میں ایسا کیوں ہوں؟

Updated: July 19, 2020, 11:42 AM IST | Prof Syed Iqbal

ماہر نفسیات الفریڈ ایڈلر لکھتاہے کہ نپولین ، ابراہام لنکن ، ایڈیسن اور شیکسپیئر جیسی مشہور ہستیوں کے علاوہ ایک بڑی آبادی آج بھی احساس کمتری میں مبتلا ہے۔ ’ٹوسٹ ماسٹر‘ نامی تنظیم کی ۱۱۳؍ ملکوں میں بارہ ہزار سے زائد شاخیں ہیں جو لوگوں کو بے جھجھک بولنا سکھاتی ہیں۔ ٹونی رابنس نے کلنٹن، ٹائیگر ووڈس ، نیلسن منڈیلا ، مارگریٹ تھیچر، شہزادی ڈائنا، مدر ٹریسا اور ان کے جیسے پچاس ملین افراد کو اعتماد کے ساتھ گفتگو کرنا سکھایا ہے

Psychology - PIC : INN
نفسیات ۔ تصویر : آئی این این

انہوںنے مجھے جذباتی طورپرایسا بلیک میل کیا کہ میں تقریر کرنے کیلئے راضی ہوگیا۔ میں نے بارہا انہیں سمجھانے کی کوشش کی کہ میں تقریر کے فن سے واقف نہیں، نہ مجھے تقریر کرنے میں دلچسپی ہے مگروہ یہی کہتے رہے کہ میں تھوڑی سی مشق کرکے تقریر کرنے کے قابل ہوجاؤں گا۔ سومیں نے رات بھر جاگ کر تقریر لکھی، اسے خوب یاد کیا،ایک ایک جملے کو ذہن میں بٹھانے کی کوشش کی ، تلفظ درست کئے، جن لفظوں پر زور دینا تھا، ان مقامات کو خصوصی طورپر یاد کیا اور پھر آئینے کے سامنے کھڑے  ہوکرمشق شروع کر دی۔ اس کے باوجود مجھے یہی محسوس ہوتا رہا کہ میں تقریر نہیں کرسکوں گا۔ مجھے یاد آیا کہ امریکہ میں سب سے بڑا فوبیا پبلک اسپیکنگ ہے۔ امریکی عوام تقریر کرنے سے گریز کرتے ہیں۔ ہمارے مولوی صاحبان قابل ستائش ہیں جو ہر ہفتہ ہزاروں کے مجمع میں کھڑے ہوکر بے تکان بولتے ہیں۔ وہ سیاستداں کتنے ماہرہیں کہ کسی تیاری کے بغیر عوام کے سامنے ایسی شعلہ بیانی سے کام لیتے ہیں کہ تقریرختم ہوتے ہی سامعین کے دلوں میں آگ لگ جاتی ہے۔ افسوس ان  مقررین کو سننے کے بعد بھی ہمیں تقریر کرنا نہیں آیا۔ مدرسوں میں تو طلبہ کو تقریر کرنا سکھایاجاتا ہے مگر ان شاطر سیاستدانوں نے یہ فن کہاں سے سیکھا؟ ہم بھی کتنے احمق ہیں۔ کبھی نہیں سوچا کہ الیکشن کے دنوں میں کبھی یوں ہی اسٹیج پر چڑھ جائیں۔ دوچار بار کی ہوٹنگ کے بعد بولنا آہی جائے گا لیکن اس جھجھک کا کیا کریں۔کم بخت اسٹیج پر ڈھنگ سے کھڑا ہی نہیں ہونے دیتی۔
  بہرحال میں اپنی سی تیاری کرکے ہال میں پہنچ گیا۔ منتظمین دروازے پر میرا انتظار کررہے تھے۔ میں نے جاتے ہی ایک صاحب سے کہا، تھوڑا  سا پانی مل جائے تو بہتر ہوگا۔ پانی پی کر جان میں جان آئی۔ واش رو م کے آئینے میں اپنی شکل دیکھی، منہ  پرپانی کےچھپاکے مارے،  بال درست کئے  اور ہال کی طرف بڑھنے لگا۔ میرے نام کا اعلان  پہلے ہی ہوچکا تھا۔ ڈرتے ڈرتے اسٹیج تک پہنچا مگر مائک کے قریب جاتے ہی نہ جانے کیوں پیر کپکپانے لگے۔ یوں محسوس ہوا جیسے ہال میں سامعین کی جگہ بھیڑیئے بیٹھے ہوں جو موقع پاتے ہی اسٹیج پر چڑھ کر میری تکا بوٹی کر ڈالیں گے۔   میں نے دائیں بائیں جانب دیکھا۔ ونگ میں کھڑے کچھ نوجوان میری بے بسی پر مسکرارہے تھے۔  سمجھ  میں نہیں آیا کہ کیا کروں؟ میں نے ہمت کرکے ایک بار کچھ بولنے کی کوشش کی مگر حلق سے آواز ہی نہیں نکلی ۔ جی چاہا آسمان سے بجلی گرے اور سارا ہال خاکستر ہوجائے۔ زلزلہ آئے اور ساری عمارت  ڈھ جائے۔ یا سیلاب ہی آجائے اورہال سمیت یہ ساری عمارت پانی میں بہہ جائے... مگر ایسا کچھ نہیں ہوا۔ الٹا مجھے ہوٹنگ سنائی دینے لگی۔ ہر طرف   سے سیٹیوں اور تالیوں کا شور میرے کان  پھاڑنے لگا۔ اور میں پریشانی کے عالم میں بھاگ کھڑا ہوا۔
 گھر پہنچ کر بھی وہ شورپیچھا کرتا رہا اور میں سوچنےلگا۔آخر میں ایسا کیوں ہوں؟ میں لوگوں کے سامنے کیوں نہیں بول پاتا؟ اجنبیوں سے گفتگو کرنے میں کیوں تکلیف ہوتی ہے؟ بھیڑ بھاڑ اور اجتماعات سے کیوں  دور بھاگتا ہوں؟ شاید اسی لئے میں دن بھر اکیلا رہنا پسند کرتا ہوں۔ آخر میں کب تک اپنے کمرے میں بند رہوں گا۔ مجھے اپنی کتاب یا لیپ ٹاپ سے اتنی محبت کیوں ہے کہ میں انہیں ایک لمحے کیلئے بھی اپنے سے جدا نہیں کرتا۔ یہ شرمیلا پن مجھ میں کب تک باقی رہے گا؟ کیا میں اپنی زندگی میں کبھی دوست نہیں بناپاؤں گا؟ خدا نہ کرے کہ میں شراب یا کسی اور نشے میں اپنی تنہائی کا حل ڈھونڈھنے لگوں۔مجھےہر دم یہ ڈر لگا رہتا ہے کہ میری کم آمیزی اور کم گوئی مجھے زندگی میں ناکام نہ کردے۔
  مشہورماہر نفسیات الفریڈ ایڈلر نے لکھا ہے کہ نپولین ، ابراہام لنکن ، ایڈیسن  اور شیکسپیئر جیسی مشہور ہستیوں کے علاوہ ایک بڑی آبادی آج بھی احساس کمتری میں مبتلا ہے۔ ’ٹوسٹ ماسٹر‘ نامی تنظیم کی ۱۱۳؍ ملکوں میں بارہ ہزار سے زائد شاخیں ہیں جو لوگوں کو بے جھجھک بولنا سکھاتی ہیں۔ Tony Robbins نے کلنٹن، ٹائیگر ووڈس ، نیلسن منڈیلا ، مارگریٹ تھیچر، شہزادی ڈائنا، مدر ٹریسا اور ان کے جیسے پچاس ملین افراد کو اعتماد کے ساتھ گفتگو کرنا سکھایا ہے۔ شاید میں بھی ان بدنصیبوں میں سے ہوں جو خود اعتمادی کی دولت سے تہی دست ہیں۔ تو کیا میں ہمیشہ احساس کمتری کا اسیر رہوں گا اور  زندگی بھر اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد الگ بنائے رکھوں گا۔ اچھا ہوتا جو میں ماضی کے یونان میں پیدا ہوا ہوتا جہاں ہر شخص بولنے پر قادر تھا یا روم میں جنم لیتا جہاں کا ہر شہری زبان پر غیر معمولی قدرت رکھتا تھا اور ناکام مقرروں کو شہر بدر کردیاجاتا تھا۔ میرا المیہ یہ ہے کہ لوگ میری  خامیوںاور کمزوریوں کے ساتھ مجھے قبول نہیں کرتے۔ مجھ میں کتنی تخلیقی صلاحیتیں  ہیں اور اکیلے میں میں کتنا کچھ کرلیتا ہوں، یہ کوئی نہیں جانتا اور نہ جاننے کی کوشش کرتا ہے۔ دنیا کے کتنے ہی بڑے لوگ تنہائی پسند واقع ہوئے ہیں۔ گوتم بدھ اور گاندھی سے لے کر Woznaikتک (جس نے انٹرنیٹ ایجاد کیا) سبھی تنہائی پسند تھے۔ کالج کے وہ طلبہ جو اکیلے پڑھائی کرتے ہیں، ان طلبہ سے کہیں زیادہ بہتر ہیں جو گروپ میں پڑھتے ہیں۔ 
 آج کی دنیا میں جہاں Extroverts کا ڈنکا بجتا ہے، بھلا مجھ جیسے Introvert کو کون قبول کرے گا؟  آج سے ۷۵؍ سال قبل ’کارل جنگ‘ نے انسانی شخصیت کے ان دوپہلوؤں پر ریسرچ کرکے ثابت کیا تھا کہ ایسے بے شمار افراد ہیں جو بڑے حساس اور خاموشی پسند ہوتے ہیں، جنہیں اپنی چھوٹی سی دنیا عزیز ہوتی ہے، جو ادب اور آرٹ میں دلچسپی رکھتے ہیں، ذرا ذرا سی بات پر فکرمند ہوجاتے ہیں مگراپنے شرمیلے پن کے باوجود قریبی لوگوں سے بہت پیار کرتے ہیں۔ ان کے مقابلے میں دوسرا گروہ وہ ہے جنہیں اپنے  پر بڑا اعتماد ہوتا ہے، وہ کھل کر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہیں اور لوگوں سے گھلنے ملنے میں انہیں ذرہ برابر تکلف نہیں ہوتا۔ اس مسئلے پر مزید تحقیق Jerone Kagar  نے کی اور اس نے ایک طویل عرصے تک بچوں پر تحقیق کرکے یہ انکشاف کیا کہ دونوں گروہوں کے اعصابی نظام میں واضح فرق ہوتا ہے۔ ایک و ہ جو خطرے کی بوسونگھتے ہی اپنا توازن کھوبیٹھتا ہے، دوسرا وہ جن کے بلڈ پریشر میں کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوتی۔ پہلا گروہ اپنے اندرون کی دنیا میں مصروف اپنے مقصد سے انحراف نہیں کرتا جبکہ دوسرے گروہ کے افراد خارجی دنیا اوراس کی ترغیبات میں مگن رہتے ہیں۔ کھانے پینے اور نت نئے تجربات کے شوقین یہ افراد  اپنے جارحانہ مزاج سے کسی قیمت پر بھی اپنا مقصد حاصل کرلیتے ہیں۔ کیسی عجیب بات ہے کہ ان تنہائی پسند اور طبّاع افراد کی قدر نہیں کی جاتی جو بڑی خاموشی سےمسلسل محنت کرتے ہوئے اپنا ہدف حاصل کرتے ہیں۔ اس کے اس کے برخلاف ان بظاہر اسمارٹ اور کامیاب لوگوں کو سرپربٹھایاجاتا ہے جو اپنی چرب زبانی اور چالاکی سے دنیا بٹورتے ہیں۔ آئنسٹائن کہا کرتا تھا کہ میں کوئی اسمارٹ انسان نہیں ہوں البتہ ہر مسئلے پر طویل عرصے تک غوروفکر کرتا ہوں۔ آج کی دنیا کا امیر ترین شخص وارن بفیٹ بھی کم گو اورکم آمیز ہے مگر اپنی ذہانت اور پیش بینی کی مدد سے اسٹاک مارکٹ پر راج کررہاہے۔  Extrovert افراد کا کمال  یہ ہے کہ وہ اپنی ہر منٹ کی قیمت لگاتے ہیں۔ ان کے نزدیک ’انعام‘ کا حصول ہی سب کچھ ہوتا ہے۔ جبکہ ارسطو سے لے کر موجودہ دور کی کسی عبقری شخصیت نے کسی انعام کی لالچ نہیں کی۔
 ڈیل کارنیگی کا نام کون نہیں جانتا؟ اس کی کتابیں لاکھوں کی تعداد میں بک چکی ہیں اورآج بھی جس شخص کو’کامیاب‘ہونے کا شوق چراتا ہے، وہ کارنیگی کی کتابوں سے اپنا سفر شروع کرتا ہے۔ یہ وہی Dale تھا جو بیسویں صدی کے ابتدائی برسوں میں امریکہ کے ایک پسماندہ گاؤں میں رہتا تھا۔ اس کا باپ ایک معمولی کسان ، غربت کے سبب بے حد مقروض تھا۔ اتفاق سے ایک رضاکار تنظیم کا والنٹیئرگاؤں اور قصبوں میں بسنے  والے امریکیوں کو ادب ، آرٹ اور سائنس سے متعارف کرانے آیا۔ اس نے اپنی لچھے دار تقریر سے نوجوان ڈیل کو ایسا مسحور کیا کہ ڈیل نے اسی دن سے تقریر کرنے کی مشق شروع کردی۔ کالج کے تقریری مقابلوں میں حصہ لیا اور انعامات حاصل کئے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب صنعتی انقلاب نے شہروں کو پرکشش بنادیاتھا اور گاؤں اور قصبوں سے مہاجرین کے قافلے شہروں کا رخ کررہے تھے۔ ساتھ ہی مشینوںکے کندھوں پر سفر کرتے ہوئے ایک نیا تہذیبی انقلاب جنم لے رہا تھا۔شرافت ، ایمانداری، حق پرستی اور قناعت کے بجائے چرب زبانی  جھوٹ ، بے ایمانی اور چالاکی اپنے قدم جمارہی تھی۔ بنیادی طورپر کردار کے کلچر کی جگہ اب ’پرسنالٹی‘  کے کلچر نے لے لی تھی۔’انٹرووَرٹ‘ کی جگہ اب ’اسٹرووَرٹ‘آئیڈیل بن چکا تھا۔کاروبار کیلئے یہ نہایت سازگار ماحول تھاکیونکہ اب شرفا اور ایماندار لوگوں کے بجائے  چرب  زبان ’سیلزمین ‘ درکا تھے۔ روحانی اقدار کی جگہ خالی ہوچکی تھی اور یہ مقام دنیاوی منافع اور کامیابی  نے ہتھیالیا تھا۔
  ڈیل کارنیگی بھی اپنا گاؤں چھوڑکر نیویارک آگیا تھا اور اس نے خود اعتمادی سے بولنے کے فن پراپنی کلاسیز کھول لی تھی۔ ۱۹۱۳ءمیں اس کی پہلی کتاب منظر عام پر آئی  جو ابھرتی ہوئی معیشت کیلئے مضبوط سہارا ثابت ہوئی۔ اس کتاب  نے ہزار  ہاسیلزمین تیار کئے  اور اب مسکرانا ، بڑھ کر مصافحہ کرنا اور اجنبیوں سے گھل مل کر گفتگو کرنا  اسم اعظم بن گیا۔ اسکول کے نصاب بھی ایسے ترتیب دیئے گئے جہاں طلبہ بولیں اور خوب  بولیں۔ صنعتی اداروں میں بھی ’ٹیمیں‘تشکیل پانے لگیں اور’برین اسٹارمنگ‘کے سیشن مقبول ہونے لگے۔
  ان حالات میں تنہائی پسند اور خاموش طبع لوگ کہاں جائیں؟ ہارورڈ یونیورسٹی کے مقبول ترین  پروفیسر ڈاکٹر برائن لٹل ہیں جو اتنے دلچسپ لیکچر دیتے ہیں کہ طلبہ ان کے اطراف پر وانوں کی طرح طواف کرتے ہیں جبکہ یہی صاحب کناڈا میں اکیلے رہتے ہیں اور کسی سے نہیں ملتے۔ ایک طرف ان کی زبان دانی اور طلبہ میں ہردلعزیزی ہے تو دوسری طرف ان کی کم آمیزی اور تنہائی پسندی۔ وہ ہیں تو انٹرووٹ مگر شاید انہوںنے حالات کے دھاروں کا اندازہ کرلیا ہے۔ وہ  جانتے ہیں کہ اپنی شخصیت اور ارد گرد کی دنیا سے ان کی محبت کوئی نہیں چھین سکتا مگر وہ بھی بھیڑ بھاڑ کا حصہ اسی وقت بنیں گے جب وہ خود چاہیں گے۔ توکیا مجھے تقریر کرنے کا فن سیکھ لینا چاہئے؟

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK