اس وقت وہ جیسلمیر کے ایک گاؤں میں گرام سیوک کے طور پر ملازمت کررہے ہیں اور ساتھ ہی راجستھان ایڈمنسٹریٹیو سروس (مینس) کی پڑھائی کررہے ہیں۔
EPAPER
Updated: January 03, 2024, 12:30 PM IST | Inquilab News Network | Mumbai
اس وقت وہ جیسلمیر کے ایک گاؤں میں گرام سیوک کے طور پر ملازمت کررہے ہیں اور ساتھ ہی راجستھان ایڈمنسٹریٹیو سروس (مینس) کی پڑھائی کررہے ہیں۔
یہ سخت مقابلہ آرائی کا دور ہے، جہاں سرکاری ملازمت کا ملنا مشکل ہوگیا ہے، ایسے میں راجستھان کے ایک شخص نے کمال کردیا، یہ ایک ہی سال میں ۵؍سرکاری ملازمتوں کا حقدار بنا ہے۔رپورٹ کے مطابق دشرتھ سنگھ جودھا ریاست کے چھنتا گڑھ کے رہنے والے ہیں۔ دشرتھ کی یہ حصولیابی مقابلہ جاتی امتحان کی تیاری کرنے والے نوجوانوں اور سرکاری ملازمت کے متلاشیوں کیلئے ترغیب وتحریک کی عمدہ مثال ہے۔
جیسلمیر میں گرام سیوک کے طور پر خدمات انجام دیتے ہوئے وہ آراے ایس(مینس) کی تیاری کررہے ہیں
دشرتھ سنگھ نے محض ایک سال میں ہی ۵؍ مقابلہ جاتی امتحانات میں کامیابی حاصل کی ہے۔ فی الحال دشرتھ گرام سیوک کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔’ون انڈیا‘ کی رپورٹ کے مطابق دشرتھ نے اپنی حصولیابی پر خوشی کا اظہار کیا ، کہا کہ ’’پانچ مختلف امتحانات میں کامیاب ہوکر میں ۵؍ مختلف سرکاری ملازمتوں کا حقدار بن گیا، اس بات کی مجھے خوشی ہے، لیکن میری منزل اب بھی دور ہے۔ میں آر اے ایس افسر بننا چاہتا ہوں۔‘‘
دشرتھ کیا بننا چاہتے ہیں؟
دشرتھ ان حصولیابیوں کے باوجود خود کو مطمئن نہیں ہونے دیتے، وہ مسلسل امتحان کی تیاریوں میں لگے رہتے ہیں۔ فی الوقت وہ آراے ایس امتحان(مین) کی پڑھائی کررہے ہیں ، یہ امتحان اسی ماہ کی ۲۷؍ تاریخ کو منعقد ہوگا۔ خیال رہےکہ وہ پڑھائی ، سرکاری ملازمت کرتے ہوئے کررہے ہیں، اس وقت وہ جیسلمیر کے سم پنچایت سمیتی کی سم گرام پنچایت میں گرام سیوک کے عہدہ پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔
اب تک کون کون سی سرکاری ملازمت کے اہل پائے؟
رپورٹ کے مطابق دشرتھ نے سب سے پہلے گرام سیوک کے امتحان میں شرکت کی اور کامیاب ہوئے، اس کے بعد انہوں نے تھرڈ گریڈ ٹیچر بھرتی کوالیفائی کی ، اس کے بعد وہ سب انسپکٹر کے امتحان میں بھی کامیابی حاصل کرکے اس عہدہ کے حقدار بنے۔ اس کے بعد انہوں نے سیکنڈ گریڈ ٹیچر بھرتی کا امتحان کامیاب کیاا ور اس کے بعد فرسٹ گریڈ ٹیچر کے عہدہ کے حقدار دئیے گئے۔ ٹیچر، پولیس انسپکٹر، گرام سیوک بن جانے کے باوجود دشرتھ سنگک کی کامیابی کا سفر یہیں رکا نہیں ہے۔ دشرتھ اب راجستھان ایڈمنسٹریٹیو سروس (آراے ایس) کے افسر بننا چاہتے ہیں۔ ۲۰۱۸ء اور ۲۰۲۱ء میں آر اے ایس امتحان انہوں نے دیا تھا۔ دونوں ہی بار وہ مینس تک پہنچے مگر انٹرویو میں انہیں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ اس کے باوجود انہوں نےہمت نہیں ہاری ہے اور تیسرے اٹیمپٹ میں آر اے ایس پریلیم پاس کرچکے ہیں اور اب مینس امتحان کی تیاریوں میں مصروف ہیں۔ دشرتھ کہتے ہیں کہ ’’میں نے میری کمیوں، غلطیوں اور ناکامیوں سے سبق سیکھا ہے۔ خود میں بہتری لاکر آگے بڑھنے کی کوشش کی ہے۔‘‘