Inquilab Logo Happiest Places to Work

راجستھان:سی جے پی ٹیم پر حملہ، سرکاری اسکول کے بھینسوں کے باڑے میں چلنے کا دعویٰ

Updated: August 21, 2026, 4:03 PM IST | Jaipur

راجستھان میں خستہ حال سرکاری اسکولوں کے خلاف چلائی جا رہی ’’اسکول ٹھیک کرو‘‘ مہم کے دوران سی جے پی کی ٹیم پر حملہ ہوگیا۔ سی جے پی لیڈرآشوتوش رانکا نے الزام لگایا کہ اسکول کو بھینسوں کے باڑے میں چلایا جا رہا ہے اور حملہ سیاسی سرپرستی میں کیا گیا۔

Ashutosh Ranka. Photo: PTI
آشوتوش رانکا۔ تصویر: پی ٹی آئی

راجستھان کے دارالحکومت جے پور کے قریب کنورپورہ، رام پورہ میں جمعہ کو ایک سرکاری اسکول کے دورے کے دوران کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) کے وفد پر حملہ کیا گیا۔ سی جے پی کے لیڈر آشوتوش رانکا نے دعویٰ کیا کہ یہ اسکول گزشتہ کئی برسوں سے بھینسوں کے باڑے میں چلایا جا رہا ہے۔ رانکا نے ایکس پر اپنی ایک پوسٹ میں لکھا کہ جب وہ اور سی جے پی کی ٹیم اسکول کا معائنہ کرنے وہاں پہنچی تو ’’بیرونی افراد‘‘ کے ایک گروپ نے ان پر حملہ کردیا۔ انہوں نے لکھا، ’’آج تمام حدیں پار کردی گئی ہیں۔ یہ اسکول کئی برسوں سے بھینسوں کے باڑے میں چل رہا ہے۔ جب ہماری ٹیم معائنے کیلئے اسکول پہنچی تو ہماری گاڑیوں پر حملہ کیا گیا، شیشے توڑ دیئے گئے اور پتھر برسائے گئے۔ پتھروں سے بھرے ٹیوبوں کے ذریعے ہماری ٹیم کے ارکان کو مارا گیا۔ میرے کپڑے پھاڑ دیئے گئے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: مذہب تبدیل کرنے سے ذات نہیں بدل جاتی

سی جے پی نے اس واقعے کیلئے راجستھان کے اسکولی تعلیم کے وزیر اور رام گنج منڈی سے بی جے پی کے رکن اسمبلی مدن دلاور کو ذمہ دار ٹھہرایا۔ رانکا نے لکھا، ’’یہ حملہ مدن دلاور کے حکم پر کیا گیا۔ انہیں اس بات سے کوئی مسئلہ نہیں کہ بچے بھینسوں کے باڑے میں تعلیم حاصل کریں، لیکن انہیں اس بات سے مسئلہ ہے کہ اسکول کی حالت بہتر کی جائے۔ آپ کے اقدامات نے راجستھان کو شرمندہ کیا ہے۔ یہ غنڈہ گردی ہمیں خوف زدہ نہیں کرے گی۔ اسکولوں کی مرمت کرنی ہی ہوگی۔ ‘‘
سی جے پی لیڈرنے یہ بھی الزام عائد کیا کہ کارکنوں پر حملے کے دوران راجستھان پولیس نے کوئی کارروائی نہیں کی۔ رانکا کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایک سال قبل بھی اس اسکول کا دورہ کیا تھا اور اس وقت بھی اسکول کی حالت ایسی ہی تھی۔

یہ بھی پڑھئے: عدالت نے ابھیشیک بنرجی کے دفتر کے انہدام پر عائد روک کی مدت بڑھا دی

سی جے پی جو طلبہ کے احتجاج کے دوران قائم ہوئی تھی، نے۱۵؍ اگست کو ’’اسکول ٹھیک کرو‘‘ مہم شروع کی تھی۔ مہم شروع ہونے کے بعد سے ہندوستان کے چھوٹے شہروں اور دیہات کے طلبہ نے سی جے پی کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر اپنے علاقوں کے اسکولوں کی تصاویر اور ویڈیوز بڑی تعداد میں شیئر کی ہیں اور سی جے پی سے اپنی ٹیمیں بھیجنے کی درخواست کی ہے۔ مغربی بنگال کے بانکوڑہ ضلع کے انداس سے تعلق رکھنے والے ایک نوجوان کے والد پر بھی اس وقت حملہ کیا گیا تھا جب ان کے بیٹے نے اپنے گاؤں کے اسکول کی ویڈیو شیئر کی تھی۔ بعد میں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسے۔ مذکورہ نوجوان نے دہلی کے جنتر منتر پر سی جے پی کے احتجاج میں بھی شرکت کی تھی۔ 
رانکا نے جے پور سے اپنی اسکولی تعلیم مکمل کرنے کے بعد آئی آئی ٹی کانپور میں تعلیم حاصل کی اور بعد ازاں لندن اسکول آف اکنامکس گئے۔ کچھ روز قبل انہوں نے کہا تھا کہ راجستھان میں ۸۴؍ ہزار خستہ حال کلاس رومز موجود ہیں۔ رانکا نے لکھا، ’’حکومت کو بتانا چاہئے کہ وہ ان کی مرمت کب تک مکمل کرے گی۔ تب تک ہم رکنے والے نہیں ہیں۔ ‘‘اسکول ٹھیک کرو مہم شروع ہونے کے ایک دن بعد رانکا نے کہا تھا کہ انہیں جے پور، اجمیر، جودھپور، دھولپور، بھرت پور، کوٹا، باڑمیر اور ہنومان گڑھ سے اسکولوں کے خستہ حال بنیادی ڈھانچے کی شکایات موصول ہوئی ہیں اور وہ ان علاقوں کا دورہ کریں گے۔ راجستھان جانے سے قبل رانکا نے ریاستی وزیر مدن دلاور کو چیلنج کیا تھا کہ وہ اپنی مدتِ کار میں تعمیر کئےگئے۱۰’’شاندار‘‘ اسکولوں کے نام بتائیں۔

یہ بھی پڑھئے: جھارکھنڈ : منتخب امیدواروں کا پروجیکٹ بھون کی طرف مارچ

سی جے پی کے دورے کے اعلان کے بعد راجستھان کے محکمۂ تعلیم نے ایک سرکلر جاری کیا، جس میں اسکول کے احاطے میں بیرونی افراد کے داخلے پر پابندی عائد کرنے کے ساتھ فوٹوگرافی، ویڈیوگرافی، انٹرویوز اور لائیو اسٹریمنگ پر بھی پابندیاں عائد کردی گئیں۔ تاہم، مقامی ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس، باگرو کے دھرمیندر شرما نے کہا کہ انہیں سی جے پی کی ٹیم کے ساتھ کسی جھڑپ کے بارے میں علم نہیں ہے۔ خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق، ’’مقامی افراد‘‘ نے گاؤں تک پہنچنے والی مرکزی سڑک پر رکاوٹیں کھڑی کردی تھیں اور گاؤں میں داخل ہونے والی گاڑیوں کی تلاشی لے رہے تھے، جس کے بعد ان کے اور سی جے پی کی ٹیم کے درمیان تصادم ہوگیا۔ مقامی بی جے پی لیڈروں اور پی ٹی آئی سے بات کرنے والے بعض گاؤں والوں نے دعویٰ کیا کہ راجستھان حکومت پہلے ہی اسکول کی مرمت کیلئے تقریباً ۱۲؍ لاکھ روپے منظور کرچکی ہے اور انہیں سی جے پی کی مدد کی ضرورت نہیں ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK