• Sat, 24 February, 2024
  • EPAPER

Inquilab Logo

جنگ کے دوران ’بریک‘ کا کیا مطلب؟

Updated: November 17, 2023, 1:21 PM IST | Shamim Tariq | Mumbai

اسرائیل نے یہ مہلت جس کو وہ انسانی بنیادوں پر دی گئی راحت قرار دے رہا ہے دراصل اپنی جارحیت میں اضافہ کرنے اور غزہ کے لوگوں کو ایک حصے سے دوسرے حصے میں کھدیڑنے کے لئے دی ہے۔

Demonstrations against Israel are taking place all over the world. Photo: INN
دُنیا بھر میں اسرائیل کے خلاف مظاہرے ہورہے ہیں۔ تصویر:آئی این این

غزہ میں  کتنے بڑے، بوڑھے، عورتیں  اور بچے جان سے گئے ہیں  اس کا اندازہ کرنا مشکل ہے البتہ اقوام متحدہ کی مختلف ایجنسیوں  اور سیکریٹری جنرل نے جو بیانات دیئے ہیں  یا دُنیا بھر میں  اسرائیل کے خلاف مظاہرہ کرنے والوں  کے حوالے سے جو خبریں  عام ہوئی ہیں  ان سے یہ اندازہ کرنے میں  دشواری نہیں  ہوتی کہ غزہ میں  اتنی اموات ہوئی ہیں  کہ دفن ہونے کے لئے قبرستان بھی باقی نہیں  رہ گئے ہیں  اس کے باوجود فلسطینیوں  کے حوصلے کا یہ عالم ہے کہ:
(۱) یوٹیوب پر ایک ایسے شخص کو چاکلیٹ تقسیم کرتے ہوئے دیکھا گیا جس کے گھر کے تمام لوگ شہادت سے سرخرو ہوچکے ہیں ۔
(۲) ایک بیٹے یا بیٹی کے دفن کئے جانے کے وقت باپ کے یہ الفاظ گشت کر رہے ہیں  کہ اللہ سے ملاقات ہو تو یہ کہنا کہ مسلمانوں  نے ہمارا ساتھ نہیں  دیا۔ اور،
(۳) ایک چھوٹی بچی کو ملبے سے جب باہر نکالا گیا تو وہ یہ بھی نہیں  سمجھ پا رہی تھی کہ اس کی موت ہو چکی ہے یا وہ زندہ ہے۔ وہ معصومیت سے اتنا پوچھ رہی تھی کہ کیا مجھے قبرستان لے جا رہے ہیں ؟
 مندرجہ بالا تمام واقعات صرف غزہ کے ہیں  جہاں  کے لوگ ۱۹۴۸ء کے پہلے ہی سے ظلم برداشت کر رہے ہیں ۔ یہ کہنا بھی شاید غلط نہیں  کہ غزہ میں  آج جو نسل بوڑھی ہوچکی ہے وہ بھی عالمی امداد پر پلی بڑھی ہے۔ وہ نہ جانے کتنی بمباری برداشت کر چکی ہے مگر تل ابیب اور اسرائیل کے دوسرے شہروں  میں  کتنی بار سائرن بجے ہیں ، کتنی اموات ہوئی ہیں ، کتنے لوگ اسپتالوں  اور بنکروں  میں  ہیں  یا کتنے لوگوں  نے اسرائیل کو ہمیشہ کیلئے خیرباد کہہ دیا ہے؟ اس کی کوئی تفصیل ہمارے سامنے نہیں  ہے۔ اسرائیل کا صرف یہ بیان ہے کہ ۱۴؍ سو نہیں  ہمارے ۱۲؍ سو افراد مرے ہیں  لیکن اتنا تو واضح ہے کہ غزہ میں  جو ہو رہا ہے غزہ کے لوگ اس کے عادی ہیں  مگر اسرائیل میں  جو ہو رہا ہے وہ وہاں  کے لوگوں  کیلئے قطعی غیر متوقع ہے۔ اسرائیلی حکومت، انٹیلی جنس اور فوج بھی اندازہ نہیں  کرسکی تھی کہ حماس کی قوت یا قوت مدافعت اتنی زیادہ ہے کہ سوا مہینہ بعد بھی وہ حملہ آور ہوتا رہے گا۔ ۲۰؍ گھنٹہ وحشیانہ بمباری کے بعد ۴؍ گھنٹے کی مہلت کو اسرائیل نے جنگ بندی کا نہیں  ’بریک‘ کا نام دیا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ غزہ اور اسرائیل کے دوسرے مقبوضہ علاقوں  میں  جو ہو رہا ہے وہ سب یکطرفہ ہے حالانکہ ایسا ہے نہیں ۔ حملے حماس کی طرف سے اب بھی ہو رہے ہیں ۔ اسرائیل نے یہ مہلت جس کو وہ انسانی بنیادوں  پر دی گئی راحت قرار دے رہا ہے دراصل اپنی جارحیت میں  اضافہ کرنے اور غزہ کے لوگوں  کو ایک حصے سے دوسرے حصے میں  کھدیڑنے کیلئے دی ہے۔ اسرائیل جس کو انسانیت کے نام پر دی گئی مہلت قرار دے رہا ہے وہ سراسر لاچاری کی مثال ہے۔ ظلم کرتے رہنے کیلئے بھی تازہ دم رہنا ضروری ہے۔ اسرائیل یہی کوشش کرتا رہا ہے۔ ایک خبر کے مطابق غزہ میں  ہر دس منٹ میں  ایک بچہ شہید ہو رہا ہے اور آئندہ بھی ایسا ہی ہوتے رہنے کی توقع ہے کہ تمام اسپتال محصور یا تباہ کر دیئے گئے ہیں  لیکن اسرائیل کی یلغار کب تک جاری رہے گی؟ کیونکہ اسرائیل میں  حکومت کیخلاف بے اطمینانی بڑھ رہی ہے۔ اسرائیل حامیوں  میں  فلسطین حامیوں  کی تعداد بھی بڑھ رہی ہے اور مسلسل تباہی کے بعد بھی حماس یا غزہ کے شہریوں  کا جذبۂ مزاحمت باقی ہے۔
 عرب ملکوں  میں  کچھ کی سرحدیں  اسرائیل سے لگی ہوئی ہیں  کچھ کی سرحدیں  اسرائیل سے دور ہیں ۔ اردن، مصر، شام کئی جنگیں  لڑ کر شرمناک شکست سے دو چار ہوچکے ہیں ۔ اس بار وہ حکمت عملی سے کام لے رہے ہیں  تاکہ اسرائیل کے جوابی وار میں  اپنا علاقہ گنوانا نہ پڑے۔ جو ملک شام، یمن اور لبنان کے راستے اسرائیل کو نشانہ بنا رہا ہے اس کی اپنی منصوبہ بندی ہے۔ اس کو سمجھنا بھی آسان نہیں  ہے۔ گلی کوچوں  میں  شوشہ چھوڑنے اور بیہودہ تبصرہ کرنے والے تو اس کو بالکل نہیں  سمجھ سکتے۔ غیرت مند عوام وہ چاہے جس مذہب سے تعلق رکھتے ہوں  مظلوموں  کے جذبۂ مزاحمت کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں ۔ وہ یہ بھی جانتے ہیں  کہ فلسطینی مظلوموں  کے حق میں  بولنے والوں  میں  کس نے بہت کچھ گنوایا ہے اور کس نے بہت کچھ حاصل کیاہے۔ ذہنیت ان کی قابل ملامت ہے جو دنیا حاصل کرنے کیلئے اپنی دینی حمیت کو فروخت کرنے کے در پے ہیں ۔ ایسے لوگوں  کو یہ بھی نہیں  معلوم کہ فلسطینیوں  کے جذبۂ شہادت یا مزاحمت سے فتح کے آثار بھی نمودار ہو رہے ہیں ۔ وہی اسرائیل جو سینہ ٹھوک کر کہتا تھا کہ فلسطین میں  فلسطینیوں  کو ختم کرکے رہیں  گے اب اپنے ہم نواؤں  کے ذریعہ جنگ پر تشویش اور فلسطین میں  صرف ایک اتھاریٹی فلسطینی اتھاریٹی کو باقی رکھنے کی بات کر رہا ہے۔ یہ بھی انہیں  کی پسپائی ہے کہ حماس کو کھڑا کرنے کا کام عرب مملکتوں  نے نہیں  انہیں  مملکتوں  نے کیا تھا جو آج اس کو دہشت گرد کہہ رہے ہیں ۔
 اگر فلسطینی مملکت وجود میں  آچکی ہوتی اور یہ معلوم ہوتا کہ اسرائیل کا رقبہ کتنا ہے تو ساری دنیا کہتی کہ حماس دہشت گرد ہے مگر آج دہشت گرد ان کو قرار دیا جا رہا ہے جن کی املاک و حکومت کو چھیننے پر ہی اکتفا نہیں  کیا گیا ہے ان کی سانسیں  بھی چھیننے کی کوششیں  کی جارہی ہیں ۔ ایسے میں  اگر کچھ لوگ انہیں  میں  سے ایسے پیدا ہوگئے جو تنگ آمد بجنگ آمد کے مصداق لڑنے پر آمادہ ہیں  تو کیا ان کو دہشت گرد کہا جاسکتا ہے؟ جھوٹ بولنا سیاستدانوں  کا شعار ہے مگر اب اسرائیل کے وزیراعظم ایسا جھوٹ بول رہے ہیں  جس کی نفی کرنے کی بھی ضرورت نہیں  ہے۔ موصوف کا ایک بیان یوٹیوب پر حوالے کی صورت میں  پیش کیا جا رہا ہے کہ ہٹلر ایک خاص مذہب کے لوگوں  کو مارنا نہیں  بلکہ صرف جرمنی سے نکالنا چاہتا تھا مگر فلسطین کے مفتی اعظم امین الحسینی اس سے ملے اور دباؤ ڈالا کہ وہ قتل عام شروع کرے۔ ہٹلر کے جرمنی میں  ہولوکاسٹ یعنی نسل تطہیر کی اب تک کی جتنی بھی تفاصیل ہیں  یا نظریے اور بیانات ہیں  یہ بیان ان سب کے خلاف ہے۔ کیا یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ جھوٹ وہی بولتا ہے جو حواس باختہ ہو چکا ہو یا اپنے گناہوں  اور مظالم پر پردہ ڈالنا چاہتا ہو۔ ہمارے ملک میں  بھی بعض لوگ اس طرح حواس باختہ ہو کر دوسرے کو ورغلا رہے ہیں  کہ دنیا کو معلوم نہ ہو کہ ان کے دل میں   غاصب اسرائیل کی محبت بھری ہوئی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK