علم سے سُرخروئی کی ہماری ایک روشن روایت ہے

Updated: July 26, 2020, 9:10 AM IST | Mubarak Kapdi

کسی بھی وبا یا بلا سے مقابلہ کرنے کیلئے حصولِ علم کا راستہ ہی اپنانا ہے۔ اگلے وقتوں میںہر محاذ پر مسلمانوں کی سرخروئی کا سب سے بڑا سبب یہ تھا کہ اُن کے دل و دماغ میں کشادگی تھی۔ یہ نسخہ آج بھی کارگرثابت ہوگا

education - Pic : INN
تعلیم ۔ تصویر : آئی این این

مشہور ہے کہ برطانوی سلطنت کا سورج کبھی غروب نہیں ہوتا۔ نصب صدی تک اشراکیت کا بھی ایسا ہی شور و غلغلہ تھا۔اُس وقت بعض لوگوں کو ماسکو کی طرف دیکھ کر ہی سکون ملتا تھا۔ ویت نام میں کالے کرتوتوں کے باوجود امریکی صدر کی رہائش گاہ کا نام ’وائٹ ہائوس‘ رہا اور اب اِدھربی مینڈکی کو بھی زکام ہوا ہے۔ کورونا سے لڑائی میں انتہائی درجے کی کوتاہی اور مجرمانہ تساہلی کے باوجود کہا یہ جارہا ہے کہ دنیا کے۱۵۰؍ملکوں نے ہمارے ملک سے رہنمائی حاصل کی ۔کہیں ایسا تو نہیں کہ مریضوں کی تعداد۱۰؍ لاکھ سے ۵۰؍ لاکھ پہنچنے پر کوئی بڑا جشن منایا جائے گا؟ دراصل آج ہندوستانی معاشرہ تعصبات اور جذباتیت سے اس درجہ مغلوب ہے کہ یہاں سائنسی اور منطقی انداز فکر کو کوئی جگہ نہیں رہی لہٰذا صدی بھر کی اس سب سے ہولناک وبا کامقابلہ کرنے کیلئے  ہر قسم کی غیر سائنسی حرکات جیسے تالی، تھالی اور شنکھ بجانے کے ساتھ ہی  دیے اور موم بتیاں جلائی گئیں۔ ذہن بھٹکانے کیلئے شہریت قانون مخالفین کو جیل کے اندھیروں میں دھکیلا گیا اور اب سب سے بڑا پانسا بھی پھینکا گیا، وہ ہے رام مندر کی شیلانیاس البتہ قدرت کا ایک طے شدہ قانون ہے کہ کسی فرد یا افراد کو اقتدار گمراہ کردے تو رسّی دراز کردی جاتی ہے حتّی کہ وہ اپنے انجام کو پہنچے۔
 کورونا کے وبائی دَورمیں ہماری قوم کے بڑوں کا رویہ کیسا رہا، یہ بھی قابل مطالعہ ہے۔ایک طویل عرصے تک تو ہمارے یہاں کئی سازشی تھیوریاں  گردش کرتی رہیں۔ چند لوگوں کی بانچھیں بھی کھل گئیں کہ سائنس چاروں شانے چت ہوگئی۔ سائنس بمقابلہ مذہب کے ٹورنامنٹ کے تماشائی چہکنے لگے۔ یہ سبھی چونکہ میدان کے کھلاڑی نہیں بلکہ اسٹیڈیم کے تماشائی ہیں، اسلئے  اُنھیں اِن روشن تاریخی حقائق کا علم نہیںکہ آج کی دنیا کی نامور ترین آکسفورڈ یونیورسٹی کے قیام کے وقت مشاورت کیلئے جن دنیا بھر کے ممتاز مفکرین کا انتخاب ہوا  تھا،اُن میں امام غزالیؒ بھی شامل تھے۔ مولانا روم کے افکار کا ترجمہ مغربی زبانوں میں بھی ہوا۔ خلیل جبران عالم عرب سے زیادہ مغرب میں مقبول تھے اور آج بھی ہیں۔ آج ساری دنیائےسائنس علم مثلث کے مثلثیاتی تناسب کیلئے ابن معادہ ، کیکولس کیلئے الجبران ، دس سمتی ہندسی شکل کیلئے مسلم ریاضی دانوں کا گروپ ، علم ہندسہ کیلئے عمر خیام اور نہ جانے کتنے ہی سائنس و ریاضی ، حکماء اور دانشوروں کی مقروض ہے۔ چند سال’ کچھ دہائیاں نہیں کئی صدیوں تک ہمارے یہاں اُن اکابرین کی دین سے بھرپور تعلق بھی رہا اور عصری علوم کے وہ بادشاہ بنے رہے۔ گزشتہ دو صدیوں میں ہم علم بیزاری کا شکار ہوئے اور اِن دو صدیوں میں ہماری تحقیقات کا عالم یہ رہا کہ (ڈاکٹر عبد الکلام کی تحقیقات کو چھوڑکر) ہمارے کسی محقق نے کوئی ڈھنگ کی تحقیق نہیں کی جسے دنیا کے سامنے پیش کیا جاسکے۔ آج کورونا کی وبا میں ہمارے چند حکمانے کوئی کاڑھا ڈھونڈ ا جو یقینی طور پر کارآمد ہے... البتہ نوجوانو! علم سے دوبارہ دوستی کروگے تو مجھے یقین ہے کہ کوئی مسلم طبیب ، ڈاکٹر یا حکیم اس کورونا وائرس یا مستقبل کے کسی بھی وائرس کا ویکسین بھی دریافت کرے گا۔ 
  نوجوانو! یہ ممکن ہے ، قطعی ممکن ہے کہ سائنس کے میدان میں کھویا ہوا ہمارا وقار واپس آسکتا ہے اگر آپ یہ طے کرتے ہیں کہ اُس محفل سے (کوئی حجت یا تکرار کئے بغیر) نکل جائیں گے جہاں زندگی کو صرف منفی نقطۂ نظر سے دیکھا اور پرکھا جاتا ہے۔ آج بھی بد بختی سے ایسے چند افراد اپنے یہاںموجود ہیں جو وقت کے تصدیق شدہ، زمانے کے آزمودہ سارے فطری و سائنسی اُصول و ضوابط کو بھی مشکوک نظروں سے دیکھتے ہیں اور ہماری محفل ، ہمارے چوپال کا موضوع بناتے ہیں۔ غنیمت ہے کہ ہماری نئی نسل اس رویے سے لاتعلق ہے ورنہ ہمارے چند بچّے  روزانہ نیوٹن کو بُرا بھلا کہتے ہوئے گھر آتے کہ جب ایک باغ میں نیوٹن کے سرپر سیب گرا تو اُس کو کھالینا چا ہئے تھا ، اس کے بجائے اس نے یہ سوچنا شروع کیوں شروع کردیا کہ آخر یہ سیب زمین پر گیوں گِرا اور اس طرح کشش ثقل کی تحقیق کرڈالی۔اس کی وجہ سے آج ہمیں اسکول سے لے کر کالج تک سارے قوانین کشش ثقل پڑھنے، یاد کرنے اور لیب میں اُن پر تجربے کرنے پڑ رہے ہیں۔ ویسے کشش ثقل کی اس بیش قیمت تھیوری کی ایجاد گیارہویں صدی میں مسلم سائنس داں ابن سینا اور بارہویں صدی میں ابو لبرکاتی نے کی ہوتی مگر یہ کام نیوٹن نے اسلئے انجام دیا کہ اُس نے مسیحی قوم میں ہونے والی کسی مخالفت کو خاطر میں نہیں لایا۔
  نوجوانو! آپ نے اسکول / کالج میںنیوٹن کی کشش ثقل کی تھیوری تفصیل سے پڑھی البتہ اُس کے افکار اور اُس کے زندگی کے اُصولوں کو اُس کے دو اقوال سے سمجھئے جو یقیناً نوجوانوں کیلئے بھی آج بھی مشعلِ راہ ہیں (۱) میں کائنات کی وزنی اشیاء کی حرکت کا حساب تو لگا سکتا ہوں مگر مخالفین کے پاگل پن کا نہیں (۲)میں تو اپنے آپ کو ساحل پر کھیلتا ہوا ایک بچّہ سمجھتا ہوں جب کہ میرے سامنے سچّائی کا ایک نامعلوم سمندر ٹھاٹھیں مار رہا ہے۔ جو مخالفین کی پروا نہ کرے اور ایسی انکساری ہو کہ ہر بار وہ یہ سمجھے کہ وہ تو کچھ جانتا ہی نہ ہو، وہ کامیاب کیوںنہیںہوگا؟ 
