پونے میں ملائی دار چائے پیتے ہوئے عامر کو یہ کاروبار اپنے شہر باگل کوٹ میں شروع کرنے کا خیال آیا اور اس نے اسے کردکھایا
EPAPER
Updated: August 17, 2023, 10:27 AM IST | Mumbai
پونے میں ملائی دار چائے پیتے ہوئے عامر کو یہ کاروبار اپنے شہر باگل کوٹ میں شروع کرنے کا خیال آیا اور اس نے اسے کردکھایا
ملک میں ’چائے کاکاروبار‘منفردطریقے سے کرنے والے کئی لوگ ہیں۔ قابل ذکر بات ہے کہ اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے والے افراد اس کاروبار میں نام اور پیسہ کمارہے ہیں۔ کرناٹک کے باگل کوٹ کے رہنے والا میکانیکل انجینئر بھی ایسے نوجوانوں میں شامل ہے جس نے اپنی چائے کو ایک برانڈ بنادیا ہے۔یہاں کے رہنے والے میکانیکل انجینئرعامر سہیل ’انجینئر بن گیا چائے والا‘نامی دکان چلاتے ہیں ۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ یہ منفرد نام اپنے ذائقے کے سبب مشہور ہوگیا ہے اور کئی علاقوں میں اس کی شاخیں بھی کھل رہی ہیں۔
’ہرش سیس اِٹ‘ نامی ورڈ پریس بلاگر کے مطابق عامر سہیل نے میکانیکل انجینئرنگ میں ڈپلوما مکمل کرنے کے بعد بیرون شہر واقع ٹویوٹا کمپنی میں ملازمت کی ۔ عامر اپنی تنخواہ سے مطمئن نہیں تھے ،اس لئے انہوں نے کچھ ماہ کے بعد ملازمت سے استعفیٰ دے دیا اوراپنے شہر لوٹ آئے۔ عامر نے معاشی طور پر خودکفیل رہنے کیلئے کھیت میں مزدوری کی اور چھوٹے موٹے کام کئے ۔ زندگی اسی طرح چل رہی تھی کہ عامر کو کسی کام کے سلسلے میں پونے جانا پڑا۔ یہاں اس نے ایک مقام پر ’ملائی والی چائے‘ پی جس کا ذائقہ عامر کو خوب پسند آیا۔ عامر نے بتایا کہ ’’ مجھے اپنا چائے کا کاروبار شروع کرنے کا آئیڈیا پونے میں ملا، مجھے لگا کہ ایسی چائے اگر میں باگل کوٹ میں فروخت کروں تو اسے لوگ ہاتھوں ہاتھ لیںگے۔ ‘‘ عامر نے ۲۰۱۹ء میں اپنے دوستوں سے قرض لیا اور اپنے ایک دوست یاسین محمد کو شراکت دار بناکر ’انجینئر بن گیا چائے والا‘ کی شروعات کی۔عامر کے اسٹال سے ملائی دار چائے دس روپےمیں فروخت ہوتی ہے ۔ اس نے بتایا کہ شہر کے نونگارا،ودیاگری،کلاگڑی میں بھی ’انجینئر بن گیا چائے‘ والا کی شاخیں کھل چکی ہیں۔