Inquilab Logo Happiest Places to Work

راجستھان: اسکول کی چھت گرنے کے بعد طلبہ کا احتجاج، سی جے پی کی شمولیت

Updated: August 16, 2026, 8:02 PM IST | Jaipur

راجستھان کے ضلع الور میں ایک اسکول کی چھت گرنے کے بعد طلبہ نے احتجاج کیا، جس کے بعد کاکروچ جنتا پارٹی بھی اس میں شامل ہوگئی، جس کے نتیجے میں طلبہ اپنے بہت سے مطالبات منوانے میں کامیاب ہوگئے۔

Cockroach Janata Party spokesperson Ashutosh Ranga. Photo: X
کاکروچ جنتا پارٹی کے ترجمان آشوتوش رانگا۔ تصویر: ایکس

راجستھان کے ضلع الور کی ایک اسکول کی چھت گرنے کا واقعہ پیش آیا، حالانکہ اس حادثے میں کوئی زخمی نہیں ہوا،کیونکہ مذکورہ کمرہ ایک سال سے زائد عرصے سے بند تھا، لیکن اس واقعے نے طلبہ کو متحرک کردیا جو کچھ عرصے سے اسکول کے بنیادی ڈھانچے میں بہتری کے مطالبے کر رہے تھے۔ چند گھنٹوں کے اندر، تھاناغازی قصبے کے اس اسکول کے سینکڑوں طلبہ اسکول کے احاطے میں جمع ہوئے اور احتجاج شروع کر دیا، جس کی فوٹیج وسیع پیمانے پر گردش کی گئی اور بالآخر کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کی توجہ مبذول کرائی۔بعد ازاں اگلے دن، سی جے پی کے ترجمان آشوتوش رانگا اور دیگر اسکول پہنچے، طلبہ کے ساتھ بیٹھے، اور اسکول کی عمارتوں کی مرمت اور سڑک رابطے کو بہتر بنانے کے لیے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا۔شام کو، رانگا نے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو پوسٹ کی، جس میں اعلان کیا کہ طلبہ کے مطالبات قبول کر لیے گئے ہیں۔ انہوں نے طلبہ کی کوششوں کو سراہا۔
ضلع تعلیم افسر منوج شرما نے دی انڈین ایکسپریس کو بتایا کہ’’ اسکول میں چھ فعال  کمرے تھے اور اتنے ہی کمرے تھے جنہیں سروے کے بعد غیر محفوظ قرار دیا گیا تھا۔جس چھت کا ایک حصہ گرا، وہ اس کمرے کی تھی جو پہلے ہی غیر محفوظ قرار دیا جا چکا تھا۔ اس کمرے میں کوئی نہیں بیٹھتا تھا۔ واقعے سے طلبہ ڈر گئے اور احتجاج شروع کر دیا۔ ہم نے ان کے مطالبات تسلیم کر لیے۔ سب ڈویژنل مجسٹریٹ (ایس ڈی ایم) نے وعدہ کیا ہے کہ وی بی-جی رام جی مشن کے تحت تین نئے کمرے تعمیر کیے جائیں گے۔ ہم نے ریاستی حکومت کو چار نئے کمروں کے لیے تجویز بھی بھیجی ہے۔‘‘رانگا نے اپنی ایکس پوسٹ میں لکھا، ’’تمام کلاس روم ایک ہفتے کے اندر مرمت کر کے صرف بچوں کے لیے مختص کیے جائیں گے۔ اور سات کمرے اگلے تین مہینوں میں تیار کیے جائیں گے، ساتھ ہی بچوں کے لیے کھیل کا میدان بنایا جائے گا۔
واضح رہے کہ اسکول کو چار سال قبل سینئر سیکنڈری سطح تک اپگریڈ کیا گیا تھا لیکن مقامی افراد نے میڈیا کو بتایا کہ تدریسی اسامیوں کی متعدد اسامی خالی ہیں۔ کوئی پرنسپل نہیں ہے، جبکہ گریڈدوم کے پانچ اساتذہ کی اسامی مبینہ طور پر خالی ہیں۔ فی الحال اسکول میں صرف ایک درجہ دوم کا استاد ہے، جبکہ درجہ سوم کے اساتذہ بارہویں جماعت تک کے طلبہ کو پڑھا رہے ہیں۔شرما نے بتایا کہ اسکول میں فی الحال چھ اساتذہ ہیں جبکہ مزید سات اساتذہ کی منتقلی ہو چکی ہے۔تاہم مقامی افراد نے اس بات پر بھی افسوس کا اظہار کیا کہ اسکول کی عمارت غیر محفوظ قرار دیے جانے کے باوجود اسے منہدم یا مرمت نہیں کیا گیا۔
علاوہ ازیں طلبہ اور سی جے پی لیڈروں نے یہ مطالبہ بھی کیا کہ بیت الخلاء کی مرمت کی جائے۔ انتظامیہ نے انہیں یقین دلایا ہے کہ۱۵؍ دنوں میں صورتحال بہتر ہو جائے گی۔رانگا نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا، ’’پانچ گھنٹے کے دھرنے کے بعد، راجستھان حکومت نے تمام مطالبات قبول کر لیے ہیں۔ سڑک رابطہ ایک اور بڑا مسئلہ ہے جس کا سامنا طلبہ کو ہے۔ اسکول دریائے روپریل کے قریب واقع ہے۔ جب موسمِ برسات میں دریا میں پانی کی سطح بلند ہوتی ہے تو طلبہ کو اکثر ٹخنوں تک پانی میں سے گزر کر اسکول آنا پڑتا ہے۔ طلبہ کو پیش کی گئی ایک تحریر میں، حکام نے۴۸؍ گھنٹوں کے اندر دریا پر  عارضی پل بنانے اور چار مہینوں میں پل تعمیر کرنے کا یقین دلایا ہے۔
یاد رہے کہ راجستھان حکومت کے ایک سروے کے مطابق، ریاست کے۸۵۰۰۰؍ سے زائد اسکول ناقص بنیادی ڈھانچے کا شکار ہیں۔جھالاواڑ سانحے کے بعد، جس میں۲۵؍ جولائی۲۰۲۵ء کو پپلوڈی گاؤں کے ایک سرکاری پرائمری اسکول کی چھت گرنے سے سات طلبہ ہلاک ہو گئے تھے، ریاستی بھجن لال شرما حکومت نے تحقیقات کا حکم دیا اور پانچ سرکاری اساتذہ کو معطل کر دیا۔ ریاستی حکومت نے کئی اسکولوں کی عمارتیں جو غیر محفوظ قرار پائی تھیں، منہدم کر دیں جبکہ دیگر میں متعدد کمروں کو بند کر دیا۔ تاہم بجٹ کی کمی کے باعث اسکولوں میں ابھی تک کوئی قابلِ ذکر بنیادی ڈھانچہ کی تعمیرکا کام نہیں ہو سکا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK