منی پور کی آگ کب بجھے گی؟

Updated: June 01, 2023, 10:43 AM IST | Mumbai

منی پور کی آگ سرد ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی ہے۔ چونکہ تنازع برسوں پرانا ہے اسلئے ریاست اور مرکز کے اہل اقتدار کیلئے اس کا حل آسان ہونا چاہئے تھا

photo;INN
تصویر :آئی این این

منی پور کی آگ سرد ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی ہے۔ چونکہ تنازع برسوں پرانا ہے اسلئے ریاست اور مرکز کے اہل اقتدار کیلئے اس کا حل آسان ہونا چاہئے تھا  کیونکہ سابقہ ادوار میں مسئلہ کی نوعیت پر غوروخوض کیا جاچکا ہے، امن و امان برقرار رکھنے کیلئے کب کون سی حکمت عملی وضع کی گئی تھی اور کس حکمت عملی کو کتنی کامیابی ملی تھی اس کی تفصیل بھی موجود ہے۔ حکمراں جماعت خواہ وہ ریاست کی ہو یا مرکز کی اُسے سابقہ ادوار میں، عمل میں لائے گئے اقدامات میں سے موجودہ وقت کیلئے جو نسخہ تیر بہدف ہوسکتا تھا  اُسے اختیار کرلینا چاہئے تھا اس میں کوئی دقت تو نہیں تھی!
 مگر منی پور ہے کہ اب بھی سلگ رہا ہے۔ کشیدگی میں اضافے اور تشدد کے تازہ واقعات کی خبریں تسلسل کے ساتھ مل رہی ہیں اور یہ صورت حال نہایت افسوس ناک اور تشویش ناک ہیں۔ حال ہی میں مرکز کی حکمراں جماعت اُس وقت تنقید کا نشانہ بنی تھی جب منی پور تشدد کے ابتدائی دن بھی کافی ہولناک تھے اس کے باوجود مرکزی لیڈروں کے پاس وقت نہیں تھا کہ ریاست کا دورہ کرکے ضروری اقدامات کو راہ دیتے اور عوام سے امن و امان کے تحفظ میں مدد دینے کی اپیل کرتے۔ اُن دنوں کرناٹک میں الیکشن جاری تھے اور پارٹی کی پوری طاقت انتخاب جیتنے پر صرف ہورہی تھی۔ کرناٹک میں کامیابی نہیں ملنی تھی سو نہیں ملی، اگر منی پور پر توجہ دے لی گئی ہوتی تو ممکن تھا کہ صورت حال اتنی خراب نہ ہوتی۔ 
 تعجب خیز بات یہ ہے کہ مرکزی حکمراں جماعت یعنی بی جے پی کے پاس منی پور کی آبادی کے دو طبقات میں پنپنے والی مخاصمت اور کشیدگی کی تفصیل نہیں تھی جبکہ اس کے پاس پوری جزئیات کے ساتھ یہ انتخابی تفصیل ہوتی ہے کہ رائے دہندگان کا رجحان کس طرف ہے۔ سوشل میڈیا پر اچھی خاصی مہارت رکھنے والی اس پارٹی کے پاس یہ اطلاع کیوں نہیں تھی کہ منی پور میں شرپسندی انگڑائیاں لے رہی  ہے جو کسی بھی و قت تشدد کی طرف بڑھ سکتی ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ بی جے پی انتخاب جیتنے کی ماہر ہے دلوں کو جیتنے کی نہیں کیونکہ اسے انتخاب جیتنے کی کوششوں ہی سے فرصت نہیں ہوتی۔ ہمیں خوشی ہوتی اور ہم کھلے دل سے اعتراف کرتے اگر منی پور کو جلنے سے پہلے سنبھال لیا گیا ہوتا اور افہام وتفہیم نیز امن و امان کو یقینی بنایا گیا ہوتا۔
 ایک بات منی پور میں یہ دیکھنے میں آرہی ہے کہ سیاستدانوں کو ہدف بنایا جارہا ہے۔ ۲۸؍ مئی کو نیشنل پیوپلز پارٹی (این پی پی) کے رکن اسمبلی مینگلم رامیشور کی رہائش گاہ پر حملہ کیا گیا۔ اس سے پہلے ۲۵؍ مئی کو مرکزی وزیر مملکت برائے خارجہ آر کے رنجن سنگھ کی رہائش گاہ پر ہلہ بولا گیا۔ شری رنجن سنگھ کا تعلق منی پور ہی سے ہے۔ اس سے بھی پہلے ۲۴؍ مئی کو ایک بھیڑ نے ریاستی وزیر کونتھاجم گووند داس کی رہائش گاہ واقع بشنو پور کو تباہ کرنے کی کوشش کی۔ ہم نہیں جانتے کہ سیاستدانوں کو ہدف بنانے کا سبب کیا ہے مگر یہ راز خود سیاستدانوں پر تو آشکار ہوگا؟ اس لئے ان کی کوشش تو یہ ہونی چاہئے کہ فوراً سے پیشتر ضروری اقدامات کو راہ دیتے! ہم یہ بھی نہیں کہہ سکتے کہ مرکز کی برسراقتدار جماعت مختلف ہے اور ریاست کا اقتدار کسی اور کے پاس ہے۔ ایسا ہے ضرور مگر شمال مشرق کی ایک ’’خوبی‘‘ یہ ہے کہ ریاستی اقتدار  ہمیشہ مرکز کے ساتھ تال میل کو ترجیح دیتا ہے اس لئے مل جل کر تشدد کو روکنے کی کوشش میں انہیں ناکامی نہیں ہونی  چاہئے تھی۔ بہرکیف، مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ منی پور کے دورہ پر ہیں ا سلئے اُمید ہے کہ حالات جلد قابو میں آجائینگے ۔

manipur Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK