Updated: January 13, 2023, 10:44 AM IST
| Mumbai
پاسپورٹ کی رینکنگ میں ہندوستان کا مقام بہت اچھا نہیں ہے۔ ہینلی اینڈ پارٹنرس نامی گلوبل انویسٹمنٹ فرم کے ذریعہ ہر سال تیار ہونے والے اس جدول (برائے ۲۰۲۳ء) میں ہمارا مقام ۸۵؍ واں ہے۔ ہندوستانی پاسپورٹ کے حاملین کو ۵۹؍ ملکوں میں بغیر ویزا یا آمد پر ویزا کے تحت سفر کی اجازت ہے۔
پاسپورٹ کی رینکنگ میں ہندوستان کا مقام بہت اچھا نہیں ہے۔ ہینلی اینڈ پارٹنرس نامی گلوبل انویسٹمنٹ فرم کے ذریعہ ہر سال تیار ہونے والے اس جدول (برائے ۲۰۲۳ء) میں ہمارا مقام ۸۵؍ واں ہے۔ ہندوستانی پاسپورٹ کے حاملین کو ۵۹؍ ملکوں میں بغیر ویزا یا آمد پر ویزا کے تحت سفر کی اجازت ہے۔ ہمارے اور دیگر تمام ملکوں کے برخلاف جاپان کا پاسپورٹ سب سے طاقتور ہے۔ اس معاملے میں جاپان اُن ملکوں کو بھی پیچھے چھوڑ دیتا ہے جن کی معاشی طاقت اُنہیں سپرپاور ہونے کے غرور میں مبتلا کرتی ہے۔ جاپان کے بعد جن دو ملکوں کا پاسپورٹ طاقتور ترین کہلاتا ہے اُن میں سنگاپور اور جنوبی کوریا ہیں۔ جدول میں انہیں دوسرا مقام حاصل ہے۔ ان ملکوں کے پاسپورٹ کے حاملین ۱۹۲؍ ملکوں میں بغیر ویزا داخل ہوسکتے ہیں۔ تیسرے نمبر پر جرمنی اور اسپین کا شمار کیا گیا ہے۔ ان ملکوں کے پاسپورٹ کے حاملین ۱۹۰؍ ملکوں کا بغیر ویزا سفر کرسکتے ہیں۔
سوال یہ ہے کہ ہمارا شمار ۵۹؍ واں کیوں ہے؟ اگر ہم پانچویں بڑی معیشت ہیں، ہمارا سافٹ پاور غیر معمولی ہے، ہمارے تجارتی تعلقات دُنیا کے بیشتر ملکوں سے ہیں، ہم دُنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہیں اور آبادی کے اعتبار سے ہم دُنیا میں دوسرے نمبر پر ہیں تو ہمارا پاسپورٹ زیادہ طاقتور کیوں نہیں ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ پاسپورٹ کی طاقت اس بات پر منحصر ہوتی ہے کہ کتنے ممالک آپ کے پاسپورٹ حاملین کو اپنے ہاں بغیر ویزا داخلے کی اجازت دیتے ہیں۔ جاپان کو اگر دُنیا کے ۱۹۳؍ ملک اجازت دیتے ہیں تو ہندوستان کو صرف ۵۹؍ ممالک۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ ہم اس موضوع پر بہت سنجیدگی سے غور کرتے اور مختلف ملکوں سے اپنے لئے رعایت مانگتے مگر ہم نے اس کو سنجیدگی سے نہیں لیا۔
اس کی ضرورت ہے اس لئے ہے کہ جب ہندوستانی پاسپورٹ رکھنے والوں کے سامنے اُن ملکوں کی فہرست ہوتی ہے جہاں بغیر ویزا کے داخل ہوا جاسکتا ہے تو تجارت نیز سیاحت کے مقصد سے بیرونی ملکوں کا رُخ کرنے والوں کے سامنے ایک کے بعد دوسرا اور دوسرے کے بعد تیسرا متبادل ہوتا ہے۔ یہی نہیں، سفر یا دورہ کی غرض سے وطن سے روانہ ہونے والے کو طاقتور پاسپورٹ کی وجہ سے احساس تفاخر حاصل ہوتا ہے۔ ہم ہندوستانی اُس احساس تفاخر سے عاری ہیں اور اگر ہمیں اس احساس سے کوئی آشنا کراسکتا ہے تو وہ ہماری حکومت ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی اب تک بیشتر ملکوں کا دورہ کرچکے ہیں۔ جب بھی وہ کسی ملک یا ایک ہی دورہ میں کئی ملکوں کے سفر پر ہوتے ہیں تو اُن کے دورہ کی حصولیابیاںبڑے فخر کے ساتھ بیان کی جاتی ہیں کہ وزیر اعظم نے اتنے ملکوں کا دورہ کیا، ان ملکوں میں اُن کا اتنا شاندار استقبال کیا گیا، اتنےبڑے لیڈروں سے اُن کی بالمشافہ ملاقات ہوئی اور اُنہوں نے اتنے معاہدوں پر دستخط کئے۔ اس سے ہمارا سافٹ پاور بڑھا ہے جو کہ پہلے بھی کم نہیں تھا۔ اس تناظر میں ہمارے پاسپورٹ کا زیادہ طاقتور نہ ہونا سوال بن کر اُبھرتا ہے کہ آخر کیوں ہم اس منصب پر فائز نہیں ہوسکے ہیں کہ ہمارا شمار دُنیاکے دس سرفہرست ملکوں میں ہو؟
واضح رہے کہ ہینلی اینڈ پارٹنرس واحد فرم نہیں ہے جو پاسپورٹ کا جدول تیار کرتی ہے۔ دیگر فرمیں بھی ہیں جن کا تقابلی جائزہ دلچسپی سے خالی نہیں مگر کسی بھی جدول میں ہمارا شمار اولین ملکوں میں نہیں ہوتا اسلئے ضروری ہے کہ ہندوستان عالمی سطح پر اپنی طاقت کو دکھانے سے زیادہ منوائے کیونکہ ہم منوا سکتے ہیں۔