Inquilab Logo Happiest Places to Work

طلبہ کا احسان مانیں گے ہم؟

Updated: August 23, 2026, 12:57 PM IST | Mumbai

جنتر منتر پر طلبہ نے جس جرأت کا مظاہرہ کیا اگر وہ نہ ہوتا تو ملک میں تبدیلی کی غیر معمولی لہر نہ پیدا ہوتی اور پرائمری تک کے طلبہ سڑکوں پر نہ آتے۔

Photo: INN.
تصویر: آئی این این۔

اب شاید اہل اقتدار اور ارباب اختیار سمجھ پائیں کہ عالمی یونیورسٹیوں میں کسی ہندوستانی یونیورسٹی کو اعلیٰ مقام کیوں نہیں ملتا۔ اب شاید سمجھ میں آئے کہ ہمارا معیارِ تعلیم ویسا کیوں نہیں ہے جیسا اُن ملکوں کا ہے جو معیارِ تعلیم کے جدول میں اولین پانچ مقامات میں سے کوئی ایک حاصل کرتے ہیں۔ اب شاید یہ عیاں ہو کہ ہمارے طلبہ ریاضی اور زباندانی کے عالمی مقابلوں میں بہت اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیوں نہیں کرتے۔ اب شاید یہ واضح ہو کہ ہماری اعلیٰ انسٹی ٹیوشنوں سے فارغ طلبہ کیلئے ’’قابل ملازمت‘‘ ہونے (Employability) کا سوال کیوں اُٹھتا ہے؟ وجہ بیان کرنے کی ضرورت نہیں کہ اب طلبہ ہی تمام باتوں کو طشت از بام کررہے ہیں۔ اسکول بھینسوں کے طبیلے میں چلتا ہے اور کسی کو فکر نہیں ہے۔ اسکول کے قریب گڑھے ہیں، طلبہ کا آنا جانا مصیبت بنا ہوا ہے اور کوئی توجہ دینے والا نہیں ہے۔ درس گاہ کے قریب سڑک کی درگت بنی ہوئی ہےجس سے آٹو رِکشا کے پلٹ جانے کا خطرہ رہتا ہے اور انتظامیہ نیند میں ہے۔ اسکول میں ٹیچر نہیں ہیں اور پڑھائی جیسے تیسے چل رہی ہے۔ ٹیچر کی مہارت کے اعتبار سے اُسے تدریس کا موقع نہیں دیا جاتا بلکہ ’’غیر مہارت‘‘ کے مضامین بھی سونپ دیئے جاتے ہیں کہ آپ یہ پڑھائیے یا یہ بھی پڑھائیے، شکایت ہوتی ہے، اخبارات میں رپورٹ چھپتی ہے مگر نتیجہ ڈھاک کے تین پات۔ ہر جگہ کوئی نہ کوئی ایسی شکایت موجود ہے جو طلبہ کو صحیح تعلیم کے اُن کے حق سے محروم کررہی ہے۔ 
جنتر منتر پر طلبہ نے جس جرأت کا مظاہرہ کیا اگر وہ نہ ہوتا تو ملک میں تبدیلی کی غیر معمولی لہر نہ پیدا ہوتی اور پرائمری تک کے طلبہ سڑکوں پر نہ آتے۔ تمام اہل وطن پر یہ اِن طلبہ کا احسان ہے۔ اُنہی کی وجہ سے ہمارا ایجوکیشن سسٹم آئینے میں آیا اور آئینہ چونکہ جھوٹ نہیں بولتا اس لئے یوں سمجھ لیجئے کہ ایک قسم کی ایم آر آئی یا ایکس رے رپورٹ ملک کے سامنے ہے۔ اس رپورٹ کو دیکھ کر محسوس کیا جاسکتا ہے کہ اگر صدق دلی سے اور ایمانداری سے نظام ِ تعلیم کو درست کرنے کی کوشش کی گئی تب بھی کم از کم دس سال لگیں گے تب کہیں جاکر نقائص اور مسائل دور ہوں گے اور اس کے بعد بہتر حالات کے پیدا ہونے کی توقع کی جاسکے گی۔ کیا ہر طرح کے مسائل کو منظر عام پر لانے کیلئے ہم اپنے ملک کے اِن طلبہ کا، جو جین زی اور جین الفا کہلاتے ہیں، احسان مانیں گے؟
تعلیم بنیادی حق ہے۔ اسے ابتداء سے لے کر اعلیٰ اور پیشہ جاتی تک مفت ہونا چاہئے مگر تعلیم کو اتنا مہنگا کردیا گیا ہے کہ جو مالدار گھرانوں کے بچے ہیں اعلیٰ تعلیم اُنہی کو ملے اور اگر کوئی غریب خاندان چاہتا ہے تو قرض لے کرفیس کی موٹی رقم ادا کرے۔ ان حالات کے علم کے باوجود لاعلمی کا ڈھونگ رچانے والوں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ اُن کی چشم پوشی اور غلط ترجیحات کے خلاف طلبہ ہی سڑکوں پر آجائینگے اور اُنہیں ہر کام چھوڑ کر اُن کی سننی پڑیگی۔ اس کے باوجود ہمیں لگتا ہے کہ اب بھی ارباب اقتدار و اختیار سنجیدہ نہیں ہیں۔ وہ سمجھ رہے ہیں کہ یہ وقتی اور عارضی ہے، اس سے نمٹ لیں گے۔ یہ افسوسناک ہے۔ 

rajasthan Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK