یہ فوج کس کیلئے ہے؟

Updated: March 07, 2021, 7:44 PM IST | Professor Sayed Iqbal

لندن اور کولمبیا کی پولیس نے انٹرنیٹ جرائم کیلئے خصوصی شعبے قائم کئے ہیں۔ آسٹریلیا نے ٹرولنگ کیخلاف پارلیمنٹ سے قانون پاس کروایا ہے اور جرمنی نے نفرت آمیز پوسٹ لکھنے والوں پر پانچ بلین یورو کا جرمانہ عائد کیا ہے لیکن ہمارے یہاں ایسا کوئی قانون نہیں ہے

Picture.Picture:INN
علامتی تصویر۔تصویر :آئی این این

سواتی چترویدی نامی خاتون جو امریکہ سے لوٹ کر ہندوستان آئی تھیں، ان کی ایک کتاب دہلی سے شائع ہوئی ہے۔یہاں آکر اوراپنے ملک کی ترقی دیکھ کر وہ بے حد متاثرہوئی تھیں کیونکہ انہیں بتایا گیا تھا کہ یہ ترقی حکمراں جماعت اوراس کے قائدین کا کارنامہ ہے۔ پچھلے۷۰؍ برسوںمیں جو کچھ نہیں ہوا ،وہ اس حکومت نے کر دکھایا ہے۔ غریبوں کو بنیادی سہولتیں فراہم کی ہیں، ان کیلئے لاکھوں شوچالیہ بنائے ہیں ، ملک بھر میں سڑکوں  کا جال بچھا دیا گیا ہے اورجلد ہی ہمارا ملک پانچ ٹریلین کی معیشت میں بدلنے جارہا ہے۔ پتہ نہیں انہیں کس کس طرح متاثر کیا گیا اور موجودہ حکومت کے مخالفین کے متعلق کتنی غلط بیانی سے کام لیا گیا کہ محترمہ اپنے ملک کی خدمت کرنے کی غرض سے ’ٹرول آرمی‘ کا حصہ بن گئیں۔ اب فون یا انٹرنیٹ کے توسط سے وہ بھی ملک دشمن مخالفین کو بُرا بھلا کہنے لگیں۔ وہ خوش تھیں کہ  مادروطن کی ترقی میں وہ بھی اپنا یوگ دان دے رہی ہیں لیکن چند ہی دنوں میں انہیں احساس ہوگیا کہ یہ سارا کاروبار جھوٹ پر مبنی ہے  اور کوئی ان کے کندھوں پر بندوق رکھ کر معصوموں کا شکار کررہا ہے۔ اس حقیقت کو جاننے کے بعد انہوںنے اس خدمت سے خود کو الگ کرلیا مگر اپنی کتاب I am a troll میں ساری حکایت بیان کردی۔ اسی دوران سوشل میڈیا پر ایک اور نوجوان دکھائی دیئے (مہاویر) جو مارواڑی لہجے میں ٹرول فیکٹری کی کہانیاں سنارہے تھے۔ انہیں ان کے ایک ساتھی نے اس کام پر لگایا تھا۔چونکہ وہ بیروزگار تھے، اسلئے ایک معقول تنخواہ کی لالچ میں اس شیطانی کام کوانجام دینے  پر راضی ہوگئے۔ انہیں ریلوے پاس کے علاوہ روزانہ مفت ناشتہ بھی ملنے لگا۔ شاید اسلئے یہ کام انہیں اتنا بُرا نہیں لگا۔ اورکرنا بھی کیا تھا۔ روز صبح آفس جاکر اپنے جیسے کچھ نوجوانوں کے ساتھ بیٹھ کر کچھ فون کرنے ہوتے تھے یا انٹرنیٹ پر کچھ دھمکی آمیز بیانات لکھنے ہوتے تھے۔ میز پر ان کیلئے دس فون رکھے ہوتے اور وہ دن بھر میں سو ڈیڑھ سو فون بآسانی کرلیتے۔ ایک دن ان کے ضمیر نے بھی کچوکے لگائے اور وہ اس ٹرول آرمی سے باہر نکل آئے۔ باہر آتے ہی انہوںنے سوشل میڈیا پر اس کاروبار کا کچا چھٹا بیان کردیا۔ (یوٹیوب پردھروراٹھی کا لیا ہوا انٹرویو موجود ہے)
  حیرت  اس بات پر ہوتی ہے کہ کسی حکومت کیلئے اپنے مخالفین کو ہراساں کرنا کوئی مشکل کام نہیں ہوتا۔ ایسے سیکڑوں حربے ہیں جس سے کسی کو بھی پریشان کیاجاسکتا ہے۔ کچھ نہیں تو انکم ٹیکس کا چھاپہ مار کر یا کسی فرضی مقدمے میںپھنساکر کسی بھی شہری کا ناطقہ بند کیاجاسکتا ہے مگر ٹیکنالوجی کی مدد سے ٹرولنگ کی نئی روایت ڈال کرایسی نفرت پھیلائی جارہی ہے کہ اس سے نہ صرف کچھ لوگوں کی جان کو خطرہ لاحق ہے بلکہ اظہاررائے کی آزادی کا گلا گھونٹ کر جمہوریت کو دفن کرنے کی بھی تیاریاں کی جارہی ہیں۔ ’ٹرول‘ انگریزی کا لفظ ہے اور ڈکشنری میں اس  کے کئی معانی ملتے ہیں۔ انٹرنیٹ پر فحش کلامی سے لے کر مکر و فریب کا کاروبار پھیلانا ٹرول کہلاتا ہے۔ دھمکی دینا ، ہراساں کرنا اور جذباتی تشدد کو ہوا دینا بھی ٹرول ہے۔کسی کا تعاقب کرنا اورانتقاماً کسی کی نامناسب تصاویر اپ لوڈ کرنا بھی ٹرول کے معنی میں شامل ہے۔ غرض جس انٹرنیٹ کے بغیر آج ہم زندگی کا تصور نہیں کرسکتے  ، وہی انٹرنیٹ کردار کشی، نفسیاتی کشمکش ، ذہنی تناؤ اور نفرت وتعصب پھیلانے کا  سبب بن چکا ہے۔ موجودہ عہدمیںانٹرنیٹ  ایک بڑی نعمت ہے۔ اسلئے فاصلے مٹا دیئے، لوگوں کو ایک دوسرے کے قریب کردیا اورنئے خیالات ونظریات کی ترسیل  میں آسانیاں پیدا کردیں مگر اسے بدقسمتی نہیں تو اورکیا کہیں کہ نفرت کے سوداگر اسے بھی اپنے مذموم مقاصد کیلئے استعمال کرنے لگے ہیں۔
 Pew Centerکے ایک سروے کے مطابق امریکہ ایسی جمہوریت میں بھی ۴۱؍ فیصد افراد ٹرول کا شکار ہوچکے ہیں اوران کی اکثریت  نے ’بدزبانی‘ کی شکایت کی ہے۔ برطانیہ میں بھی ۶۰؍فیصد جرائم Cyber Space  میں ہونے لگے ہیں مگران حکومتوں نے اس ضمن میں سخت اقدامات کئے ہیں۔ امریکہ میں دائیں بازو  کے عناصر پر خاص نظر رکھی جاتی ہے۔ لندن اور کولمبیا کی پولیس نے انٹرنیٹ جرائم کیلئے خصوصی شعبے قائم کئے ہیں۔ آسٹریلیا نے ٹرولنگ کے خلاف  پارلیمنٹ سے سخت قانون پاس کروائے ہیں اور جرمنی نے ایک قدم آگے بڑھ کر نفرت آمیز پوسٹ لکھنے والوں کو چوبیس گھنٹوں میں گرفتار کرنے کے احکام صادر کئے ہیں اوران پر پانچ بلین یورو کا جرمانہ بھی عائد کیا ہے۔ اس کے برخلاف ہماری حکومت ابھی تک اسے باقاعدہ  جرم نہیں قراردے پائی۔ اسلئے نہ سخت قانون بنے ہیں، نہ ٹرول آرمی پر روک لگائی ہے۔ شاید اسلئے کہ اسے اپنے مخالفین سے مستقل جنگ کرنے کیلئے  ایک ’آرمی ‘ کی اچانک ضرورت پڑگئی ہے۔
 نفرت تو ہمیشہ سے ہوتی آئی ہے اور ہوتی رہے گی۔ ٹیکنالوجی کی ترقی سے پہلے نفرت کا اظہار کرنے کیلئے برا بھلا کہنا اور تعلقات منقطع کرلینا کافی ہوتا تھا۔ بہت ہوا تو یہ نفرت بچوں میں منتقل کردی جاتی مگر لوگ آخر وقت تک  مروت اور رواداری نبھاتے۔ ایک دوسرے کی تقریبات میں شرکت کرتے ، غم کے موقعوں پر دکھ کا اظہار کرتے۔ کبھی سامنا ہوجاتا تواخلاق سے پیش آتے۔ پیٹھ پیچھے برائی کرنے والے بھی عوامی سطح پر کبھی بدتمیزی اور بدزبانی کا مظاہرہ نہیں کرتے۔ آج تو نفرت پبلک پلیٹ فارم سے پھیلائی جارہی ہے۔ قصداً ایسے بیانات  دیئے جاتے ہیں کہ بغض وعناد کے شعلے بھڑکیں اور یہ فتنہ انگیزی صرف جاہلوں تک محدود نہیں بلکہ اچھے خاصے پڑھے لکھوں میں   بھی ہے۔ یہ کارخیر بدخو اور بدزبان افراد اکیلے نہیں کرتے بلکہ اسے گروپ کی شکل میں انجام دیا جاتا ہے۔ اس دوران پولیس تماشائی کار ول ادا کرتی ہےاوراپنی خاموشی سے انہیں بڑھاوا دیتی ہے۔ جب عوامی سطح پر نفرت پھیلاکر بھی لوگوں کو سکون نہیں ملتا توان کی زرخرید ٹرول آرمی میدان میں اترآتی ہے اوراپنے چہروں پر نقاب ڈال کر اتنا شرپھیلاتی ہے کہ شخصیتیں ٹوٹنے لگتی ہیں۔ بدقسمتی سے ان تخریب کاروں کا پہلا نشانہ عورتیں ہوتی ہیں۔ ایمنسٹی  انٹرنیشنل کی ایک رپورٹ (۲۰۱۷ء) کے مطابق آٹھ ممالک کی چار ہزار ’ جہدکار‘ خواتین سے جب ٹرول آرمی کے متعلق پوچھا گیا توایک چوتھائی تعداد ان کا شکار نکلیں۔ ۲۰۱۸ء میں اقوا م متحدہ کو رعنا ایوب کی حفاظت کیلئے ہماری حکومت سے واضح الفاظ میں کہنا پڑا تھا کہ  اس خاتون پر کوئی حملہ نہ ہو کیونکہ ٹرول آرمی انہیں جان سے مارنے کی دھمکیاں دینے لگی تھیں۔ چونکہ گجرات فسادات پر رعنا ایوب کی سنسنی خیز رپورٹ نے حکومت کی چولیں  ہلا دی تھیں اوراس کے شائع ہوتے ہی ساری دنیا کو ایک متعصب حکومت کی سازشوں کا پتہ چل گیا تھا۔ اسلئے رعنا ایوب  نشانے پرتھیں۔ گوری لنکیش کو بھی دن دہاڑے ان کے گھر کے باہر شوٹ کرنے کے بعد قاتل موٹر بائیک پر فرار ہوگئے تھے اور آج تک  ان کا سراغ نہیں مل سکا ہے اس بہادر خاتون نے بھی ٹرول آرمی کی دھمکیوں سے بے نیاز ہوکر اپنے رسالے کے ذریعہ ہمیشہ سچ کی نمائندگی کی تھی۔
 تو کیا سچ کہنا اور لکھنا آج اتنا بڑا جرم ہے کہ اس کی پاداش میں جان لینا ضروری ہوگیا ہے؟ کیا دابھولکر، پنسارے اور کلبرگی کو بھی سچ بولنے کی سزا دی گئی ہے ؟ کیا روہت ویمولا اور نجیب بھی سچ بولنے کے جر م میں مارے گئے؟ کیا دانشوروں ، صحافیوں اور  یونیورسٹی کے طلبہ کو بھی حق پرستی کی ہی سزا دی جارہی ہے؟ شاید ہمارے حکام اختلافات سے خوفزدہ ہیں۔ آج عدم برداشت کا ماحول اس قدر غالب ہے کہ لوگ سنجیدہ گفتگو اورمکالمہ کرنا ہی نہیں چاہتے۔ آج کوئی یقین نہ کرے مگر سقراط کی درس گاہ کا بنیادی اصول ہی برداشت ہوا کرتا تھا۔ جو طالب علم اونچی آواز  میں گفتگو کرتا  یا تشدد پر اُترآتا، اسے درس گاہ سے باہر نکال دیاجاتا۔ جاپانی پارلیمنٹ میں بھی ممبران اونچی آوازیں تقریر نہیں کر سکتے ورنہ انہیں نااہل قراردیدیا جاتا ہے کیوں کہ برداشت اور تحمل ہی جمہوری نظام کی روح ہے۔ اگراسے ہی نکال لیاجائے تو انارکی غالب آنے لگتی ہے۔ افسوس تو اس نئی نسل کی بربادی پر ہے جسے ٹرولنگ ایسے تخریبی کاموں  میں مصروف کردیا گیا ہے ۔ آسٹریلیا کی مصنفہ Ginger Gorman نے اپنی کتاب Troll Hunting  میں ایسے کئی ماہرین نفسیات کی ریسرچ کا ذکر کیا ہے جنہوںنے ان نوجوانوں کو نرگسیت کا شکار ،اذیت پسند اور نفسیاتی مریض بتایا ہے۔ جنہیں ہمارے ہاں پیسے کا لالچ دے کر اور غیر جمہوری نظریات کی شراب پلاکر صرف مذموم مقاصد کیلئے استعمال کیاجانے لگا ہے۔ انٹرنیٹ تو پہلے ہی مجرمانہ ذہن رکھنے والوں کو جی بھر کے مواد فراہم کرچکا تھا۔ پھر دہشت گردی اور انتہا پسندی کو فروغ دینا  ہو یا کسی کو ذہنی طورپر معذور کردینا ، انٹرنیٹ یہ خدمت آج بھی بڑی خوبصورتی سے انجام دے رہا ہے۔ اس ضمن میں فیس بک ، گوگل ، انسٹاگرام اور ٹیوٹر وغیرہ بھی شریک ہیں جو صرف اپنی آمدنی کیلئے سب کچھ جان کر خاموش رہتے ہیں۔ تکلیف اس وقت ہوتی ہے جب والدین کی عدم توجہی انٹرنیٹ کو اس نسل کا سرپرست بنادیتی ہے۔ ستم بالائے ستم، علم کی کمی ، غلط صحبت اور فارغ اوقات میں شیطانی سازشوں میں شرکت، ایسا مرکب بن جاتا ہے جو نوجوانوں سے ان کی معصومیت  اور شرافت چھین کر انہیں جارحانہ تخریب کاری میں  ملوث کردیتا ہے۔ توکیا ہم اپنے بعد ایسی نسل چھوڑ جائیں گے جو صرف غیظ وغضب سے بھری ہوگی، صبروتحمل سے کوئی غرض نہیں ہوگی،  جو جمہوریت کو دفن کرکے صرف آمریت کی پرستش کرے گی؟ یہ نہ بھولئے کہ اس نسل کی رگوں میں ہمارا ہی خون دوڑ رہا ہے۔ اسلئے اسے بچانے کی ذمہ داری بھی ہم پر ہے بلکہ ارباب اقتدار کے ساتھ یہ ہر اس شخص کی ذمہ داری ہے جو ایک پرامن اور پرسکون زندگی کا خواہش مند ہے۔n

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK