سی جے پی کے شریک کنوینر اور ترجمان آشوتوش رانکا نے اس حکم کو چیلنج کیا کہ ہمیں سرکاری اسکولوں میں داخل ہونے اور ان کی مرمت کرانے سے کوئی نہیں روک سکتا۔
EPAPER
Updated: August 18, 2026, 1:33 PM IST | Agency | Jaipur
سی جے پی کے شریک کنوینر اور ترجمان آشوتوش رانکا نے اس حکم کو چیلنج کیا کہ ہمیں سرکاری اسکولوں میں داخل ہونے اور ان کی مرمت کرانے سے کوئی نہیں روک سکتا۔
راجستھان میں سرکاری اسکولوں کی خستہ حالی، بنیادی سہولیات کی کمی اور اساتذہ کی شدید کمی پر سیاسی اور سماجی انتشار بڑھ گیا ہے۔کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے’اسکول ٹھیک کرو مہم‘ سے گھبراہٹ کا شکار راجستھان حکومت کے ڈائریکٹوریٹ آف سیکنڈری ایجوکیشن نے اتوار کی شام اسکولوں میں باہری لوگوں کے داخلے پر پابندی لگا نے کا سخت حکم جاری کیا۔ راجستھان حکومت کے حکم کے بعد سی جے پی کے شریک کنوینر اور ترجمان آشوتوش رانکا نے ایک بیان جاری کیا جس میں انہوں نے چیلنج کیا کہ ہمیں سرکاری اسکولوں میں داخل ہونے اور ان کی مرمت کرانے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ دریں اثناء لکھنؤ کے ڈوبگہ علاقے میں جین الفا پیرکو دوبارہ سڑکوں پر نکل آئے۔ جس اسکول میں جین الفا نے پیر کو احتجاج کیا، انہی طلبہ نے اس سے قبل ۱۴؍ اگست کو بھی احتجاج کیا تھا۔
یہ بھی پڑھئے:’’مظفر نگر فساد کےملزمین سے مقدمات واپس لینا ملک و سماج کیلئے خطرہ‘‘
حالیہ ہفتوں میں، خستہ حال عمارتوں اور اساتذہ کی کمی کے خلاف راجستھان کے کئی اضلاع میں سرکاری اسکولوں میں طلبہ اور والدین نے احتجاج کیا ہے۔۱۴؍ اگست کو سی جے پی کے شریک کنوینر آشوتوش رانکا نے الور کے ایک سرکاری اسکول میں طلباء کے ساتھ دھرنا دیا تھا۔ احتجاج کے بعد انتظامیہ کو اسکول کے اضافی کمروں، صاف بیت الخلاء اور پینے کے پانی کے لیے آر او مشینوں کی تنصیب کے مطالبات ماننے پڑے تھے۔الور احتجاج کی کامیابی کے بعد آشوتوش رانکا نے اتوارکی صبح سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں اعلان کیا کہ انہیں جے پور، اجمیر، جودھ پور، ادے پور، دھول پور، بھرت پور، کوٹا، باڑمیر اور ہنومان گڑھ کے خستہ حال اسکولوں کا معائنہ کرنے کی درخواستیں موصول ہوئی ہیں، جہاں مقامی انتظامیہ مرمت کرنے میں ناکام رہا ہے۔