اکولہ ضلع کے تلے گائوں خورد میں لڑکیوں کے اسکول میں پڑھانے والے ٹیچر پروین چنچولکر کو مقامی باشندے کہیں اور جانے نہیں دینا چاہتے۔
EPAPER
Updated: August 29, 2025, 3:20 PM IST | Ali Imran | Akola
اکولہ ضلع کے تلے گائوں خورد میں لڑکیوں کے اسکول میں پڑھانے والے ٹیچر پروین چنچولکر کو مقامی باشندے کہیں اور جانے نہیں دینا چاہتے۔
اکولہ ضلع کے تلہارا تعلقہ میں واقع تلے گاؤں خورد میں ایک ضلع پریشد اسکول کے ٹیچر کا تبادلہ بحث کا موضوع بن گیا ہے۔ گاؤں والوں کی نظروں میں رول ماڈل سمجھے جانے والے استاد پروین چنچولکر کے تبادلے کو رکوانے کیلئے مقامی باشندے متحد ہو گئے ہیں اور سخت وارننگ دی ہے کہ ’’اگر سر چلے گئے تو اسکول بند کر دیا جائے گا۔‘‘ ان کا کہنا ہے کہ چنچولکر گروجی نے گاؤں کے اسکول کو نمبر ون بنانے کیلئے کڑی محنت کی ہے ۔ اُن کی ایمانداری اور لگن کے سبب تعلیم کا معیار بلند ہوا ہے۔
اطلاع کے مطابق تلہارا تعلقہ کےتلے گاؤں خورد میں ضلع پریشد کا ایک مراٹھی پرائمری گرلس اسکول ہے جہاں ساتویں جماعت تک تعلی ہوتی ہے۔ تلے گا ئوں خورد، تلے گائوں بدروک اور تلے گائوں بازار ان ۳؍ دیہات کی لڑکیاں اس اسکول میں پڑھتی ہیں۔ پروین چنچولکر پچھلے ۸؍ سال سے یہاں تعلیم دے رہے ہیں۔ یہ گاؤں میں لڑکیوں کا واحد ضلع پریشد اسکول ہے، اور اُن کی محنت سے لڑکیوں کی تعلیم میں انقلابی تبدیلی آئی ہے۔ ایک گاؤں کے ایک مکین ڈاکٹر مکیش ٹاپرے نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے جذباتی ہو کر کہا کہ، ’’سر کی وجہ سے ہماری بیٹیوں نے خواب دیکھنا سیکھا ہے۔ گروجی نے گاؤں کی لڑکیوں کو انگریزی بولنا اور اعلیٰ مقاصد کیلئے لڑنا سکھایا ہے۔‘‘
اطلاع کے مطابق اسکول میں پہلی سے ساتویں جماعت تک صرف ۴؍ اساتذہ پڑھا رہے تھے ۔ ان میں سے ۳؍ کا تبادلہ کر دیا گیا ہے جن میں پروین چنچولکر بھی شامل ہیں۔ ایسی صورت میں والدین کو خدشہ ہے کہ بچیوں کی تعلیم متاثر ہوگی، پڑھائی کا وقت ضائع ہوگا اور اسکول کا مستقبل خطرے میں پڑ جائے گا۔
گاؤں والوں کا تبادلہ منسوخ کرنے کا مطالبہ
گاؤں کے لوگوں کا ایک بڑا ہجوم ضلع کلکٹر، ضلع پریشد کے سی ای او اور ایجوکیشن آفیسر سے براہ راست ملنے اکولہ پہنچ گیا۔ اس کے ساتھ انہوں نےضلع کے سرپرست وزیر آکاش فونڈکر، رکن پارلیمان انوپ دھوترے اور رکن اسمبلی امول مٹکری سے بھی بات چیت کی اور اپنا موقف واضح کیا۔ ساتھ ہی ان لوگوں کو ایک میمورنڈم بھی پیش کیا۔ ان کا مطالبہ ایک ہی ہے۔ استاد پروین چنچولکر کا تبادلہ فوری طور پر منسوخ کریں، ورنہ ہم اسکول کو ہی تالا لگا دیں گے۔
انتظامیہ کے سامنے بڑا چیلنج
یہ مسئلہ اب انتظامیہ، عوامی نمائندوں اور محکمہ تعلیم کے سامنے ایک سنگین چیلنج بن گیا ہے۔ ہر کوئی پرزور مطالبہ کر رہا ہے کہ انتظامیہ گاؤں میں لڑکیوں کے واحد اسکول کے مستقبل کے تعلق سے فوری فیصلہ کرے۔ ’’اسکول تب تک نہیں کھلے گا جب تک ٹیچر واپس نہیں آتا‘‘ یہ گاؤں والوں کی فریاد ہے جسے اب انتظامیہ کو سننا پڑے گا۔ کیونکہ یہ سوال صرف ایک ٹیچر کا نہیں ہے بلکہ گاؤں کی لڑکیوں کے روشن مستقبل کا ہے۔ کیا حکومت اور انتظامیہ تلے گائوں خورد کے مکینوں کی یہ فریاد سنے گی؟ اور کیا پروین چنچولکر کا تبادلہ منسوخ ہو جائے گا؟ یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا۔