Inquilab Logo

۹۰ء کی دہائی کے الیکشن کمیشن سے موازنے پر موجودہ کمیشن کاغذی شیر نظرآتا ہے

Updated: June 16, 2024, 2:37 PM IST | Arkam Noorul Hasan | Mumbai

بات میں جہاں حکمراں پارٹی اور اپوزیشن کے درمیان نظریاتی جنگ معنویت کی حامل رہی اور اس کے مثبت نتائج بھی برآمد ہوئے وہیں الیکشن کمیشن کے اختیارات کی معنویت اوراس کے اعتبارمیں کمی کاپہلو بھی نمایاں رہا۔

The Election Commission is losing its credibility with each passing day. Photo: INN
الیکشن کمیشن ہرگزرتے دن کے ساتھ اپنا اعتبار کھوتا جارہا ہے۔ تصویر : آئی این این

۲۰۲۴ء کے عام انتخابات میں جہاں حکمراں پارٹی اور اپوزیشن کے درمیان نظریاتی جنگ معنویت کی حامل رہی اور اس کے مثبت نتائج بھی برآمد ہوئے وہیں الیکشن کمیشن کے اختیارات کی معنویت اوراس کے اعتبارمیں کمی کاپہلو بھی نمایاں رہا۔ الیکشن کمیشن کو کیا اورکیسے اختیارات حاصل ہیں، آئینی طورپرتو یہ تفصیلی تجزیہ کا موضوع ہے لیکن یہ یقینی ہے کہ انتخابات کے موسم میں یہی ادارہ سب سے مضبوط ہوتا ہے۔ یہ ادارہ نامزدگی قبول کرسکتا ہے، مسترد کرسکتا ہے، امیدواروں کو نااہل قراردے سکتا ہے۔ سب سے اہم بات یہ کہ آزادانہ اور شفاف انتخابات کا انعقاداس کی بنیادی ذمہ دا ری ہے۔ اسی لئے وہ مثالی ضابطہ اخلاق نافذ کرتا ہے۔ انتخابی مہموں میں امیدواروں اور امیدواروں کے بیانات پر نظر رکھتا ہے۔ ووٹروں کو لبھانے کے غیر قانونی طریقوں کی روک تھام کرتا ہے۔ یہ سب انتخابی کمیشن کےمقاصد ہیں۔ انتخابات میں ان سارے امور کا نفاذ بہت اہمیت رکھتا ہےلیکن حال ہی میں ہوئے عام انتخابات اوراس سے قبل گزشتہ کچھ برسوں میں ہوئے متعد دانتخابات میں الیکشن کمیشن نےسوائے تاریخوں کے اعلان کے اور کچھ نہیں کیا۔ کہیں کچھ چھوٹی موٹی اوربرائے نام کارروائی ہوئی جو ادارہ کے شایان شان نہیں ہیں۔ 
 آزادانہ ا ور شفاف انتخابات کےکیا معنی ہیں ؟اس کی تعریف میں شامل کئی پہلوؤں میں اہم ترین پہلو انتخابی مہموں کوفرقہ وارانہ اورتقسیم کے بیانیہ سےآزاد رکھنا ہے۔ اس پہلو کے اعتبارسے الیکشن کمیشن کوناکام ہی کہا جائے گا کیونکہ ۲۰۲۴ء کے عام انتخابات میں بی جے پی لیڈروں کی کوئی مہم فرقہ وارانہ شرانگیزی کے بغیر مکمل نہیں ہوئی۔ اس کے علاوہ انتخابی مہموں کے آغاز سے قبل جن آکروش ریلیوں کے نام پرجوشرانگیزیاں کی جارہی تھیں، وہ بھی انتخابات کو پولرائز کرنے کا پیش خیمہ تھیں۔ ان جن آکروش ریلیوں کے حوالے سے توالیکشن کمیشن پر انگلی نہیں اٹھائی جاسکتی کیونکہ یہ انتخابی ضابطہ اخلاق سے پہلے کا معاملہ ہے لیکن یہی شرانگیزی اور یہی فرقہ وارانہ بیانیہ جب باقاعدہ انتخامی مہموں میں برقرار رہا جن میں وزیر اعظم مودی اور وزیر داخلہ امیت شاہ تک ملوث رہے تب کارروائی کی ذمہ داری الیکشن کمیشن کی ہی تھی۔ مسلم ریزرویشن کو غیر ضروری طورپر موضوع بنایا گیا جبکہ یہ ریاستی حکومتوں کا اختیاری معاملہ تھا۔ اگر اس پر مذہبی حوالے سے کوئی اعتراض ہوتا بھی تو یہ آئینی معاملہ تھا، اسے انتخابی مہموں میں موضوع نہیں بنایا جاسکتا لیکن الیکشن کمیشن نے یہاں بھی کوئی کارروائی تو دور، متنبہ تک نہیں کیا۔ مسلمانوں کو در انداز کہا گیا، ہندو خواتین کو خوفزدہ کیاگیا کہ ان کا منگل سوتر چھین لیا جائے گا۔ یہ کس پست درجے کی بیان بازیاں تھیں لیکن الیکشن کمیشن نے خاموش رہ کراپنے اعتبار پر سوال کھڑا کرنے کاخود موقع دیا ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے:منموہن سنگھ نے اپنے خط میں کئی محاذوں پر حکومت کو گھیرا ہے

۹۰ء کی دہائی کا وہ الیکشن کمیشن کہاں گیا جس نے شیوسینا سربراہ بال ٹھاکرے جیسےلیڈر پر ۶؍ سال تک الیکشن نہ لڑنے کی پابندی لگا ئی تھی۔ وجہ کیا تھی، یہی جو آج عام ہے، ووٹ مانگنے کیلئے پولرائز کرنا، فرقہ واریت کو بنیاد بنانا۔ اس وقت آنجہانی ایم ایس گل چیف الیکشن کمشنر تھے جنہوں نے فوری طورپر یہ قدم اٹھایا تھا۔ آج ایسے کسی معاملے میں کیا کمیشن کا کوئی نمائندہ فوری قدم اٹھانے کی جرأت کرسکتا ہےجبکہ آج مذہبی بنیادوں پرعوام کو تقسیم کرکے ووٹ مانگنےکی بے شمار مثالیں اور حوالے موجود ہیں۔ ۲۰۱۹ء کے انتخابات میں وزیر اعظم مودی کے خلاف انتخابی ضابطہ اخلاق کی کئی شکایتیں کی گئی تھیں۔ کسی ایک شکایت پربھی الیکشن کمیشن نے وزیر اعظم مودی سے جواب تک نہیں مانگا بلکہ آخر میں انہیں سارے الزامات سے کلین چٹ دے دی۔ اس کے بعد۲۰۲۴ء میں بھی الیکشن کمیشن کا یہی طرز رہا۔ 
 انتخابی مہموں کے دوران کانگریس کی جانب سے کئی بار یہ دعویٰ کیاگیا کہ وزیر اعظم مودی کے خلاف اس کی شکایتوں پر الیکشن کمیشن کوئی کارروائی نہیں کررہا ہے۔ کانگریس کے ایک وفد نے اس سلسلے میں الیکشن کمیشن میں جاکر اسے آگاہ کیا لیکن بات آگے نہیں بڑھ سکی۔ الیکشن کمیشن بی جےپی کا محافظ بنا رہا، وزیر اعظم اوروزیر داخلہ کے بیانات سے چشم پوشی کرتا رہا، اسے ان بیانات میں ، تقریروں میں کوئی ضابطہ اخلاق کی کوئی خلاف ورزی نظر نہیں آئی۔ 
 اگر۹۰ء کی دہائی سے موازنہ کیاجائے تواور بھی کئی پہلوؤں سے موجودہ الیکشن کمیشن کا غذی شیر ثابت ہوتا ہوا نظر آتا ہے۔ یہاں سابق چیف الیکشن کمشنر آنجہانی ٹی این سیشن کاحوالہ اہمیت کا حامل ہے جو۱۹۹۰ء سے ۱۹۹۶ ء تک کمیشن کے سربراہ رہے۔ ٹی این سیشن کو انتخابی اصلاحات کیلئے جانا جاتا ہے۔ انہوں نے ۱۰۰؍ سے زائد ایسی چھوٹی بڑی بدعنوانیوں کی نشاندہی کی تھی جو کمیشن میں یا اس کے توسط سے جاری تھی۔ انہو ں نے ان کا خاتمہ کیا اوراصلاحات کے ایک جامع عمل کاآغاز کیا۔ ٹی این سیشن نے الیکشن کمیشن کی حیثیت متعین کی اور ادارہ کے آئینی اختیارات کو استعمال کرکے دکھا یا۔ انہوں نے ووٹروں کو رشوت دینے اور انتخابات کے دوران ان میں پیسے ا ور شراب بانٹنےجیسے اقدامات بند کروائے، انتخابی مہموں میں سرکاری رقم اور مشینری کے استعمال پر قدغن لگایا، مہموں میں امیدواروں کے ذریعے اخراجات کی حد متعین کی، ذات پات اور فرقہ وارانہ بنیادوں پررائے دہندگان کے جذبات واحساسات کے ساتھ کھلواڑ کرنے اور انتخابی مہموں میں عبادتگاہوں کو لانے پر سخت اقدامات کئے۔ ٹی این سیشن کے انہی اصلاحی اقدامات کےسبب ۱۹۹۹ء کے عام انتخابات میں اخراجات کی تفصیل فراہم کرنے میں ناکامی پر۱۴۸۸؍ امیدواروں کو تین سال کیلئے نا اہل قراردیا تھا۔ اس کے علاوہ انہوں نے بذات خود۴۰؍ ہزار امید واروں کے اکاؤنٹ کی چھان بین کی تھی اور غلط معلومات فراہم کرنے کے سبب ۱۴؍  ہزار امید وا روں کونا اہل قراردیا تھا۔ ۱۹۹۲ء میں بہار اور پنجاب میں انتخابات ہونے والے تھےلیکن ’انتخابی مسائل ‘کے سبب یہ انتخابات منسوخ کر دئیے گئے تھے۔ آج مسائل کے سبب کوئی الیکشن منسوخ کرنا تو کجا، جواز ہونے کے باوجود کسی امیدوار کو نا اہل قراردینے کی کمیشن جرأت نہیں کر سکتا۔ ضلع کلکٹروں کوامیت شاہ کے ذریعے دھمکانے کے معاملے میں موجودہ الیکشن کمیشن نے بڑی دلیری دکھائی تھی کہ آگے کی کارروائی کیلئےجے رام رمیش سے خود ثبوت مانگے لیکن یہاں بھی بات آگے نہیں بڑھ سکی، حالانکہ وہ خودجانچ پڑتال کرکے کارروائی کی شروعات کرسکتا تھا۔ اس دوران ای وی ایم میں محفوظ ووٹوں کے علاوہ کم یا زیادہ ووٹوں کی گنتی کے معاملات بھی سامنے آئے۔ ایسے تکنیکی معاملات پربھی عوام اور اپوزیشن شبہات کا اظہارکرتے رہےہیں لیکن موجودہ الیکشن کمیشن کا مزاج مطمئن کرنے کا نہیں ہے اس لئے شبہات اور سوا لات کا دائرہ بڑھتا ہی جاتا ہے۔ یہی معاملہ ووٹنگ کے حتمی اعدادوشمار جاری کرنے کے تعلق سے بھی ہےجس پر کانگریس صدر نے کمیشن کو خط لکھ کرتشویش کا اظہار کیاتھا۔ ۹۰ءکی دہائی میں شام تک حتمی اعدادوشمار آجاتے تھےلیکن آج کمیشن اس پربھی پس وپیش کی صورتحال پیدا کردیتا ہے بلکہ اس نے تو اب کہہ بھی دیا ہےکہ ووٹنگ فیصد جاری کرنا ضروری نہیں ہے کیونکہ اس سے نتائج پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ موجودہ چیف الیکشن کمشنر راجیو کمارکیا بتا سکتے ہیں کہ شفافیت کو راہ دینے والی اس روایت سے ہٹنے کا کیا جواز ہے ؟ ٹی این سیشن اور ایم ایس گل کی سربراہی میں ۹۰ء کی دہائی کا وہ الیکشن کمیشن تھا جسے پتہ تھا کہ انتخابات کی اہمیت ومعنویت کیا ہوتی ہے اور شبہات کو اطمینان میں کیسے بدلنا ہے۔ کہا جاسکتا ہےکہ ٹی این سیشن یا ایم ایس گل جیسے سربراہ آج ہوتے تووزیراعظم اور وزیر داخلہ تک کی امیدواری کا منسوخ ہونا خارج از  امکان نہیں ہوتا۔ آج الیکشن کمیشن محدود مسدودہوچکا ہےکیونکہ وہ حکمراں پارٹی کے زیر اثر ہے۔ اسے غالباً اپنی اس پوزیشن کا احساس نہیں ہےکہ وہ حکومت میں شامل نہیں ہے بلکہ حکومت کا نگراں ہے۔ حکومت اگر براہ راست عوام کی نمائندہ ہے توالیکشن کمیشن اور اس جیسے دیگر جمہوری ادارے بالراست عوامی نمائندے ہیں ۔ حکومت کے پاس اپنے اختیارات اور طاقت ہے اورالیکشن کمیشن کے اپنے اختیارات ہیں۔ برسراقتدار پارٹی اگرووٹوں کیلئے عوام کو تقسیم کرنے کا حربہ اپنا سکتی ہے توالیکشن کمیشن عوامی ہم آہنگی برقراررکھنے کیلئے اسی پارٹی کے خلاف کارروائی بھی کرسکتا ہے۔ یہ حدودواختیارات کو سمجھنے کا معاملہ ہے۔ موجودہ الیکشن کمیشن کوجو بر سراقتدار پارٹی کا نمائندہ بنا ہوا ہے، شاید یہ بات سمجھ میں آنا مشکل ہے کہ عوامی نمائندگی کے قانون نے اسے جو بازو عطا کئے ہیں، وہ اقتدار کے ایوانوں سے زیادہ مضبوط ہیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK