Inquilab Logo Happiest Places to Work

کیا حکمرانوں کی لکھی ہوئی تاریخیں ہی پڑھائی جائینگی؟

Updated: August 29, 2025, 1:55 PM IST | Shamim Tariq | Mumbai

۲۰۱۴ء سے لے کر اب تک موجودہ حکمراں طبقے نے تاریخ کی کتابوں میں کئی ترامیم کی ہیں۔ جن کے ذریعہ تاریخ بدلنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

Since 2014, the current ruling class has made many changes to the history books.
۲۰۱۴ء سے لے کر اب تک موجودہ حکمراں طبقے نے تاریخ کی کتابوں میں کئی ترامیم کی ہیں

تاریخ قوموں کا حافظہ ہے اس سے چھیڑ چھاڑ درست نہیں، مگر یہ المیہ ہے کہ تاریخ اور تاریخ کی کتابیں بیشتر انہوں نے لکھوائی ہیں جو اقتدار کے مالک تھے۔ انگریزوں نے بالخصوص ایسی تاریخ لکھوائی اور پڑھائی جس سے ہندوستان میں رہنے والی مختلف جماعتوں کے درمیان نفرت پیدا ہو اور وہ کبھی متحد نہ ہو پائیں۔ یہاں کے سابق حکمرانوں یعنی مسلمانوں کو خاص طور پر نشانہ بنایا جاتا رہا۔ تازہ معاملہ یہ ہے کہ ۶؍ تا ۸؍ اور ۹؍ تا ۱۲؍ جماعت کی تاریخ کی کتابوں کے جو دو ماڈیول این سی ای آر ٹی نے تیار کئے ان میں لکھا گیا کہ جناح نے تقسیم ہند کا مطالبہ کیا۔ نہرو اور پٹیل نے خانہ جنگی کے خوف سے تقسیم ہند کا مطالبہ منظور کر لیا اور مہاتما گاندھی نے بھی اپنی مخالفت تج دی۔ اگر یہ صحیح ہے تو بی جے پی کے ایک بڑے لیڈر نے جناح کو سیکولر کیوں کہا؟ اور اگر ان کو سیکولر کہا تو ان کی باتوں پر لبیک کہنے والے کچھ مسلمانوں کو فرقہ پرست کیوں ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے؟ واقعہ یہ ہے کہ جناح کی اپنی قیادت کو مستحکم کرنے کی کوشش، کانگریس کی بہر قیمت جلد از جلد برسر اقتدار آنے کی خواہش اور انگریز حکومت کی سازش نے تقسیم کو ممکن بنایا۔
 ایک بار میں نے کانگریس کے ایک لیڈر اور مصنف کی کتاب پر ادارتی نوٹ لکھ کر دریافت کیا تھا کہ کیا تقسیم پر گفتگو کرتے ہوئے اس سوال پر غور نہیں کرنا چاہئے کہ کانگریس لیڈران کی جلد از جلد اقتدار پانے کی خواہش نے تقسیم کو ممکن بنایا اور ان کا جواب تھا بیشک ایسا ہوا۔ جولائی ۲۰۲۵ء میں درجہ ۸؍ کی تاریخ کی کتاب سے رضیہ سلطان اور نورجہاں کا ذکر ہٹایا گیا۔ درجہ ۸؍ کی ہی کتاب میں بابر کو ظالم اور اکبر کو ظلم و رحم کا مجموعہ بتایا گیا، حیدر علی، ٹیپو سلطان اور اینگلو میسور جنگ کا باب ہی نکال دیا گیا اور اس سے پہلے اپریل میں ۱۲؍ ویں کی تاریخ کی کتاب میں اس نظریے کو غلط بتایا گیا تھا کہ آریہ کہیں باہر سے آکر ہندوستان میں آباد ہوئے تھے۔ اس سے پہلے ۲۰۰۲ء میں قدیم ہندوستان کو صرف آریوں اور مقامی لوگوں کا ملک بتایا گیا تھا۔ ۲۰۰۸ء میں ۱۲؍ ویں کی تاریخ کی کتاب میں سکھ مذہب سے متعلق کچھ ترامیم نزع کا باعث بنی تھیں۔ ۲۰۱۲ء میں ریپبلکن پارٹی کے آٹھولے گروپ نے ۱۱؍ ویں درجہ کی تاریخ کی کتاب میں بابا صاحب امبیڈکر کی توہین ہونے کا الزام لگایا تھا۔ ۲۰۱۴ء کے بعد تو موجودہ حکمراں پارٹی کے زمانے میں کئی تبدیلیاں ہوئی ہیں اور ابواب نکالے گئے ہیں مثلاً ۲۰۱۷ء میں نصاب کی ۱۸۲؍ کتابوں میں ۱۳۳۴؍ ترامیم ہوئیں۔ مغل تاریخ اور گاندھی جی کے قتل کی تفصیلات کو مختصر کیا گیا۔ ۲۰۲۰ء میں فیض احمد فیض کی نظم اور نرمدا بچاؤ تحریک کو نصاب سے نکالا گیا۔ ۲۰۲۴ء میں ۱۲؍ ویں درجے کی تاریخ یا پولیٹکل سائنس کی کتاب سے بابری مسجد کی شہادت کا باب نکالا گیا، گجرات فساد یا نسل کشی کا باب بھی ہٹایا گیا۔ یعنی تاریخ کی کتابوں میں ترامیم کا سلسلہ ۲۰۱۴ء میں مودی حکومت کے برسر اقتدار آنے سے پہلے بھی جاری تھا اور بعد میں تو جاری ہے ہی۔ اس سلسلے میں این سی ای آر ٹی کے سابق ڈائریکٹر جے ایس راجپوت کا موقف ہے کہ کتابوں میں ترمیم ضروری ہے، کوئی بھی کتاب ۵، ۶؍ سال سے زیادہ نہیں چل سکتی۔ کتابیں تبدیل کرنا قومی ضرورت ہے کہ نئی تحقیق نئے حقائق سامنے لاتی ہے جبکہ تاریخ داں ایس عرفان حبیب کا موقف ہے کہ جو بھی تبدیلیاں ہو رہی ہیں وہ سوچی سمجھی حکمت عملی ہے۔ ماضی سے ان کا تعلق نہیں ہے بلکہ آج یعنی حال سے ہے۔ اس میں تاریخ کے وسطی عہد پر ہی گفتگو ہوتی ہے کیونکہ اس عہد میں تنازعات بہت ہیں، جنگیں ہیں اور یہی ان کی سیاست کو راس آتا ہے۔ کن کی حکومت کو راس آتا ہے؟ یہ بتانے کی ضرورت نہیں۔
 ہم جناح کو بے قصور نہیں مانتے مگر یہ بھی مانتے ہیں کہ محض ایک شخص یا پارٹی کی ضد کی وجہ سے ملک نہیں تقسیم ہوا۔ یہ سازش مہاراشٹر کے سابق گورنر پی سی الیگزینڈر کے مطابق ۱۹۱۴ء میں یورپ میں رچی گئی تھی۔ کچھ لوگ اور پارٹیاں اس سازش کا حصہ بنیں، جنہوں نے مخالفت کی انہوں نے جناح کی شکایتوں اور اندیشوں کو غلط قرار دیا۔ تقسیم کے بعد کے حالات میں مظلومین سے کسی نے یہ نہیں کہا کہ برا ہوا کیونکہ ان کے ساتھ برا کیا جا رہا تھا۔ بعد میں تقسیم کی مخالفت کرنے والے حلقے کے ایک بڑے لیڈر نے جناح کو سیکولر ہونے کی سند دی اور یہ بھول گئے کہ اگر جناح سیکولر تھے تو مولانا آزاد کیا تھے؟ جنہوں نے تقسیم ہند کی آخر وقت تک مخالفت کی تھی۔ آج حال یہ ہے کہ ہمارے ملک میں جناح تو کسی نہ کسی شکل میں زندہ رکھے گئے ہیں مگر مولانا آزاد کی شبیہ دھندلی ہوتی جا رہی ہے۔ کانگریس نے پہلے تو انہیں اپنے مائناریٹی سیل میں محدود کیا پھر وہ غائب ہوتے چلے گئے۔ دوسری طرف ان لوگوں نے جناح کے نام کو زندہ رکھا جو اس کو بہانہ بنا کر مسلمانوں کو حاشیے پر رکھنا چاہتے تھے۔
 اکبر کو ایک زمانے تک مثالی حکمراں اور شخص بنا کر پیش کیا جاتا رہا اب اس کو ظلم اور رحم کا مجموعہ قرار دیا جا رہا ہے۔ ساتویں درجے کی تاریخ کی کتاب سے مغل اور دہلی سلطنت کی تفصیلات غائب کر دی گئی ہیں اور مگدھ، موریہ، شنبھ، ساتواہن جیسے پرانے برسراقتدار خاندانوں کے علاوہ مہا کنبھ، میک اِن انڈیا، بیٹی بچاؤ بیٹی پڑھاؤ اور چار دھام سے متعلق نئے ابواب شامل کئے گئے ہیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ تاریخ جو ماضی کی منظر نگاری اور تبصرے پر مبنی تھی اب مستقبل کے ایجنڈے کے طور پر پڑھائی جا رہی ہے۔ مسلمانوں میں کچھ تاریخ داں تو ہیں مگر نئی نسل کی تربیت کرنے والے شاید نہیں ہیں۔ تمدنی، علمی اور ملی تاریخ پر تو توجہ ہی نہیں ہے اس لئے امام غزالیؒ، امام ابن سیرینؒ، مجدد الف ثانیؒ، شاہ ولی اللہؒ کی خدمات پردۂ خفا میں چلی گئی ہیں لہٰذا حساس طبیعتیں اس مخمصے میں ہیں کہ کیا حکمرانوں کی لکھی ہوئی تاریخیں ہی پڑھائی جائینگی؟ اور ہم غلامانہ ذہنیت کو فروغ دیتے رہیں گے؟ اگر نہیں تو ہماری بے حسی کیا گل کھلائے گی؟n

education Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK