Inquilab Logo Happiest Places to Work

مقبول عام نغمہ ’’تم تو ٹھہرے پردیسی‘ ‘کے خالق ظہیر عالم نہیں رہے

Updated: May 12, 2026, 10:23 AM IST | Mumbai

۹۰ء کی دہائی میں ’تم تو ٹھہرے پردیسی ، ساتھ کیا نبھائو گے‘ گیت کے ساتھ الطاف راجا گلوکاری کی دنیا میں چھا گئے تھے۔ ان کے اس البم نے کیسٹوں کے فروخت کے سارے ریکارڈ توڑ دیئے تھے اور گنیزبک آف ورلڈ ریکارڈ میں اپنا نام درج کروایا تھا

Zaheer Alam.Photo:INN
ظہیر عالم۔ تصویر:آئی این این

۹۰ء کی دہائی میں ’تم تو ٹھہرے پردیسی ، ساتھ کیا نبھائو گے‘ گیت کے ساتھ الطاف راجا گلوکاری کی دنیا میں چھا گئے تھے۔ ان کے اس البم نے کیسٹوں کے فروخت کے سارے ریکارڈ توڑ دیئے تھے اور گنیزبک آف ورلڈ ریکارڈ میں اپنا نام درج کروایا تھا ۔ الطاف راجا راتوں رات شہرت کی بلندیوںپر پہنچ گئے لیکن مقبولیت کے تمام ریکارڈ توڑدینے والے اس نغمے کے خالق کا نام شاید ہی کسی کو معلوم ہو۔ وجہ یہ تھی کہ’ تم تو ٹھہرے پردیسی کے ‘ کے شاعر ظہیر عالم کو اس گیت کے بعد نہ تو کام ملا اور نہ اس گیت کا مناسب دام ملا۔ وہ عمر بھر اپنی گزر بسر کیلئے جدوجہد کرتے رہے ۔ اور اسی جدوجہد کے دوران اتوار کی رات ان کی زندگی کا سفر تمام ہوا۔ 
  المیہ یہ ہےکہ ’تم تو ٹھہرے پردیسی‘ کی غیر معمولی مقبولیت کے بعد الطاف راجا اور کیسٹ کمپنی نے تو خوب دولت کمائی مگر ظہیر عالم کو اس نغمے کا انتہائی قلیل معائوضہ ملا۔ اس البم کے سپرہٹ ہونے کے بعد بھی انہیں کام نہیں ملا۔ انہوں نے ممبئی میں عظیم موسیقار نوشاد سے بھی ملاقات کی مگر کوئی بات نہیں بنی۔ حتیٰ کہ انہیں اپنی گزر بسر کیلئے ’امپریس مل‘ میں ملازمت کرنی پڑی۔ اس دوران وہ شاعری کرتے رہے اور فلمی دنیا میں جدوجہد بھی جاری رکھی مگر کچھ ہاتھ نہ آیا۔ کہا جاتا ہے کہ ان کا ایک گیت پروڈیوسر کو پسند آگیا اور اس نے اسے اپنی فلم میں شامل کر لیا لیکن  ایک مشہور گیت کار جو اس فلم کے گانے لکھ رہا تھا اس نے کہا کہ فلم کے سارے گانے میرے ہی نام سے ریلیز ہوں گے۔ مجبور ہو کر پروڈیوسر نے ظہیر عالم کے گیت کو اس گیت کار کے نام سے ریلیز کیا اورظہیر عالم کے ہاتھ پر صرف ۳؍ ہزار روپے رکھے گئے۔ 
 مشاعروں کی دنیا میں مقبول تھے ظہیر عالم   
   جہاں تک بات ہے مشاعروں کی تو ظہیر عالم  ایک مقبول شاعر تھے۔ ناگپور سے تعلق رکھنے والے قلم کار نجیب وکیل نے بتایا کہ ظہیر عالم کی تعلیم صرف چوتھی جماعت تک  تھی لیکن بچپن ہی سے شعر و شاعری سے شغف رکھتے تھے۔ کم عمری ہی  سے ناگپور کے معروف شعراء کی رفاقت  میں اپنا ادبی سفر شروع کیا اور ناگپور کے معروف شاعر جلیل ساز کے شاگرد ہو گئے۔ کلام میں پختگی کے بعد ظہیر عالم صاحب نے مقامی و بیرونی مشاعروں میں اپنا کلام سنانا شروع کیا اور اپنے منفرد کلام اور دلکش ترنم کی بنا پر خوب داد حاصل کی۔ ظہیر عالم کی مقبولیت کا یہ عالم تھا کہ ملکی و ریاستی مشاعرے اُن کی شمولیت کے بغیر ادھورے سمجھے جاتے تھے۔انہوں نے ناگپور میں حضرت بابا تاج الدین کے عرس کے موقع پر منعقد ہونے والی قوالیوں کے لئے بھی اپنا کلام تخلیق کیا جسے ملک کے معروف قوال پڑھا کرتے۔  نجیب وکیل کے مطابق۹۰؍ کی دہائی میں ان کی قوالیوں کے کیسٹ ہزاروں کی تعداد میں فروخت ہوئے اور ناگپور و دیگر شہروں کی ہر گلی کوچے میں بجنے لگے۔ اس مقبولیت کے باوجود ظہیر عالم نے کسمپرسی میں زندگی گزاری ۔ اپنی خودداری کی وجہ سے کسی قوال یا گلوکار سے کلام کی رائلٹی کا تقاضہ نہیں کیا۔
  ظہیر عالم صاحب تقریباً تین چار  سال سے علیل تھے تاہم تین دن پہلے ان کی طبیعت زیادہ خراب ہونے پر انہیں ناگپور کے ایک نجی اسپتال میں داخل کروایا گیا تھا ،جہاں علاج کے دوران انہوں نے ۷۵؍ سال کی عمر داعیٔ اجل کو لبیک کہا۔ ظہیر عالم کے لواحقین میں اہلیہ ایک بیٹا اور ایک بیٹی شامل ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK