پینتالس دنوں کے اندر پاسپورٹ بنانے کے اعلان کے باوجود شہری سی آئی ڈی اور پاسپورٹ آفس کے چکرلگانے پرمجبور، معتمرین اورعازمین کے لئے مزیدمسئلہ
EPAPER
Updated: May 03, 2023, 9:20 AM IST | saeed Ahmed | Mumbai
پینتالس دنوں کے اندر پاسپورٹ بنانے کے اعلان کے باوجود شہری سی آئی ڈی اور پاسپورٹ آفس کے چکرلگانے پرمجبور، معتمرین اورعازمین کے لئے مزیدمسئلہ
پاسپورٹ نہ ملنے سے شہری سی آئی ڈی اور پاسپورٹ آفسیز کے چکرلگانے پرمجبور ہیں۔ ۴۵؍ دنوں کے اندر پاسپورٹ بنانےکا وقت مقرر کیا گیا ہے اس کےباوجود وقت پرکام نہیںکیا جارہا ہے اورنہ ہی معقول وجہ بتائی جارہی ہے۔معتمرین اورعازمین کےلئے مزیدمسئلہ ہے کیونکہ ان کو عمرہ کے لئے جانا ہے اوربہت سے عازمین کو حج کرنا ہے ۔ باندرہ میںپاسپورٹ دفترکے باہر بھیڑلگی رہتی ہے ،لوگ یہ معلوم کرنے کےلئے پریشان رہتے ہیں کہ ان کاپاسپورٹ کیوں نہیں آیا؟تاخیر کی وجہ کیا ہے ؟ لیکن انہیں صاف جواب نہیںدیا جاتا ۔یہی حال سی آئی ڈی آفس میںہوتا ہے ، وہاں بھی لوگ اپنے دستاویزات کیساتھ بلائے جاتے ہیں ۔ ان سے کہہ دیا جا تا ہے کہ انکوائری کرلی گئی ہے ، آپ کی فائل آگے بڑھا دی گئی ہے، باندرہ ریجنل پاسپورٹ آفس میں معلوم کرلیجئے ۔ اس طرح ایک شہری پاسپورٹ کیئے اِس دفتر اُس دفتر چکر لگانے پرمجبور ہوتا ہے۔
اس وقت موسم گرماکی تعطیلات جاری ہیں۔ بڑی تعداد میںلوگ عمرہ کےلئے جارہے ہیں جبکہ حج کے ایام بھی قریب آرہے ہیںلیکن پاسپورٹ نہ بننا ایک بڑا مسئلہ ہے۔
مقامی پولیس پریشان کرنے کا الزام
گوونڈی کے رہنے والے حاجی محمد الیاس قادری نے نمائندۂ انقلاب کوبتایا کہ’’ پاسپورٹ رینیو کرانے کیلئے انہوں نے فائل جمع کروائی ہے لیکن مقامی پولیس کی جانب سے پریشان کیا جارہا ہے۔ ۲۱؍اپریل کو فارم جمع کرانے کےباوجود جب سی آئی ڈی آفس سے کوئی فون نہیںآیا تو میں نےرابطہ قائم کیا ۔ مجھے بتایا گیاکہ فائل ادھوری ہے اوردوبارہ انکوائری کیلئے مقامی پولیس اسٹیشن واپس بھیج دی گئی ہے ۔ اس کے بعد میں نے شیواجی نگرپولیس ا سٹیشن میں رابطہ قائم کیا توپولیس کی جانب سے یہ کہا گیا کہ آپ کی فائل میںلائٹ بل آپ کا نہیںآپ کی ماں کے نام پر ہے ۔ جواب میں میںنے پولیس اہلکارسے کہا کہ میں اپنی ماں کے کمرے میں رہتا ہوں تولائٹ بل کس کےنام پرہوگا؟اس کے بعد سینئرانسپکٹر سے بات چیت کی اورکہاکہ میںاس کی اعلیٰ افسران اورہوم ڈپارٹمنٹ سے شکایت کروں گا تو سینئر انسپکٹر نے کہا کہ فائل بھیج دی جائے گی۔‘‘
۴۵؍دن کے بعدبھی کوئی معقول جواب نہیں
گوونڈی کے رہنے والے آفتاب انصاری نےبتایا کہ ’’ منگل کو جب وہ باندرہ پاسپورٹ آفس پہنچے توسیکوریٹی گارڈ نےاندر جانے سےیہ کہتے ہوئے منع کردیا کہ پہلے وقت لے لیجئے پھر آئیے گا۔ ‘‘ انہوں نے بتایاکہ ’’ پہلے یہ طریقہ تھا کہ اگر ۴۵؍دن گزر گئے ہیں تو پہلے سے وقت لینے کی ضرورت نہیں ہوتی تھی لیکن اب یہ کہا جارہا ہے کہ ۴۵؍دن کے بعد بھی آپ کووقت لے کرآنا ہوگا۔ ‘‘ انہوں نے یہ بھی کہاکہ’’ جس وقت درخواست دی جاتی ہے اس وقت کاؤنٹر پر تمام کاغذات چیک کئے جاتے ہیں، اس کے بعد مقامی پولیس کی جانب سے جانچ پڑتال کے بعد رپورٹ سی آئی ڈی آفس بھیجی جاتی ہے،پھرسی آئی ڈی آفس پاسپورٹ آفس کومطلع کرتا ہے۔لیکن ۲؍ ماہ سے زیادہ وقت گزر گیا ہے سی آئی ڈی والے کہہ رہے ہیںکہ آپ کی فائل بھیج دی گئی ہے باندرہ جاکر چیک کرلیجئے، منگل کو جب باندرہ پہنچا توکہا گیا کہ سی آئی ڈی آفس سے فائل نہیںآئی ہے۔ اس طرح ایک عام شہری فٹبال بن گیا ہے۔‘‘
مولانا ولی اللہ شریفی (چمبور)بھی پاسپورٹ آفس میںموجود تھے ، انہوںنے بتایاکہ’’ ان کا پاسپورٹ بھی رینیوکرا نا تھا لیکن فائل جمع کرائے کئی دن گزرنے کے بعد کچھ پتہ نہیںچل رہا تھا کہ تاخیر کی وجہ کیا ہے؟ یہاں آکربتایا گیا کہ رپورٹ نامکمل تھی ،چنانچہ پاسپورٹ آفیسر کی ہدایت پرنیا فارم بھرکردیا گیا ہے۔اس نے یقین دلایا ہے کہ اب جلدہی آجائے گا۔‘‘
حج کمیٹی نے بھی تسلیم کیا
پاسپورٹ کےمسائل کےتعلق سے ریاستی اور مرکزی حج کمیٹی میںرابطہ قائم کرنے پر وہاں افسران نے یہ اعتراف کیا کہ کئی عاز مین کی جانب سے یہ شکایات موصول ہوئی ہیں۔ اس تعلق سے پاسپورٹ آفس کومطلع کیا گیاتھا۔
ممبئی پولیس کے ترجمان کا جواب
ممبئی پولیس کے ترجمان پرشانت کدم نے کہاکہ’’ جو شکایات آپ نے کی ہیں، اس سے میں متعلقہ شعبوں کے افسران کوآگاہ کراؤں گا ۔کوشش کی جائے گی کہ ان شکایات کودور کیا جاسکے۔‘‘