پانی کے چھوٹے قطروں سے ۱۰۰؍ایل ای ڈی روشن

Updated: February 10, 2020, 4:01 PM IST | Agency

کیا گرتے ہوئے پانی کے ایک مہین قطرے سے بجلی بنائی جاسکتی ہے؟ اس عجیب سوال کا جواب ہاں میں ہے۔ ہانگ کانگ سٹی یونیورسٹی کے انجینئروں نے پانی کے قطروں پر مبنی برقی جنریٹر بنایا ہے جسے ’’ڈراپڈبیسڈ الیکٹرک جنریٹر‘‘ یا ڈی ای جی کا نام دیا گیا ہے۔

پانی کے چھوٹے قطروں سے ۱۰۰؍ایل ای ڈی روشن ۔ تصویر : آئی این این
پانی کے چھوٹے قطروں سے ۱۰۰؍ایل ای ڈی روشن ۔ تصویر : آئی این این

 کیا گرتے ہوئے پانی کے ایک مہین قطرے سے بجلی بنائی جاسکتی ہے؟ اس عجیب سوال کا جواب ہاں میں ہے۔ہانگ کانگ سٹی یونیورسٹی کے انجینئروں نے پانی کے قطروں پر مبنی برقی جنریٹر بنایا ہے جسے ’’ڈراپڈبیسڈ الیکٹرک جنریٹر‘‘ یا ڈی ای جی کا نام دیا گیا ہے۔ اس میں فیلڈ افیکٹ ٹرانسسٹر (ایف ای ٹی) جیسا اسٹرکچر بنایا گیا ہےجو حاصل شدہ توانائی کو زیادہ کفایت سے دوسری توانائی میں بدلتا ہے۔پروفیسر وینگ زوانکوائی اور ان کی ٹیم نے ہفت روزہ نیچرمیں اپنی رپورٹ شائع کرائی ہے۔ زمین پر بارش، لہروں اور بڑی امواج کی صورت میں پانی موجود ہے۔ 
 روایتی اصولوں کے برخلاف ایف ای ٹی طریقہ کار میں بجلی کی کفایت بہت زیادہ ہے۔ اس طرح پانی کی حرکتی توانائی سےتوانائی کی کثافت۵۰ء۱؍واٹ فی مربع میٹر تک ہوجاتی ہے جو اب تک کے نظاموں میں سب سے زیادہ ہے۔اسے بنانے میں۲؍سال لگے ہیں اورپہلا نمونہ بہت اچھی طرح کام کررہا ہے۔ یہ نظام گرتے ہوئے پانی کے قطروں سے بھی بجلی بناسکتا ہے۔ واضح رہے کہ ایف ای ٹی ٹیکنالوجی۱۹۵۶ءمیں سامنے آئی تھی اور اسے نوبیل انعام بھی ملا تھا۔ اگر مسلسل پانی گرتا رہے تو جنریٹر بجلی بناتا رہتا ہے۔
 اندازہ ہے کہ صرف ۱۰۰؍مائیکرو لیٹر پانی کا قطرہ اگر ۱۵؍سینٹی میٹرکی بلندی سے پھینکا جائے تو اس سے  ۱۴۰؍وولٹ بجلی پیدا کی جاسکتی ہے جو ۱۰۰؍ایل ای ڈی روشن کرانے کے لیے کافی ہے۔اب اگلے مرحلے میں یہ دیکھنا ضروری ہے کہ آیا اس طریقےسے عملی طور پر بڑے منصوبوں کے لیے بجلی بنائی جاسکتی ہے یا نہیں۔

tech news Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK