ممبئی کومہاراشٹرمیں شامل کرنے کیلئے جلوس نکلتے تو ہم طلبہ بھی اس میں شامل ہوجاتےتھے

Updated: January 23, 2023, 5:31 PM IST | Saadat Khan | MUMBAI

تریاسی؍ سالہ عبدالرحیم عبداللطیف نے ابتدائی تعلیم کماٹی پورہ کے میونسپل اُردو اسکول اور اعلیٰ تعلیم مہاراشٹر کالج سے حاصل کی تھی۔ عملی زندگی کا آغاز معلم کی حیثیت سے کیا اور پھر ترقی کرتے ہوئے ایجوکیشن بیٹ آفیسر کے عہدے سے سبکدوش ہوئے

Photo: INN
تصویر:آئی این این

عبدالرحیم عبداللطیف چونکہ ایک طویل عرصے تک معلمی کے پیشہ سے جڑے رہے ہیں،اسلئےطلبہ،ان کے سرپرستوں ، نوجوانوںاور بزرگوںسے  ان کے قریبی تعلقا ت رہے ہیں ۔ وسیع مراسم ہونے سے زندگی کے مختلف پہلوئوں سے باخبر ہونےکا موقع بھی میسر رہا۔ زند گی میں کئی تحریکوں ،سیاسی ،سماجی اور اقتصادی واقعات اپنی آنکھوں سے دیکھنے کابھی تجربہ رہا۔انہی تجربات کی بنیاد پرانہوںنے بتایاکہ ’’پہلے ممبئی ایک متحدہ، صوبہ تھا جو ’بامبے اسٹیٹ‘ کہلاتا تھا۔۱۹۶۰ء میں اسے مہاراشٹر اور گجرات کے طور پر ۲؍ حصوں میں تقسیم کیاگیا لیکن اس کیلئے بڑی بڑی تحریکیں چلی تھیں۔ پانچویں دہائی میں ممبئی کو مہاراشٹر میں شامل کرنےکی پُر زور تحریک چلائی گئی تھی جس میں کماٹی طبقے کے لوگوںنے بڑھ چڑھ کر حصہ لیاتھا۔ کماٹی پورہ میں کماٹی طبقے کے لوگوںکی اکثریت تھی۔ اسی وجہ سے اس علاقے کا نام کماٹی پورہ رکھاگیاتھا۔مہاراشٹر کی تشکیل کی اس تحریک میں کماٹی لوگ بڑی تعدادمیں جلوس نکالتے تھے۔ آمچی ممبئی ، آمچی ممبئی کےفلک شگاف نعرو ں سے علاقے گونج اُٹھتے تھے۔ مولانا شوکت علی روڈ پر آج جہاں اکبر پیر بھائی کالج ہے، وہاں جلوس کےشرکاء مختلف علاقو ںسے آکر ممبئی کو مہاراشٹر میں شامل کرنے کی حمایت کرتے تھے۔ اسکول سے چھوٹ کرہم بھی ان جلسوں میں شامل ہو جایا کرتے تھے۔  حالانکہ کماٹی لوگوں کی اکثریت مزدو رطبقہ سے تھی،اس کےباوجود وہ لوگ اس تحریک میں پیش پیش تھے۔
راشن کی دکانوں پر لوٹ مار عام بات تھی
 عبدالرحیم کے مطابق ’’ سن تو یاد نہیں مگر ایک مرتبہ راشن کی دکانوں سے لوگو ںکو ناکافی راشن ملنے کی وجہ سے ہونےوالے ہنگامے اور لوٹ مار کا واقعہ بھی دیکھاہے۔ دراصل غربت کا دورتھا۔غریب لوگ حکومت سے ملنےوالے اناج پر گزر بسر کرتے تھے۔گیہوں اورچاول ملنے سے غریبوںکیلئے آسرا ہوجاتاتھالیکن ناکافی اناج ملنے سے لوگ     برہم تھے۔ ایسی صورت میں راشن کی دکان پر اناج کیلئے لوٹ مار اور چھینا جھپٹی ہوتی تھی۔دکاندار پریشان ہوکر دکان بند کردیتاتھا۔ حالانکہ ہم لوگ بھی اسی اناج پر گزارا کرتے تھےمگر ہم نے کبھی اناج کیلئے لوٹ مار نہیں کی۔ لوٹ مار ہونےسے یہ فائدہ ہوتاتھاکہ حکومت کی طرف سے اضافی اناج کی فراہمی ہوتی اور معاملہ کچھ دنوں کیلئے ٹل جاتا۔ 
جھگڑا ہوتا تو سوڈے کی بوتلوں کا دھڑلے سے استعمال ہوتا تھا
   ممبئی کے مختلف علاقوں اور گلی کوچوں میں ہر ۲۔۳؍ماہ پر ہونے والے جھگڑوں اور ہنگاموں سےمتعلق انہوں نے بتایاکہ ’ ’کماٹی پورہ کا علاقہ ۲؍حصوںمیں تقسیم تھا، ایک میں مسلمان تودوسرے میں برادرانِ وطن قیام پزیر تھے۔ یہاں برادرانِ وطن کی آبادی زیادہ تھی ۔ ان میں سے متعدد لوگ شراب کا کاروبار کرتے تھے۔شراب کی گاڑیاں اکثر آتی تھیں۔ شرارتاً ان گاڑیوں پرکسی طرف سے پتھر پھینکنے پر فریقین میں جھگڑا شرو ع ہوجاتاتھا۔ جھگڑے میں سوڈا کی بوتل اور پتھر کا دھڑلے سے استعمال ہوتا تھا۔ جب تک پولیس نہیں آتی ، جھگڑا جاری رہتا۔ چونکہ اس طرح کا جھگڑا اکثر ہوتاتھا،اسلئے یہاں کےبیشتر گھروںمیں سوڈا بوتل کی کیرٹ کا ذخیرہ ہمیشہ رکھا جاتاتھا۔ سوڈا بوتل کی خاص بات یہ تھی کہ اس کا شیشہ انتہائی خطرناک اور زہریلا ہواکرتاتھا۔ جس کےجسم میں بوتل کا شیشہ پوست ہوتا اس کےجسم میں زہر پھیلنے کا خطرہ ہوتاتھا۔ سوڈابوتل کے ختم ہونے پر لوگ اپنے گھروںکے برتن سے ایک دوسرےپر حملہ کرتے تھے لیکن اب ایسانہیں ہے۔ فریقین نے ایک دوسرے کے ساتھ جینے کا سلیقہ سیکھ لیاہے۔
راشن کی دکانوں پر املی کے بیج کا آٹا ملتا تھا
 عبدالرحیم کے بقول ’’ یہ بھی ۵۰ء کی دہائی کا واقعہ ہے۔ راشن کی دکانوں پر گیہوں اور چاول کے علاوہ املی کے بیچ کا آٹا بھی دیاجاتا تھا۔ دیکھنےمیں یہ آٹا تو بہت اچھا دکھائی دیتاتھامگر ڈاکٹروں کےمطابق اس آٹے سے لوگو ں کو خارش کی شکایت ہورہی تھی۔ کھجلی سے جسم میں  زخم ابھر رہےتھے جن سے مواد خارج ہوتاتھا۔ ایسی صو رت میں زخم پر مرہم لگانےکیلئے لوگ پرندوںکے پر کا استعمال کرتے تھے۔ پورے محلے میں یہ وباء پھیلی تھی۔ اس وباء سے بڑی کراہیت محسوس ہوتی تھی ۔
ان دنوں ٹرام ایک عوامی سواری تھی
 انہوںنے یہ بھی بتایاکہ ’’اس دور میں ٹرام ایک عوامی سواری تھی۔ سڑک کے درمیان اس کی پٹر ی ہوتی تھی۔ ٹرام کےدونوں جانب موٹر گاڑیاں چلتی تھیں  اور راہگیروںکیلئے فٹ پاتھ ہواکرتی تھی۔ ایک معمول کی رفتار سے ٹرام چلتی تھی اور اپنی مخصوص آواز کے ساتھ ایک سے دوسرے اسٹاپ کی جانب رواں رہتی۔ ٹرام چلانےوالے ڈرائیوروں کا ایک ڈریس ہوتا تھا جس میں پگڑی لازمی تھا۔ اگر کوئی ضعیف ہاتھ دکھا کر ٹرام روکنے کا اشارہ کرتا تو ڈرائیو ر ٹرام روک دیتاتھا۔کنگ سرکل پر ایک مقام پر ٹرام پل کے اُوپر سے چلتی تھی۔ ٹرام کےمسافر بڑی دلچسپی سے اس مقام سے نیچے کی جھوپڑپٹیوںکو حیرت سے دیکھاکرتےتھے۔ اس دور میں شہری انتظامیہ نے مجگائوں سے گوالیا ٹینک تک ٹرالی بس شروع کرنےکا اعلان کیاتھا۔ اس کا ٹرائل بھی کیاگیاتھا مگر بعد میں اسے منسوخ  کر دیا گیا ۔ غالباً جگہ کی قلت سے اس منصوبے پر عمل نہیں کیاجاسکاتھا۔ 
لوک سبھا کا پہلا الیکشن بہت یادگار تھا
  ملک کی آزادی کےبعد ہونےوالا پہلا الیکشن بہت زبردست ہوا تھا۔ عوام میں بڑا جوش وخروش تھا۔ یہاںہونےوالے جلسے جلوس سے ایک الگ ہی ماحول پیداہوگیاتھا۔گلی محلے میں الیکشن کی گہماگہمی ہواکرتی تھی ۔ ووٹر کارڈ کی تیاریاں رات رات بھر کی جاتی تھیں۔میں نے بھی ۲؍ آنے کے حساب سے ووٹر کارڈ لکھے تھے۔ جس اُمیدوار کیلئے لوگ کام کرتے تھے،  اس کی برائی نہیں سنتے تھے،خواہ وہ کتنا ہی برا کیوں نہ ہو۔ اس دور میں کانگریس پارٹی کا بہت زور تھا۔ کانگریس کی نشانی ۲؍بیلو ں کی جوڑی تھی۔ بیلوںکی جوڑی پر گانے بجتے تھے۔ ۲؍ بیلوںکولے کر لوگ گلی محلوںمیں کانگریسی اُمیدوار کی تشہیر کیلئے جاتے تھے۔  بڑا ہنگامہ ہوا کرتا تھا۔ ‘‘
تعلیم کے تئیں کافی جوش و خروش پایاجارہاتھا
 عبدالرحیم عبداللطیف نے بتایاکہ ’’ہمارے دور میں مسلم علاقوں مثلاً  مدنپورہ، ناگپاڑہ ، محمدعلی روڈ، جے جے جنکشن اور بائیکلہ وغیرہ میں ہر بچے کو پڑھانےکی ایک مہم چلائی گئی تھی جس کےتحت ہر گھر کے بچے کا نام اسکول میں لکھوانےکی کوشش کی جارہی تھی۔ اس تعلق سےلوگ ایک دوسرے کی مدد بھی کرتےتھے۔چند سماجی اداروںنے بچوں کی تعلیمی کفالت کی ذمہ داری اُٹھا ئی تھی۔میونسپل اسکول میں پہلے کاپیاں نہیں دی جاتی تھیں،بچے سلیٹ پر ہی لکھا کرتےتھے۔ سب سے پہلی بار اللہ رکھا نامی شخص جو عرف عام میں سو نا والا سے معروف تھے ، باہمی امداد نامی تنظیم کی طرف سے بچوںمیں بلاتفریق کاپیاں تقسیم کرنے کا سلسلہ شروع کیاتھا۔ اسی طرح زکریامسجد کے قریب واقع ینگ مسلم نامی تنظیم طلبہ کو کتابیں دیتی تھی ۔ اس طرح پورے علاقے میں تعلیم کے تئیں جوش و خروش پیدا ہوگیا تھا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK