ایپ کی جاسوسی سے باخبر کرنے کیلئے ایپل کے نئے فیچر

Updated: July 01, 2020, 10:06 AM IST | Agency

ایپل نے اپنے نئے آپریٹنگ سسٹم آئی او ایس ۱۴؍ کورواں سال کی چوتھی سہ ماہی میں متعارف کرانے کا اعلان کردیاہے۔ اس نئے آپریٹنگ سسٹم میں ایپل اپنے صارفین کے ڈیٹا کے تحفظ کیلئے متعدد نئے فیچرز کا اضافہ کررہی ہے

Apple - Pic : INN
ایپل ۔ تصویر : آئی این این

ایپل نے اپنے نئے آپریٹنگ سسٹم آئی او ایس ۱۴؍ کورواں سال کی چوتھی سہ ماہی میں متعارف کرانے کا اعلان کردیاہے۔ اس نئے آپریٹنگ سسٹم میں ایپل اپنے صارفین کے ڈیٹا کے تحفظ کیلئے متعدد نئے فیچرز کا اضافہ کررہی ہے ۔آئی او ایس۱۴؍ اور آئی پیڈ او ایس۱۴؍ میں ایپ کی جاسوسی سے باخبر کرنے والے کئی فیچر ہوں گے، جب کوئی ایپ کلپ بورڈ تک رسائی کی کوشش کرے گی، تب یہ اس فیچر سے صارف کو پتہ چل جائے گاکہ کس طرح کی ایپس ان کے ڈیٹا تک رسائی حاصل کرسکتی ہیں۔ ’ایپل انسائیڈرز ‘کی رپورٹ کے مطابق اس فیچر کو متعارف کرانے کا فیصلہ ممکنہ طور پر اس وقت کیا گیا جب رواں سال مارچ میں یہ انکشاف سامنے آیا تھا کہ ٹک ٹوک سمیت متعدد ایپس آئی او ایس کلپ بورڈ کے ڈیٹا تک رسائی حاصل کرتی ہیں۔  مارچ کی اس رپورٹ میں ٹک ٹوک سب سے زیادہ مقبول ایپ تھی مگر مجموعی طور پر۵۴؍ ایپس تاحال کلپ بورڈ سے ایپل کے صارفین کے ڈیٹا تک رسائی حاصل کررہی ہیں۔ان میں متعدد معروف نام شامل ہیں جیسے سوشل میڈیا ایپس ویبو اور زوسک، نیوز ایپس این پی آر اور فاکس نیوز، گیمز جیسے فروٹ ننجا اور بی جی ویلڈ کے۳؍ مختلف ورژنز کے ساتھ ساتھ ایکو ویدر اور ہوٹلز ڈاٹ کام وغیرہ۔ایپس کے پاس صلاحیت ہے کہ وہ کسی کلپ بورڈ میں ڈیٹا کو کھینچ سکیں، یعنی یہ امکانات موجود ہوتے ہیں وہ صارف کی جاسوسی کرسکتی ہیں۔ایپل کے سسٹم میں یونیورسل کلپ بورڈ کے اضافے کے بعد ایسی ایپس کی جانب سے ڈیٹا اکٹھا کرنے کا خطرہ بھی بڑھ گیا تھا۔انٹرنیٹ سیکوریٹی کمپنی مائیسک کے مطابق یہ بہت خطرناک ہے، یہ ایپس کلپ بورڈز کو پڑھتی ہیں اور اس کی کوئی وجہ بھی نہیں، ایک ایسی ایپ جس میں کچھ لکھنا ممکن نہ ہو، اس کا کلپ بورڈ ٹیکسٹ پڑھنے کا کوئی جواز نہیں۔کمپنی کے مطابق محققین کے کام کی وجہ ے آئی او ایس۱۴؍ میں کلپ بورڈ نوٹیفکیشن فیچر متعارف کرایا گیا

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK