عالمی مرکز ِادویات

Updated: June 23, 2020, 1:48 PM IST | Editorial

چین، روس، قزاخستان، کرغیزستان، تاجکستان اور ازبکستان جیسے چھ ملکوں پر مشتمل شنگھائی کوآپریشن آرگنائزیشن (ایس سی او) نے ہندوستان کی طبی خدمات کو عمدہ الفاظ سے یاد کیا ہے

Medicine - Pic : INN
دوائیں ۔ تصویر : آئی این این

چین، روس، قزاخستان، کرغیزستان، تاجکستان اور ازبکستان جیسے چھ ملکوں پر مشتمل شنگھائی کوآپریشن آرگنائزیشن (ایس سی او) نے ہندوستان کی طبی خدمات کو عمدہ الفاظ سے یاد کیا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ ’’کووڈ ۔۱۹؍ کے اس دور میں ہندوستان نے شعبہ ٔ ادویات میں اپنے وسیع علم اور تجربہ کے ذریعہ عالمی و علاقائی تعاون کے اقدامات کا خوب سیرت آہنگ مرتب کیا  ہے۔‘‘ تنظیم (ایس سی او) کے سکریٹری جنرل ولادیمیر نورو نے کہا کہ ’’ہندوستان نے اپنے لئے گویا عالمی مرکز ِ ادویات (فارمیسی آف دی ورلڈ) کا کردار منتخب کرلیا ہے جس کے تحت اب تک کووڈ۔۱۹؍ کے مقابلے کیلئے دُنیا کے ۱۳۳؍ ملکوں کو مختلف ادویات فراہم کی گئی ہیں جس سے ہندوستان کی فیاضی کا ثبوت ملتا ہے۔‘‘
  شنگھائی کوآپریشن آرگنائزیشن،جس کا صدر دفتر بیجنگ میں ہے، نہ تو کوئی بڑی تنظیم ہے نہ ہی اس کی کوئی خاص عالمی شہرت، اہمیت یا اثرورسوخ ہے مگر اس نے جس انداز میں ستائش کی ہے، اُ سے وَباء کے اِس دَور میں ایک خوشگوار جھونکا قرار دیا جاسکتا ہے جب دُور دُور تک تشویش، فکرمندی اور مایوسی کے علاوہ کچھ دکھائی نہیں دے رہا ہے۔ ہم اس خوشگوار جھونکے کا استقبال کرتے ہیں۔ 
 اس سے مرکزی حکومت کو یہ ترغیب ملنی چاہئے کہ ہم اگر طبی تحقیق کو خصوصی اہمیت دیں، اس کیلئے سرمایہ فراہم کریں، اس کی سرپرستی کا فریضہ انجام دیں اور اس طرح طبی تحقیق کے عالمی مرکز کی حیثیت سے اپنی شناخت قائم اور مستحکم کریں تووہ دِن دور نہیں جب اس شعبے میں ہمارا کوئی ثانی نہ ہو اور ہم اُن تمام ملکوں کو پیچھے چھوڑ دیں جو دواؤں کی برآمدات میں ہم سے بہت آگے ہیں۔ ۲۰۱۹ء کے اعداددوشمار کے مطابق دوائیں برآمد کرنے والے ملکوں میں سرفہرست جرمنی ہے جس نے دوران سال مختلف ملکوں کو ۵۷؍ ارب ڈالر کی دوائیں برآمد کیں۔ ا س کے بعد سوئزر لینڈ، نیدر لینڈ، بلجیم، فرانس، اٹلی، امریکہ، برطانیہ، آئرلینڈ اور ڈینمارک کا نمبر آتا ہے۔ دواؤں کے ایکسپورٹر کی حیثیت سے ہمارا نمبر گیارہواں ہے۔ اگر ہم نے طبی تحقیق کو خاص ہدف مان کر اس شعبے کی بھرپور معاونت کی تو کچھ عجب نہیں کہ ہم چند برسوں میں اولین پانچ ملکوں میں شامل ہوجائیں۔ یہ منصب عالمی سطح پر باعث افتخار تو ہوگا ہی،اس سے ملک کی معیشت اور توازن ادائیگی کو بھی فائدہ پہنچے گا۔
 ہندوستان کا صحت عامہ کا بجٹ کافی کم ہے۔ اسی محدود بجٹ میں طبی تحقیق کی مد بھی شامل ہوتی ہے۔ ۲۰۱۹ء میں طبی تحقیق کیلئے ۱۷۲۷؍ کروڑ روپے مختص کئے گئے تھے جو ۲۰۲۱ء کیلئے ۲۱۰۰؍ کروڑ روپے تک پہنچے۔ اتنا کم بجٹ یہ سمجھانے کیلئے کافی ہے کہ ہم نے اس شعبے کو جس سے عالمی امتیاز حاصل ہوسکتا ہے، اب تک کوئی خاص اہمیت نہیں دی جبکہ ہمارے ہاں علم ہے، صلاحیت ہے اور اس شعبے سے وابستہ لوگوں میں کچھ کر دکھانے کا جذبہ ہے۔ پھر ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ عصری ادویات کے علاوہ ہمارے پاس روایتی ادویات کا بھی بڑا لٹریچر موجود ہے جو یقینی طور پر عصری اور روایتی دونوں طرح کی دوا سازی میں توقع سے کہیں زیادہ معاون ہوسکتا ہے۔ 
 روایتی دواؤں کے باب میں ہمارا ملک آیوروید کا تو بادشاہ ہے ہی، یونانی میں بھی یدطولیٰ رکھتا ہے۔ ان کے بہت سے پروڈکٹ مارکیٹ میں کافی مقبول ہیں۔ اس کے باوجود یہ شعبے وسائل کی کمی اور حکومت کی بے اعتنائی کا شکار رہتے ہیں۔ اگر ان کی خاطر خواہ حوصلہ افزائی کی گئی اور انہیں جدید انداز اپنانے یا متعلقہ طبی لٹریچر سے عصری انداز کی دوا سازی کا موقع دیا گیا تو کوئی وجہ نہیں کہ ان روایتی طریقہ ہائے علاج سے بھی کافی مدد ملے اور ہم دُنیا کے اولین پانچ ملکوں میں شامل ہوجائیں۔ ضرورت صرف نگاہِ التفات کی ہے

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK