوالہ دیا گیا ہے۔
سعودی عرب نےایران کے حالیہ حملوں کا حوالہ دیتے ہوئے، ایرانی فوجی سہولت ، معاون سہولت اور تین دیگر ایرانی سفارت خانے کے عملے کو ،’’ناپسندیدہ شخص‘‘ قرار دے کر۲۴؍ گھنٹے میں ملک چھوڑنے کا حکم دیا۔ سنیچر کی شب دیر گئے ایک بیان میں، سعودی عرب کی وزارت خارجہ نے کہا کہ،’’ وہ خلیج تعاون کونسل کے ممالک پر ایران کے حملوں کی مذمت کرتی ہے۔ایران کے سعودی عرب کو نشانہ بنانے والے حملے تمام متعلقہ بین الاقوامی کنونشن، ہمسائیگی کے اصولوں، اور ریاستی خودمختاری کے احترام کی واضح خلاف ورزی ہیں۔‘‘بیان کے مطابق، یہ بیجنگ معاہدہ، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد نمبر ۲۸۱۷؍کی بھی خلاف ورزی ہیں، اور اسلامی بھائی چارے اور اسلامی مذہب کی اقدار اور اصولوں کے منافی ہیں جن کا ایران کی جانب سے مسلسل ذکر کیا جاتا ہے، اس بات کی تصدیق کرتے ہوئے کہ یہ محض الفاظ ہیں جن کا اعمال میں اظہار نہیں ہوتا۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ کی ایران کو آبنائے ہرمز نہ کھولنے پر بجلی گھروں پر حملے کی دھمکی
دریں اثناء وزارت نے کہا کہ یہ حملے موجودہ اور مستقبل میں دوطرفہ تعلقات پر ’’گہرا‘‘ اثر ڈالیں گے، ساتھ ہی اپنی خودمختاری اور سلامتی کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات اٹھانے کے عزم کا اظہار کیا۔ واضح رہے کہ سعودی عرب ۲۸؍ فروری کو جنگ شروع ہونے کے بعد سے ایسے اقدامات کرنے والا دوسرا ملک بنا۔اس ہفتے کے شروع میں، قطر نے ایران کے فوجی اور سیکیورٹی سہولت کو اس وقت ملک بدر کر دیا تھا جب ایرانی میزائلوں نے راس لافان مائع قدرتی گیس (ایل این جی) سہولت کو وسیع پیمانے پر نقصان پہنچایا تھا۔
یہ بھی پڑھئے: ہم گرین لینڈ کی حفاظت کریں گے: ایران کی یورپی یونین کو پیشکش
یاد رہے کہ خطے میں جنگ اس وقت سے بڑھ گئی ہے، جب۲۸؍ فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملے شروع ہوئے،جس کے بعد تہران نےخلیجی ریاستوں میں واقع امریکی فوجی اڈوں ا ور اسرائیل کو نشانہ بناتے ہوئے بار بار ڈرون اور میزائلحملے کئے۔