 دوستو! آج جب ہم سائنس دانوں کی بات کر رہے ہیں تو یہ بھی یاد رکھیں کہ ہر زبان میںچند ادیب ایسے بھی ہوتے ہیں جو کسی سائنس داں سے کم نہیں ہوتے اور اُس کیلئے ہم مثال دینا چاہیں گے ابن صفی کی ، جنھوںنے آج سے چھ دہائی قبل موجودہ وائرس کا احاطہ کرتے ہوئے ’وبائی ہیجان‘ نامی ایک ناول لکھا تھا جس میں وہ ہر ہر بات لکھی جو ہم اپنے آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔ اُس میںوہ لکھتے ہیں کہ’ ’دنیا کی وہ بڑی طاقتیں جو اپنے اقتدار کیلئے رسّہ کشی کر رہی ہیں اس سے زیادہ بھی کر سکتی ہیں.... پوری پوری بستیوں پردھاوا بول دیتی ہیں.... پھر سڑکیں ویران ہوگئیں، اس حیرت انگیز وبا نے ساری دنیا کو چکرا کر رکھ دیا‘‘ اپنے عہد سے بہت آگے ایسے ادیب کچھ ایسے ہی جینئنس ہواکرتے ہیں۔آج کے اس لاک ڈائون سے تو ہمیں سائنس داںاور زندگی داںادیبوں سے شاید یہ بھی پڑھنے ملا ہوتا، چچا چھکن نے ویکسین خریدا(امتیاز علی تاج) ’مجھے میرے واٹس ایپ دوستوں سے بچائو (سجّاد حیدر یلدرم)‘ ،’۵۶ ؍انچ تنے والا جامن کا پیڑ(کرشن چندر)‘،’ ابو خاں کی گائے (ذاکر حسین)‘،’ بجائو پیتل کا گھنٹہ (قاضی عبد الستّار)‘ ،’ ایک ماسک میلا سا(بیدی)‘ وغیرہ۔ ایم فل / پی ایچ ڈی کے طلبہ ، قلم اُٹھائیے ، لاک ڈائون جاری ہے۔
  ’لاک ڈائون کے بعد‘ کی سیریز میں ہم ہر ہفتے ایک معاشرتی بیماری کا بھی ذکر کرتے رہے ہیں۔ آج ہم ذکر کرنا چاہیں گے سماج میں بڑھتی ہوئی ’سنگل والدین ‘نام کی وبا کا۔ گھر کے منظر نامے کے کچھ والدین اور صاحبان غائب ہوتے جارہے ہیں۔ ماں،ماں بھی ہے اور باپ بھی ۔ ٹوٹ جاتی ہیں یہ مائیں، زندگی کی گاڑی اکیلے کھینچتے کھینچتے۔ اس وائرس نے معاشرے کا ہر شعبے کو زیرو زبر کردیا ہے۔ اب تو والد صاحبان کو زیادہ ذمہ دار بننا ہے۔ ہمیں علم ہے کہ جب جیب خالی ہو تو اُس خالی جیب کے بوجھ کے ساتھ چلنا دشوار ہوتا ہے لیکن محترم والد صاحبان کیا آپ جانتے ہیں کہ آپ کے بچّے آپ کے تعلق سے کیا سوچتے ہیں؟ سُنئے ایک بچّے کا ’ابّا نامہ‘: ’’ہمارے ابّا کی محنت و مشقت ؟ اُف توبہ! بس کی قطار میں کبھی کڑی دھوپ میں ، کبھی شدید بارش میں سر پر کبھی چھتری ، کبھی صرف اخبار پکڑے، ہمارے ابّا کبھی چلتی بس پکڑتے ہیں اور کبھی ٹرین میں لٹک کر جاتے ہیں۔ کسی مسئلے پر ، کسی مصیبت پر امّی پھوٹ پھوٹ کر روتی ہیں لیکن ابّا؟ وہ کبھی نہیں روتے، ہم نے اپنے ابّا کو آج تک روتے نہیں دیکھا ہے۔ ہر مہینے کی ۲۲۔۲۰؍تاریخ کو ابّا کے ماتھے پر ہلکی سی شکن آتی ہے مگر جب ہم اُن کی طرف دیکھتے ہیںتو کیلنڈر کی جانب سے نظر ہٹاکر ہمیں دیکھتے ہیں اور مسکرانے لگتے ہیں۔ کوئی بھی مسئلہ سامنے آجائے ہمارے ابّا یوں چٹکی بجاکر اُسے حل کردیتے ہیں، ایک جادو ہے ہمارے ابّا کے ہاتھوں میں۔‘‘ محترم والد صاحبان! اپنے بچّوں کے اس’ ابّا نامے‘ پر کھرا اُترنے کا وقت آگیا ہے

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK