Inquilab Logo

اس کے علاوہ چارہ کیا تھا؟

Updated: September 15, 2023, 1:39 PM IST | Inquilab News Network | Mumbai

’’اِنڈیا‘‘ کہلانے والے اپوزیشن اتحاد کا یہ فیصلہ بظاہر سخت اور ناپسندیدہ ہے کہ مخصوص ٹی وی چینلوں کے پروگراموں اور گیارہ ٹی وی اینکروں کے شوز میں ’’اِنڈیا‘‘ کا کوئی ترجمان شریک نہیں ہوگا، مگر اس سخت اور ناپسندیدہ فیصلے کے علاوہ کوئی چارہ بھی نہیں تھا۔ یہ تنگ آمد بجنگ آمد والا معاملہ ہے۔

 India Meeting  Leaders
انڈیا میٹنگ کے لیڈران۔تصویر:آئی این این

’’اِنڈیا‘‘ کہلانے والے اپوزیشن اتحاد کا یہ فیصلہ بظاہر سخت اور ناپسندیدہ ہے کہ مخصوص ٹی وی چینلوں  کے پروگراموں  اور گیارہ ٹی وی اینکروں  کے شوز میں  ’’اِنڈیا‘‘ کا کوئی ترجمان شریک نہیں  ہوگا، مگر اس سخت اور ناپسندیدہ فیصلے کے علاوہ  کوئی چارہ بھی نہیں  تھا۔ یہ تنگ آمد بجنگ آمد والا معاملہ ہے۔ 
 جب اپوزیشن کے ترجمانوں  کو موقع ہی نہ دیا جاتا ہو یا بہت کم موقع دیا جاتا ہو، اُن کی بات نہ سنی جاتی ہو یا بات فوراً کاٹ دی جاتی ہو یا اُس کی جانب سے پیش کئے جانے والے ممکنہ دلائل کے خلاف پہلے سے افراد متعین کئے جاتے ہوں  جن کی ذمہ داری یہ ہو کہ اُنہیں  بات کاٹنی ہے، ٹھوس دلیلیں  بھی نہیں  ماننی ہیں  اور جھوٹ پر اصرار کرنا ہے تو اسے دھاندلی کے سوا کچھ نہیں  کہا جاسکتا۔ افسوس کہ یہ دھاندلی گزشتہ کئی برسوں  سے جاری ہے جسے روکا جانا چاہئے تھا مگر ایسا نہیں  ہوا۔
 حقیقت یہ ہے کہ اِنڈیا کہلانے والے اتحاد نے یہ فیصلہ بہت بعد میں  کیا ہے، اس سے بہت پہلے ملک کے بے شمار شہریوں  نے ان ٹی وی چینلوں  یا مخصوص اینکروں  کے شوز دیکھنے کا سلسلہ ترک کردیا۔ بہت سوں  نے تو ٹی وی ہی کو خیرباد کہہ دیا ہے کیونکہ اب ہر کوئی جان گیا ہے کہ ایسے ٹی وی شوز کا مقصد کیا ہے۔ یاد کیجئے جب کسان آندولن جاری تھا اور کسان دہلی کی سرحدوں  پر دھرنا دے رہے تھے تب اُنہوں  نے گودی میڈیا کے چینلوں  کا مکمل بائیکاٹ کیا تھا۔ دھرنے کی جگہ پر یا تو گودی میڈیا کے رپورٹرس کو آنے ہی نہیں  دیا گیا اور اگر آگئے تو اُن سے بات چیت کرنا گوارا نہیں  کیا گیا۔ کیاکسان نہیں  چاہتے تھے کہ اُن کی آواز اور مطالبات میڈیا کے ذریعہ عوام بالخصوص حکومت تک پہنچیں ؟ مگر نہیں ، وہ جانتے تھے کہ حکومت نواز میڈیا اُن کی بات کو گھما دے گا اور اُن کے آندولن کی تحقیر کرے گا اس لئے اُنہوں  نے مخصوص چینلوں  کو منع کردیا تھا کہ وہ دھرنے کی جگہ نہ آئیں ۔  
 کسان جانتے تھے کہ یہ چینل اور ٹی وی اینکرحکمراں  جماعت کے ترجمان نہیں ، ’’سُپرترجمان‘‘ ہیں ۔ ان کے سوالات کا انداز دیکھئے، سوالات میں  موجودہ طنز اور نشتریت کو ملاحظہ کیجئے، چیخنے چلانےکی عادت پر غور کیجئے  اور بعض جوابات کیلئے بھرپور موقع دینے اور بعض جوابات کے دوران روک ٹوک کے عمل کا مشاہدہ کیجئے، صاف ظاہر ہوتا ہے کہ شو کے دوران بحث اور دلائل حاوی نہیں  رہتے، اِن اینکروں  اور ان کے بلائے ہوئے جانبدار لوگوں  کا شوروغل حاوی رہتا ہے۔  ان کے شوز میں  شریک ہوکر خود کو تماشا بنانے سے بہتر ہے کہ شرکت ہی نہ کی جائے۔ 
 انڈیا کے اس فیصلے  پر بی جے پی کو تنقید کا حق نہیں  ہے اسکے باوجود پارٹی کے صدر نے اسے میڈیا کو خوفزدہ کرنے کی کوشش قرار دیا ہے۔ کوئی اُن سے پوچھے کہ یہ میڈیا کو خوفزدہ کرنا کیسے ہوا؟ یاد نہ ہو تو کوئی اُنہیں  یاد دلائے کہ اڈانی کے ٹیک اووَر سے پہلے این ڈی ٹی وی کے شوز میں  بی جے پی کے ترجمان شریک نہیں  ہوتے تھے۔ کیا وہ بھی میڈیا کو خوفزدہ کرنے کی کوشش تھی؟ 
 ذرائع ابلاغ کو جمہوریت کا چوتھا ستون کہا جاتا ہے لیکن گزشتہ چند سال سے ہماری جمہوریت کا یہ ستون کسی کے جھکائے بغیر یا جھکنے کی دعوت پر اس حد تک جھک چکا ہے کہ غیر جانبدارانہ رائے اور کھلی بحث کی راہ مسدود ہو گئی ہے۔ اسی لئے حکومت نواز میڈیا اپنی ساکھ گنوا چکا ہے۔ اس کی حیثیت دو کوڑی کی ہوگئی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK