ادھوری محبت کی پوری کہانی: نہرو اور ایڈونا

Updated: August 17, 2020, 12:40 PM IST | Shahid Nadeem

ایڈونا نے نہرو اور ہندوستان میں اپنی شناخت تلاش کرلی تھی ان کیلئے نہرو ہندوستان اور ہندوستان نہروتھا۔ یہ ایک عجیب رشتہ تھا جو حالات کے تحت ایک دوسرے سے گھل مل گیا تھا

Nehru and Adona
نہرو ایڈونا کی ایک یاد گار تصویر ۔

 ایڈونانے انگریزوں کے آخری دور اور ہندوستان کی آزادی میں ایک اہم کردار ادا کیا تھا، رچرڈ ہاگرنے ایڈونا کی زندگی پر کتاب لکھی تھی۔اس کے بعد ممتاز مؤرخ جینٹ مورگن نے لیڈی مارنٹ بیٹن پرکی سوانح ’اے لائف آف مائی اوون ، شائع کی جسے ہارپرکونس نے شائع کیاتھا۔ 
  اس کتاب میں لیڈی ماؤنٹ بیٹن ایڈونا کی زندگی اور شخصیت کو بلا کم وکاست بیا ن کیا گیا ہے۔ ایڈونا نے اپنے دلی جذبات اور کیفیات کو بیان کرنے میں کوئی رعایت نہیں برتی۔ خاص طورپر  نہرو سے اپنے رشتہ کے بارے میں ۔ نہرو اور ایڈونا آزادی سےپہلے ہی ایک دوسرے سے واقف تھے لیکن ان کا روحانی اور باطنی رشتہ ۱۹۴۸ء میں شروع ہوا۔ ایڈونا نے اس رشتہ کو پوری ایمانداری سے بیان کیا ہے۔ مصروفیت کی وجہ سے دونوں کی ملاقات بہت کم ہوتی مگر جذباتی طورپر دونوںنے اس رشتہ کو بھرپور طور پر جیا، اور جو لمحہ بھی میسر آیا اسے ساتھ گزارا اور آئندہ بھی  ملنے کے آرزو مند رہے  اور تقریباً روز ہی خطوط کے ذریعہ ایک دوسرے  سے آگاہ ہوتے رہے۔ ۱۹۴۸ء  اور ۱۹۴۹ء کے دوران وہ روز سونے سے پہلے ایک خط ضرور لکھتے تھے، اس کے بعد ۱۹۵۴ء تک ہر ہفتہ ایک خط اور پھر یہ سلسلہ بے ترتیب ہوگیا۔ ایڈونا نے بھی اس رشتہ کو پوری شدت کے ساتھ اپنی موت ۲۰؍ فروری ۱۹۶۰ء تک نبھایا، وہ سارے خطوط کو ترتیب وار رکھتی تھیں  اور ایک عرصہ تک  اپنی گھڑی ہندوستانی وقت کے مطابق رکھتی رہیں۔ ۱۹۵۰ء  سے ۱۹۵۷ء کے دوران نہرو آٹھ بار لندن گئے اور ہر بار ان کی کوشش ہوتی کہ ہفتہ کا آخری دن دونوں ساتھ گزاریں۔ اس کے لئے وہ بطور خاص وقت بھی نکال لیتے۔
  ایڈونا کی عمر ۴۳؍ برس تھی جب نہرو سے ان کی ملاقات ہوئی۔ نہرو ان دونوں ایک اداس اور اکیلی زندگی گزار رہے تھے۔ ایڈونا نے ان کی زندگی کو ایک خوشگوار رخ  عطا کیا۔ اس کے باوجود نہرو نے اس رشتہ کو اپنی ہمہ وقت مصروفیت اور ذمہ داریوں کی دیوار بننے نہیں دیا۔غالباً اس کی ایک وجہ یہ بھی ہوسکتی  ہے کہ انہوںنے زندگی کے اس خلاءکو ایک دوسرے میں تلاش کرکے اپنے آپ کو مکمل کرلیا ہو۔ ۱۹۴۹ء میں نہرو کو ایڈونا کو تحفہ میں کونارک کے سوریہ مندر کی خوبصورت  رومانی آرائشیں مورتیوں کا البم پیش کیا اور لکھا: ’’ جب  پہلی بار میں نے انہیں دیکھا تو میری سانس رک سی گئی۔ میں خود سمجھ نہیں پایا لیکن غور سے دیکھنے کے بعد محسوس ہوا کہ اس کے اندر بہت کچھ ہے ۔ جو پوشیدہ اور توانا ہونے کے علاوہ مکمل ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس دشوار طلب (کام) کا مطلب کیا ہے۔ میں خود کو اس دور میں لے گیا اور سوچنے لگا کہ وہ دور اتنا ترقی یافتہ تھا کہ ایسی رومانی (مورتیوں)کو مندر کی مقدس دیوار پرکندہ کرسکتا تھا، اگر ان کے ذہن میں کوئی فحش غلیظ ، ہیجان اور ہوس ہوتی تو بلا شبہ وہ اسے مندر میں نہیں بناتے۔ آج مجھے لگتا ہے کہ وہ کتنا ترقی یافتہ سماج رہا ہوگا،کتنا بے نیاز اور بے کینہ دل کا رہا ہوگا، جس نے زندگی کی  اصل حیثیت کو شرم کا احساس کئے بغیر ، کچھ چھپائے بنا ڈھال دیا۔ تب سماج  ، ہیبت اور حیرانی سے گھرا نہیں تھا۔ زندگی میں کہیں بھی  فحاشی نہیں تھی ۔ قدیم ہندوستانی مورخین اور ادیبوں نے جس آزاد خیالی سے جنس پر لکھا ہے وہ اپنے آپ میں ایمانداری اوربے لوثی کا ثبوت ہے ۔ کہیں نہیں لگتا کہ ان مورتیوں سے ہوس یا ہیجان برپا کرنے کی کوئی خواہش یا خیال ہے۔‘‘ جواب میں ایڈونا نے لکھا:’’ میں سمجھتی ہوں کہ سوریہ مندر ی مورتی سازی کے فن  میں کوئی ناجائز جنسی رشتوں اور سازش کا (عنصر) نہیں ہے جب ایسی کسی چیز سے پریشانی یا تردد محسوس نہیں کرتی جو فطری ہے۔ یہ واضح اور حقیقت ہے اس میں کوئی فحاشی اور معنویت اور برائی کا جذبہ ہے اورنہ ہی غیر دلچسپی کا۔ دراصل میرے ذہن میں انہیں دیکھ کر حیرت اور انوکھا پن اور روحانی جذبہ بیدار ہوتا ہے۔‘‘ایڈونا نے نہرو اور ہندوستان میں اپنی شناخت تلاش کرلی تھی۔ ان کے لئے نہرو ہندوستان اور ہندوستان نہروتھا۔ یہ ایک عجیب رشتہ تھا جو حالات کے تحت ایک دوسرے سے گھل مل گیا تھا۔دونوں جب ساتھ ہوتے تو ایڈونا اپنے اندر ایک قسم کی تازگی ا ور توانائی محسوس کرتی۔ نہرو نے ان سے ہمیشہ برابری کا سلوک کیا۔ وہ اپنی بیماری ، تھکن ، ماضی ، حال اور مستقبل کو یکسر فراموش کردیتی اور دونوں صاف گوئی اور غیر رسمی گفتگو میں لگ جاتے۔  ایڈونا کو اپنے دلی جذبات شوہر ماؤنٹ بیٹن سے بیان کرنے میں کبھی جھجک یا پریشانی نہیں ہوئی، یوں بھی ان کے شوہر کافی فراخ دل تھے، وہ اپنے شوہر کو پیار سے ’ڈکی‘ کہتی تھی۔ ۱۹۵۲ء میں بیماری کے دوران ایڈونا نے شوہر کو لکھاـ:’’ میں نے اپنے جواہر کے سب خطوط سنبھال کر رکھے ہیں۔ میری خواہش ہے کہ تم بھی اسے تا عمر اپنے ساتھ رکھو، تم جانتے ہو کہ میرے اور جواہر کے رشتے کیسے ہیں۔ ان میں چند میں پوری سچائی ہے ، چند میں تاریخ اور چند ایک بالکل ذاتی اور کچھ ایسے بھی ہیں جسے محبت نامہ کہہ سکتے ہیں۔ یہ سب اس لئے لکھ رہی ہوں کہ صرف تم سوچو اس عجیب اور عظیم رشتہ کو سمجھ سکتے ہو، اس میں بہت کچھ پاکیزہ بھی ہے۔ میری زندگی میں جواہر کا اہم مقام ہے۔  مجھے محسوس ہوتا ہے کہ میں نے ان میں اور انہوںنے مجھے مکمل جان سمجھ لیا ہے۔ ہماری ملاقات بہت کم اور مختصر ہوتی ہے۔‘‘ 
  ماؤنٹ بیٹن نے جواب دیا: ’’ میں ہمیشہ سے نہرو اور تمہارے رشتوں کو جانتا سمجھتا رہا ہوں ۔ میرے دل میں نہرو کے لئے دوستی اور اپنائیت رہی ہے، تم دونوں کے رشتوں کے لئے میرے دل میں ہمیشہ تحسین کا جذبہ رہا ہے۔  اس معاملہ میں میں خود کو خوش قسمت سمجھتا ہوں جہاں مجھ میں اور خامیاں ہوسکتی ہیں، وہیں ان رشتوں نے کبھی میرے دل میں حسد نہیں پیدا کی۔‘‘ 
 ہندوستان  سے روانگی سے سات دن پہلے ایڈونا کو نہرو نے لکھا:’’ میں خیالوں میں گم ہوں، جو ایک وزیراعظم  ہونے کے باوجود، میں حالات سے مجبور وزیراعظم ہوں۔‘‘
 اس جذباتی خط میں انہوںنے آگے لکھا تھا:’’تصور کرسکتا ہوں کہ رخصت ہوتے وقت تم ہزاروں لوگوں سے مل رہی ہوگی اور میں دور کھڑا تمہیں دیکھ رہا ہوؤں گا، تم میری زندگی میں وہ سب لے آئیں جس کی مجھے خواہش تھی۔ ‘‘   رخصتی سے پہلے ایڈونا نے نہرو کو اٹھارہویں صدی کا میناکاری کیا ہوا ایک سونے کا ڈبا (عطردان) دیا۔ وہ اسے پسند تھا اور پَنّے کی ایک انگوٹھی دی ایڈونا نے چلتے چلتے سینٹ کرسٹوفر کا مقد س تمغہ بھی ان کی نذر کیا۔ نہرو حیران تھے۔  پوچھا:’’ اس کا کیا   کروں؟ کیا گلے میں پہن لوں۔‘‘ایڈونا نے جواب دیا۔ ’’یہ مت بھولنا کہ یہ تمغہ میری ماں نے میرے والد کو دیا تھا اور والد نے مجھے۔  میں یہ صرف تمہیں دے رہی ہوں، یہ مجھےبے حد عزیز ہے،  اگر کبھی پیسوں کی ضرورت ہوتو، میں کہتی ہوں اسے فروخت کرنے میں پس وپیش نہ کرنا۔‘‘نہرو نے قدیم سکہ پیش کیا جسے اس نے اپنے کنگن میں لٹکا لیا جو زندگی  بھر ساتھ رہا ۔ اس کے علاوہ دسہری آم کا ایک بکس اور اپنی سوانح بھی دی۔ وائسرے ہاؤس سے آنے والے سامان میں لوئی ماؤنٹ بیٹن اور ایڈوناکی فریم کی ہوئی تصویر بھی تھی۔ نہرو اسے اپنی اسٹڈی میں رکھتے تھے۔ انگلستان لوٹنے کے بعد بھی ایڈونا کی یادستاتی رہتی۔ ہفتہ کے آخر میں جب اپنے دفتر جاتیں تو انہیں امید ہوتی تھی کہ لند ن میں ہندوستانی سفیر کر شنامینن کے پاس  ان کا کوئی نجی خط آیا ہوگا ۔  نہر و ایڈونا کےنام اپنے خطوطو ہمیشہ سیاسی بیگ میں روانہ کرتے تھے۔ خط ملنے پر بہت خوش ہوتیں اور اگر خط نہ ملتا تو فون کرتیں ۔ ان دنوں براہ راست فون کی سہولت نہیں تھی ۔ آپریٹر کے ذریعہ بمبئی ، پونے یا کسی اور جگہ سے ہو کر فون دہلی پہنچتا تھا۔ آواز بھی صاف نہ ہوتی ۔ ایڈونا کی بات سن کر آپر یٹر دوسرے آپریٹر کو بتا تا  اور پھر وہ بات نہر و تک پہنچتی۔ ایڈونا خطوط میں اپنی بات صحیح اور صاف انداز میں بیان کرسکتی تھیں لیکن ڈر تھا کہ خط کسی اور کے ہاتھ نہ لگ جائے، اسلئے  لفا فہ پر خاص نشان بنادیتیں اور دونوں خطوط پر سلسلہ وار نمبر بھی لکھتے کہ کہیں کوئی خط گم نہ ہوجائے۔ یہ دور تھا جب سیاست دانوں پر کمیونسٹوں کا خوف سوار تھا، دونوں کو ڈرتھا کہ کلرک کے ذریعہ خطوط کی نقل ان تک نہ پہنچ جائے ، بہت محتاط رہتے ۔ ایڈونا تو خود ٹائپ کرلیتیں مگر نہرو ہاتھ سے لکھتے۔ کبھی کبھی ٹائپ بھی کروا لیتے۔ ایڈونا کی اس چاہت کا ایک اور واقعہ ہے ، اس کی زندگی کا آخری واقعہ ۔ ایڈونا پر غنودگی  طاری تھی، آخری لمحہ تھا، سرہانے وہ سارے خطوط رکھے تھے جو اس کی زندگی کا قیمتی سرمایہ تھا۔  اس کی لاش ہوائی جہاز سے براڈ لینڈ لائی گئی۔ کینٹ بری کے مذہبی پیشوا نے آخری سفرکی تیاریاں مکمل کیں۔ تابوت کو ترشول نامی کیری جہاز میں رکھا گیا، جو نہرو نے اس موقع کیلئے روانہ کیا تھا۔ اس میں گیندےکے پھول تھے۔ جہاز وسیع سمندر کی جانب چل دیا اور ہندوؤں کی جل سمادھی کی طرح ایڈونا کو رخصت کردیا گیا۔ اس کی آخری خواہش تھی کہ اس کے تابوت کو دفنایا نہ جائے بلکہ سمندر کی اتھاہ گہرائیوں میں اتاردیاجائے

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK