کیا تشہیر سے تاثر بدلنے کی مہم کامیاب ہوگی؟

Updated: October 18, 2020, 9:18 AM IST | Aakar Patel

کئی اُمور میں ہونے والے فیصلے بالخصوص عالمی جدولوں میں ہمارا مقام حقائق کی بنیاد پر ہوتا ہے،تاثر کی بنیاد پر نہیں چنانچہ سوال یہی ہے کہ کیا تشہیر سے تاثر بدلا جاسکتا ہے؟

Police - PIC : INN
پولیس ۔ تصویر : آئی این این

پیچیدہ مسائل کے حل کیلئے کئی اذہان کی ضرورت ہوتی ہے۔ سربراہی (لیڈرشپ) ضروری ہے مگر رہنمائی کی حد تک۔ حل میں وہی لوگ ممدومعاون ہوسکتے ہیںجنہیں فیصلوں کو نافذ کرنا ہوتا ہے، وہ شخص کچھ زیادہ نہیں کرسکتا جو رہنمائی کے منصب پر فائز ہو۔ اگر اس ترتیب کو اُلٹ دیا گیا تو حل کی تلاش مشکل ہوجائے گی اور اس کا نتیجہ تھکن کی شکل میں ظاہر ہوگا۔ سربراہ کی ماتحتی میں کام کرنے والے لوگ حل کی تلاش میں کامیاب ہوں اس کیلئے ضروری ہے کہ اختیارات کی تقسیم عمل میں آئے۔ وطن عزیز میں ایسا نہیں ہورہا ہے۔ اس وسیع و عریض اور پیچیدہ ملک میں اختیارات ایک ہی جگہ کچھ اس طرح مرکوز ہیں کہ اس کی نظیر نہیں ملتی۔ البتہ یہ صورتحال کسی حد تک اندرا گاندھی کے دور اقتدار سے مشابہ ہے۔ مگر وہ ۱۹۷۰ء کی دہائی کی دُنیا تھی جسے ایک الگ دَور اور دُنیا کہا جاسکتا ہے۔ 
 کابینہ میں چند اہم مناصب ایسے ہیں جن پر کبھی الیکشن نہ جیتنے والے لوگ فائز ہیں۔ وزیر مالیات، وزیر اُمور خارجہ ، وزیر ریلوے،  وزیر اقتصادیات (کامرس) اور وزیر صنعت، یہ سب لوگ کبھی انتخابی میدان میں اُترے نہ ہی انہوں نے کوئی الیکشن جیتا ہے۔ اب سے پہلے کے وزیر مالیات بھی غیر منتخبہ تھے۔ ان صاحبان کا انتخاب ان کی سیاسی مقبولیت کے سبب نہیں بلکہ مودی کی سرپرستی یا پشت پناہی کی وجہ سے ہوا۔ وہ اُن (مودی) کی حکم عدولی نہیں کرسکتے۔ جس دن اُنہوں نے کسی حکم سے روگردانی کی یا سوال کیا، اُن کا متبادل منتخب کرلیا جائیگا جو منہ بند اور اپنا منصب برقرار رکھے۔ اس طرح صورتحال یہ ہے کہ اختیارات کی مرکزیت ختم ہونے کا نام لے رہی ہے نہ جوابدہی کا سلسلہ شروع ہورہا ہے۔ 
 جب اتنے اعلیٰ مناصب پر حالات بگڑنے لگتے ہیں تو لیڈر کو مورد الزام نہیں ٹھہرایا جاسکتا۔ اس کا نام بھی نہیں لیا جاسکتا۔ کہنے والا یہی کہے گا کہ وہ (لیڈر) جو کہتا اور کرتا ہے وہ درست ہے، مشکلات یا مسائل کا حل اس کا طرز عمل درست کرنے میں نہیں بلکہ کہیں اور ہے۔ کچھ ہفتے پہلے ’’دی پرنٹ‘‘میں ایک خبر کی سرخی کچھ اس طرح تھی: ’’اپنی شبیہ درست کرنے کیلئے مودی حکومت کا بڑے پیمانے پر تشہیری مہم کا منصوبہ‘‘ تاکہ عالمی جدوَلوں میں ملک کی درجہ بندی بہتر بنائی جاسکے۔ مقصد یہ ہے کہ اس کام پر مامور لوگوں یا اداروں پر اثرانداز ہوکر درجہ بندی میں بہتر مقام حاصل کیا جائے۔ یہ جدوَل وہ ہیں جن کے ذریعہ کسی ملک کو جانچا پرکھا جاتا ہے کہ وہاں مذہبی، معاشی، سیاسی اور صحافتی آزادی کس حد تک ہے۔ اسی طرح قانون کی عملداری، دہشت گردی، جدت پسندی اور دیگر اُمور میں بھی متعلقہ ملکوں کو آنکا جاتا ہے۔ اس میں ہر قسم کا ڈیٹا مرتب کیا جاتا ہے یا عالمی ماہرین سے دریافت کیا جاتا ہے کہ متعلقہ ملک کے بارے میں اُن کا کیا تاثر ہے۔ اسی کی بنیاد پر درجہ بندی ہوتی ہے۔ کئی جدوَل عالمی بینک اور اقوام متحدہ جیسے کثیر ملکی ادارے تیار کرتے ہیں۔ اس تناظر میں یہ سمجھنا مشکل ہے کہ میڈیا کے ذریعہ چلائی جانے والی تشہیری مہم ہندوستان کی شبیہ کو کس طرح بہتر بناسکے گی جبکہ مرتب ہونے والے تمام جدول بہت ہی ٹھوس ڈیٹا کی بنیاد پر تیار کئے جاتے ہیں۔ اس کی مثال ملاحظہ کیجئے:
 ذرائع ابلاغ کی آزادی کے جدول میں ہندوستان کو ۱۴۲؍ واں مقام حاصل ہے۔ ۲۰۱۹ء میں ہمارا مقام ۱۴۰؍ اور ۲۰۱۸ء میں ۱۳۸؍ تھا۔ ابتریٔ مقام کی اس صورتحال کا سبب صحافیوں پر ہونے والے حملے اور کشمیر میں انٹرنیٹ کا بار بار تعطل ہے۔ یہ اُمور  معروضی اور قابل پیمائش ہیں یعنی ان کی گنتی کی جاسکتی ہے۔ اس صورتحال سے پیدا شدہ تاثر کو تشہیری مہم ختم نہیں کراسکتی خواہ کتنی ہی بڑی کیوں نہ ہو۔ اس سال مرکزی حکومت نے کشمیر کیلئے ایک نئی میڈیا پالیسی تشکیل دی ہے جس کی ذریعہ اس ریاست میں میڈیا کی آزادی کیلئے مزید مشکلات پیدا ہوگئی ہیں۔ 
 ذرائع ابلاغ کے جدول (میڈیا انڈیکس) کے تعلق سے حکومت اس طرح حرکت میں آئی کہ اس نے ’’انڈیکس مانیٹرنگ سیل‘‘ قائم کردیا جس کی سربراہی آپ کی عدالت والے رجت گپتا اور مشہور و ممتاز صحافی پی سائی ناتھ کو سونپی گئی مگر تشکیل کے بعد سے اب تک اس سیل کی کارگزاری کی کوئی اطلاع نہیں ملی۔ ویسے، ذرائع ابلاغ کے جدوَل میں ہمارا مقام آئندہ سال بھی بہتر ہونے کا امکان نہیں ہے اس لئے کسی تشہیری مہم سے اس تاثر کا ختم ہونا مشکل ہے کیونکہ یہ تاثر حقائق کی بنیاد پر قائم ہوا ہے۔ 
 ہندوستان میں کووڈمتاثرین کی جو تعداد جگ ظاہر ہے وہ کسی اور کی نہیں، حکومت ہی کی بیان کردہ ہے۔ اس تعداد کو دیگر ملکوں کے متاثرین کی تعداد، صحت یاب ہونے والوں کی تعداد وغیرہ کے تناظر میں دیکھا جائیگا بالخصوص جنوبی ایشیائی ملکوں کی صورتحال کے مقابلہ میں رکھا جائیگا۔متاثرین اور مہلوکین کی تعداد کا موازنہ دیگر ملکوں کے حالات سے کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ ہم کووڈ سے بہتر طور پر نمٹنے میں ناکام ہیں اور یہ حقیقت اعدادوشمار سے ظاہر ہے۔ ان اعدادوشمار کو تشہیری مہم کے ذریعہ کیسے بدلا جاسکتا ہے؟
 ہفتۂ رفتہ کے دوران یہ خبر منظر عام پر آئی کہ جاری مالی سال میں بنگلہ دیش کی فی کس آمدنی ہندوستان کی فی کس آمدنی سے زیادہ ہوجائے گی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بنگلہ دیش کے شہریوں کی اوسط آمدنی ہندوستانیوں کی اوسط آمدنی سے زیادہ ہوجائے گی۔ یہ خبر مودی حکومت کے مخالفین کے لئے بھی چونکانے والی ثابت ہوئی جو معاشی حالات پر ویسے بھی نظر رکھتے ہیں۔ توقع نہیں تھی کہ ایسا ہوگا کیونکہ ۲۰۱۴ء تک فی کس آمدنی کے معاملے میں ہندوستان بنگلہ دیش سے کافی آگے تھا۔ 
 بنگلہ دیش ہندوستان پر کیوں سبقت لے جانے کو ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ اس پڑوسی ملک نے کووڈ۔۱۹؍ سے پیدا شدہ حالات کو بہتر طور پر سنبھالا اور اسے معیشت پر اثر انداز ہونے سے روکا۔ اس کی دوسری وجہ یہ ہے کہ بنگلہ دیش گزشتہ چھ سال سے تیز رفتاری سے آگے بڑھ رہا ہے۔ہماری معیشت پر کووڈ کا زیادہ اثر نہ ہوتا تب بھی ڈھاکہ سبقت لے جانے والا تھا۔ یہ اس لئے ہر خاص و عام پر ظاہر نہیں ہوا کہ ہماری قیادت نے ان حالات کا اعتراف نہیں کیا اور دیگر لوگ لب کشائی کر نہیں سکتے۔ ہم باتیں اور دعوے تو امریکہ اور چین سے مقابلے کی کرتے ہیں مگر اس سے پہلے ہمیں بنگلہ دیش سے مقابلہ کرنا ہوگا۔ اب ان معاملات کو میڈیا کی تشہیری مہم کے ذریعہ کیسے ٹھیک کیا جاسکتا ہے؟ ایسی کوئی مہم صورتحال کو بدل سکتی ہے نہ ہی حقائق کو۔ مگر غالب امکان اسی بات کا ہے کہ یہ صورتحال بھی برقرار رہے گی اور اچھے دن کا شور بھی بڑھتا جائیگا

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK