صفر تعلیمی سال مسئلہ کا حل نہیں

Updated: September 13, 2020, 5:23 AM IST | Editorial

ملک میں نئے کورونا متاثرین کی تعداد دن بہ دن بڑھتی جارہی ہے۔ گزشتہ چند دنوں سے نئے متاثرین کی یومیہ تعداد ۹۵۔۹۶؍ ہزار کےقریب ہے جس کی وجہ سے قومی سطح پر اب تک کے متاثرین کی مجموعی تعداد ۴۶؍ لاکھ سے زیادہ ہوچکی ہے

Students - Pic : INN
طلبہ ۔ تصویر : آئی این این

ملک میں نئے کورونا متاثرین کی تعداد دن بہ دن بڑھتی جارہی ہے۔ گزشتہ چند دنوں سے نئے متاثرین کی یومیہ تعداد ۹۵۔۹۶؍ ہزار کےقریب ہے جس کی وجہ سے قومی سطح پر اب تک کے متاثرین کی مجموعی تعداد ۴۶؍ لاکھ سے زیادہ ہوچکی ہے۔ وباء کے تیز رفتار پھیلاؤ کے پیش نظر یہ کہنا مشکل ہے کہ شہری زندگی کب معمول پر آئے گی۔ اگر تعلیم و تدریس کی بات کریں تو یہاں بھی غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔ کوئی نہیں کہہ سکتا کہ اسکولوں، کالجوں کے احاطوں اور کلاس رومس میں کب وہ رونق اور ہماہمی بحال ہوسکے گی جس سے ان درس گاہوں کی علاحدہ پہچان قائم ہوتی ہے۔ اسی غیر یقینی صورتحال سے نمٹنے کیلئے بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ رواں تعلیمی سال کو، جس کے تین چار ماہ حسب معمول تعلیمی سرگرمیوں کے بغیر گزرے ہیں، ’صفر تعلیمی سال‘ (Zero Academic Year) قرار دیا جائے اور طلبہ کو امتحان کے بغیر اگلے درجے میں داخل کردیا جائے۔
 جولائی کے اواخر میں آل انڈیا پیرینٹس اسوسی ایشن نے بھی مرکزی اور ریاستی حکومتوں سے مذکورہ مطالبہ کیا اور اس سلسلے میں یہ تجویز پیش کی تھی کہ آئندہ سال دو سال کے نصاب کی تدریس ہو، تاکہ ایک سال تعلیم و تدریس نہ ہونے کی وجہ سے طلبہ کا جو نقصان ہوگا آئندہ سال اس کی بھرپائی ممکن ہوسکے۔ کئی ریاستی والدین تنظیمیں بھی سال رواں میں تعلیمی سرگرمیاں موقوف رکھنے کا مطالبہ کرچکی ہیں۔ اس سے قبل جون میں رائٹ ٹو ایجوکیشن فورم نے ایک ویبنار منعقد کیا تھا جس میں کئی ماہرین تعلیم اسی خیال کے حامل تھے جن کی تقریروں میں مذکورہ مطالبہ کی گونج سنائی دی تھی۔ ابھی دو روز قبل سابق وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ کے مشیر اور ٹیکنوکریٹ سیم پٹروڈا بھی صفر تعلیمی سال کی حمایت کرچکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جب موجودہ حالات میں حسب معمول پڑھائی ممکن نہیں ہے، ہمارا آن لائن سسٹم مستحکم نہیں ہے اور آن لائن ٹیچنگ حد درجہ دشوار ثابت ہورہی ہے یعنی معمول کے مطابق پڑھائی ممکن نہیں ہےتو والدین بچوں کی اسکول فیس کیوں ادا کریں؟ بہتر ہوگا کہ اس سال کو صفر تعلیمی سال قرار دیا جائے۔ 
 ہم مذکورہ خیالات اور مطالبات سے بالکل بھی متفق نہیں ہیں۔ اچھی بات یہ ہے کہ مرکزی حکومت ’صفر تعلیمی سال‘ کے فارمولے کےحق میں نہیں ہے۔ یونین ہائر ایجوکیشن سکریٹری امیت کھرے نے اگست میں وزارت انسانی وسائل کے پارلیمانی پینل کو بتایا تھا کہ ’’طلبہ آن لائن اور آف لائن تعلیم حاصل کرتے رہیں گے اور حکومت سال کے اخیر میں امتحانات کے انعقاد میںبھرپور انتظامی تعاون دے گی تاکہ سال بھر کی تعطیل نہ ہو جائے۔‘‘ اطلاعات کے مطابق رُکن پارلیمان ڈاکٹر ونئے سہرسا بدھے نے پارلیمانی پینل کو تجویز پیش کی تھی کہ اگر حالات نہ سنبھلے تو ’’کوئسچن بینک سسٹم‘‘ بھی جاری کیا جاسکتا ہے جس میں ۱۰۰؍ سوالات ہوں اور طلبہ ۲۵۔۳۰؍ سوالوں کے جوابات دیں۔ 
 اس میں شک نہیں کہ آن لائن تعلیم میں دشواریاں ہیں جن کا سامنا اساتذہ کو بھی ہے، طلبہ اور ان کے والدین کو بھی، مگر ان دشواریوںسے لوہا لیا جاسکتا ہے بلکہ لیا جارہا ہے۔ اب تک آن لائن تعلیم کے جتنے بھی طریقے استعمال کئے گئے ہیں اُن سے جزوی طور پر ہی سہی، طلبہ استفادہ کررہے ہیں۔ اس لئے کہا جاسکتا ہے کہ بالکل سناٹا نہیں ہے۔ اگر ’صفر تعلیمی سال‘ کا اعلان کردیا گیا تو یقیناً سناٹا چھا جائیگا، طلبہ کی تعلیم موقوف ہوجائیگی اور یہ فکر بھی دامن گیر رہے گی کہ آئندہ سال، دو سال کا نصاب کس طرح ایک سال میں مکمل کیا جاسکے گا۔ اس لئے ضروری ہے کہ محکمۂ تعلیم اپنے موقف پر قائم رہے اور صفر تعلیمی سال کے فارمولے کو مسترد ہی رکھے۔ اس دوران طلبہ ذاتی محنت پر زیادہ سے زیادہ انحصار کریں جبکہ محکمۂ تعلیم اساتذہ کیلئے جتنی بھی سہولتیں بہم پہنچاسکتا ہے، اُس میں کوئی کسر باقی نہ رکھے

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK